سورة 5 – طعام – The Feast – المائدة


بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful.

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَوفوا بِالعُقودِ ۚ أُحِلَّت لَكُم بَهيمَةُ الأَنعٰمِ إِلّا ما يُتلىٰ عَلَيكُم غَيرَ مُحِلِّى الصَّيدِ وَأَنتُم حُرُمٌ ۗ إِنَّ اللَّهَ يَحكُمُ ما يُريدُ

  [5:1] O you who believe, you shall fulfill your covenants. Permitted for you to eat are the livestock, except those specifically prohibited herein. You shall not permit hunting throughout Hajj pilgrimage. GOD decrees whatever He wills.

اے ایمان والو، تم اپنے عہد پورے کرو۔ تمہارے لیے مویشیوں کو کھانے کی اجازت ہے، سوائے اُن کے جو یہاں خاص طور پر ممنوع ہیں۔ تم حج کے پورے عرصے میں شکار کی اجازت مت دینا۔ اللہ جو چاہتا ہے، وہ حکم جاری کر دیتا ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُحِلّوا شَعٰئِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهرَ الحَرامَ وَلَا الهَدىَ وَلَا القَلٰئِدَ وَلا ءامّينَ البَيتَ الحَرامَ يَبتَغونَ فَضلًا مِن رَبِّهِم وَرِضوٰنًا ۚ وَإِذا حَلَلتُم فَاصطادوا ۚ وَلا يَجرِمَنَّكُم شَنَـٔانُ قَومٍ أَن صَدّوكُم عَنِ المَسجِدِ الحَرامِ أَن تَعتَدوا ۘ وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ

  [5:2] O you who believe, do not violate the rites instituted by GOD, nor the Sacred Months, nor the animals to be offered, nor the garlands marking them, nor the people who head for the Sacred Shrine (Ka’bah) seeking blessings from their Lord and approval. Once you complete the pilgrimage, you may hunt.* Do not be provoked into aggression by your hatred of people who once prevented you from going to the Sacred Masjid. You shall cooperate in matters of righteousness and piety; do not cooperate in matters that are sinful and evil. You shall observe GOD. GOD is strict in enforcing retribution.

اے ایمان والو، اللہ کی مقرر کی ہوئی عبادات کی خلاف ورزی نہ کرو، نہ ہی مقدس مہینوں کی، نہ اُن جانوروں کی جو قربانی کے لیے پیش ہوتے ہیں، نہ اُن ہاروں کی جو نشانی کے طور پر انہیں پہنائے جاتے ہیں، نہ ہی اُن لوگوں کی جو اللہ کی رحمتیں اور اُس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے مقدس عبادت گاہ (کعبہ) کی طرف جاتے ہیں۔ ایک بار جب تم حج مکمل کر لو، تم شکار کر سکتے ہو۔* اُن لوگوں کی نفرت تمہیں اِس بات پر نہ اکسائے کہ تم جارحیت پر اتر آؤ، جنہوں نے تمہیں ایک بار مسجدِ حرام میں جانے سے روکا تھا۔ تم نیکی اور تقویٰ کے معاملات میں تعاون کرو۔ اُن معاملات میں تعاون نہ کرو جو گناہ اور برائی والے ہوں۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو۔ اللہ سزا نافذ کرنے میں سخت ہے۔


Footnote

*5:2 Hunting and the cutting of plants are forbidden during pilgrimage for the conservation of natural resources. With thousands of pilgrims converging on Mecca, if hunting were permitted, the land would quickly be stripped of its natural resources. Animal offerings are made part of the pilgrimage to provide for the converging pilgrims, as well as the local population, and to replenish any depleted supplies. See 2:196.

فٹ نوٹ 
قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے حج کے دوران شکار کرنا اور پودوں کو کاٹنا منع ہے۔ مکہ میں ہزاروں حجاجِ کرام کے جمع ہونے کے ساتھ، اگر شکار کی اجازت دی جاتی تو زمین جلد ہی اُس کے قدرتی وسائل سے محروم ہو جاتی۔ جانوروں کی قربانی کو حج کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ حجاجِ کرام کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی طرح کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ دیکھیں


حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ وَالمُنخَنِقَةُ وَالمَوقوذَةُ وَالمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطيحَةُ وَما أَكَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَكَّيتُم وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَستَقسِموا بِالأَزلٰمِ ۚ ذٰلِكُم فِسقٌ ۗ اليَومَ يَئِسَ الَّذينَ كَفَروا مِن دينِكُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونِ ۚ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلٰمَ دينًا ۚ فَمَنِ اضطُرَّ فى مَخمَصَةٍ غَيرَ مُتَجانِفٍ لِإِثمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ

Only Four Meats Prohibited

  “Animals that die of themselves” Defined

  [5:3] Prohibited for you are animals that die of themselves, blood, the meat of pigs,* and animals dedicated to other than GOD. (Animals that die of themselves include those) strangled, struck with an object, fallen from a height, gored, attacked by a wild animal—unless you save your animal before it dies—and animals sacrificed on altars. Also prohibited is dividing the meat through a game of chance; this is an abomination. Today, the disbelievers have given up concerning (the eradication of) your religion; do not fear them and fear Me instead. Today, I have completed your religion, perfected My blessing upon you, and I have decreed Submission as the religion for you. If one is forced by famine (to eat prohibited food), without being deliberately sinful, then GOD is Forgiver, Merciful.

صرف چار گوشت حرام ہیں


جانور جو اپنی ہی موت مر جاتے ہیں اُن کی وضاحت

تمہارے لیے وہ جانور حرام ہیں جو خود سے مر جائیں، خون، سور کا گوشت* اور وہ جانور جو اللہ کی بجائے کسی دوسرے کے لیے وقف کیے جاتے ہیں۔ (جانور جو خود سے مر جائیں، اُن میں شامل ہیں وہ) جنہیں گلا گھونٹ کر مارا جائے یا کسی چیز کے ساتھ ٹکرا کر، یا بلندی سے گر کر مریں، جمع ہوا خون، یا جس پر کسی جنگلی جانور نے حملہ کیا ہو، سوائے اِس کے کہ تم اپنے جانور کو مرنے سے پہلے بچا لو۔ اور قربان گاہوں پر قربان ہونے والے جانور بھی۔ اِس کے علاوہ کھیل کے ذریعے گوشت کو تقسیم کرنا بھی حرام ہے۔ یہ ایک مکروہ عمل ہے۔ آج منکرین نے تمہارے دین کو ختم کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ اُن سے مت ڈرو، اُن کی بجائے مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی رحمتوں کی تکمیل کر دی ہے، اور میں نے فرمانبرداری کو دین کے طور پر تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے۔ اگر کوئی قحط کی وجہ سے (حرام کھانا کھانے پر) مجبور ہو جائے، لیکن اُس کا ارادہ جان بوجھ کر گناہ کرنے کا نہ ہو، تو اللہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔


Footnote

*5:3 The “meat” of the pig is prohibited, not the “fat.” Anything that is not specifically prohibited in the Quran must be considered lawful. See 6:145-146.”

فٹ نوٹ

سور کا گوشت حرام ہے، لیکن اُس کی چربی نہیں۔ جو چیز خصوصی طور پر قرآن میں حرام نہ کی گئی ہو تو اُس کو حلال سمجھنا چاہیے۔ دیکھیں


يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم ۖ قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙ وَما عَلَّمتُم مِنَ الجَوارِحِ مُكَلِّبينَ تُعَلِّمونَهُنَّ مِمّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ فَكُلوا مِمّا أَمسَكنَ عَلَيكُم وَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ

 [5:4] They consult you concerning what is lawful for them; say, “Lawful for you are all good things, including what trained dogs and falcons catch for you.” You train them according to GOD’s teachings. You may eat what they catch for you, and mention GOD’s name thereupon. You shall observe GOD. GOD is most efficient in reckoning.”

وہ تم سے مشورہ کرتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا حلال ہے؛ کہو، تمہارے لیے تمام اچھی چیزیں حلال ہیں، اُن میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں تربیت یافتہ کتے اور باز تمہارے لیے پکڑ کر لاتے ہیں۔ تم اُن کی تربیت اللہ کی تعلیمات کے مطابق کرتے ہو۔ تم وہ کھا سکتے ہو جو وہ تمہارے لیے پکڑ کر لاتے ہیں، اور اُن پر اللہ کا نام لو۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو۔ اللہ حساب لینے میں انتہائی مؤثر ہے۔


 اليَومَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۖ وَطَعامُ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ حِلٌّ لَكُم وَطَعامُكُم حِلٌّ لَهُم ۖ وَالمُحصَنٰتُ مِنَ المُؤمِنٰتِ وَالمُحصَنٰتُ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم إِذا ءاتَيتُموهُنَّ أُجورَهُنَّ مُحصِنينَ غَيرَ مُسٰفِحينَ وَلا مُتَّخِذى أَخدانٍ ۗ وَمَن يَكفُر بِالإيمٰنِ فَقَد حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَةِ مِنَ الخٰسِرينَ

  [5:5] Today, all good food is made lawful for you. The food of the people of the scripture is lawful for you, and your food is lawful for them*. Also, you may marry the chaste women among the believers, as well as the chaste women among the followers of previous scripture, provided you pay them their due dowries. You shall maintain chastity, not committing adultery, nor taking secret lovers. Anyone who rejects faith, all his work will be in vain, and in the Hereafter he will be with the losers.

[5:5] آج تمام اچھے کھانے تمہارے لیے حلال کر دیے گئے ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔* اور تمہارا کھانا اُن پر حلال ہے۔* اور مومنین میں سے پاکدامن عورتوں کے ساتھ شادی بھی کر سکتے ہو، اور اُس کے ساتھ ساتھ پچھلی کتابوں کو ماننے والی پاکدامن عورتوں کے ساتھ بھی، بشرطیکہ تم انہیں اُن کا جائز حق مہر ادا کرو۔ تم پاکیزگی کو برقرار رکھو، بدکاری نہ کرو، اور نہ ہی خفیہ معشوق رکھو۔ جو کوئی بھی دین کو مسترد کرتا ہے، اُس کے تمام کام ضائع ہو جائیں گے، اور آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں کے ساتھ ہو گا۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلوٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم وَأَيدِيَكُم إِلَى المَرافِقِ وَامسَحوا بِرُءوسِكُم وَأَرجُلَكُم إِلَى الكَعبَينِ ۚ وَإِن كُنتُم جُنُبًا فَاطَّهَّروا ۚ وَإِن كُنتُم مَرضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ أَو“جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم مِنهُ ۚ ما يُريدُ اللَّهُ لِيَجعَلَ عَلَيكُم مِن حَرَجٍ وَلٰكِن يُريدُ لِيُطَهِّرَكُم وَلِيُتِمَّ نِعمَتَهُ عَلَيكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ

Ablution

  [5:6] O you who believe, when you observe the Contact Prayers (Salat), you shall: (1) wash your faces, (2) wash your arms to the elbows, (3) wipe your heads, and (4) wash your feet to the ankles. If you were unclean due to sexual orgasm, you shall bathe. If you are ill, or traveling, or had any digestive excretion (urinary, fecal, or gas), or had (sexual) contact with the women, and you cannot find water, you shall observe the dry ablution (Tayammum) by touching clean dry soil, then rubbing your faces and hands. GOD does not wish to make the religion difficult for you; He wishes to cleanse you and to perfect His blessing upon you, that you may be appreciative.


وَاذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم وَميثٰقَهُ الَّذى واثَقَكُم بِهِ إِذ قُلتُم سَمِعنا وَأَطَعنا ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ

 [5:7] Remember GOD’s blessing upon you, and His covenant that He covenanted with you: you said, “We hear and we obey.” You shall observe GOD; GOD is fully aware of the innermost thoughts.”

یاد کرو اللہ کی رحمت جو اُس نے تم پر کی، اور اُس کے عہد کو جو اُس نے تمہارے ساتھ عہد کیا تھا: تم نے کہا، ہم سنتے ہیں اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو؛ اللہ اندرونی سوچوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كونوا قَوّٰمينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالقِسطِ ۖ وَلا يَجرِمَنَّكُم شَنَـٔانُ قَومٍ عَلىٰ أَلّا تَعدِلُوا ۚ اعدِلوا هُوَ أَقرَبُ 

لِلتَّقوىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ

You Shall Not Bear False Witness

  [5:8] O you who believe, you shall be absolutely equitable, and observe GOD, when you serve as witnesses. Do not be provoked by your conflicts with some people into committing injustice. You shall be absolutely equitable, for it is more righteous. You shall observe GOD. GOD is fully Cognizant of everything you do.

تم جھوٹی گواہی مت دو

اے ایمان والو! تم مکمل طور پر منصف رہو، اور اللہ کا مشاہدہ کرو، جب تم گواہ کے طور پر خدمت انجام دیتے ہو۔ کچھ لوگوں سے تنازع ہونے کے باعث مشتعل نہ ہو جاؤ کہ ناانصافی کر جاؤ۔ تمہیں مکمل طور پر منصف ہونا ہے، کیونکہ یہ زیادہ نیک ہے۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اُس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔


وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ عَظيمٌ

  [5:9] GOD promises those who believe and lead a righteous life forgiveness and a great recompense.

اللہ ایمان لانے والوں اور جو نیک زندگی گزارتے ہیں اُن سے بخشش اور اجرِ عظیم کا وعدہ کرتا ہے۔


وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَحيمِ

  [5:10] As for those who disbelieve and reject our revelations, they are the dwellers of Hell.

جہاں تک وہ جو کفر کرتے ہیں اور ہماری آیات کو مسترد کرتے ہیں، وہ جہنم کے باشندے ہیں ۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ هَمَّ قَومٌ أَن يَبسُطوا إِلَيكُم أَيدِيَهُم فَكَفَّ أَيدِيَهُم عَنكُم ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ

God Defends the Believers

  [5:11] O you who believe, remember GOD’s blessings upon you; when some people extended their hands to aggress against you, He protected you and withheld their hands. You shall observe GOD; in GOD the believers shall trust.

اللہ مومنین کی حفاظت کرتا ہے

اے ایمان والو! یاد کرو تم پر اللہ کی رحمتیں؛ جب کچھ لوگوں نے تمہارے خلاف جارحیت کے لیے اپنے ہاتھ بڑھائے، اُس نے تمہاری حفاظت کی اور اُن کے ہاتھوں کو روکا۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو؛ مومنین کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔


وَلَقَد أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ بَنى إِسرٰءيلَ وَبَعَثنا مِنهُمُ اثنَى عَشَرَ نَقيبًا ۖ وَقالَ اللَّهُ إِنّى مَعَكُم ۖ لَئِن أَقَمتُمُ الصَّلوٰةَ وَءاتَيتُمُ الزَّكوٰةَ وَءامَنتُم بِرُسُلى وَعَزَّرتُموهُم وَأَقرَضتُمُ اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَلَأُدخِلَنَّكُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعدَ ذٰلِكَ مِنكُم فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ

Conditions for Staying Within God’s Protection*

  [5:12] GOD had taken a covenant from the Children of Israel, and we raised among them twelve patriarchs. And GOD said, “I am with you, so long as you observe the Contact Prayers (Salat), give the obligatory charity (Zakat), and believe in My messengers and respect them, and continue to lend GOD a loan of righteousness. I will then remit your sins, and admit you into gardens with flowing streams. Anyone who disbelieves after this, has indeed strayed off the right path.

اللہ کی حفاظت میں رہنے کی شرائط*

اللہ نے بنی اسرائیل سے ایک عہد لیا تھا، اور ہم نے اُن کے درمیان بارہ سردار کھڑے کیے۔ اور اللہ نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، جب تک کہ تم نمازوں کی پابندی کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو، اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور اُن کا احترام کرو، اور اللہ کو نیکی کا قرض دیتے رہو۔ پھر میں تمہارے گناہوں کو معاف کر دوں گا، اور تمہیں باغوں میں داخل کروں گا جن میں ندیاں بہتی ہیں۔ اِس کے بعد جو بھی کفر کرتا ہے، وہ بے شک سیدھے راستے سے بھٹک چکا ہے۔


Footnote

*5:12 If you fulfill the requirements stated in this verse, God will let you know that He is with you; you will have no doubt about it. Prominent among God’s signs are mathematical signs for those who understand the Quran’s miracle (Appendix One).

فٹ نوٹ

اگر تم اس آیت میں بیان کردہ تقاضوں کو پورا کرتے ہو، تو اللہ تمہیں بتائے گا کہ وہ تمہارے ساتھ ہے؛ اور تمہیں اُس میں کوئی شک نہیں ہوگا۔ اللہ کی نشانیوں میں ریاضی کی نشانیاں نمایاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو قرآن کے معجزے کو سمجھتے ہیں (ضمیمہ 1)۔


فَبِما نَقضِهِم ميثٰقَهُم لَعَنّٰهُم وَجَعَلنا قُلوبَهُم قٰسِيَةً ۖ يُحَرِّفونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ ۙ وَنَسوا حَظًّا مِمّا ذُكِّروا بِهِ ۚ وَلا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلىٰ خائِنَةٍ مِنهُم إِلّا قَليلًا مِنهُم ۖ فَاعفُ عَنهُم وَاصفَح ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُحسِنينَ

Consequences of Violating God’s Covenant

  [5:13] It was a consequence of their violating the covenant that we condemned them, and we caused their hearts to become hardened. Consequently, they took the words out of context, and disregarded some of the commandments given to them. You will continue to witness betrayal from them, excepting a few of them. You shall pardon them, and disregard them. GOD loves those who are benevolent.

اللہ کے عہد کی خلاف ورزی کے نتائج

یہ اُن کے عہد کی خلاف ورزی کرنے کا نتیجہ تھا کہ ہم نے اُن کی مذمت کی، اور اُن کے دلوں کو سخت کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے الفاظ کو اصل مطلب سے ہٹا کر غلط لے لیا، اور جو احکامات انہیں دیے گئے تھے اُن میں سے کچھ کو نظرانداز کر دیا۔ تم اُن کی دھوکہ دہی کا مشاہدہ کرتے رہو گے، سوائے اُن میں سے چند ایک کے۔ تم انہیں معاف کر دو، اور انہیں نظرانداز کرو۔ اللہ اُن سے محبت کرتا ہے جو بھلائی کرتے ہیں۔


  وَمِنَ الَّذينَ قالوا إِنّا نَصٰرىٰ أَخَذنا ميثٰقَهُم فَنَسوا حَظًّا مِمّا ذُكِّروا بِهِ فَأَغرَينا بَينَهُمُ العَداوَةَ وَالبَغضاءَ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۚ وَسَوفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِما كانوا يَصنَعونَ

  Christians, too, Must Obey God’s Messenger

  [5:14] Also from those who said, “We are Christian,” we took their covenant. But they disregarded some of the commandments given to them. Consequently, we condemned them to animosity and hatred among themselves, until the Day of Resurrection. GOD will then inform them of everything they had done”

عیسائیوں پر بھی اللہ کے رسول کی اطاعت لازم ہے

اور اُن سے بھی جنہوں نے کہا، ہم عیسائی ہیں، ہم نے اُن سے عہد لیا۔ لیکن انہوں نے دیے گئے احکامات میں سے کچھ کو نظر انداز کر دیا۔ اُس کے نتیجے میں، قیامت کے دن تک اُن کے درمیان عداوت اور نفرت ڈال کر ہم نے اُن کی مذمت کی۔ تب اللہ اُنہیں اُن سب کاموں سے آگاہ کرے گا جو انہوں نے کیے تھے۔


يٰأَهلَ الكِتٰبِ قَد جاءَكُم رَسولُنا يُبَيِّنُ لَكُم كَثيرًا مِمّا كُنتُم تُخفونَ مِنَ الكِتٰبِ وَيَعفوا عَن كَثيرٍ ۚ قَد جاءَكُم مِنَ اللَّهِ نورٌ وَكِتٰبٌ مُبينٌ

The Quran: God’s Message

  to the Jews and Christians

  [5:15] O people of the scripture, our messenger has come to you to proclaim for you many things you have concealed in the scripture, and to pardon many other transgressions you have committed. A beacon has come to you from GOD, and a profound scripture.

 قرآن: اللہ کا پیغام
یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے

اے اہلِ کتاب، ہمارا رسول تمہارے پاس بہت سی چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے آ چکا ہے جو تم نے کتاب میں چھپا رکھی ہیں، اور بہت سی دوسری خطاؤں کو معاف کرنے کے لیے جو تم سے سرزد ہوئیں۔ اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک روشنی، اور گہری حکمت والی کتاب آ چکی ہے۔


يَهدى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَهُ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِهِ وَيَهديهِم إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ

[5:16] With it, GOD guides those who seek His approval. He guides them to the paths of peace, leads them out of darkness into the light by His leave, and guides them in a straight path.

اِس کے ساتھ اللہ اُن لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جو اُس کی رضامندی چاہتے ہیں۔ وہ اُن کی رہنمائی امن کے راستے کی طرف کرتا ہے۔ اپنے حکم سے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے، اور اُن کی رہنمائی ایک سیدھے راستے پر کرتا ہے۔


لَقَد كَفَرَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ المَسيحُ ابنُ مَريَمَ ۚ قُل فَمَن يَملِكُ مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا إِن أَرادَ أَن يُهلِكَ المَسيحَ ابنَ مَريَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِى الأَرضِ جَميعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ

 Gross Blasphemy

  [5:17] Pagans indeed are those who say that GOD is the Messiah, the son of Mary. Say, “Who could oppose GOD if He willed to annihilate the Messiah, son of Mary, and his mother, and everyone on earth?” To GOD belongs the sovereignty of the heavens and the earth, and everything between them. He creates whatever He wills. GOD is Omnipotent.”

سنگین گستاخی

درحقیقت کافر وہ ہیں جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں۔ کہو، کون ہے جو اللہ کی مخالفت کر سکتا ہے، اگر وہ مسیح، ابن مریم، اور اُس کی ماں، اور زمین پر ہر ایک کو فنا کرنا چاہے؟ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت، اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے اُس کی تخلیق کرتا ہے۔ اللہ قادرِ مطلق ہے۔


وَقالَتِ اليَهودُ وَالنَّصٰرىٰ نَحنُ أَبنٰؤُا۟ اللَّهِ وَأَحِبّٰؤُهُ ۚ قُل فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنوبِكُم ۖ بَل أَنتُم بَشَرٌ مِمَّن خَلَقَ ۚ يَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ وَإِلَيهِ المَصيرُ

God’s Messenger to the Jews,

  Christians and Muslims

  [5:18] The Jews and the Christians said, “We are GOD’s children and His beloved.” Say, “Why then does He punish you for your sins? You are just humans like the other humans He created.” He forgives whomever He wills and punishes whomever He wills. To GOD belongs the sovereignty of the heavens and the earth, and everything between them, and to Him is the final destiny.”

یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے اللہ کا رسول

یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا، ہم اللہ کے بچے اور اُس کے محبوب ہیں۔ کہو، پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے؟ تم بھی دوسرے انسانوں جیسے انسان ہو جو اُس نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت، اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے، سب اللہ ہی کا ہے، اور اُسی کی طرف ہی آخری ٹھکانا ہے۔


يٰأَهلَ الكِتٰبِ قَد جاءَكُم رَسولُنا يُبَيِّنُ لَكُم عَلىٰ فَترَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَن تَقولوا ما جاءَنا مِن بَشيرٍ وَلا نَذيرٍ ۖ فَقَد جاءَكُم بَشيرٌ وَنَذيرٌ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ

  God’s Messenger of the Covenant

  [5:19] O people of the scripture, our messenger has come to you, to explain things to you, after a period of time without messengers, lest you say, “We did not receive any preacher or warner.” A preacher and warner has now come to you. GOD is Omnipotent.*”

اللہ کا میثاقِ رسول

اے اہلِ کتاب، ایک عرصے کے بعد بنا رسولوں کے ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا ہے، تاکہ وہ تمہارے لیے چیزوں کی وضاحت کرے، کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی تبلیغ کرنے والا، یا خبردار کرنے والا نہیں آیا۔ اب تمہارے پاس ایک تبلیغ کرنے والا اور خبردار کرنے والا آ چکا ہے۔ اللہ قادرِ مطلق ہے۔


Footnote

*5:19 This verse reports the fulfillment of the biblical and Quranic prophecy regarding the advent of God’s Messenger of the Covenant (Malachi 3:1, Quran 3:81). The name of this messenger is mathematically coded into the Quran as “Rashad Khalifa.” This very special verse warrants the presentation of specific evidence. By adding the gematrical value of “Rashad” (505), plus the value of “Khalifa” (725), plus the sura number (5), plus the verse number (19), we obtain a total of 505+725+5+19 = 1254, or 19×66. Nineteen is the Quran’s common denominator, which was revealed through Rashad Khalifa. More evidence and specific details are in Appendix Two.

فٹ نوٹ

یہ آیت اللہ کے عہد کے رسول کی آمد سے متعلق بائبل اور قرآنی پیشین گوئی کی تکمیل کی اطلاع دیتی ہے (ملاکی 3:1، قرآن 3:81)۔ اِس رسول کا نام ریاضی کے لحاظ سے قرآن میں راشاد خلیفہ کے طور پر کوڈ کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی اہم آیت واضح ثبوت پیش کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ راشاد کی قدر (505)، خلیفہ کی قدر (725)، سورہ نمبر (5)، آیت کا نمبر (19) کو جمع کریں تو مجموعہ 505+725+5+19=1254 یا 19×66، ملتا ہے۔ انیس قرآن کا مشترک بنیادی عدد ہے، جو راشاد خلیفہ کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔ جس کے مزید ثبوت اور مخصوص تفصیلات ضمیمہ 2 میں موجود ہیں۔


وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يٰقَومِ اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جَعَلَ فيكُم أَنبِياءَ وَجَعَلَكُم مُلوكًا وَءاتىٰكُم ما لَم يُؤتِ أَحَدًا مِنَ العٰلَمينَ

  [5:20] Recall that Moses said to his people, “O my people, remember GOD’s blessings upon you: He appointed prophets from among you, made you kings, and granted you what He never granted any other people.”

یاد کرو کہ موسیٰ نے اپنے لوگوں سے کہا، اے میرے لوگو، یاد کرو اللہ کی رحمتیں جو اُس نے تم پر کیں: اُس نے تم میں سے انبیاء مقرر کیے، تمہیں بادشاہ بنایا، اور تمہیں وہ عطا کیا جو اُس نے کبھی کسی اور لوگوں کو عطا نہیں کیا۔


يٰقَومِ ادخُلُوا الأَرضَ المُقَدَّسَةَ الَّتى كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَلا تَرتَدّوا عَلىٰ أَدبارِكُم فَتَنقَلِبوا خٰسِرينَ

God Gives the Holy Land to Israel

  [5:21] O my people, enter the holy land that GOD has decreed for you, and do not rebel, lest you become losers.

اللہ اسرائیل کو مقدس سرزمین عطا کرتا ہے

اے میرے لوگو، اِس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دی ہے، اور سرکشی مت کرو، ایسا نہ ہو کہ تم خسارے میں پڑ جاؤ۔


قالوا يٰموسىٰ إِنَّ فيها قَومًا جَبّارينَ وَإِنّا لَن نَدخُلَها حَتّىٰ يَخرُجوا مِنها فَإِن يَخرُجوا مِنها فَإِنّا دٰخِلونَ

  [5:22] They said, “O Moses, there are powerful people in it, and we will not enter it, unless they get out of it. If they get out, we are entering.”

انہوں نے کہا، اے موسیٰ، اُس میں طاقتور لوگ ہیں، اور ہم اُس میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے۔ اگر وہ نکل جائیں تو ہم داخل ہو جائیں گے۔


قالَ رَجُلانِ مِنَ الَّذينَ يَخافونَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِمَا ادخُلوا عَلَيهِمُ البابَ فَإِذا دَخَلتُموهُ فَإِنَّكُم غٰلِبونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلوا إِن كُنتُم مُؤمِنينَ

 [5:23] Two men who were reverent and blessed by GOD said, “Just enter the gate. If you just enter it, you will surely prevail. You must trust in GOD, if you are believers.”

  دو آدمی جو با ادب تھے اور جہنیں اللہ نے رحمتوں سے نوازا تھا، انہوں نے کہا  صرف دروازے سے داخل ہو جاؤ، اگر تم صرف اُس میں داخل ہو جاؤ، تو تم یقیناً  غالب رہو گے۔ تم اللہ پر لازمی بھروسہ رکھو، اگر تم ایمان والے ہو۔


قالوا يٰموسىٰ إِنّا لَن نَدخُلَها أَبَدًا ما داموا فيها ۖ فَاذهَب أَنتَ وَرَبُّكَ فَقٰتِلا إِنّا هٰهُنا قٰعِدونَ

Despite All the Miracles They Saw

  [5:24] They said, “O Moses, we will never enter it, so long as they are in it. Therefore, go—you and your Lord—and fight. We are sitting right here.”

تمام معجزات دیکھنے کے باوجود

انہوں نے کہا، اے موسیٰ، ہم اُس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے، جب تک کہ وہ وہاں موجود ہیں، اِس لیے، جاؤ—تم اور تمہارا رب—اور لڑو۔ ہم یہیں بیٹھ رہے ہیں۔


قالَ رَبِّ إِنّى لا أَملِكُ إِلّا نَفسى وَأَخى ۖ فَافرُق بَينَنا وَبَينَ القَومِ الفٰسِقينَ

  [5:25] He said, “My Lord, I can only control myself and my brother. So, allow us to part company with the wicked people.” 

اُس نے کہا، اے میرے رب، میں صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر اختیار رکھتا ہوں۔ پس، ہمیں اجازت دیں کہ ہم بدکار لوگوں سے الگ ہو جائیں۔


 قالَ فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيهِم ۛ أَربَعينَ سَنَةً ۛ يَتيهونَ فِى الأَرضِ ۚ فَلا تَأسَ عَلَى القَومِ الفٰسِقينَ

  [5:26] He said, “Henceforth, it is forbidden them for forty years, during which they will roam the earth aimlessly. Do not grieve over such wicked people.”

اُس نے کہا، اب سے، یہ اُن کے لیے چالیس سال تک ممنوع ہے، جس کے دوران وہ زمین پر بے مقصد گھومتے پھرتے رہیں گے۔ اِس طرح کے بدکار لوگوں کے لیے غمگین مت ہو۔


وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ ابنَى ءادَمَ بِالحَقِّ إِذ قَرَّبا قُربانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِما وَلَم يُتَقَبَّل مِنَ الءاخَرِ قالَ لَأَقتُلَنَّكَ ۖ قالَ إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ المُتَّقينَ

The First Murder*

  [5:27] Recite for them the true history of Adam’s two sons. They made an offering, and it was accepted from one of them, but not from the other. He said, “I will surely kill you.” He said, “GOD accepts only from the righteous.”

پہلا قتل*

انہیں آدم کے دو بیٹوں کی صحیح تاریخ سناؤ۔ اُنہوں نے ایک قربانی پیش کی، اور یہ اُن میں سے ایک کی طرف سے قبول کر لی گئی، لیکن دوسرے کی طرف سے نہیں۔ اُس نے کہا، میں یقیناً تمہیں مار ڈالوں گا۔ اُس نے کہا، اللہ صرف نیک لوگوں سے ہی قبول کرتا ہے۔


Footnote

*5:27-31 The names of the two sons involved in this first murder are not relevant. But they are given in the Bible as Abel and Cain (Genesis 4:2-9).

فٹ نوٹ

اِس پہلے قتل میں ملوث دو بیٹوں کے ناموں کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن بائبل میں انہیں ہابیل اور قابیل کا نام دیا گیا ہے، ابتداء (جینسس 9-2 :4)۔


لَئِن بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقتُلَنى ما أَنا۠ بِباسِطٍ يَدِىَ إِلَيكَ لِأَقتُلَكَ ۖ إِنّى أَخافُ اللَّهَ رَبَّ العٰلَمينَ

  [5:28] If you extend your hand to kill me, I am not extending my hand to kill you. For I reverence GOD, Lord of the universe.

اگر تم مجھے مارنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہو، تو میں تمہیں مارنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں بڑھا رہا، کیونکہ اللہ جو کائنات کا مالک ہے میں اُس کی تعظیم کرتا ہوں۔


إِنّى أُريدُ أَن تَبوأَ بِإِثمى وَإِثمِكَ فَتَكونَ مِن أَصحٰبِ النّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰؤُا۟ الظّٰلِمينَ

  [5:29] I want you, not me, to bear my sin and your sin, then you end up with the dwellers of Hell. Such is the requital for the transgressors.

میں چاہتا ہوں کہ تم، نہ کہ میں، میرا اور اپنا گناہ اٹھاؤ۔ پھر تمہارا خاتمہ جہنم کے رہنے والوں کے ساتھ ہو۔ یہی حد سے بڑھنے والوں کا بدلہ ہے۔


فَطَوَّعَت لَهُ نَفسُهُ قَتلَ أَخيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصبَحَ مِنَ الخٰسِرينَ

 [5:30] His ego provoked him into killing his brother. He killed him, and ended up with the losers.

اُس کی انا نے اُسے اپنے بھائی کو قتل کرنے پر اکسا دیا۔ اُس نے اُسے مار ڈالا، اور اُس کا خاتمہ نقصان اٹھانے والوں کے ساتھ ہوا۔


فَبَعَثَ اللَّهُ غُرابًا يَبحَثُ فِى الأَرضِ لِيُرِيَهُ كَيفَ يُوٰرى سَوءَةَ أَخيهِ ۚ قالَ يٰوَيلَتىٰ أَعَجَزتُ أَن أَكونَ مِثلَ هٰذَا الغُرابِ فَأُوٰرِىَ سَوءَةَ أَخى ۖ فَأَصبَحَ مِنَ النّٰدِمينَ

  [5:31] GOD then sent a raven to scratch the soil, to teach him how to bury his brother’s corpse. He said, “Woe to me; I failed to be as intelligent as this raven, and bury my brother’s corpse.” He became ridden with remorse.”

پھر اللہ نے ایک کوّے کو مٹی کھودنے کے لیے بھیجا، تاکہ اُسے سکھائے کہ وہ کیسے بھائی کی لاش کو دفن کرے۔ اُس نے کہا، افسوس ہے مجھ پر؛ کہ میں اِس کوّے جتنا عقلمند بھی نہیں، کہ اپنے بھائی کی لاش کو دفن کر سکوں۔ وہ پچھتاوے میں مبتلا ہو گیا۔


مِن أَجلِ ذٰلِكَ كَتَبنا عَلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَرضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النّاسَ جَميعًا وَمَن أَحياها فَكَأَنَّما أَحيَا النّاسَ جَميعًا ۚ وَلَقَد جاءَتهُم رُسُلُنا بِالبَيِّنٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثيرًا مِنهُم بَعدَ ذٰلِكَ فِى الأَرضِ لَمُسرِفونَ

Grossness of Murder

  [5:32] Because of this, we decreed for the Children of Israel that anyone who murders any person who had not committed murder or horrendous crimes, it shall be as if he murdered all the people. And anyone who spares a life, it shall be as if he spared the lives of all the people. Our messengers went to them with clear proofs and revelations, but most of them, after all this, are still transgressing.

قتل کی سنگینی

اِس کی وجہ سے، ہم نے بنی اسرائیل کے لیے یہ حکم جاری کیا کہ جو کوئی بھی کسی ایسے شخص کو قتل کرے گا جس نے قتل یا کوئی بھیانک جرم نہ کیا ہو، تو یہ ایسے ہو گا کہ جیسے اُس نے تمام لوگوں کا قتل کیا ہو۔ اور جو کوئی بھی ایک زندگی بچاتا ہے، تو یہ ایسے ہو گا جیسے اُس نے تمام لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔ ہمارے رسول اُن کے پاس واضح ثبوت اور آیات کے ساتھ گئے، لیکن اِس سب کے بعد بھی، اُن میں سے زیادہ تر، ابھی تک حکم عدولی کر رہے ہیں۔


إِنَّما جَزٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِبونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا أَن يُقَتَّلوا أَو يُصَلَّبوا أَو تُقَطَّعَ أَيديهِم وَأَرجُلُهُم مِن خِلٰفٍ أَو يُنفَوا مِنَ الأَرضِ ۚ ذٰلِكَ لَهُم خِزىٌ فِى الدُّنيا ۖ وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ

Capital Punishment: When is it Justified?

The just retribution for those who fight GOD and His messenger, and commit (horrendous )crimes, is to be killed, or crucified, or to have their hands and feet cut off on alternate sides, or to be banished from the land. This is to humiliate them in this life, then they suffer a far worse retribution in the Hereafter.

 سزائے موت: کب جائز ہے؟

وہ جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑتے ہیں، اور بھیانک جرائم کرتے ہیں، اُن کی منصفانہ سزا یہ ہے کہ انہیں مار دیا جائے، یا سولی پر چڑھایا جائے، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ یہ انہیں اِس زندگی میں ذلیل کرنے کے لیے ہے، پھر آخرت میں وہ اِس سے بھی بدتر عذاب میں مبتلا ہوں گے۔


إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن قَبلِ أَن تَقدِروا عَلَيهِم ۖ فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ

 [5:34] Exempted  are those who repent before you overcome them. You should know that GOD is Forgiver, Most Merciful.

مستثنیٰ ہیں وہ جو تمہارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابتَغوا إِلَيهِ الوَسيلَةَ وَجٰهِدوا فى سَبيلِهِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ

[5:35] O you who believe, you shall reverence GOD and seek the ways and means to Him, and strive in His cause, that you may succeed.

اے ایمان والو، تم اللہ کی تعظیم کرو اور اُس کی طرف جانے کے راستے اور ذریعے  تلاش کرو، اور اُس کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔


إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَو أَنَّ لَهُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا وَمِثلَهُ مَعَهُ لِيَفتَدوا بِهِ مِن عَذابِ يَومِ القِيٰمَةِ ما تُقُبِّلَ مِنهُم ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ

The Cost of Disbelief

  [5:36] Certainly, those who disbelieved, if they possessed everything on earth, even twice as much, and offered it as ransom  to spare them the retribution on the Day of Resurrection, it would not be accepted from them; they have incurred a painful retribution.

کفر کی قیمت

یقیناً، وہ جنہوں نے کفر کیا، اگر وہ زمین پر ہر چیز کے مالک ہوتے، یہاں تک کہ اُس سے دوگنا زیادہ، اور وہ اُسے قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے بطور تاوان پیش کرتے، تب بھی یہ اُن سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ ایک دردناک عذاب اٹھا چکے ہیں۔


يُريدونَ أَن يَخرُجوا مِنَ النّارِ وَما هُم بِخٰرِجينَ مِنها ۖ وَلَهُم عَذابٌ مُقيمٌ

  [5:37] They will want to exit Hell, but alas, they can never exit therefrom; their retribution is eternal.

وہ جہنم سے نکلنے کی خواہش کریں گے، لیکن افسوس، وہ وہاں سے کبھی نہیں نکل سکیں گے، اُن کی سزا ہمیشہ کے لیے ہے۔


وَالسّارِقُ وَالسّارِقَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما جَزاءً بِما كَسَبا نَكٰلًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ

Mathematical Proof Supports Quranic Justice

  [5:38] The thief, male or female, you shall mark their hands* as a punishment for their crime, and to serve as an example from GOD. GOD is Almighty, Most Wise.

حسابی ثبوت قرآنی انصاف کی حمایت کرتا ہے۔

چور، مرد ہو یا عورت، تم اُن کے جرم کی سزا کے لیے، اور اللہ کی طرف سے ایک مثال قائم کرنے کے لیے، اُن کے ہاتھوں پر نشان لگاؤ۔ اللہ سب سے زیادہ طاقت ور، انتہائی دانا ہے۔


Footnote

*5:38 The practice of cutting off the thief’s hand, as decreed by the false Muslims, is a satanic practice without Quranic basis. Due to the special importance of this example, God has provided mathematical proof in support of marking the hand of the thief, rather than severing ( سیورنگ) it. Verse 12:31 refers to the women who so admired Joseph that they “cut” their hands. Obviously, they did not “cut off” their hands; nobody can. The sum of sura and verse numbers are the same for 5:38 and 12:31, i.e., 43. It is also the will and mercy of God that this mathematical relationship conforms with the Quran’s 19-based code. Nineteen verses after 12:31, we see the same word (12:50).

فٹ نوٹ

چور کے ہاتھ کاٹ کر الگ کر دینے کا عمل، جسے جھوٹے مسلمانوں نے قائم کیا ہوا ہے، یہ قرآنی بنیاد کے بغیر ایک شیطانی عمل ہے۔ اِس مثال کی خاص اہمیت کی وجہ سے اللہ نے چور کے ہاتھ کو کاٹنے کی بجائے اُس پر نشان لگانے کی تائید میں حسابی ثبوت فراہم کیا ہے۔ سورت 12 کی آیت 31 اُن عورتوں کا حوالہ دیتی ہے جنہوں نے یوسف کو اِس قدر سراہا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو “کاٹ لیا”۔ ظاہر ہے، کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کاٹ کر الگ نہیں کر دیا تھا اور نہ ہی ایسا کوئی کر سکتا ہے۔ سورہ اور آیت کے نمبروں کا مجموعہ 5:38 اور 12:31، ایک جیسے یعنی 43 ہیں۔ یہ بھی اللہ کی مرضی اور رحمت ہے کہ یہ حسابی تعلق قرآن کے 19 کی بنیاد پر مشتمل کوڈ کی تصدیق کرتا ہے۔ 12:31 کی انیس آیات کے بعد ہم ویسا ہی لفظ (12:50) میں دیکھتے ہیں۔


فَمَن تابَ مِن بَعدِ ظُلمِهِ وَأَصلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتوبُ عَلَيهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ

[5:39] If one repents after committing this crime, and reforms, GOD redeems him. GOD is Forgiver, Most Merciful.

اگر کوئی اِس جرم کو کرنے کے بعد توبہ کرتا ہے، اور اصلاح کرتا ہے، اللہ اُسے معاف کر دیتا ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے


أَلَم تَعلَم أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ يُعَذِّبُ مَن يَشاءُ وَيَغفِرُ لِمَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ

[5:40] Do you not know that GOD possesses the sovereignty of the heavens and the earth? He punishes whomever He wills, and forgives whomever He wills. GOD is Omnipotent.

   کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے پاس ہے؟ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔


يٰأَيُّهَا الرَّسولُ لا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسٰرِعونَ فِى الكُفرِ مِنَ الَّذينَ قالوا ءامَنّا بِأَفوٰهِهِم وَلَم تُؤمِن قُلوبُهُم ۛ وَمِنَ الَّذينَ هادوا ۛ سَمّٰعونَ لِلكَذِبِ سَمّٰعونَ لِقَومٍ ءاخَرينَ لَم يَأتوكَ ۖ يُحَرِّفونَ الكَلِمَ مِن بَعدِ مَواضِعِهِ ۖ يَقولونَ إِن أوتيتُم هٰذا فَخُذوهُ وَإِن لَم تُؤتَوهُ فَاحذَروا ۚ وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتنَتَهُ فَلَن تَملِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۚ أُولٰئِكَ الَّذينَ لَم يُرِدِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلوبَهُم ۚ لَهُم فِى الدُّنيا خِزىٌ ۖ وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ

[5:41] O you messenger, do not be saddened by those who hasten to disbelieve among those who say, “We believe,” with their mouths, while their hearts do not believe. Among the Jews, some listened to lies. They listened to people who never met you, and who distorted the words out of context, then said, “If you are given this, accept it, but if you are given anything different, beware.” Whomever GOD wills to divert, you can do nothing to help him against GOD. GOD does not wish to cleanse their hearts. They have incurred humiliation in this world, and in the Hereafter, they will suffer a terrible retribution. “

اے رسول، اُن کی وجہ سے غمگین مت ہو جو کفر کرنے میں جلدی کرتے ہیں اُن میں سے وہ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ جبکہ اُن کے دل ایمان نہیں لاتے۔ یہودیوں میں سے کچھ نے جھوٹ سنا، انہوں نے ایسے لوگوں کی بات سنی جو تم سے کبھی نہیں ملے اور جنہوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر الفاظوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، پھر کہا، اگر تمہیں یہ دیا جائے تو اُسے قبول کرو، لیکن اگر تمہیں کچھ مختلف دیا جائے تو خبردار رہو۔ اللہ جسے پھیرنا چاہے، تو تم اللہ کے خلاف اُس کی مدد کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ اللہ اُن کے دلوں کو صاف نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے اِس دنیا میں ذلت اٹھائی اور آخرت میں بھی وہ ایک خوفناک سزا بھگتیں گے۔


سَمّٰعونَ لِلكَذِبِ أَكّٰلونَ لِلسُّحتِ ۚ فَإِن جاءوكَ فَاحكُم بَينَهُم أَو أَعرِض عَنهُم ۖ وَإِن تُعرِض عَنهُم فَلَن يَضُرّوكَ شَيـًٔا ۖ وَإِن حَكَمتَ فَاحكُم بَينَهُم بِالقِسطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ

[5:42] They are upholders of lies, and eaters of illicit earnings. If they come to you to judge among them, you may judge among them, or you may disregard them. If you choose to disregard them, they cannot harm you in the least. But if you judge among them, you shall judge equitably. GOD loves those who are equitable.

وہ جھوٹ کے علمبردار، اور ناجائز کمائی کھانے والے ہیں۔ اگر وہ تمہارے پاس اُن کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے آتے ہیں، تو تم اُن کے درمیان فیصلہ کر سکتے ہو، یا تم انہیں نظر انداز کر سکتے ہو۔ اگر تم انہیں نظر انداز کرنے کا انتخاب کرتے ہو، تو وہ تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن اگر تم اُن کے درمیان فیصلہ کرو، تو تم انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔


وَكَيفَ يُحَكِّمونَكَ وَعِندَهُمُ التَّورىٰةُ فيها حُكمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّونَ مِن بَعدِ ذٰلِكَ ۚ وَما أُولٰئِكَ بِالمُؤمِنينَ

[5:43] Why do they ask you to judge among them, when they have the Torah, containing GOD’s law, and they chose to disregard it? They are not believers.

وہ تمہیں اُن کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کیوں کہتے ہیں، جبکہ اُن کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا قانون ہے، اور انہوں نے اُسے نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا؟ وہ مومن نہیں ہیں۔


إِنّا أَنزَلنَا التَّورىٰةَ فيها هُدًى وَنورٌ ۚ يَحكُمُ بِهَا النَّبِيّونَ الَّذينَ أَسلَموا لِلَّذينَ هادوا وَالرَّبّٰنِيّونَ وَالأَحبارُ بِمَا استُحفِظوا مِن كِتٰبِ اللَّهِ وَكانوا عَلَيهِ شُهَداءَ ۚ فَلا تَخشَوُا النّاسَ وَاخشَونِ وَلا تَشتَروا بِـٔايٰتى ثَمَنًا قَليلًا ۚ وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ الكٰفِرونَ

Honoring Previous Scripture

  [5:44] We have sent down the Torah,* containing guidance and light. Ruling in accordance with it were the Jewish prophets, as well as the rabbis and the priests, as dictated to them in GOD’s scripture, and as witnessed by them. Therefore, do not reverence human beings; you shall reverence Me instead. And do not trade away My revelations for a cheap price. Those who do not rule in accordance with GOD’s revelations are the disbelievers.

پچھلی آسمانی کتاب کا احترام

ہم نے تورات کو نازل کیا، جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اُس کے مطابق حکمرانی کرتے تھے یہودی انبیا اور اُن کے ساتھ ساتھ رابائی اور پادری بھی، جیسا کہ اللہ کی کتاب میں انہیں حکم دیا گیا تھا، اور جس کے گواہ وہ خود بھی تھے۔ اِس لیے انسانوں کی تعظیم مت کرو؛ اُس کی بجائے تم میری تعظیم کرو۔ اور میری آیات کو سستے داموں فروخت نہ کرو۔ وہ جو اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے وہ منکرین ہیں۔


Footnote

5:44 The Torah is a collection of all the scriptures revealed through all the prophets of Israel prior to Jesus Christ, i.e., today’s Old Testament. Nowhere in the Quran do we find that the Torah was given to Moses.

فٹ نوٹ

تورات اُن تمام کتابوں کا مجموعہ ہے جو عیسیٰ سے پہلے اسرائیل کے تمام انبیاء کے ذریعے نازل ہوئیں، یعنی موجودہ زمانے کا  پرانا عہد نامہ۔ قرآن میں کہیں بھی ہم نہیں دیکھ پاتے کہ تورات موسیٰ کو دی گئی تھی۔


وَكَتَبنا عَلَيهِم فيها أَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ وَالعَينَ بِالعَينِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالجُروحَ قِصاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفّارَةٌ لَهُ ۚ وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ

The Law of Equivalence

  [5:45] And we decreed for them in it that: the life for the life, the eye for the eye, the nose for the nose, the ear for the ear, the tooth for the tooth, and an equivalent injury for any injury. If one forfeits what is due to him as a charity, it will atone for his sins. Those who do not rule in accordance with GOD’s revelations are the unjust.

برابری کا قانون

اور ہم نے اُس میں انہیں یہ حکم دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور زخم کا بدلہ اُس کے برابر کا زخم ہو گا۔ اگر کوئی صدقہ کے طور پر اپنے حق سے دستبردار ہو جائے، تو یہ اُس کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔ وہ جو اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔


وَقَفَّينا عَلىٰ ءاثٰرِهِم بِعيسَى ابنِ مَريَمَ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ التَّورىٰةِ ۖ وَءاتَينٰهُ الإِنجيلَ فيهِ هُدًى وَنورٌ وَمُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ التَّورىٰةِ وَهُدًى وَمَوعِظَةً لِلمُتَّقينَ

  The Gospel of Jesus: Guidance and Light

  [5:46] Subsequent to them, we sent Jesus, the son of Mary, confirming the previous scripture, the Torah. We gave him the Gospel, containing guidance and light, and confirming the previous scriptures, the Torah, and augmenting its guidance and light, and to enlighten the righteous.

عیسیٰ کی انجیل: ہدایت اور روشنی

اُن کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، پچھلی کتاب تورات کی تصدیق کرتے ہوئے۔ ہم نے اُسے انجیل دی، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اور پچھلی کتابوں، تورات کی تصدیق، اور اُس کی ہدایت اور روشنی میں اضافہ کرتی تھی، اور نیک لوگوں کے لیے روشنی تھی۔


وَليَحكُم أَهلُ الإِنجيلِ بِما أَنزَلَ اللَّهُ فيهِ ۚ وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ

  [5:47] The people of the Gospel shall rule in accordance with GOD’s revelations therein. Those who do not rule in accordance with GOD’s revelations are the wicked.

انجیل کے لوگ اُس میں اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی کریں۔ وہ جو اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے وہی بدکار ہیں۔


وَأَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ الكِتٰبِ وَمُهَيمِنًا عَلَيهِ ۖ فَاحكُم بَينَهُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم عَمّا جاءَكَ مِنَ الحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلنا مِنكُم شِرعَةً وَمِنهاجًا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن لِيَبلُوَكُم فى ما ءاتىٰكُم ۖ فَاستَبِقُوا الخَيرٰتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم جَميعًا فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ

Quran: The Ultimate Reference

  [5:48] Then we revealed to you this scripture, truthfully, confirming previous scriptures, and superseding them. You shall rule among them in accordance with GOD’s revelations, and do not follow their wishes if they differ from the truth that came to you. For each of you, we have decreed laws and different rites. Had GOD willed, He could have made you one congregation. But He thus puts you to the test through the revelations He has given each of you. You shall compete in righteousness. To GOD is your final destiny—all of you—then He will inform you of everything you had disputed.

قرآن: حتمی حوالہ

پھر ہم نے تم پر سچائی کے ساتھ یہ کتاب نازل کی، جو پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اُن پر فوقیت رکھتی ہے۔ تم اُن کے درمیان اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی کرو، اور اُن کی اُن خواہشات کی پیروی مت کرو اگر وہ اُس سچائی سے مختلف ہوں جو تمہارے پاس آئی ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے قوانین اور مختلف مذہبی طریقے مقرر کیے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا، وہ تمہیں ایک ہی جماعت بنا سکتا تھا۔ لیکن اِس طرح وہ تمہاری اُن آیات کے ذریعے آزمائش کرتا ہے جو اُس نے تم میں سے ہر ایک کو دی ہیں۔ تمہیں نیکی میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ اللہ کی طرف تم سب کی آخری منزل ہے۔ پھر وہ تمہیں ہر اُس چیز سے آگاہ کرے گا جس میں تم نے اختلاف کیا تھا۔


وَأَنِ احكُم بَينَهُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم وَاحذَرهُم أَن يَفتِنوكَ عَن بَعضِ ما أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوا فَاعلَم أَنَّما يُريدُ اللَّهُ أَن يُصيبَهُم بِبَعضِ ذُنوبِهِم ۗ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ النّاسِ لَفٰسِقونَ

 [5:49] You shall rule among them in accordance with GOD’s revelations to you. Do not follow their wishes, and beware lest they divert you from some of GOD’s revelations to you. If they turn away, then know that GOD wills to punish them for some of their sins. Indeed, many people are wicked.

تم اُن کے درمیان اللہ کی آیات کے مطابق حکمرانی کرو جو تم پر نازل ہوئی ہیں۔ اُن کی خواہشات کی پیروی مت کرو، اور خبردار رہو، ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں اللہ کی دی ہوئی کچھ آیات سے پھیر دیں۔ اگر وہ منہ موڑ لیں، تو جان لو کہ اللہ انہیں اُن کے کچھ گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ درحقیقت، زیادہ تر لوگ فاسق ہیں۔


أَفَحُكمَ الجٰهِلِيَّةِ يَبغونَ ۚ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ

[5:50] Is it the law of the days of ignorance that they seek to uphold? Whose law is better than GOD’s for those who have attained certainty?

کیا یہ دورِ جہالت کا قانون ہے جسے وہ تھامے رکھنا چاہتے ہیں؟ اللہ کے قانون سے بہتر کس کا قانون ہے اُن لوگوں کے لیے جو یقین حاصل کر چکے؟


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصٰرىٰ أَولِياءَ ۘ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ

Certain Jews and Christians Cannot Be Friends*

  [5:51] O you who believe, do not take certain Jews and Christians as allies; these are allies of one another. Those among you who ally themselves with these belong with them. GOD does not guide the transgressors.

بعض یہودی اور عیسائی دوست نہیں ہو سکتے*

اے ایمان والو، بعض یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ساتھی مت بناؤ؛ یہ ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ تم میں سے وہ جو اُن کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں وہ انہی میں سے ہیں۔ اللہ حد سے بڑھ جانے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔


Footnote

*5:51 Relations with other people are governed by the basic rule in 5:57 & 60:8-9. The Jews and Christians who cannot be friends are specifically mentioned in 5:57; they are the ones who mock and ridicule the believers, or attack them.

فٹ نوٹ

دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کا بنیادی قانون 5:57 اور 9-8 :60 میں بیان کیا گیا ہے، جو یہودی اور عیسائی دوست نہیں ہو سکتے اُن کا ذکر خاص طور پر 5:57 میں کیا گیا ہے۔ یہ وہ ہیں جو ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں یا اُن پر حملہ کرتے ہیں۔


فَتَرَى الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ يُسٰرِعونَ فيهِم يَقولونَ نَخشىٰ أَن تُصيبَنا دائِرَةٌ ۚ فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأتِىَ بِالفَتحِ أَو أَمرٍ مِن عِندِهِ فَيُصبِحوا عَلىٰ ما أَسَرّوا فى أَنفُسِهِم نٰدِمينَ

 [5:52] You will see those who harbor doubt in their hearts hasten to join them, saying, “We fear lest we may be defeated.” May GOD bring victory, or a command from Him, that causes them to regret their secret thoughts.”

تم دیکھو گے کہ وہ جو اپنے دلوں میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں وہ اُن کے ساتھ شامل ہونے میں جلدی کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے، “ہمیں ڈر ہے کہیں ہمیں شکست نہ ہو جائے۔ ہو سکتا ہے اللہ فتح لے آئے، یا اُس کی طرف سے کوئی فرمان آ جائے، جو اُن کے چھپے ہوئے خیالات کو اُن کے لیے پچھتاوے کا سبب بنا دے۔


وَيَقولُ الَّذينَ ءامَنوا أَهٰؤُلاءِ الَّذينَ أَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم ۙ إِنَّهُم لَمَعَكُم ۚ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فَأَصبَحوا خٰسِرينَ

[5:53] The believers will then say, “Are these the same people who swore by GOD solemnly that they were with you?” Their works have been nullified; they are the losers.”

مومنین پھر کہیں گے، کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں؟ اُن کے اعمال ضائع ہو چکے ہیں؛ وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہیں۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا مَن يَرتَدَّ مِنكُم عَن دينِهِ فَسَوفَ يَأتِى اللَّهُ بِقَومٍ يُحِبُّهُم وَيُحِبّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى المُؤمِنينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكٰفِرينَ يُجٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا يَخافونَ لَومَةَ لائِمٍ ۚ ذٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ

[5:54] O you who believe, if you revert from your religion, then GOD will substitute in your place people whom He loves and who love Him. They will be kind with the believers, stern with the disbelievers, and will strive in the cause of GOD without fear of any blame. Such is GOD’s blessing; He bestows it upon whomever He wills. GOD is Bounteous, Omniscient.

اے ایمان والو، اگر تم اپنے دین سے پھر جاتے ہو، تو اللہ تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہے اور جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ مومنین کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے، کافروں کے ساتھ سخت ہوں گے، اور اللہ کی راہ میں بلا خوف و خطر جہاد کریں گے۔ ایسی ہے اللہ کی رحمت؛ وہ جسے چاہے اُسے عطا کرتا ہے۔ اللہ فضل والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔


إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَالَّذينَ ءامَنُوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَهُم رٰكِعونَ

  [5:55] Your real allies are GOD and His messenger, and the believers who observe the Contact Prayers (Salat), and give the obligatory charity (Zakat), and they bow down.

تمہارے حقیقی ساتھی اللہ اور اُس کا رسول ہے، اور وہ مومنین جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور وہ جھک جاتے ہیں۔


وَمَن يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالَّذينَ ءامَنوا فَإِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ الغٰلِبونَ

  [5:56] Those who ally themselves with GOD and His messenger, and those who believed, belong in the party of GOD; absolutely, they are the victors.

وہ جو اللہ اور اُس کے رسول کو ساتھی بناتے ہیں، اور وہ جو ایمان لائے، اُن کا تعلق اللہ کی جماعت سے ہے؛ یقیناً یہی فاتح ہیں۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخَذوا دينَكُم هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَالكُفّارَ أَولِياءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم 

Which Jews and Christians

  [5:57] O you who believe, do not befriend those among the recipients of previous scripture who mock and ridicule your religion, nor shall you befrienزd the disbelievers. You shall reverence GOD, if you are really believers.

کون سے یہودی اور عیسائی

اے ایمان والو، پچھلی کتابوں کو وصول کرنے والوں میں سے اُن سے دوستی نہ کرو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے، اور اُس کا تمسخر کرتے ہیں، اور نہ ہی تم کافروں کو دوست بناؤ۔ تم اللہ کی تعظیم کرو، اگر تم واقعی مومن ہو۔


وَإِذا نادَيتُم إِلَى الصَّلوٰةِ اتَّخَذوها هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَعقِلونَ

Recipients of the Scriptures Transgress

  [5:58] When you call to the Contact Prayers (Salat), they mock and ridicule it. This is because they are people who do not understand.

الٰہی کتابوں کو وصول کرنے والے حدود سے تجاوز کرتے ہیں

جب تم نمازوں کے لیے پکارتے ہو، وہ اُس کا مذاق اُڑاتے، اور تمسخر کرتے ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔


قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ هَل تَنقِمونَ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا وَما أُنزِلَ مِن قَبلُ وَأَنَّ أَكثَرَكُم فٰسِقونَ

[5:59] Say, “O people of the scripture, do you not hate us because we believe in GOD, and in what was revealed to us, and in what was revealed before us, and because most of  you are not righteous?”

کہو، اے اہلِ کتاب، کیا تم ہم سے اِس لیے نفرت نہیں کرتے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا تھا، اور جو کچھ ہم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، اور اِس لیے کہ تم میں سے زیادہ تر صالح نہیں ہیں؟


قُل هَل أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِن ذٰلِكَ مَثوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيهِ وَجَعَلَ مِنهُمُ القِرَدَةَ وَالخَنازيرَ وَعَبَدَ الطّٰغوتَ ۚ أُولٰئِكَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضَلُّ عَن سَواءِ السَّبيلِ

  [5:60] Say, “Let me tell you who are worse in the sight of GOD: those who are condemned by GOD after incurring His wrath until He made them (as despicable as) monkeys and pigs, and the idol worshipers. These are far worse, and farther from the right path.”

کہو، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ کی نظر میں بدتر کون ہیں: یہ وہ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اُس کا غضب عائد ہونے کے بعد، یہاں تک کہ اُس نے انہیں (اتنا حقیر جیسے کہ) بندر اور خنزیر اور مشرک بنا دیا۔ یہ کہیں زیادہ بدتر، اور سیدھے راستے سے بہت زیادہ دور ہیں۔


وَإِذا جاءوكُم قالوا ءامَنّا وَقَد دَخَلوا بِالكُفرِ وَهُم قَد خَرَجوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما كانوا يَكتُمونَ

  [5:61] When they come to you, they say, “We believe,” even though they were full of disbelief when they entered, and they are full of disbelief when they leave. GOD is fully aware of everything they conceal.”

جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لاتے ہیں، حالانکہ وہ داخل ہوتے وقت بھی کفر سے بھرے ہوئے تھے، اور وہ جاتے وقت بھی کفر سے بھرے ہوئے ہیں۔ اللہ اُن کی ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔


وَتَرىٰ كَثيرًا مِنهُم يُسٰرِعونَ فِى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَعمَلونَ

  [5:62] You see many of them readily committing evil and transgression, and eating from illicit earnings. Miserable indeed is what they do.

تم اُن میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ وہ برائی اور زیادتی کرنے میں جلدی کرتے ہیں، اور ناجائز کمائی کھاتے ہیں۔ یقیناً نہایت برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔


لَولا يَنهىٰهُمُ الرَّبّٰنِيّونَ وَالأَحبارُ عَن قَولِهِمُ الإِثمَ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَصنَعونَ

[5:63] If only the rabbis and the priests enjoin them from their sinful utterances and illicit earnings! Miserable indeed is what they commit.

کاش کہ رابائی اور پادری اُن کو اُن کے گناہ کی باتوں اور ناجائز کمائی سے منع کریں! یقیناً کتنا بُرا ہے وہ کام جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔


 وَقالَتِ اليَهودُ يَدُ اللَّهِ مَغلولَةٌ ۚ غُلَّت أَيديهِم وَلُعِنوا بِما قالوا ۘ بَل يَداهُ مَبسوطَتانِ يُنفِقُ كَيفَ يَشاءُ ۚ وَلَيَزيدَنَّ كَثيرًا مِنهُم ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ طُغيٰنًا وَكُفرًا ۚ وَأَلقَينا بَينَهُمُ العَدٰوَةَ وَالبَغضاءَإِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۚ كُلَّما أَوقَدوا نارًا لِلحَربِ أَطفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا ۚ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ

Blaspheming Against God

[5:64] The Jews even said, “GOD’s hand is tied down!” It is their hands that are tied down. They are condemned for uttering such a blasphemy. Instead, His hands are wide open, spending as He wills. For certain, your Lord’s revelations to you will cause many of them to plunge deeper into transgression and disbelief. Consequently, we have committed them to animosity and hatred among themselves until the Day of Resurrection. Whenever they ignite the flرames of war, GOD puts them out. They roam the earth wickedly, and GOD dislikes the evildoers.”

اللہ کے خلاف گستاخی کرنا

یہودیوں نے یہاں تک کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے! یہ اُن کے ہاتھ ہیں جو بندھے ہوئے ہیں۔ ایسی گستاخانہ بات کرنے پر اُن کی مذمت کی جاتی ہے۔ بلکہ، اُس کے ہاتھ بہت کھلے ہیں، وہ جیسے چاہے خرچ کرتا ہے۔ یقیناً، تمہارے رب کی تم پر نازل ہونے والی وحی اُن میں سے بہت سوں کے لیے گناہ اور کفر کی گہرائیوں میں ڈوبنے کا سبب بنے گی۔ چنانچہ، ہم نے انہیں قیامت تک کے لیے آپس میں دشمنی اور نفرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب بھی وہ جنگ کے شعلے بھڑکاتے ہیں، اللہ انہیں بجھا دیتا ہے۔ وہ زمین پر بدکاری کرتے پھرتے ہیں، اور اللہ بدکاروں کو ناپسند کرتا ہے۔


وَلَو أَنَّ أَهلَ الكِتٰبِ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَكَفَّرنا عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَلَأَدخَلنٰهُم جَنّٰتِ النَّعيمِ

Salvation For Jews and Christians

[5:65] If only the people of the scripture believe and lead a righteous life, we will then remit their sins, and admit them into gardens of bliss.

یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے نجات

اگر اہلِ کتاب ایمان لے آئیں اور نیک زندگی گزاریں، ہم اُن کے گناہ معاف کر دیں گے، اور انہیں نعمتوں والے باغات میں داخل کریں گے۔


وَلَو أَنَّهُم أَقامُوا التَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيهِم مِن رَبِّهِم لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَرجُلِهِم ۚ مِنهُم أُمَّةٌ مُقتَصِدَةٌ ۖ وَكَثيرٌ مِنهُم ساءَ ما يَعمَلونَ

They Must Believe in This Quran

[5:66] If only they would uphold the Torah and the Gospel, and what is sent down to them herein from their Lord, they would be showered with blessings from above them and from beneath their feet. Some of them are righteous, but many of them are evildoers.

اِس قرآن پر اُن کے لیے ایمان لانا لازم ہے

   اگر وہ تورات اور انجیل کو تھامے رکھتے، اور جو کچھ اِس میں اُن کے رب کی طرف سے اُن پر نازل ہوا ہے، تو اُن پر اُن کے اوپر سے اور اُن کے قدموں کے نیچے سے رحمتوں کی بارش کی جاتی۔ اُن میں سے کچھ نیک ہیں، لیکن اُن میں سے زیادہ تر بدکار ہیں۔


يٰأَيُّهَا الرَّسولُ بَلِّغ ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۖ وَإِن لَم تَفعَل فَما بَلَّغتَ رِسالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعصِمُكَ مِنَ النّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ

The Messenger Must Deliver

[5:67] O you messenger, deliver what is revealed to you from your Lord― until you do, you have not delivered His message―and GOD will protect you from the people. GOD does not guide the disbelieving people.

رسول پر لازم ہے کہ پیغام پہنچائے

اے رسول، تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے، اُس کو پہنچا دو— جب تک تم ایسا کرتے ہو، اور تم نے اُس کا پورا پیغام نہیں پہنچایا، تو اللہ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔


قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لَستُم عَلىٰ شَيءٍ حَتّىٰ تُقيمُوا التَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَبِّكُم ۗ وَلَيَزيدَنَّ كَثيرًا مِنهُم ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ طُغيٰنًا وَكُفرًا ۖ فَلا تَأسَ عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ

[5:68] Say, “O people of the scripture, you have no basis until you uphold the Torah, and the Gospel, and what is sent down to you herein from your Lord.” For sure, these revelations from your Lord will cause many of them to plunge deeper into transgression and disbelief. Therefore, do not feel sorry for the disbelieving people.”

کہو، اے اہلِ کتاب، تمہارے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے جب تک کہ تم تورات، انجیل، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں اِس (کتاب) میں بھیجا گیا ہے اُسے تھامے نہ رکھو۔ یقیناً، تمہارے رب کی یہ آیات اُن میں سے بہت سے لوگوں کو گناہ اور کفر کی مزید گہرائی میں لے جائیں گی۔ اِس لیے کافر لوگوں کے لیے افسوس مت کرو۔


إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَالَّذينَ هادوا وَالصّٰبِـٔونَ وَالنَّصٰرىٰ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ

Minimum Requirements For Salvation

[5:69] Surely, those who believe, those who are Jewish, the converts, and the Christians; any of them who (1) believe in GOD and (2) believe in the Last Day, and (3) lead a righteous life, have nothing to fear, nor will they grieve.

 نجات کے لیے کم از کم تقاضے

یقیناً، وہ جو ایمان لائے، وہ جو یہودی، مذہب تبدیل کرنے والے اور عیسائی ہیں؛ اُن میں سے جو بھی (1) اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور (2) یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور (3) نیک زندگی بسر کرتا ہے، انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا، نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔


لَقَد أَخَذنا ميثٰقَ بَنى إِسرٰءيلَ وَأَرسَلنا إِلَيهِم رُسُلًا ۖ كُلَّما جاءَهُم رَسولٌ بِما لا تَهوىٰ أَنفُسُهُم فَريقًا كَذَّبوا وَفَريقًا يَقتُلونَ

[5:70] We have taken a covenant from the Children of Israel, and we sent to them messengers. Whenever a messenger went to them with anything they disliked, some of them they rejected, and some they killed.

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے اُن کی طرف پیغمبر بھیجے۔ جب بھی کوئی پیغمبر اُن کے پاس کوئی ایسی چیز لے کر گیا جسے انہوں نے ناپسند کیا، تو اُن میں سے کچھ کو انہوں نے مسترد کر دیا، اور کچھ کو ہلاک کر دیا۔


وَحَسِبوا أَلّا تَكونَ فِتنَةٌ فَعَموا وَصَمّوا ثُمَّ تابَ اللَّهُ عَلَيهِم ثُمَّ عَموا وَصَمّوا كَثيرٌ مِنهُم ۚ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ

[5:71] They thought that they would not be tested, so they turned blind and deaf, then GOD redeemed them, but then many of them turned blind and deaf again. GOD is Seer of everything they do.

وہ سوچتے تھے کہ اُن کی آزمائش نہیں ہو گی، اِس لیے وہ اندھے اور بہرے ہو گئے، پھر اللہ نے انہیں معاف کر دیا، مگر پھر اُن میں سے بہت سے دوبارہ اندھے اور بہرے ہو گئے۔ اللہ اُن کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔


لَقَد كَفَرَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ المَسيحُ ابنُ مَريَمَ ۖ وَقالَ المَسيحُ يٰبَنى إِسرٰءيلَ اعبُدُوا اللَّهَ رَبّى وَرَبَّكُم ۖ إِنَّهُ مَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَد حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيهِ الجَنَّةَ وَمَأوىٰهُ النّارُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ

Today’s Christianity Not Jesus’ Religion*

  [5:72] Pagans indeed are those who say that GOD is the Messiah, son of Mary. The Messiah himself said, “O Children of Israel, you shall worship GOD; my Lord and your Lord.” Anyone who sets up any idol beside GOD, GOD has forbidden Paradise for him, and his destiny is Hell. The wicked have no helpers.”

آج کی عیسائیت عیسیٰ کا مذہب نہیں*

درحقیقت کافر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا مسیح، ابنِ مریم ہے۔ مسیح نے خود کہا، اے بنی اسرائیل، تم اللہ کی عبادت کرو؛ جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ جو کوئی بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، اللہ نے اُس کے لیے جنت حرام کر دی ہے، اور اُس کا مقدر جہنم ہے۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔


footnote

*5:72-76 In John 20:17, we see that Jesus taught that he was neither God, nor the son of God. Many theologians have concluded, after careful research, that today’s Christianity is not the same Christianity taught by Jesus. Two outstanding books on this subject are “The Myth of God Incarnate” (The Westminster Press, Philadelphia, 1977) and The “Mythmaker” (Harper & Row, New York, 1986). On the front jacket of “The Mythmaker” we read the following statement: “…Hyam Maccoby presents new arguments to support the view that Paul, not Jesus, was the founder of Christianity….it was Paul alone who created a new religion through his vision of Jesus as a divine Savior who died to save humanity.”

فٹ نوٹ

یوحنا کی انجیل 20:17 میں، ہم دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ نے خود یہ تعلیم دی کہ وہ نہ خدا تھا، نہ ہی خدا کا بیٹا۔ بہت سے عالمِ دین نے محتاط تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آج کی عیسائیت وہ عیسائیت نہیں ہے جس کی تعلیم عیسیٰ نے دی تھی۔ اس موضوع پر دو شاندار کتابیں، اللہ کا انسانی جسم میں آنے کا افسانہ، (ویسٹ منسٹر پریس، فلاڈیلفیا، 1977)، اور افسانہ ساز، (ہارپر اینڈ رو، نیویارک، 198)۔

میتھ میکر کی فرنٹ جیکٹ پر ہم مندرجہ ذیل بیان پڑھتے ہیں؛ ہایم میکوبی اِس نظریے کی تائید کے لیے نئے دلائل پیش کرتا ہے کہ عیسیٰ نہیں، بلکہ پال عیسائیت کا بانی تھا…. یہ اکیلا پال تھا جس نے اپنے نظریے کے ذریعے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی، جس میں عیسیٰ ایک الٰہی نجات دہندہ کے طور پر انسانیت کو بچانے کے لیے مرا۔


لَقَد كَفَرَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ ثالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ وَما مِن إِلٰهٍ إِلّا إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ وَإِن لَم يَنتَهوا عَمّا يَقولونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم عَذابٌ أَليمٌ

  [5:73] Pagans indeed are those who say that GOD is a third of a trinity. There is no god except the one god. Unless they refrain from saying this, those who disbelieve among them will incur a painful retribution.

درحقیقت کافر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔ ایک اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ اگر وہ یہ کہنے سے باز نہ آئے، تو اُن میں سے وہ جو منکر ہیں، ایک دردناک سزا اٹھائیں گے۔


أَفَلا يَتوبونَ إِلَى اللَّهِ وَيَستَغفِرونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ

[5:74] Would they not repent  to GOD, and ask His forgiveness? GOD is Forgiver, Most Merciful.

کیا وہ اللہ سے توبہ نہیں کریں گے، اور اُس سے معافی نہیں مانگیں گے؟ اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔


ما المَسيحُ ابنُ مَريَمَ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ ۖ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ ۗ انظُر كَيفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الءايٰتِ ثُمَّ انظُر أَنّىٰ يُؤفَكونَ

  [5:75] The Messiah, son of Mary, is no more than a messenger like the messengers before him, and his mother was a saint. Both of them used to eat the food. Note how we explain the revelations for them, and note how they still deviate!

[5:75] مسیح، ابنِ مریم، اپنے سے پہلے کے رسولوں کی طرح ایک رسول سے زیادہ کچھ نہیں، اور اُس کی والدہ ایک ولی تھی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ غور کرو کہ کس طرح ہم اُن کے لیے آیات کی وضاحت کرتے ہیں، اور غور کرو کہ کیسے ابھی تک وہ اُس سے انحراف کرتے ہیں۔


قُل أَتَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَكُم ضَرًّا وَلا نَفعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ

[5:76] Say, “Would you worship beside GOD powerless idols who can neither harm you, nor benefit you? GOD is Hearer, Omniscient.”

کہو، کیا تم اللہ کے ساتھ بے اختیار بتوں کی عبادت کرو گے جو نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی فائدہ؟ اللہ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔


قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرًا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ

  Choose Your Friends Carefully

  [5:77] Say, “O people of the scripture, do not transgress the limits of your religion beyond the truth, and do not follow the opinions of people who have gone astray, and have misled multitudes of people; they are far astray from the right path.”

 اپنے دوستوں کا انتخاب احتیاط سے کرو

کہو ، اے اہلِ کتاب، اپنے دین کی حدود میں حق سے آگے تجاوز مت کرو، اور اُن لوگوں کی رائے  کی پیروی مت کرو جو بھٹک چکے ہیں،اور کثیر تعداد میں لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں، وہ سیدھے راستے سے بہت دور بھٹک چکے ہیں۔


لُعِنَ الَّذينَ كَفَروا مِن بَنى إِسرٰءيلَ عَلىٰ لِسانِ داوۥدَ وَعيسَى ابنِ مَريَمَ ۚ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ

  [5:78] Condemned are those who disbelieved among the Children of Israel, by the tongue of David and Jesus, the son of Mary. This is because they disobeyed and transgressed.

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، اُن پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ملامت کی گئی۔ یہ اِس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کیا۔


كانوا لا يَتَناهَونَ عَن مُنكَرٍ فَعَلوهُ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَفعَلونَ

Apathy Condemned

  [5:79] They did not enjoin one another from committing evil. Miserable indeed is what they did.

بے حسی کی مذمت

وہ ایک دوسرے کو برائی کرنے سے منع نہیں کرتے تھے۔ یقیناً، انہوں نے جو کیا وہ بہت ہی برا کیا۔


تَرىٰ كَثيرًا مِنهُم يَتَوَلَّونَ الَّذينَ كَفَروا ۚ لَبِئسَ ما قَدَّمَت لَهُم أَنفُسُهُم أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيهِم وَفِى العَذابِ هُم خٰلِدونَ

  [5:80] You would see many of them allying themselves with those who disbelieve. Miserable indeed is what their hands have sent forth on behalf of their souls. GOD is angry with them and, consequently, they will abide forever in retribution.

تم اُن میں سے زیادہ تر کو اُن لوگوں کو ساتھی بناتے ہوئے دیکھو گے جو کفر کرتے ہیں۔ یقیناً بہت ہی برا ہے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی روح کے لیے آگے بھیجا ہے۔ اللہ اُن سے ناراض ہے، اور اُس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔


وَلَو كانوا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِىِّ وَما أُنزِلَ إِلَيهِ مَا اتَّخَذوهُم أَولِياءَ وَلٰكِنَّ كَثيرًا مِنهُم فٰسِقونَ

  [5:81] Had they believed in GOD, and the prophet, and in what was revealed to him herein, they would not have befriended them. But many of them are evil.

اگر وہ اللہ پر ایمان لائے ہوتے، اور اُس کے نبی پر، اور جو کچھ اُس پر اِس میں نازل ہوا تھا، تو وہ اُن سے دوستی نہ کرتے۔ لیکن اُن میں سے زیادہ تر بدکار ہیں۔


لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النّاسِ عَدٰوَةً لِلَّذينَ ءامَنُوا اليَهودَ وَالَّذينَ أَشرَكوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقرَبَهُم مَوَدَّةً لِلَّذينَ ءامَنُوا الَّذينَ قالوا إِنّا نَصٰرىٰ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّ مِنهُم قِسّيسينَ وَرُهبانًا وَأَنَّهُم لا يَستَكبِرونَ

A Statement of Fact

  [5:82] You will find that the worst enemies of the believers are the Jews and the idol worshipers. And you will find that the closest people in friendship to the believers are those who say, “We are Christian.” This is because they have priests and monks among them, and they are not arrogant.”

ایک حقیقت پر مبنی بیان
تم دیکھو گے کہ مومنین کے بدترین دشمن یہودی اور مشرکین ہیں۔ اور تم دیکھو گے کہ مومنین کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کہ اُن کے درمیان پادری اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔


وَإِذا سَمِعوا ما أُنزِلَ إِلَى الرَّسولِ تَرىٰ أَعيُنَهُم تَفيضُ مِنَ الدَّمعِ مِمّا عَرَفوا مِنَ الحَقِّ ۖ يَقولونَ رَبَّنا ءامَنّا فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ

  [5:83] When they hear what was revealed to the messenger, you see their eyes flooding with tears as they recognize the truth therein, and they say, “Our Lord, we have believed, so count us among the witnesses.”

جب وہ سنتے ہیں جو رسول پہ نازل ہوا، تو تم دیکھتے ہو کہ اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں جیسے ہی وہ اِس میں سچ کو پہچانتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں، اے ہمارے رب، ہم ایمان لے آئے ہیں پس ہمیں گواہوں میں شمار فرمائیں۔


وَما لَنا لا نُؤمِنُ بِاللَّهِ وَما جاءَنا مِنَ الحَقِّ وَنَطمَعُ أَن يُدخِلَنا رَبُّنا مَعَ القَومِ الصّٰلِحينَ

  [5:84] “Why should we not believe in GOD, and in the truth that has come to us, and hope that our Lord may admit us with the righteous people?

کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں، اور اُس سچ پر جو ہمارے پاس آیا ہے، اور امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا؟


فَأَثٰبَهُمُ اللَّهُ بِما قالوا جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَذٰلِكَ جَزاءُ المُحسِنينَ

[5:85] GOD has rewarded them for saying this; He will admit them into gardens with flowing streams. They abide therein forever. Such is the reward for the righteous.

اللہ نے انہیں یہ کہنے کا اجر دیا ہے؛ وہ انہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا، جہاں بہتی ہوئی ندیاں ہوں گی۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ایسا ہوتا ہے انعام نیک لوگوں کے لیے۔


وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَحيمِ

[5:86] As for those who disbelieve and reject our revelations, they are the dwellers of Hell.

جہاں تک وہ جو کفر کرتے ہیں، اور ہماری آیات کو مسترد کرتے ہیں، وہ جہنم کے باشندے ہیں۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُحَرِّموا طَيِّبٰتِ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكُم وَلا تَعتَدوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ

Do Not Prohibit Lawful Things

  [5:87] O you who believe, do not prohibit good things that are made lawful by GOD, and do not aggress; GOD dislikes the aggressors.

 حلال چیزوں کی ممانعت مت کرو
اے ایمان والو، اُن چیزوں کی ممانعت نہ کرو جو اللہ کی طرف سے اچھی اور حلال بنائی گئی ہیں، اور ظلم نہ کرو؛ اللہ ظالموں کو ناپسند کرتا ہے۔


وَكُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ

  [5:88] And eat from the good and lawful things that GOD has provided for you. You shall reverence GOD, in whom you are believers.

   اور اُن اچھی اور حلال چیزوں میں سے کھاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مہیا کی ہیں۔ تم اللہ کی تعظیم کرو، جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔


لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمٰنِكُم وَلٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمٰنَ ۖ فَكَفّٰرَتُهُ إِطعامُ عَشَرَةِ مَسٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحريرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلٰثَةِ أَيّامٍ ۚ ذٰلِكَ كَفّٰرَةُ أَيمٰنِكُم إِذا حَلَفتُم ۚ وَاحفَظوا أَيمٰنَكُم ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ

Do Not Take God’s Name in Vain

  [5:89] GOD does not hold you responsible for the mere utterance of oaths; He holds you responsible for your actual intentions. If you violate an oath, you shall atone by feeding ten poor people from the same food you offer to your own family, or clothing them, or by freeing a slave. If you cannot afford this, then you shall fast three days. This is the atonement for violating the oaths that you swore to keep. You shall fulfill your oaths. GOD thus explains His revelations to you, that you may be appreciative.

اللہ کا نام بے مقصد مت لو
اللہ تمہیں محض کہی گئی قسموں کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا؛ وہ تمہیں تمہارے اصل ارادوں کا ذمہ وار ٹھہراتا ہے۔ اگر تم ایک عہد کی خلاف ورزی کرتے ہو، تو اُس کا کفارہ تم دس مسکینوں کو ویسا ہی کھانا کھلا کر کرو جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنا کر، یا ایک غلام کو رہا کر کے۔ اگر تم اِس کی استطاعت نہیں رکھتے، تو پھر تم تین روزے رکھو۔ یہ اُن قسموں کی خلاف ورزی کرنے کا کفارہ ہے جو تم نے پورا کرنے کی قسم کھائی تھی۔ تم اپنے عہد پورے کرو۔ اللہ اِس طرح تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، تاکہ تم شکرگزار بن سکو۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ وَالمَيسِرُ وَالأَنصابُ وَالأَزلٰمُ رِجسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ

Intoxicants and Gambling Prohibited

  [5:90] O you who believe, intoxicants, and gambling, and the altars of idols, and the games of chance are abominations of the devil; you shall avoid them, that you may succeed.

منشیات اور جوئے کی ممانعت
اے ایمان والو، منشیات، اور جوا، اور بتوں کے آستانے، اور قسمت آزمانے والے کھیل شیطان کے مکروہ کام ہیں؛ تم اُن سے بچو، تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔


إِنَّما يُريدُ الشَّيطٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَدٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ وَالمَيسِرِ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلوٰةِ ۖ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ

  [5:91] The devil wants to provoke animosity and hatred among you through intoxicants and gambling, and to distract you from remembering GOD, and from observing the Contact Prayers (Salat). Will you then refrain?

شیطان منشیات اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نمازوں کی پابندی سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ کیا تم پھر بھی باز نہ آؤ گے؟


وَأَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَاحذَروا ۚ فَإِن تَوَلَّيتُم فَاعلَموا أَنَّما عَلىٰ رَسولِنَا البَلٰغُ المُبينُ

[5:92] You shall obey GOD, and you shall obey the messenger, and beware. If you turn away, then know that the sole duty of our messenger is to deliver the message efficiently.

تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اور خبردار رہو۔ اگر تم پھر جاتے ہو، تو جان لو کہ ہمارے رسول کی واحد ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچا دے۔


لَيسَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُناحٌ فيما طَعِموا إِذا مَا اتَّقَوا وَءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَءامَنوا ثُمَّ اتَّقَوا وَأَحسَنوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ

[5:93] Those who believe and lead a righteous life bear no guilt by eating any food, so long as they observe the commandments, believe and lead a righteous life, then maintain their piety and faith, and continue to observe piety and righteousness. GOD loves the righteous.

وہ جو ایمان لاتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں انہیں کوئی بھی کھانا کھانے میں گناہ نہیں ، جب تک کہ وہ احکامات کی پابندی کرتے ہیں، ایمان لاتے ہیں اور نیک  زندگی گزارتے ہیں، پھر اپنے تقویٰ اور ایمان کو قائم رکھتے ہیں، اور تقویٰ اور نیکی کو جاری رکھتے ہیں۔ . اللہ  نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لَيَبلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيءٍ مِنَ الصَّيدِ تَنالُهُ أَيديكُم وَرِماحُكُم لِيَعلَمَ اللَّهُ مَن يَخافُهُ بِالغَيبِ ۚ فَمَنِ اعتَدىٰ بَعدَ ذٰلِكَ فَلَهُ عَذابٌ أَليمٌ

  Game Conservation

  [5:94] O you who believe, GOD will test you with some game within reach of your hands and your arrows (during pilgrimage). GOD thus distinguishes those among you who observe Him in their privacy. Those who transgress after this have incurred a painful retribution.

شکار کا تحفظ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ بعض جانوروں کے شکار کے ذریعے تمہاری آزمائش کرے گا جو تمہارے ہاتھوں اور تمہارے تیروں کی پہنچ میں ہوں گے (حج کے دوران)۔ اللہ اِس طرح تم میں سے اُن لوگوں کو ممتاز کرتا ہے جو اپنی تنہائی میں اُس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ جو اِس کے باوجود حد سے تجاوز کرتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقتُلُوا الصَّيدَ وَأَنتُم حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُتَعَمِّدًا فَجَزاءٌ مِثلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحكُمُ بِهِ ذَوا عَدلٍ مِنكُم هَديًا بٰلِغَ الكَعبَةِ أَو كَفّٰرَةٌ طَعامُ مَسٰكينَ أَو عَدلُ ذٰلِكَ صِيامًا لِيَذوقَ وَبالَ أَمرِهِ ۗ عَفَا اللَّهُ عَمّا سَلَفَ ۚ وَمَن عادَ فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنهُ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ

[5:95] O you who believe, do not kill any game during pilgrimage. Anyone who kills any game on purpose, his fine shall be a number of livestock animals that is equivalent to the game animals he killed. The judgment shall be set by two equitable people among you. They shall make sure that the offerings reach the Ka’bah. Otherwise, he may expiate by feeding poor people, or by an equivalent fast to atone for his offense. GOD has pardoned past offenses. But if anyone returns to such an offense, GOD will avenge it. GOD is Almighty, Avenger.

  اے ایمان والو، حج کے دوران کسی جانور کو مت مارو۔ جو کوئی بھی کسی جانور کو جان بوجھ کر مارے گا تو اُس کا جرمانہ اُن جانوروں کی تعداد کے برابر ہو گا جو اُس نے مارے ہوں گے۔ اِس بارے میں فیصلہ تم میں سے دو عادل لوگ کریں گے۔ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ہدیہ خانہ کعبہ تک پہنچ جائے۔ دوسری صورت میں وہ غریبوں کو کھانا کھلا کر کفارہ دے سکتا ہے یا اپنے گناہ کا کفارہ دینے کے لیے اُس کے برابر روزے رکھ سکتا ہے۔ اللہ نے ماضی کے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔ لیکن اگر کسی نے دوبارہ یہی گناہ کیا، تو اللہ اُس کا بدلہ لے گا۔ اللہ سب سے زیادہ طاقت ور، بدلہ لینے والا ہے۔


  أُحِلَّ لَكُم صَيدُ البَحرِ وَطَعامُهُ مَتٰعًا لَكُم وَلِلسَّيّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيكُم صَيدُ البَرِّ ما دُمتُم حُرُمًا ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى إِلَيهِ تُحشَرونَ

All Creatures of the Sea Lawful to Eat

  [5:96] All fish of the sea are made lawful for you to eat. During pilgrimage, this may provide for you during your journey. You shall not hunt throughout the pilgrimage. You shall reverence GOD, before whom you will be summoned.

سمندر کی تمام مخلوقات کھانے کے لیے حلال ہیں
سمندر کی تمام مچھلیاں تمہارے کھانے کے لیے حلال کی گئی ہیں۔ حج کے دوران، تمہارے سفر میں یہ تمہارے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ تم پورے حج کے دوران شکار مت کرو۔ تم اللہ کی تعظیم کرو، جس کے سامنے تمہیں حاضر کیا جائے گا۔


جَعَلَ اللَّهُ الكَعبَةَ البَيتَ الحَرامَ قِيٰمًا لِلنّاسِ وَالشَّهرَ الحَرامَ وَالهَدىَ وَالقَلٰئِدَ ۚ ذٰلِكَ لِتَعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ

 [5:97] GOD has appointed the Ka’bah, the Sacred Masjid,* to be a sanctuary for the people, and also the Sacred Months, the offerings (to the Sacred Masjid), and the garlands marking them. You should know that GOD knows everything in the heavens and the earth, and that GOD is Omniscient.

اللہ نے کعبہ، مقدس مسجد،* کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ متعین کیا ہے، اور مقدس مہینوں کو بھی اور (مقدس مسجد) کے قربانی والے جانوروں کو، اور ان ہاروں کو جو نشانی کے طور پر انہیں پہنائے جاتے ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے، اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔


Footnote 

*5:97 The idol-worshiping Muslims have instituted two “Sacred Masjids” by consecrating the Prophet’s tomb. The Quran talks only about one Sacred Masjid.”

فٹ نوٹ

مشرک مسلمانوں نے نبی کی قبر کو مقدس بنا کر دو مقدس مساجد مقرر کر دی ہیں، جبکہ قرآن صرف ایک مقدس مسجد کے بارے میں بتاتا ہے


اعلَموا أَنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ وَأَنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ

  [5:98] Know that GOD is strict in enforcing retribution, and that GOD is Forgiving, Most Merciful.

جان لو کہ اللہ سزا نافذ کرنے میں سخت ہے، اور یہ کہ اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے


ما عَلَى الرَّسولِ إِلَّا البَلٰغُ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تُبدونَ وَما تَكتُمونَ

  [5:99] The sole duty of the messenger is to deliver the message, and GOD knows everything you declare and everything you conceal.

پیغمبر کا کام صرف یہ ہے کہ وہ پیغام کو پہنچا دے۔ اور اللہ ہر وہ چیز جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔


  قُل لا يَستَوِى الخَبيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَو أَعجَبَكَ كَثرَةُ الخَبيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّهَ يٰأُولِى الأَلبٰبِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ

[5:100] Proclaim: “The bad and the good are not the same, even if the abundance of the bad may impress you. You shall reverence GOD, (even if you are in the minority) O you who possess intelligence, that you may succeed.”

اعلان کرو کہ: برائی اور اچھائی ایک جیسے نہیں ہیں، چاہے برائی کی کثرت تمہیں متاثر ہی کیوں نہ کرے۔ تمہیں اللہ کی تعظیم کرنی چاہیے (چاہے تم اقلیت میں ہی کیوں نہ ہو) اے ذہانت کے مالک! تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَسـَٔلوا عَن أَشياءَ إِن تُبدَ لَكُم تَسُؤكُم وَإِن تَسـَٔلوا عَنها حينَ يُنَزَّلُ القُرءانُ تُبدَ لَكُم عَفَا اللَّهُ عَنها ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ حَليمٌ

 [5:101] O you who believe, do not ask about matters which, if revealed to you prematurely, would hurt you. If you ask about them in light of the Quran, they will become obvious to you. GOD has deliberately overlooked them. GOD is Forgiver, Clement.

اے ایمان والو، ایسے معاملات کے بارے میں مت پوچھو جو تم پر اگر وقت سے پہلے ظاہر ہو جائیں تو تمہیں تکلیف پہنچے گی۔ اگر تم قرآن کی روشنی میں اُن کے بارے میں پوچھو گے تو وہ تم پر واضح ہو جائیں گے۔ اللہ نے جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کیا ہے۔ اللہ بخشنے والا، اور رحم کرنے والا ہے۔


قَد سَأَلَها قَومٌ مِن قَبلِكُم ثُمَّ أَصبَحوا بِها كٰفِرينَ

   [5:102] Others before you have asked the same questions, then became disbelievers therein.

تم سے پہلے دوسرے لوگ بھی یہی سوال کر چکے ہیں، پھر اُن میں وہ منکر ہو گئے۔


ما جَعَلَ اللَّهُ مِن بَحيرَةٍ وَلا سائِبَةٍ وَلا وَصيلَةٍ وَلا حامٍ ۙ وَلٰكِنَّ الَّذينَ كَفَروا يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ ۖ وَأَكثَرُهُم لا يَعقِلونَ

  [5:103] GOD did not prohibit livestock that begets certain combinations of males and females, nor livestock liberated by an oath, nor the one that begets two males in a row, nor the bull that fathers ten. It is the disbelievers who invented such lies about GOD. Most of them do not understand.

اللہ نے ایسے مویشیوں سے منع نہیں کیا جو نر اور مادہ کے خاص قسم کے ملاپ سے جنم لیتے ہیں۔ نہ ہی اُن مویشیوں سے جو کسی حلف کی وجہ سے آزاد ہوتے ہیں۔ نہ ہی وہ جو ایک وقت میں دو نر پیدا کرتا ہے، نہ ہی وہ بیل جو دس بچوں کا باپ ہے۔ یہ کافر ہی ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں اِس طرح کے جھوٹ گھڑ رکھے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ تر سمجھتے نہیں ہیں۔


وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا إِلىٰ ما أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسولِ قالوا حَسبُنا ما وَجَدنا عَلَيهِ ءاباءَنا ۚ أَوَلَو كانَ ءاباؤُهُم لا يَعلَمونَ شَيـًٔا وَلا يَهتَدونَ

  Do Not Follow Your Parents’ Religion Blindly

  [5:104] When they are told, “Come to what GOD has revealed, and to the messenger,” they say, “What we found our parents doing is sufficient for us.” What if their parents knew nothing, and were not guided?”

اپنے والدین کے مذہب کی اندھی پیروی مت کرو

جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اُس کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور رسول کی طرف آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے والدین کو جو کچھ کرتے ہوئے پایا ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ کیا ہو اگر اُن کے والدین نہ تو کچھ جانتے تھے، اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا عَلَيكُم أَنفُسَكُم ۖ لا يَضُرُّكُم مَن ضَلَّ إِذَا اهتَدَيتُم ۚ إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم جَميعًا فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ

  [5:105] O you who believe, you should worry only about your own necks. If the others go astray, they cannot hurt you, as long as you are guided. To GOD is your ultimate destiny, all of you, then He will inform you of everything you had done.

اے ایمان والو، تم صرف اپنی فکر کرو۔ اگر دوسرے گمراہ ہوتے ہیں، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، جب تک کہ تم ہدایت پر ہو۔ تمہاری حتمی منزل اللہ ہی کی طرف ہے، تم سب کی، پھر وہ تمہیں سب کچھ بتا دے گا جو تم نے کیا تھا۔


يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا شَهٰدَةُ بَينِكُم إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوتُ حينَ الوَصِيَّةِ اثنانِ ذَوا عَدلٍ مِنكُم أَو ءاخَرانِ مِن غَيرِكُم إِن أَنتُم ضَرَبتُم فِى الأَرضِ فَأَصٰبَتكُم مُصيبَةُ المَوتِ ۚ تَحبِسونَهُما مِن بَعدِ الصَّلوٰةِ فَيُقسِمانِ بِاللَّهِ إِنِ ارتَبتُم لا نَشتَرى بِهِ ثَمَنًا وَلَو كانَ ذا قُربىٰ ۙ وَلا نَكتُمُ شَهٰدَةَ اللَّهِ إِنّا إِذًا لَمِنَ الءاثِمينَ

Witnessing A Will

  [5:106] O you who believe, witnessing a will when one of you is dying shall be done by two equitable people among you. If you are traveling, then two others may do the witnessing. After observing the Contact Prayer (Salat), let the witnesses swear by GOD, to alleviate your doubts: “We will not use this to attain personal gains, even if the testator is related to us. Nor will we conceal GOD’s testimony. Otherwise, we would be sinners.”

  وصیت کی گواہی دینا

  اے ایمان والو، جب تم میں سے کوئی موت کے قریب ہو تو وصیت کی گواہی تم میں سے دو منصفانہ لوگوں سے کروائی جائے۔ اگر تم سفر میں ہو تو کوئی اور دوگواہی دے سکتے ہیں۔ نماز ادا کرنے کے بعد گواہ اللہ کی قسم کھائیں، تاکہ تمہارے شکوک و شبہات کو کم کیا جا سکے: ہم اِسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کریں گے، چاہے وصیت کرنے والا ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔  نہ ہی ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ ورنہ، ہم گنہگار ہوں گے۔


فَإِن عُثِرَ عَلىٰ أَنَّهُمَا استَحَقّا إِثمًا فَـٔاخَرانِ يَقومانِ مَقامَهُما مِنَ الَّذينَ استَحَقَّ عَلَيهِمُ الأَولَيٰنِ فَيُقسِمانِ بِاللَّهِ لَشَهٰدَتُنا أَحَقُّ مِن شَهٰدَتِهِما وَمَا اعتَدَينا إِنّا إِذًا لَمِنَ الظّٰلِمينَ

[5:107] If the witnesses are found to beada guilty of bias, then two others shall be asked to take their places. Choose two persons who were victimized by the first witnesses, and let them swear by GOD: “Our testimony is more truthful than theirs; we will not be biased. Otherwise, we will be transgressors.”

اگر گواہی دینے والے تعصب کے خطاکار پائے جائیں، تو پھر دو اور لوگوں کو اُن کی جگہ لینے کے لیے کہا جائے۔ دو ایسے افراد کا انتخاب کرو جو پہلی گواہی کا نشانہ بنے تھے۔ اور وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ: ہماری گواہی اُن کی گواہی سے زیادہ سچی ہے؛ ہم متعصب نہیں ہوں گے۔ ورنہ ہم گناہگار ہوں گے۔


ذٰلِكَ أَدنىٰ أَن يَأتوا بِالشَّهٰدَةِ عَلىٰ وَجهِها أَو يَخافوا أَن تُرَدَّ أَيمٰنٌ بَعدَ أَيمٰنِهِم ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاسمَعوا ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ

[5:108] This is more apt to encourage an honest testimony on their part, fearing that their oath may be disregarded like that of the previous witnesses. You shall observe GOD and listen. GOD does not guide the wicked.

یہ اُن کی طرف سے سچی گواہی کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ موزوں ہے، اِس خوف سے کہ اُن کے حلف کو سابقہ گواہوں کی طرح نظرانداز نہ کر دیا جائے۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو اور سنو۔ اللہ بدکاروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔


يَومَ يَجمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقولُ ماذا أُجِبتُم ۖ قالوا لا عِلمَ لَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ

The Dead Messengers Totally Unaware

  [5:109] The day will come when GOD will summon the messengers and ask them, “How was the response to you?” They will say, “We have no knowledge. You are the Knower of all secrets.”

رسول جو وفات پا چکے ہیں بالکل بے خبر ہیں

وہ دن آئے گا جب اللہ رسولوں کو بلائے گا اور اُن سے پوچھے گا کہ لوگوں نے تمہیں کیسا جواب دیا تھا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کچھ علم نہیں۔ آپ تمام راز جانتے ہیں۔


إِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ اذكُر نِعمَتى عَلَيكَ وَعَلىٰ وٰلِدَتِكَ إِذ أَيَّدتُكَ بِروحِ القُدُسِ تُكَلِّمُ النّاسَ فِى المَهدِ وَكَهلًا ۖ وَإِذ عَلَّمتُكَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَالتَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ ۖ وَإِذ تَخلُقُ مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ بِإِذنى فَتَنفُخُ فيها فَتَكونُ طَيرًا بِإِذنى ۖ وَتُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ بِإِذنى ۖ وَإِذ تُخرِجُ المَوتىٰ بِإِذنى ۖ وَإِذ كَفَفتُ بَنى إِسرٰءيلَ عَنكَ إِذ جِئتَهُم بِالبَيِّنٰتِ فَقالَ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ

  [5:110] GOD will say, “O Jesus, son of Mary, remember My blessings upon you and your mother. I supported you with the Holy Spirit, to enable you to speak to the people from the crib, as well as an adult. I taught you the scripture, wisdom, the Torah, and the Gospel. Recall that you created from clay the shape of a bird by My leave, then blew into it, and it became a live bird by My leave. You healed the blind and the leprous by My leave, and revived the dead by My leave. Recall that I protected you from the Children of Israel who wanted to hurt you, despite the profound miracles you had shown them. The disbelievers among them said, ‘This is obviously magic.”

اللہ کہے گا اے عیسیٰ، ابن مریم، یاد کرو میری نعمتوں کو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کی تھیں۔ میں نے روح القدس کے ساتھ تمہاری مدد کی تاکہ تم پالنے میں سے لوگوں سے بات کر سکو اور بالغ ہو کر بھی۔ میں نے تمہیں کتاب، حکمت، تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔ یاد کرو کہ تم نے میری رضا سے مٹی سے ایک پرندے کی تشکیل کی، پھر اُس میں پھونک ماری، اور میری رضا سے یہ زندہ پرندہ بن گیا۔ تم نے میری رضا سے اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دی، اور میری اجازت سے مردوں کو زندہ کیا۔ یاد کرو کہ میں نے تمہیں بنی اسرائیل سے بچایا، جو تمہیں تکلیف پہنچانا چاہتے تھے، باوجود اِس کے کہ تم نے انہیں افضل معجزات دکھائے تھے، اُن میں سے کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔


وَإِذ أَوحَيتُ إِلَى الحَوارِيّۦنَ أَن ءامِنوا بى وَبِرَسولى قالوا ءامَنّا وَاشهَد بِأَنَّنا مُسلِمونَ

 [5:111] Recall that I inspired the disciples: ‘You shall believe in Me and My messenger.’ They said, ‘We have believed, and bear witness that we are submitters.

یاد کرو کہ میں نے حواریوں کو الہام کیا؛ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، اور گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلم (فرماں بردار) ہیں۔


إِذ قالَ الحَوارِيّونَ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ هَل يَستَطيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَينا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ ۖ قالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ

 The Feast

  [5:112] Recall that the disciples said, “O Jesus, son of Mary, can your Lord send down to us a feast from the sky?” He said, “You should reverence GOD, if you are believers.”

طعام

یاد کرو کہ حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ، ابن مریم، کیا تمہارا رب آسمان سے ہمارے لیے ایک طعام نیچے بھیج سکتا ہے؟ اُس نے کہا، تمہیں اللہ کی تعظیم کرنی چاہیے، اگر تم مومن ہو۔


قالوا نُريدُ أَن نَأكُلَ مِنها وَتَطمَئِنَّ قُلوبُنا وَنَعلَمَ أَن قَد صَدَقتَنا وَنَكونَ عَلَيها مِنَ الشّٰهِدينَ

 [5:113] They said, “We wish to eat from it, and to reassure our hearts, and to know for sure that you have told us the truth. We will serve as witnesses thereof.”

انہوں نے کہا، ہم اِس میں سے کھانا چاہتے ہیں اور اپنے دلوں کی یقین دہانی چاہتے ہیں، اور یہ جاننے کے لیے کہ جو کچھ تم نے ہمیں بتایا ہے وہ واقعی سچ ہے۔ ہم اُس کے گواہ بنیں گے۔


قالَ عيسَى ابنُ مَريَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنا أَنزِل عَلَينا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَكونُ لَنا عيدًا لِأَوَّلِنا وَءاخِرِنا وَءايَةً مِنكَ ۖ وَارزُقنا وَأَنتَ خَيرُ الرّٰزِقينَ

Greater Miracles Bring Greater Responsibility*

  [5:114] Said Jesus, the son of Mary, “Our god, our Lord, send down to us a feast from the sky. Let it bring plenty for each and every one of us, and a sign from You. Provide for us; You are the best Provider.”

عظیم معجزات عظیم ذمہ داری لاتے ہیں*

عیسیٰ ابن مریم نے کہا، اے ہمارے خدا، ہمارے رب، ہمارے لیے آسمان سے کھانا نازل فرما، جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے وافر مقدار میں ہو، اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو۔ ہمارے لیے رزق عطا فرما؛ آپ ہی بہترین رزق دینے والے ہیں۔


قالَ اللَّهُ إِنّى مُنَزِّلُها عَلَيكُم ۖ فَمَن يَكفُر بَعدُ مِنكُم فَإِنّى أُعَذِّبُهُ عَذابًا لا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ العٰلَمينَ

  [5:115] GOD said, “I am sending it down. Anyone among you who disbelieves after this, I will punish him as I never punished anyone else.”*

اللہ نے کہا، میں اُسے نیچے بھیج رہا ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی اِس کے بعد منکر ہو گا، تو میں اُسے ایسی سزا دوں گا جیسی میں نے کبھی کسی اور کو نہیں دی۔*


footnote 

*5:114-115 The Quran’s overwhelming miracle (Appendix One) is described in 74:35 as “One of the greatest miracles,” and brings with it an uncommonly great responsibility.”

فٹ نوٹ

قرآن کے زبردست معجزے کو (ضمیمہ ایک) 74:35 میں ایک عظیم ترین معجزے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور یہ اپنے ساتھ ایک بہت بڑی ذمہ داری لاتا ہے


 وَإِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ ءَأَنتَ قُلتَ لِلنّاسِ اتَّخِذونى وَأُمِّىَ إِلٰهَينِ مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالَ سُبحٰنَكَ ما يَكونُ لى أَن أَقولَ ما لَيسَ لى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلتُهُ فَقَد عَلِمتَهُ ۚ تَعلَمُ ما فى نَفسى وَلا أَعلَمُ ما فى نَفسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ

 On The Day Of Resurrection

  [5:116] GOD will say, “O Jesus, son of Mary,* did you say to the people, ‘Make me and my mother idols beside GOD?’ ” He will say, “Be You glorified. I could not utter what was not right. Had I said it, You already would have known it. You know my thoughts, and I do not know Your thoughts. You know all the secrets”.

 قیامت کے دن

اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ، ابن مریم،* کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا، مجھے اور میری ماں کو اللہ کے ساتھ معبود بنا لو؟ وہ کہے گا، سب تعریف آپ کی ہے۔ میں وہ بات نہیں کہہ سکتا تھا جو صحیح نہیں تھی۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا، تو آپ کو پہلے ہی معلوم ہوتا۔ آپ میرے خیالات جانتے ہیں، مگر میں آپ کے خیالات نہیں جانتا۔ آپ تمام راز جانتے ہیں۔


footnote 

  *5:116 It is noteworthy that the Quran consistently calls Jesus “son of Mary” and the Bible calls him “son of man”. God knew that some will blaspheme and call him “son of God”

فٹ نوٹ

  یہ بات قابلِ غور ہے کہ قرآن مسلسل عیسیٰ کو مریم کا بیٹا کہہ کر پکارتا ہے اور بائبل اسے آدمی کا بیٹا کہہ کر پکارتی ہے۔ اللہ جانتا تھا کہ کچھ لوگ توہین کریں گے اور اسے خدا کا بیٹا کہیں گے۔


ما قُلتُ لَهُم إِلّا ما أَمَرتَنى بِهِ أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ رَبّى وَرَبَّكُم ۚ وَكُنتُ عَلَيهِم شَهيدًا ما دُمتُ فيهِم ۖ فَلَمّا تَوَفَّيتَنى كُنتَ أَنتَ الرَّقيبَ عَلَيهِم ۚ وَأَنتَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ

  [5:117]” I told them only what You commanded me to say, that: ‘You shall worship GOD, my Lord and your Lord.’ I was a witness among them for as long as I lived with them. When You terminated my life on earth, You became the Watcher over them. You witness all things.”

میں نے تو انہیں صرف وہی بتایا جو آپ نے کہنے کا مجھے حکم دیا تھا، کہ: تم اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمہارا رب ہے، میں اُن کے درمیان گواہ تھا جب تک میں اُن کے ساتھ رہا جب آپ نے زمین پر میری زندگی ختم کر دی، آپ اُن کے نگہبان بن گئے۔ آپ ہر چیز کے گواہ ہیں۔


إِن تُعَذِّبهُم فَإِنَّهُم عِبادُكَ ۖ وَإِن تَغفِر لَهُم فَإِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ

  [5:118] “If You punish them, they are Your constituents. If You forgive them, You are the Almighty, Most Wise.”

اگر آپ انہیں سزا دیتے ہیں، وہ آپ کے بندے ہیں، اگر آپ انہیں معاف کرتے ہیں، آپ قادرِ مطلق، انتہائی دانا ہیں۔


قالَ اللَّهُ هٰذا يَومُ يَنفَعُ الصّٰدِقينَ صِدقُهُم ۚ لَهُم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ

[5:119] GOD will proclaim, “This is a day when the truthful will be saved by their truthfulness.” They have deserved gardens with flowing streams. They abide therein forever. GOD is pleased with them, and they are pleased with Him. This is the greatest triumph.”

اللہ اعلان کرے گا، یہ وہ دن ہے جب سچے لوگ اپنی سچائی کی وجہ سے نجات پائیں گے۔ وہ ایسے باغات کے حقدار ہو گئے ہیں جن میں ندیاں بہتی ہیں۔ وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہے اور وہ اللہ کے ساتھ راضی ہیں۔ یہی عظیم ترین فتح ہے۔


لِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما فيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ

[5:120] To GOD belongs the sovereignty of the heavens and the earth, and everything in them, and He is Omnipotent.

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت، اور جو کچھ اُن میں موجود ہے اللہ ہی کی ملکیت ہے، اور وہ قادرِ مطلق ہے۔