سورة 3 – عمران کی نسل – Amramites – آل عمرآن
بسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیم
[1:1] In the name of GOD, Most Gracious, Most Merciful.
1:1
اللہ کے نام سے جو انتہائی مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
[3:1] A.L.M.
3:1
ا-ل- م*
footnote
*3:1 See Footnote 2:1 and Appendix On.
فٹ نوٹ
3:1
دیکھیں فوٹ نوٹ 2:1 اور ضمیمہ 1 ۔
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ
[3:2] GOD: there is no god except He; the Living, the Eternal.
3:2
اللہ: اُس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ زندہ، ہمیشہ رہنے والا۔
؛نَزَّلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَأَنزَلَ التَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ
[3:3] He sent down to you this scripture, truthfully, confirming all previous scriptures, and He sent down the Torah and the Gospel.
3:3
اُس نے یہ مقدس کتاب تم پر نازل کی، سچائی کے ساتھ، جو پچھلی تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اُس نے تورات اور انجیل نازل کی تھیں۔
مِن قَبلُ هُدًى لِلنّاسِ وَأَنزَلَ الفُرقانَ ۗ إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ
[3:4] before that, to guide the people, and He sent down the statute book. Those who disbelieve in GOD’s revelations incur severe retribution. GOD is Almighty, Avenger.
3:4
اِس سے پہلے ، لوگوں کی رہنمائی کے لیے، اور اُس نے قانون کی کتاب نازل کی۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ اللہ قادر مطلق، بدلہ لینے والا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ لا يَخفىٰ عَلَيهِ شَيءٌ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ
[3:5] Nothing is hidden from GOD, on earth, or in the heaven.
3:5
اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، وہ زمین پر ہو یا آسمان میں۔
هُوَ الَّذى يُصَوِّرُكُم فِى الأَرحامِ كَيفَ يَشاءُ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ
[3:6] He is the One who shapes you in the wombs as He wills. There is no other god besides Him; the Almighty, Most Wise.”
3:6
وہی ہے جو رحم میں تمہاری صورتیں بناتا ہے جیسا وہ چاہتا ہے۔ اُس کے سواکوئی اور خدا نہیں؛ وہ قادرمطلق، انتہائی دانا ہے۔
هُوَ الَّذى أَنزَلَ عَلَيكَ الكِتٰبَ مِنهُ ءايٰتٌ مُحكَمٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ وَابتِغاءَ تَأويلِهِ ۗ وَما يَعلَمُ تَأويلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرّٰسِخونَ فِى العِلمِ يَقولونَ ءامَنّا بِهِ كُلٌّ مِن عِندِ رَبِّنا ۗ وَما يَذَّكَّرُ إِلّا أُولُوا الأَلبٰبِ
[3:7] He sent down to you this scripture, containing straightforward verses—which constitute the essence of the scripture—as well as multiple-meaning or allegorical verses. Those who harbor doubts in their hearts will pursue the multiple-meaning verses to create confusion, and to extricate a certain meaning. None knows the true meaning thereof except GOD and those well founded in knowledge. They say, “We believe in this—all of it comes from our Lord.” Only those who possess intelligence will take heed.”
3:7
اُس نے تم پر یہ مقدس کتاب نازل کی، جو واضح آیات پر مشتمل ہے _ جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں — اُس کے ساتھ ساتھ متعدد معنی رکھنے والی یا تشبیہاتی آیات بھی ہیں۔ جو لوگ اپنے دلوں میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں، وہ اُن آیات کے پیچھے جاتے ہیں جو کئی مفہوم رکھتی ہیں، تاکہ الجھن پیدا کریں اور اُن سے ایک خاص مطلب نکالیں۔ کوئی بھی اُن کے حقیقی معنی نہیں جانتا، سوائے اللہ کے اور صحیح علم رکھنے والوں کے۔ وہ کہتے ہیں، ہم اِس پر ایمان لاتے ہیں— یہ سب ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے۔ صرف وہی نصیحت حاصل کریں گے جو شعور رکھتے ہیں۔
رَبَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا وَهَب لَنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ
[3:8] “Our Lord, let not our hearts waver, now that You have guided us. Shower us with Your mercy; You are the Grantor.”
3:8
اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کو ڈگمگانے نہ دے، اب جب کہ تو نے ہماری رہنمائی کی ہے۰ ہم پر اپنی رحمت نازل فرما ، بےشک تو ہی عطا کرنے والا ہے ۔
رَبَّنا إِنَّكَ جامِعُ النّاسِ لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُخلِفُ الميعادَ
[3:9] “Our Lord, You will surely gather the people on a day that is inevitable. GOD never breaks a promise.”
3:9
اے ہمارے رب، تو یقیناً لوگوں کو اُس دن جمع کرے گا جو ناگزیر ہے۰ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ هُم وَقودُ النّارِ
[3:10] Those who disbelieve will never be helped by their money, nor by their children, against GOD. They will be fuel for Hell.
3:10
وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اُن کا مال، اور نہ ہی اُن کی اولاد، اللہ کے مقابلے میں اُن کے کسی کام آۓ گی۔ وہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
كَدَأبِ ءالِ فِرعَونَ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم ۗ وَاللَّهُ شَديدُ العِقابِ
[3:11] Like Pharaoh’s people and those before them, they rejected our revelations and, consequently, GOD punished them for their sins. GOD is strict in enforcing retribution.
3:11
جیسے فرعون کی قوم اور اُن سے پہلے کے لوگ، انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور نتیجتاً اللہ نے اُنہیں اُن کے گناہوں کی سزا دی۔ اللہ عذاب نافذ کرنے میں سخت ہے۔
قُل لِلَّذينَ كَفَروا سَتُغلَبونَ وَتُحشَرونَ إِلىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئسَ المِهادُ
[3:12] Say to those who disbelieve, “You will be defeated, then gathered in Hell; what a miserable abode!”
3:12
اُن لوگوں کو کہہ دو جو کفر کرتے ہیں، تم شکست کھاؤ گے، پھر جہنم میں اکھٹے کیے جاؤ گے؛ اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانہ ہے!
قَد كانَ لَكُم ءايَةٌ فى فِئَتَينِ التَقَتا ۖ فِئَةٌ تُقٰتِلُ فى سَبيلِ اللَّهِ وَأُخرىٰ كافِرَةٌ يَرَونَهُم مِثلَيهِم رَأىَ العَينِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصرِهِ مَن يَشاءُ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَعِبرَةً لِأُولِى الأَبصٰرِ
Believers: The Ultimate Victors
[3:13] An example has been set for you by the two armies who clashed—one army was fighting in the cause of GOD, while the other was disbelieving. They saw with their own eyes that they were twice as many. GOD supports with His victory whomever He wills. This should provide an assurance for those who possess vision.”
مومنین: حتمی فاتحین
3:13
تمہارےلیے اُن دو لشکروں کی مثال قائم کی گئی ہے جو آپس میں لڑ پڑے ۔ ایک لشکر اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا، جبکہ دوسرا کافر تھا۔ اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ تعداد میں اُن سے دوگنا تھے۔ اللہ اپنی فتح سے جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے یقین کا باعث ہونا چاہیے جو بصیرت رکھتے ہیں۔
زُيِّنَ لِلنّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّساءِ وَالبَنينَ وَالقَنٰطيرِ المُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَالخَيلِ المُسَوَّمَةِ وَالأَنعٰمِ وَالحَرثِ ۗ ذٰلِكَ مَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَـٔابِ
Different Priorities
[3:14] Adorned for the people are the worldly pleasures, such as the women, having children, piles upon piles of gold and silver, trained horses, livestock, and crops. These are the materials of this world. A far better abode is reserved at GOD.
مختلف ترجیحات
3:14
لوگوں کے لیے دنیاوی آسائشیں خوشنما بنا دی گئی ہیں، جیسا کہ عورتیں، اولاد، سونا اور چاندی کے انبار، تربیت یافتہ گھوڑے، مویشی، اور کھیتیاں۔ یہ اِس دنیا کا سامان ہیں۔ اِس سے کہیں بہتر ٹھکانہ اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذٰلِكُم ۚ لِلَّذينَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَأَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ
[3:15] Say, “Let me inform you of a much better deal: for those who lead a righteous life, reserved at their Lord, are gardens with flowing streams, and pure spouses, and joy in GOD’s blessings.” GOD is Seer of His worshipers.”
3:15
کہو، میں تمہیں اِس سے کہیں بہتر سودے کے بارے میں بتاتا ہوں: جو لوگ نیک زندگی گزارتے ہیں، اُن کے لیے اُن کے رب کے پاس ایسے باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں، پاکیزہ جیون ساتھی، اور اللہ کی نعمتوں میں خوشیاں محفوظ ہیں۔ اللہ اپنے عبادت گزاروں کو دیکھنے والا ہے۔
الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا إِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَقِنا عَذابَ النّارِ
[3:16] They say, “Our Lord, we have believed, so forgive us our sins, and spare us the agony of the hellfire.”
3:16
وہ کہتے ہیں، اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ہیں، پس ہمارے گناہ معاف فرما دے، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔
الصّٰبِرينَ وَالصّٰدِقينَ وَالقٰنِتينَ وَالمُنفِقينَ وَالمُستَغفِرينَ بِالأَسحارِ
[3:17] They are steadfast, truthful, submitting, charitable, and meditators at dawn.”
3:17
وہ ثابت قدم، سچے، فرمانبردار، خیرات دینے والے، اور فجرکے وقت ذکر و عبادت کرنے والے ہیں۔
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ
The Most Important Commandment*
[3:18] GOD bears witness that there is no god except He, and so do the angels and those who possess knowledge. Truthfully and equitably, He is the absolute god; there is no god but He, the Almighty, Most Wise.
سب سے اہم حکم الہی*
3:18
اللہ شہادت دیتا ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہل علم بھی یہی شہادت دیتے ہیں۔ سچائی اور انصاف کے ساتھ، وہ خدا کامل ہے؛ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قادرمطلق ، انتہائی دانا ہے۔
Footnote
*3:18 The proclamation of faith (Shahaadah) that is decreed by God is: “There is no god except God,” in Arabic “La Elaaha Ella Allah” (see also 37:35, 47:19). The corrupted Muslims insist upon adding a second “Shahaadah” proclaiming that Muhammad is God’s messenger. This is by definition “Shirk” (idolatry) and a flagrant”“grant defiance of God and His messenger. Additionally, it violates the major commandments in 2:136, 2:285, 3:84, & 4:150-152 prohibiting any distinction among God’s messengers. By proclaiming that “Muhammad is a messenger of God,” and failing to make the same proclamation for other messengers such as Abraham, Moses, Jesus, Saleh, and Jonah, a distinction is committed and a major commandment is violated.”
فٹ نوٹ
3:18
اعلان ایمان (شہادت) جس کا اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عربی میں لا الہ الا اللہ ( دیکھیں: 37:35، 47:19 )۔ بگڑے ہوئے مسلمان اِس میں ایک دوسری شہادت شامل کرنے پر اصرار کرتے ہیں، یہ اعلان کرتے ہوے کہ محمد اللہ کا رسول ہے۔ یہ صریحا شرک (بت پرستی) ہے، اور واضح طور پراللہ اور اُس کے رسول کی نا فرمانی ہے۔ مزیدبرآں یہ قرآن کی اِن آیات 3:84. 2:285, 2:136 اور 152- 4:150 میں دیے گیے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جن میں اللہ کے رسولوں کے درمیان کسی بھی قسم کا فرق کرنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ شہادت دینے سے کہ محمد اللہ کا رسول ہے؛ اور دوسرے رسولوں جیسے کہ ابراہیم، موسٰی، عیسی، صالح اور یونس کے لیے بھی یہی شہادت نہ دینے میں ناکام ہونے سے، ایک تفریق کا ارتکاب ہوتا ہے اور اِس سے ایک اہم حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلٰمُ ۗ وَمَا اختَلَفَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۗ وَمَن يَكفُر بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ
Submission: The Only Religion
[3:19] The only religion approved by GOD is “Submission.” Ironically, those who have received the scripture are the ones who dispute this fact, despite the knowledge they have received, due to jealousy. For such rejectors of GOD’s revelations, GOD is most strict in reckoning.”
فرمانبرداری: واحد مذہب
3:19
اللہ کی طرف سے منظورشدہ واحد مذہب “فرمابرداری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کتاب وصول کی، وہی لوگ ہیں جو اِس کا علم ہونے کے باوجود، حسد کی وجہ سے اِس حقیقت کو جھٹلاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ کی آیات کو رد کرتے ہیں، اللہ حساب لینے میں سب سے زیادہ سخت ہے۔
فَإِن حاجّوكَ فَقُل أَسلَمتُ وَجهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِلَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالأُمِّيّۦنَ ءَأَسلَمتُم ۚ فَإِن أَسلَموا فَقَدِ اهتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلٰغُ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ
[3:20] If they argue with you, then say, “I have simply submitted myself to GOD; I and those who follow me.” You shall proclaim to those who received the scripture, as well as those who did not, “Would you submit?” If they submit, then they have been guided, but if they turn away, your sole mission is to deliver this message. GOD is Seer of all people.”
3:20
اگر وہ تم سے بحث کریں تو کہہ دو، کہ میں تو اللہ کا فرمابردارہوچکا ہوں، میں بھی اور وہ بھی جو میری پیروی کرتے ہیں ۔تم اُن لوگوں سے کہہ دو، جہنوں نے کتاب وصول کی اور جہنوں نے کتاب نہیں وصول کی؛ کیا تم اطاعت قبول کرتے ہو؟ اگر وہ اطاعت قبول کرتے ہیں، تو پھر وہ ہدایت پا چکے ہیں لیکن اگر وہ منہ پھیر لیتے ہیں، تو پھر تمہاری واحد ذمہ داری اِس پیغام کو پہنچانا ہے۔ اللہ تمام لوگوں کو دیکھنے والا ہے۔
إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّۦنَ بِغَيرِ حَقٍّ وَيَقتُلونَ الَّذينَ يَأمُرونَ بِالقِسطِ مِنَ النّاسِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ
[3:21] Those who have rejected GOD’s revelations, and killed the prophets unjustly, and killed those who advocated justice among the people, promise them a painful retribution.
3:21
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور انہیں بھی قتل کیا جو لوگوں کے درمیان انصاف کی وکالت کرتے تھے، اُن کے لیے دردناک عذاب کا وعدہ ہے۔
أُولٰئِكَ الَّذينَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ
[3:22] Their works have been nullified, both in this life and in the Hereafter, and they will have no helpers.
اُن کے اعمال ضائع ہو چکے ہیں، اِس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اُن کے کوئی مددگار نہ ہونگے۔
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُدعَونَ إِلىٰ كِتٰبِ اللَّهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم ثُمَّ يَتَوَلّىٰ فَريقٌ مِنهُم وَهُم مُعرِضونَ
[3:23] Have you noted those who were given part of the scripture, and how they are invited to uphold this scripture of GOD, and apply it to their own lives, then some of them turn away in aversion?
کیا تم نے اُن لوگوں کو دیکھا جہنیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا؟ اور کس طرح انہیں اللہ کی اِس کتاب کو تھام کر رکھنے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی دعوت دی گئی، تو اُن میں سے کچھ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ إِلّا أَيّامًا مَعدودٰتٍ ۖ وَغَرَّهُم فى دينِهِم ما كانوا يَفتَرونَ
[3:24] This is because they said, “The hellfire will not touch us, except for a few days.” They were thus deceived in their religion by their own fabrications.”
یہ اِس لیے ہے کہ وہ کہتے تھے، کہ ہمیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، سوائے چند دنوں کے۔پس وہ دھوکہ کھا گئے اپنے مذہب میں، اپنی ہی من گھڑت باتوں کی وجہ سے۔
فَكَيفَ إِذا جَمَعنٰهُم لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ وَوُفِّيَت كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ
[3:25] How will it be for them, when we summon them on that inevitable day? Each soul will be paid for whatever it earned, without the least injustice.
اُن کا کیا حال ہوگا، جب ہم انہیں اُس ناگزیر دن میں بلائیں گے؟ ہر ذی روح کو اُس کا بدلہ ملے گا جو کچھ اُس نے کمایا، بغیر ذرا سی بھی ناانصافی کے۔
قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ المُلكِ تُؤتِى المُلكَ مَن تَشاءُ وَتَنزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشاءُ ۖ بِيَدِكَ الخَيرُ ۖ إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
Attributes of God
[3:26] Say, “Our god: possessor of all sovereignty. You grant sovereignty to whomever You choose, You remove sovereignty from whomever You choose. You grant dignity to”“whomever You choose, and commit to humiliation whomever You choose. In Your hand are all provisions. You are Omnipotent.”
اللہ کی صفات
کہو، ہمارے خدا: کل حاکمیت کے مالک، تو جسے چاہے حاکمیت عطا کرتا ہے، جس کو چاہے اُس سے حاکمیت چھین لیتا ہے۰ تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور تو جسے چاہے ذلت میں ڈال دیتا ہے۔ تمام رزق تیرے ہاتھ میں ہیں ،تو قادر مطلق ہے۔
تولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَتولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ ۖ وَتُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَتُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ ۖ وَتَرزُقُ مَن تَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ
[3:27] “You merge the night into the day, and merge the day into the night. You produce the living from the dead, and produce the dead from the living, and You provide for whomever You choose, without limits.
تو رات کو دن میں ملاتا ہے، اور دن کو رات میں ملاتاہے۔ تو زندہ کو مردہ سے پیدا کرتاہے، اور مردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے، اور تو جسے چاہے، اُسےبے حساب رزق دیتا ہے۔
لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكٰفِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۖ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ فى شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ
Choose Your Friends Carefully
[3:28] The believers never ally themselves with the disbelievers, instead of the believers. Whoever does this is exiled from GOD. Exempted are those who are forced to do this to avoid persecution. GOD alerts you that you shall reverence Him alone. To GOD is the ultimate destiny.
اپنے دوستوں کا انتخاب احتیاط سے کریں
مومنین اہل ایمان کی بجاۓ کبھی کافروں کے ساتھی نہیں بنتے۔ جو بھی ایسا کرتا ہے وہ اللہ کی سلطنت سے نکالا گیاہے۔اُن کے لیے چھوٹ ہے جو ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ اللہ تمہیں تنبیہ کرتاہے کہ تم صرف اُس اکیلے کی تعظیم کرو۔ سب کا آخری ٹھکانہ اللہ ہی کی طرف ہے۔
قُل إِن تُخفوا ما فى صُدورِكُم أَو تُبدوهُ يَعلَمهُ اللَّهُ ۗ وَيَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[3:29] Say, “Whether you conceal your innermost thought, or declare it, GOD is fully aware thereof.” He is fully aware of everything in the heavens and the earth. GOD is Omnipotent.”
کہو، چاہے تم اپنی سب سے گہری سوچ کو چھپا لو، یا اُسے اظاہر کرو، اللہ اُس سے بخوبی واقف ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔اللہ قادر مطلق ہے۔
يَومَ تَجِدُ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت مِن خَيرٍ مُحضَرًا وَما عَمِلَت مِن سوءٍ تَوَدُّ لَو أَنَّ بَينَها وَبَينَهُ أَمَدًا بَعيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ ۗ وَاللَّهُ رَءوفٌ بِالعِبادِ
[3:30] The day will come when each soul will find all the good works it had done brought forth. As for the evil works, it will wish that they were far, far removed. GOD alerts you that you shall reverence Him alone. GOD is Compassionate towards the people.
وہ دن آئے گا جب ہر نفس کے سامنے وہ تمام اچھے کام لائے جائیں گے جو اُس نے کیے۔ جہاں تک برُے کاموں کا تعلق ہے، وہ یہ خواہش کرے گا کہ کاش دور دور تک اُن کا نام و نشان نہ ہوتا۔اللہ تمہیں خبردار کرتا ہے کہ تم صرف اُسی کی تعظیم کرو۔اللہ لوگوں پر مہربان ہے۔
قُل إِن كُنتُم تُحِبّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعونى يُحبِبكُمُ اللَّهُ وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ
[3:31] Proclaim: “If you love GOD, you should follow me.” GOD will then love you, and forgive your sins. GOD is Forgiver, Most Merciful.”
اعلان کر دو: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تمہیں میری پیروی کرنی چاہیے۔ پھر اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمھارے گناہ معاف کرے گا۔اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
قُل أَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الكٰفِرينَ
[3:32] Proclaim: “You shall obey GOD and the messenger.” If they turn away, GOD does not love the disbelievers.”
اعلان کر دو: کہ تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر وہ منہ پھیر لیتے ہیں تواللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰ ءادَمَ وَنوحًا وَءالَ إِبرٰهيمَ وَءالَ عِمرٰنَ عَلَى العٰلَمينَ
The Birth of Mary
[3:33] GOD has chosen Adam, Noah, the family of Abraham, and the family of Amram (as messengers) to the people.
مریم کی پیدائش
اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو لوگوں کے لیے (پیغمبروں کے طور پر) چنا ہے۔
ذُرِّيَّةً بَعضُها مِن بَعضٍ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ
[3:34] They belong to the same progeny. GOD is Hearer, Omniscient.
وہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔اللہ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
إِذ قالَتِ امرَأَتُ عِمرٰنَ رَبِّ إِنّى نَذَرتُ لَكَ ما فى بَطنى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّل مِنّى ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ
[3:35] The wife of Amram said, “My Lord, I have dedicated (the baby) in my belly to You, totally, so accept from me. You are Hearer, Omniscient.”
عمران کی بیوی نے کہا، اے میرے پروردگار، میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اُسے میں نے مکمل طور پر تیرے لیے وقف کر دیا ہے، پس مجھ سے یہ قبول فرما، تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
فَلَمّا وَضَعَتها قالَت رَبِّ إِنّى وَضَعتُها أُنثىٰ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما وَضَعَت وَلَيسَ الذَّكَرُ كَالأُنثىٰ ۖ وَإِنّى سَمَّيتُها مَريَمَ وَإِنّى أُعيذُها بِكَ وَذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجيمِ
[3:36] When she gave birth to her, she said, “My Lord, I have given birth to a girl”—GOD was fully aware of what she bore—”The male is not the same as the female. I have named her Mary, and I invoke Your protection for her and her descendants from the rejected devil.”
جب اُس نے اُسے جنم دیا، تو اُس نے کہا، اے میرے رب، میں نے ایک لڑکی کو جنم دیا ہے—اللہ کو اِس بات کا پورا علم تھا کہ اُس کے پیٹ میں کیا تھا—مرد عورت جیسا نہیں ہے۔ میں نے اِس کو مریم کا نام دیا ہے، اور میں اِس کے لیے اور اِس کی نسلوں کے لیے آپ کی پناہ مانگتی ہوں، شیطانِ مردود سے۔
فَتَقَبَّلَها رَبُّها بِقَبولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَها نَباتًا حَسَنًا وَكَفَّلَها زَكَرِيّا ۖ كُلَّما دَخَلَ عَلَيها زَكَرِيَّا المِحرابَ وَجَدَ عِندَها رِزقًا ۖ قالَ يٰمَريَمُ أَنّىٰ لَكِ هٰذا ۖ قالَت هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ
[3:37] Her Lord accepted her a gracious acceptance, and brought her up a gracious upbringing, under the guardianship of Zachariah. Whenever Zachariah entered her sanctuary he found provisions with her. He would ask, “Mary, where did you get this from?” She would say, “It is from GOD. GOD provides for whomever He chooses, without limits.”
اُس کے رب نے اُسے بہترین قبولیت کے ساتھ قبول کیا، اور اُسے زکریا کی سرپرستی میں ایک بہترین پرورش بخشی۔ جب بھی زکریا اُس کے حرم میں داخل ہوتا، تو وہ اُس کے پاس رزق پاتا، تو وہ پوچھتا، مریم، یہ تم نے کہاں سے لیا ہے؟ وہ کہتی، یہ اللہ کی طرف سے ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے، اُسے بے حساب دیتا ہے
هُنالِكَ دَعا زَكَرِيّا رَبَّهُ ۖ قالَ رَبِّ هَب لى مِن لَدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَميعُ الدُّعاءِ
The Birth of John
[3:38] That is when Zachariah implored his Lord: “My Lord, grant me such a good child; You are the Hearer of the prayers.”
یحیی کی پیدائش
اُس وقت زکریا نے اپنے رب سے التجا کی: اے میرے رب مجھے ایسی ہی اچھی اولاد عطا فرما، تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔
فَنادَتهُ المَلٰئِكَةُ وَهُوَ قائِمٌ يُصَلّى فِى المِحرابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحيىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصّٰلِحينَ
[3:39] The angels called him when he was praying in the sanctuary: “GOD gives you good news of John; a believer in the word of GOD, honorable, moral, and a righteous prophet.”
جب وہ اپنی عبادت گاہ میں دعا کر رہا تھا، تو فرشتوں نے اُسے پکارا: اللہ تمہیں یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے؛ جو اللہ کے کلام پر ایمان رکھنے والا، معزز، نیک سیرت اور صالح نبی ہو گا۔
قالَ رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَقَد بَلَغَنِىَ الكِبَرُ وَامرَأَتى عاقِرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكَ اللَّهُ يَفعَلُ ما يَشاءُ
[3:40] He said, “How can I have a boy, when I am so old, and my wife is sterile?” He said, “GOD does whatever He wills.”
اُس نے کہا، میرا ہیٹا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ میں اتنا بوڑھا ہوں، اور میری بیوی بانجھ ہے؟ اُس نے کہا، اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
قالَ رَبِّ اجعَل لى ءايَةً ۖ قالَ ءايَتُكَ أَلّا تُكَلِّمَ النّاسَ ثَلٰثَةَ أَيّامٍ إِلّا رَمزًا ۗ وَاذكُر رَبَّكَ كَثيرًا وَسَبِّح بِالعَشِىِّ وَالإِبكٰرِ
[3:41] He said, “My Lord, give me a sign.” He said, “Your sign is that you will not speak to the people for three days, except through signals. Commemorate your Lord frequently; and meditate night and day.”
اُس نے کہا، اے میرے رب، مجھے کوئی نشانی عطا فرما۔ اُس نے کہا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن تک بات نہیں کرو گے، سوائے اشاروں میں۔ اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو، اور رات دن اُس کا ذکر کرو۔
وَإِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العٰلَمينَ
Mary and Jesus
[3:42] The angels said, “O Mary, GOD has chosen you and purified you. He has chosen you from all the women.”
مریم اور عیسیٰ
فرشتوں نے کہا، اے مریم، اللہ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے۔ اُس نے تمہیں تمام عورتوں میں سے منتخب کیا ہے۔
يٰمَريَمُ اقنُتى لِرَبِّكِ وَاسجُدى وَاركَعى مَعَ الرّٰكِعينَ
[3:43] O Mary, you shall submit to your Lord, and prostrate and bow down with those who bow down.
اے مریم تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجده کرو اور جھک جاؤ جھکنے والوں کے ساتھ۔
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيهِ إِلَيكَ ۚ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يُلقونَ أَقلٰمَهُم أَيُّهُم يَكفُلُ مَريَمَ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يَختَصِمونَ
[3:44] This is news from the past that we reveal to you. You were not there when they drew their raffles to select Mary’s guardian. You were not present when they argued with one another.
یہ ماضی کی خبریں ہیں جو ہم تم پر ظاہر کرتے ہیں۔ تم وہاں نہیں تھے جب انہوں نے مریم کے سرپرست کو منتخب کرنے کے لیے قرعہ ڈالا۔ ۰ اور نہ ہی تم اُس وقت موجود تھے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑ رہے تھے۔
إِذ قالَتِ المَلٰئِكَةُ يٰمَريَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنهُ اسمُهُ المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ وَجيهًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَمِنَ المُقَرَّبينَ
[3:45] The angels said, “O Mary, GOD gives you good news: a Word from Him whose name is ‘The Messiah, Jesus the son of Mary. He will be prominent in this life and in the Hereafter, and one of those closest to Me.”
فرشتوں نے کہا، اے مریم، اللہ تمہیں خوش خبری دیتا ہے: اُس کی طرف سے ایک فرمان جس کا نام مسیح، عیسیٰ ابنِ مریم ہے۔ وہ اِس زندگی میں بھی ممتاز ہو گا اور آخرت میں بھی، اور وہ اُن میں سے ایک ہو گا جو میرے قریب ترین ہوں گے۔
وَيُكَلِّمُ النّاسَ فِى المَهدِ وَكَهلًا وَمِنَ الصّٰلِحينَ
[3:46] “He will speak to the people from the crib, as well as an adult; he will be one of the righteous.”
وہ لوگوں سے پالنے میں سے بات کرے گا، اور بالغ ہو کربھی، وہ نیک لوگوں میں سے ایک ہو گا۔
قالَت رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى وَلَدٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ ۖ قالَ كَذٰلِكِ اللَّهُ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ إِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ
[3:47] She said, “My Lord, how can I have a son, when no man has touched me?” He said, “GOD thus creates whatever He wills. To have anything done, He simply says to it, ‘Be,’ and it is.”
اُس نے کہا، اے میرے رب، میرا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں؟ اُس نے کہا، پس اللہ جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے۔ کچھ بھی کرنا ہو، وہ صرف اُسے کہتا ہے، ہو جا، اور وہ ہو جاتا ہے۔
وَيُعَلِّمُهُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَالتَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ
[3:48] “He will teach him the scripture, wisdom, the Torah, and the Gospel.”
وہ اُسے مقدس کتاب،حکمت، تورات اور انجیل سکھائے گا۔
وَرَسولًا إِلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ أَنّى قَد جِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم ۖ أَنّى أَخلُقُ لَكُم مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ فَأَنفُخُ فيهِ فَيَكونُ طَيرًا بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ وَأُحىِ المَوتىٰ بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِما تَأكُلونَ وَما تَدَّخِرونَ فى بُيوتِكُم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
[3:49] As a messenger to the Children of Israel: “I come to you with a sign from your Lord—I create for you from clay the shape of a bird, then I blow into it, and it becomes a live”“bird by GOD’s leave. I restore vision to the blind, heal the leprous, and I revive the dead by GOD’s leave. I can tell you what you eat, and what you store in your homes. This should be a proof for you, if you are believers.”
بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر کے طور پر: میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں—میں چکنی مٹی سے تمہارے لیے ایک پرندے کی صورت بناتا ہوں، پھر اُس میں پھونک مارتا ہوں، اور وہ اللہ کے حکم سے ایک زندہ پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اندھوں کی بینائی بحال کرتا ہوں، کوڑھی کو شفا دیتا ہوں، اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو، اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔ یہ تمہارے لیے ایک ثبوت ہونا چاہیے، اگر تم اہلِ ایمان ہو۔
وَمُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَىَّ مِنَ التَّورىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعضَ الَّذى حُرِّمَ عَلَيكُم ۚ وَجِئتُكُم بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكُم فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ
[3:50] “I confirm previous scripture—the Torah—and I revoke certain prohibitions imposed upon you. I come to you with sufficient proof from your Lord. Therefore, you shall observe GOD, and obey me.”
میں سابقہ کتاب—تورات کی تصدیق کرتا ہوں—اور تم پر عائد کچھ پابندیوں کو منسوخ کرتا ہوں، میں تمہارے رب کی طرف سے کافی ثبوت لایا ہوں، اِس لیے تم اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔
إِنَّ اللَّهَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۗ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ
[3:51] “GOD is my Lord and your Lord;* you shall worship Him alone. This is the right path.”
اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی؛* تم واحد اُس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
footnote
*3:51 This is precisely what Jesus is quoted to say throughout the New Testament. See for example the Gospel of John 20:17, and the book “Jesus: Myths and Message” by Lisa Spray, Ch.4 (Universal Unity, Fremont, California, 1992).
فٹ نوٹ
یہی وہ بات ہے جو نئے عہد نامے میں عیسیٰؑ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر انجیلِ یوحنا، باب 20، آیت 17 ملاحظہ کریں، نیز لیزا اسپرے کی کتاب عیسیٰ: افسانے اور پیغام، باب 4 بھی دیکھیں (یونیورسل یونٹی، فریمونٹ، کیلیفورنیا، 1992)۔
فَلَمّا أَحَسَّ عيسىٰ مِنهُمُ الكُفرَ قالَ مَن أَنصارى إِلَى اللَّهِ ۖ قالَ الحَوارِيّونَ نَحنُ أَنصارُ اللَّهِ ءامَنّا بِاللَّهِ وَاشهَد بِأَنّا مُسلِمونَ
[3:52] When Jesus sensed their disbelief, he said, “Who are my supporters towards GOD?” The disciples said, “We are GOD’s supporters; we believe in GOD, and bear witness that we are submitters.”
3:52
جب عیسیٰؑ نے اُن کے کفر کو محسوس کیا، تو اُس نے کہا، اللہ کی طرف میرے حمایتی کون ہیں؟ حواریوں نے کہا، ہم اللہ کے حمایتی ہیں، ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلمان (فرماں بردار) ہیں۰
رَبَّنا ءامَنّا بِما أَنزَلتَ وَاتَّبَعنَا الرَّسولَ فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ
[3:53] “Our Lord, we have believed in what You have sent down, and we have followed the messenger; count us among” the witnesses.”
اے ہمارے رب، ہم اُس پر ایمان لائے جو آپ نے ہمارے پاس بھیجا ہے، اور ہم نے رسول کی پیروی کی، ہمیں گواہوں میں شمار کریں۔
The Death of Jesus*
[3:54] They plotted and schemed, but so did GOD, and GOD is the best schemer.
عیسی کی وفات*
3:54
انہوں نے سازش کی اور منصوبہ بنایا، لیکن اللہ نے بھی ایسا ہی کیا، اور اللہ بہترین منصوبہ بنانے والا ہے۔
Footnote
*3:54-55 We learn that Jesus’ soul, the real person, was raised, i.e., Jesus’ life on earth was terminated, prior to the arrest, torture, and crucifixion of his empty, soulless, but physiologically living body (See the details in Appendix 22).
فٹ نوٹ
یہاں سے یہ ہمارے علم میں آتا ہے کہ عیسیٰؑ کی روح، اصل شخصیت، کو اوپر اٹھا لیا گیا تھا، یعنی کہ عیسیٰؑ کی زمینی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اِس سے پہلے کہ اُس کے خالی، بے روح جسم کو گرفتاری، اذیت اور صلیب پر چڑھایا جاتا۔ (تفصیلات دیکھیں ضمیمہ نمبر 22 میں)۔
إِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسىٰ إِنّى مُتَوَفّيكَ وَرافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذينَ كَفَروا وَجاعِلُ الَّذينَ اتَّبَعوكَ فَوقَ الَّذينَ كَفَروا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأَحكُمُ بَينَكُم فيما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ
[3:55] Thus, GOD said, “O Jesus, I am terminating your life, raising you to Me, and ridding you of the disbelievers. I will exalt those who follow you above those who disbelieve, till the Day of Resurrection. Then to Me is the ultimate destiny of all of you, then I will judge among you regarding your disputes.”
پس، اللہ نے کہا، اے عیسیٰ، میں تمہاری زندگی کو ختم کر رہا ہوں، تمہیں اپنی طرف اٹھا رہا ہوں، اور تمہیں کافروں سے نجات دلا رہا ہوں۔ وہ جو تمہاری پیروی کریں گے، میں اُن کے درجات کو کافروں سے بلند کروں گا، قیامت کے دن تک۔ پھر میری ہی طرف تم سب کا آخری ٹھکانہ ہے، پھر میں تمہارے درمیان تمہارے جھگڑوں کا فیصلہ کروں گا۔
فَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَأُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ
[3:56] “As for those who disbelieve, I will commit them to painful retribution in this world, and in the Hereafter. They will have no helpers.”
رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، میں انہیں اِس دنیا میں، اور آخرت میں دردناک عذاب دوں گا، اُن کا کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
وَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفّيهِم أُجورَهُم ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ
[3:57] As for those who believe and lead a righteous life, He will fully recompense them. GOD does not love the unjust.
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک زندگی گزارتے ہیں، وہ انہیں اُس کا پورا اجر دے گا۔ اللہ ناانصافی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
ذٰلِكَ نَتلوهُ عَلَيكَ مِنَ الءايٰتِ وَالذِّكرِ الحَكيمِ
[3:58] These are the revelations that we recite to you, providing a message full of wisdom.
یہ وہ آیات ہیں جو ہم تمہیں سناتے ہیں، حکمت سے بھرپور پیغام دیتے ہوئے۔
إِنَّ مَثَلَ عيسىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءادَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَهُ كُن فَيَكونُ
Mathematical Confirmation*
[3:59] The example of Jesus, as far as GOD is concerned, is the same as that of Adam; He created him from dust, then said to him, “Be,” and he was”
ریاضیاتی تصدیق*
عیسیٰ کی مثال، جہاں تک اللہ کا تعلق ہے، یہ ویسی ہی ہے جیسے کہ آدم کی؛ اُس نے اُسے مٹی سے تخلیق کیا، پھر اُس سے کہا، ہو جا، اور وہ ہو گیا۔
Footnote
*3:59 The “equality” of the creation of Jesus and Adam is confirmed mathematically; Jesus and Adam are mentioned in the Quran the same number of times, 25 times each”
فٹ نوٹ
عیسیٰ اور آدم کی تخلیق کی برابری ریاضیاتی طور پر ثابت ہوتی ہے۔ عیسیٰ اور آدم کا ذکر قرآن میں برابر تعداد میں آیا ہے، ہر ایک کا ذکر 25 مرتبہ۔
الحَقُّ مِن رَبِّكَ فَلا تَكُن مِنَ المُمتَرينَ
[3:60] This is the truth from your Lord; do not harbor any doubts.
یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے: اِس کے بارے میں کوئی شک نہ کرو۔
فَمَن حاجَّكَ فيهِ مِن بَعدِ ما جاءَكَ مِنَ العِلمِ فَقُل تَعالَوا نَدعُ أَبناءَنا وَأَبناءَكُم وَنِساءَنا وَنِساءَكُم وَأَنفُسَنا وَأَنفُسَكُم ثُمَّ نَبتَهِل فَنَجعَل لَعنَتَ اللَّهِ عَلَى الكٰذِبينَ
Challenging the Disbelievers
[3:61] If anyone argues with you, despite the knowledge you have received, then say, “Let us summon our children and your children, our women and your women, ourselves and yourselves, then let us invoke GOD’s curse upon the liars.”
کافروں کو چیلنج
اگر کوئی تمہارے ساتھ جھگڑا کرتا ہے، اِس علم کے آ جانے کے باوجود جو تمہیں ملا ہے، تو کہہ دو، آؤ ہم اپنے بچوں اور تمہارے بچوں، اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں، اپنے آپ کو اور تمہیں بلا لیں، پھر ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کو طلب کریں۔
إِنَّ هٰذا لَهُوَ القَصَصُ الحَقُّ ۚ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ
[3:62] Absolutely, this is the narration of the truth. Absolutely, there is no god except GOD. Absolutely, GOD is the Almighty, Most Wise.
یقیناً یہ ایک سچا بیان ہے۔ یقیناً، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یقیناً، اللہ قادرِ مطلق، اور انتہائی دانا ہے۔
فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِالمُفسِدينَ
[3:63] If they turn away, then GOD is fully aware of the evildoers.
اگر وہ منہ پھیر لیں تو پھر اللہ گناہگاروں سے مکمل طور پر واقف ہے۔
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم أَلّا نَعبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلا نُشرِكَ بِهِ شَيـًٔا وَلا يَتَّخِذَ بَعضُنا بَعضًا أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوا فَقولُوا اشهَدوا بِأَنّا مُسلِمونَ
Invitation to All Believers
[3:64] Say, “O followers of the scripture, let us come to a logical agreement between us and you: that we shall not worship except GOD; that we never set up any idols besides Him, nor set up any human beings as lords beside GOD.” If they turn away, say, “Bear witness that we are submitters.”
تمام اہلِ ایمان کو پیامِ دعوت
کہہ دو، اے اہلِ کتاب، آؤ ہم اپنے اور تمہارے درمیان منطق کے ساتھ ایک معاہدہ کریں: کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں، اور کبھی اُس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائیں، نہ ہی کسی انسان کو اللہ کے ساتھ رب بنائیں۔ اگر وہ منہ موڑ لیں، تو کہہ دو، گواہ رہنا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تُحاجّونَ فى إِبرٰهيمَ وَما أُنزِلَتِ التَّورىٰةُ وَالإِنجيلُ إِلّا مِن بَعدِهِ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ
[3:65] O followers of the scripture, why do you argue about Abraham, when the Torah and the Gospel were not revealed until after him? Do you not understand?
اے اہلِ کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو، جب کہ تورات اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل ہوئی تھیں؟ کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ حٰجَجتُم فيما لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحاجّونَ فيما لَيسَ لَكُم بِهِ عِلمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ
[3:66] You have argued about things you knew; why do you argue about things you do not know? GOD knows, while you do not know.
تم اُن چیزوں کے بارے میں جھگڑ چکے ہو جن کا تمہیں علم تھا؛ تم اُن چیزوں کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کوئی علم نہیں؟ اللہ جانتا ہے، جبکہ تم نہیں جانتے۔
ما كانَ إِبرٰهيمُ يَهودِيًّا وَلا نَصرانِيًّا وَلٰكِن كانَ حَنيفًا مُسلِمًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ
[3:67] Abraham was neither Jewish, nor Christian; he was a monotheist submitter. He never was an idol worshiper.
ابراہیم نہ یہودی تھا، اور نہ ہی عیسائی؛ وہ ایک خدا پرست فرمانبردار (مسلم) تھا۔ وہ کبھی بھی مشرک نہ تھا۔
إِنَّ أَولَى النّاسِ بِإِبرٰهيمَ لَلَّذينَ اتَّبَعوهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذينَ ءامَنوا ۗ وَاللَّهُ وَلِىُّ المُؤمِنينَ
[3:68] The people most worthy of Abraham are those who followed him, and this prophet, and those who believe. GOD is the Lord and Master of the believers.
ابراہیم کے حقدار سب سے زیادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُس کی پیروی کی، اور اِس نبی کی، اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اللہ ایمان والوں کا رب اور مالک ہے۔
وَدَّت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَو يُضِلّونَكُم وَما يُضِلّونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ
[3:69] Some followers of the scripture wish to lead you astray, but they only lead themselves astray, without perceiving.
کچھ اہل کتاب تمہیں گمراہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، مگر وہ خود کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے۔
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَأَنتُم تَشهَدونَ
[3:70] O followers of the scripture, why do you reject these revelations of GOD though you bear witness (that this is the truth)?
اے اہلِ کتاب، تم اللہ کی اِن آیات کو کیوں جھٹلاتے ہو، حالانکہ تم گواہی دیتے ہو (کہ یہ سچ ہے)؟
يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَلبِسونَ الحَقَّ بِالبٰطِلِ وَتَكتُمونَ الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ
[3:71] O followers of the scripture, why do you confound the truth with falsehood, and conceal the truth, knowingly?
اے اہلِ کتاب، تم سچ کو جھوٹ میں کیوں ملاتے ہو، اور سچ کو جانتے بوجھتے کیوں چھپاتے ہو؟
وَقالَت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ ءامِنوا بِالَّذى أُنزِلَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ وَاكفُروا ءاخِرَهُ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ
[3:72] Some followers of the scripture say, “Believe in what was sent down to the believers in the morning, and reject it in the evening; maybe someday they will revert.”
اہلِ کتاب میں سے کچھ کہتے ہیں، صبح ایمان لاؤ اُس پر جو مومنین پر اُتارا گیا ہے، اور شام کو اُسے جھٹلا دو، ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ پھر جائیں۔
وَلا تُؤمِنوا إِلّا لِمَن تَبِعَ دينَكُم قُل إِنَّ الهُدىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤتىٰ أَحَدٌ مِثلَ ما أوتيتُم أَو يُحاجّوكُم عِندَ رَبِّكُم ۗ قُل إِنَّ الفَضلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ
[3:73] “And do not believe except as those who follow your religion.” Say, “The true guidance is GOD’s guidance.” If they claim that they have the same guidance, or argue with you about your Lord, say, “All grace is in GOD’s hand; He bestows it upon whomever He wills.” GOD is Bounteous, Omniscient.”
اور ایمان نہ لاؤ سوائے اُن کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں۔ کہو، حقیقی ہدایت اللہ کی ہدایت ہے۔ اگر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے پاس بھی وہی ہدایت ہے، یا تم سے تمہارے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، تو کہہ دو، سب فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ فیاض، اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
يَختَصُّ بِرَحمَتِهِ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ
[3:74] He specifies His mercy for whomever He wills; GOD possesses unlimited grace.
وہ جس کے لیے چاہتا ہے، اپنی رحمت کو اُس کے لیے مخصوص کر دیتا ہے؛ اللہ لامحدود فضل کا مالک ہے۔
وَمِن أَهلِ الكِتٰبِ مَن إِن تَأمَنهُ بِقِنطارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيكَ وَمِنهُم مَن إِن تَأمَنهُ بِدينارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيكَ إِلّا ما دُمتَ عَلَيهِ قائِمًا ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لَيسَ عَلَينا فِى الأُمِّيّۦنَ سَبيلٌ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ
Be Honest With All People
[3:75] Some followers of the scripture can be trusted with a whole lot, and they will give it back to you. Others among them cannot be trusted with a single dinar; they will not repay you unless you keep after them. That is because they say, “We do not have to be honest when dealing with the gentiles!”* Thus, they attribute lies to GOD, knowingly.”
ایمان دار رہو سب لوگوں کے ساتھ
اہلِ کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن پر بہت سارے مال کے ساتھ بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ تمہیں واپس لوٹا دیں گے۔ اُن کے درمیان کچھ ایسے ہیں جن پر ایک دینار کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تمہیں واپس نہیں کریں گے جب تک کہ تم اُن کے پیچھے بار بار نہ پڑو۔ یہ اِس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں، ہمیں امیوں کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے دیانتداری کی ضرورت نہیں!** اِس طرح، وہ دانستہ طور پر اللہ سے جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔
Footnote
*3:75 Prior to the discovery of the Quran’s mathematical code, some scholars falsely claimed that Muhammad was an illiterate man who could not write such a great book. They distorted the meaning of the word “Ummy,” claiming that it meant “illiterate.” This verse proves that “Ummiyyeen” means “gentiles” (See also 62:2 & Appendix 28).”
فٹ نوٹ
قرآن کے ریاضیاتی کوڈ کی دریافت سے پہلے، کچھ علماء نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ محمد ایک اَن پڑھ آدمی تھا جو اتنی عظیم کتاب نہیں لکھ سکتا تھا۔ انہوں نے لفظ اُمّی کے معنی کو بگاڑ دیا اور دعویٰ کیا کہ اِس کا مطلب ہے اَن پڑھ۔ یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اُمّیّین کا مطلب ہے جو اہلِ کتاب نہیں ہیں (62:2 اور ضمیمہ 28 بھی دیکھیں)۔
بَلىٰ مَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ وَاتَّقىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ
[3:76] Indeed, those who fulfill their obligations and lead a righteous life, GOD loves the righteous.
بے شک، جو لوگ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں، اللہ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
إِنَّ الَّذينَ يَشتَرونَ بِعَهدِ اللَّهِ وَأَيمٰنِهِم ثَمَنًا قَليلًا أُولٰئِكَ لا خَلٰقَ لَهُم فِى الءاخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنظُرُ إِلَيهِم يَومَ القِيٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ
[3:77] As for those who trade away GOD’s covenant, and their obligations, for a cheap price, they receive no share in the Hereafter. GOD will not speak to them, nor look at them, on the Day of Resurrection, nor will He purify them. They have incurred a painful retribution.
جہاں تک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور ذمہ داریوں کو، سستے داموں بیچ دیتے ہیں، وہ لوگ آخرت میں کوئی حصہ وصول نہیں کرتے۔ اللہ قیامت کے دن نہ اُن سے بات کرے گا، نہ اُن کی طرف دیکھے گا، اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا۔ وہ اپنے اوپر دردناک عذاب لے آئے ہیں۔
وَإِنَّ مِنهُم لَفَريقًا يَلوۥنَ أَلسِنَتَهُم بِالكِتٰبِ لِتَحسَبوهُ مِنَ الكِتٰبِ وَما هُوَ مِنَ الكِتٰبِ وَيَقولونَ هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَما هُوَ مِن عِندِ اللَّهِ وَيَقولونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ وَهُم يَعلَمونَ
[3:78] Among them are those who twist their tongues to imitate the scripture, that you may think it is from the scripture, when it is not from the scripture, and they claim that it is from GOD, when it is not from GOD. Thus, they utter lies and attribute them to GOD, knowingly.
اُن میں وہ بھی ہیں جو آسمانی کتاب کی نقل کرنے کے لیے اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم یہ سمجھو کہ یہ آسمانی کتاب میں سے ہے، جب کہ یہ آسمانی کتاب میں سے نہیں ہے، اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، جب کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ پس وہ دانستہ جھوٹ بولتے ہیں اور اُسے اللہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔
ما كانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤتِيَهُ اللَّهُ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقولَ لِلنّاسِ كونوا عِبادًا لى مِن دونِ اللَّهِ وَلٰكِن كونوا رَبّٰنِيّۦنَ بِما كُنتُم تُعَلِّمونَ الكِتٰبَ وَبِما كُنتُم تَدرُسونَ
[3:79] Never would a human being whom GOD blessed with the scripture and prophethood say to the people, “Idolize me beside GOD.” Instead, (he would say), “Devote yourselves absolutely to your Lord alone,” according to the scripture you preach and the teachings you learn.”
کبھی بھی کوئی انسان جسے اللہ نے کتاب اور نبوت سے نوازا ہو، وہ لوگوں سے یہ نہیں کہے گا، کہ اللہ کے ساتھ مجھے بھی شریک ٹھہراؤ۔ بلکہ (وہ کہے گا)، اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنے ایک رب کے لیے وقف کر دو، اُس کتاب کے مطابق جس کی تم تبلیغ کرتے ہو اور جو تعلیمات تم سیکھتے ہو۔
وَلا يَأمُرَكُم أَن تَتَّخِذُوا المَلٰئِكَةَ وَالنَّبِيّۦنَ أَربابًا ۗ أَيَأمُرُكُم بِالكُفرِ بَعدَ إِذ أَنتُم مُسلِمونَ
[3:80] Nor would he command you to idolize the angels and the prophets as lords. Would he exhort you to disbelieve after becoming submitters?
نہ ہی وہ تمہیں حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو اپنا رب بنا لو۔ کیا وہ (اللہ کا) فرمابردار ہونے کے بعد تمہیں کفر کی تلقین کرے گا؟
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ النَّبِيّۦنَ لَما ءاتَيتُكُم مِن كِتٰبٍ وَحِكمَةٍ ثُمَّ جاءَكُم رَسولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُم لَتُؤمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قالَ ءَأَقرَرتُم وَأَخَذتُم عَلىٰ ذٰلِكُم إِصرى ۖ قالوا أَقرَرنا ۚ قالَ فَاشهَدوا وَأَنا۠ مَعَكُم مِنَ الشّٰهِدينَ
Major Prophecy Fulfilled*
God’s Messenger of the Covenant
[3:81] GOD took a covenant from the prophets, saying, “I will give you the scripture and wisdom. Afterwards, a messenger will come to confirm all existing scriptures. You shall believe in him and support him.” He said, “Do you agree with this, and pledge to fulfill this covenant?” They said, “We agree.” He said, “You have thus borne witness, and I bear witness along with you.”
بڑی پیش گوئی پوری ہوئی*
اللہ کا میثاقِ رسول
اللہ نے نبیوں سے عہد لیا، یہ کہتے ہوئے، میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اُس کے بعد، ایک رسول آئے گا جو تمام موجودہ کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تم اُس پر ایمان لاؤ گے اور اُس کی مدد کرو گے۔ اُس (اللہ) نے کہا، کیا تم اِس سے اتفاق کرتے ہو، اور اِس عہد کو پورا کرنے کا قول دیتے ہو؟ انہوں نے کہا، ہم قبول کرتے ہیں۔ اُس (اللہ) نے کہا، تو پھر تم سب گواہ ہو، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
Footnote
*3:81 This major prophecy has now been fulfilled. God’s Messenger of the Covenant, as prophesied in this verse and in the Bible’s Malachi 3:1-21, Luke 17:22-36 & Matthew 24:27, is to purify and unify God’s messages which were delivered by God’s prophets. Judaism, Christianity, Islam, Hinduism, Buddhism, etc. have been severely corrupted. It is the will of Almighty God to purify them and unify them under the banner of worshiping Him alone. Overwhelming evidence has been provided by God in support of His Messenger of the Covenant, whose name is incontrovertibly specified in the Quran’s mathematical code as “Rashad Khalifa.” For example, adding the gematrical value of “Rashad” (505), plus the value of “Khalifa” (725), plus the verse number (81) gives 1311, or 19×69 (see Appendix 2 for the detailed evidence).”
فٹ نوٹ
یہ بڑی پیشین گوئی اب پوری ہو چکی ہے۔ اللہ کے میثاقِ رسول، جیسا کہ اِس آیت میں اور بائبل کی ملاکائی 3:1، 21، لوک 17:22-36، اور میتھیو 24:27 میں پیشین گوئی کی گئی تھی، اللہ کے پیغامات کو پاک اور یکجا کرنے کے لیے جو اللہ کے پیغمبروں کے ذریعہ پہنچائے گئے تھے۔ یہودیت، عیسائیت، اسلام، ہندومت، بُدھ مت، وغیرہ شدید طور پر خراب ہو چکے ہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ اُنہیں پاک کرے اور اُنہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کے جھنڈے تلے متحد کرے۔ اللہ کی طرف سے اپنے میثاقِ رسول کی حمایت میں زبردست ثبوت فراہم کیے گئے ہیں، جس کا نام قرآن کے ریاضیاتی کوڈ میں راشد خلیفہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، راشد (505) کی عددی قدر، نیز خلیفہ (725) کی قدر، نیز آیت نمبر (81) کو شامل کرنے سے 1311، یا 19×69 ملتا ہے (تفصیلی ثبوت کے لیے ضمیمہ 2 دیکھیں)۔
فَمَن تَوَلّىٰ بَعدَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ
Rejectors of God’s Messenger of the Covenant are Disbelievers
[3:82] Those who reject this (Quranic prophecy) are the evil ones.
اللہ کے میثاقِ رسول کو رد کرنے والے کافر ہیں
وہ لوگ جو اِس (قرآنی پیش گوئی) کا انکار کرتے ہیں، وہ فاسق ہیں۔
أَفَغَيرَ دينِ اللَّهِ يَبغونَ وَلَهُ أَسلَمَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَكَرهًا وَإِلَيهِ يُرجَعونَ
[3:83] Are they seeking other than GOD’s religion, when everything in the heavens and the earth has submitted to Him, willingly and unwillingly, and to Him they will be returned?
کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں، جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اُس کی فرمانبرداری کر چکی ہے، چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے، اور وہ اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے؟
قُل ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ عَلَينا وَما أُنزِلَ عَلىٰ إِبرٰهيمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَما أوتِىَ موسىٰ وَعيسىٰ وَالنَّبِيّونَ مِن رَبِّهِم لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ
Make No Distinction Among God’s Messengers
[3:84] Say, “We believe in GOD, and in what was sent down to us, and in what was sent down to Abraham, Ismail, Isaac, Jacob, and the Patriarchs, and in what was given to Moses, Jesus, and the prophets from their Lord. We make no distinction among any of them. To Him alone we are submitters.”
اللہ کے رسولوں میں امتیاز مت کرو
کہو، ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا، اور اُس پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب پر نازل کیا گیا۔ اور اُس کو بھی مانتے ہیں جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے انبیاء پر اُن کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا۔ ہم اُن میں سے کسی میں کوئی امتیاز نہیں کرتے، ہم اکیلے اُسی (اللہ) کے فرمانبردار ہیں۔
وَمَن يَبتَغِ غَيرَ الإِسلٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الءاخِرَةِ مِنَ الخٰسِرينَ
Only One Religion Approved by God
[3:85] Anyone who accepts other than Submission as his religion, it will not be accepted from him, and in the Hereafter, he will be with the losers.
اللہ کی طرف سے منظور شدہ صرف ایک ہی مذہب
جو کوئی بھی فرمابرداری کے علاوہ کسی اور دین کو مانتا ہے، وہ اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں کے ساتھ ہو گا۔
كَيفَ يَهدِى اللَّهُ قَومًا كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم وَشَهِدوا أَنَّ الرَّسولَ حَقٌّ وَجاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ
[3:86] Why should GOD guide people who disbelieved after believing, and after witnessing that the messenger is truth, and after solid proofs* have been given to them? GOD does not guide the wicked.
اللہ اُن لوگوں کو ہدایت کیوں دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے، یہ دیکھنے کے بعد بھی کہ رسول برحق ہے، اور یہ کہ انہیں واضح ثبوت دیے گئے تھے؟ اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Footnote
*3:86 Verses 3:82-90 inform us that those who reject God’s Messenger of the Covenant are no longer submitters (Muslims), since they no longer believe the Quran. The proofs mentioned in 3:86 refer to the Quran’s mathematical code, which was revealed through God’s Messenger of the Covenant. Both 3:86 and 3:90 talk about “disbelieving after believing.
فٹ نوٹ
آیات 90-82: 3 سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے میثاقِ رسول کا انکار کرتے ہیں، وہ اب فرمانبردار (مسلمان) نہیں ہیں، کیونکہ وہ قرآن کو نہیں مانتے۔ 3:86 میں دیے گئے ثبوت قرآن کے ریاضیاتی کوڈ کا حوالہ دیتے ہیں، جو کہ میثاقِ رسول کے ذریعے نازل ہوا تھا۔ دونوں آیات 3:86 اور 3:90 ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے والوں کے بارے میں بات کرتی ہیں۔
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم أَنَّ عَلَيهِم لَعنَةَ اللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ
[3:87] These have incurred condemnation by GOD, and the angels, and all the people.
یہ لوگ اللہ، فرشتوں، اور تمام لوگوں کی طرف سے مذمت کے مستحق ہو چکے ہیں۔
خٰلِدينَ فيها لا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنظَرونَ
[3:88] Eternally they abide therein; the retribution is never commuted for them, nor will they be reprieved.
وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے؛ اُن کے لیے عذاب میں کبھی کمی نہیں کی جائے گی، نہ ہی اُنہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
[3:89] Exempted are those who repent thereafter, and reform. GOD is Forgiver, Most Merciful.
مستثنیٰ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اُس کے بعد توبہ کی، اور اصلاح کی۔ اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بَعدَ إيمٰنِهِم ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَن تُقبَلَ تَوبَتُهُم وَأُولٰئِكَ هُمُ الضّالّونَ
When Repentance is Unacceptable
[3:90] Those who disbelieve after believing, then plunge deeper into disbelief, their repentance will not be accepted from them; they are the real strayers.
جب توبہ ناقابلِ قبول ہے
جو لوگ ایمان لانے کے بعد کفر کرتے ہیں، پھر کفر کی گہرائی میں ڈوب جاتے ہیں، اُن سے اُن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہی حقیقی گمراہ ہیں۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يُقبَلَ مِن أَحَدِهِم مِلءُ الأَرضِ ذَهَبًا وَلَوِ افتَدىٰ بِهِ ۗ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ
[3:91] Those who disbelieve and die as disbelievers, an earthful of gold will not be accepted from any of them, even if such a ransom were possible. They have incurred painful retribution; they will have no helpers.
جو لوگ کفر کریں اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں، اُن میں سے کسی سے زمین بھر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ اتنا فدیہ ممکن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؛ اُن کا کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يُقبَلَ مِن أَحَدِهِم مِلءُ الأَرضِ ذَهَبًا وَلَوِ افتَدىٰ بِهِ ۗ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ وَما لَهُم مِن نٰصِرينَ
[3:92] You cannot attain righteousness until you give to charity from the possessions you love. Whatever you give to charity, GOD is fully aware thereof.
تم اُس وقت تک نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اپنے پسندیدہ مال میں سے خیرات نہیں دیتے۔ تم خیرات میں جو کچھ بھی دیتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔
كُلُّ الطَّعامِ كانَ حِلًّا لِبَنى إِسرٰءيلَ إِلّا ما حَرَّمَ إِسرٰءيلُ عَلىٰ نَفسِهِ مِن قَبلِ أَن تُنَزَّلَ التَّورىٰةُ ۗ قُل فَأتوا بِالتَّورىٰةِ فَاتلوها إِن كُنتُم صٰدِقينَ
Do Not Prohibit What Is Lawful
[3:93] All food used to be lawful for the Children of Israel, until Israel imposed certain prohibitions on themselves before the Torah was sent down. Say, “Bring the Torah and read it, if you are truthful.”
اُس کی ممانعت مت کرو جو حلال ہے
بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانا حلال ہوا کرتا تھا، جب تک کہ اسرائیل نے خود پر کچھ چیزیں حرام کر لیں، تورات کے آنے سے پہلے۔ کہہ دو، لے آؤ تورات کو اور اُسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔
فَمَنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ
[3:94] Those who fabricate false prohibitions after this, and attribute them to GOD, are truly wicked.
اِس کے بعد جو لوگ جھوٹی ممانعتیں گھڑتے ہیں، اور انہیں اللہ سے منسوب کرتے ہیں، وہ واقعی فاسق ہیں۔
قُل صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعوا مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ
[3:95] Say, “GOD has proclaimed the truth: You shall follow Abraham’s religion—monotheism. He never was an idolater.”
کہہ دو، اللہ نے سچ کا اعلان کر دیا ہے: تم ابراہیم کے مذہب کی پیروی کرو—یعنی کہ توحید کی۔ وہ کبھی بھی مشرک نہیں تھا۔
إِنَّ أَوَّلَ بَيتٍ وُضِعَ لِلنّاسِ لَلَّذى بِبَكَّةَ مُبارَكًا وَهُدًى لِلعٰلَمينَ
[3:96] The most important shrine established for the people is the one in Becca;* a blessed beacon for all the people.
سب سے اہم مقدس مقام جو لوگوں کے لیے قائم کیا گیا، وہ بکّہ٭ میں ہے؛ تمام لوگوں کے لیے ایک رحمت والی روشنی۔
Footnote
*3:96 This is an M-initialed sura, and this peculiar spelling of “Mecca” as “Becca” causes the occurrence of “M” to conform to the Quran’s mathematical code. The normal spelling “Mecca” would have increased the frequency of occurrence of “M” (Appendix 1).”
فٹ نوٹ
یہ ایک م کے ابتدائی حرف سے شروع ہونے والی سورت ہے، اور مکہ کو بکّہ لکھنے کا یہ خاص انداز حرف م کی تعداد کو قرآن کے ریاضیاتی کوڈ کے عین مطابق کر دیتا ہے۔ اگر معمول کے مطابق مکہ کے ہجے کیے جاتے، تو م کی تعداد بڑھ جاتی (ضمیمہ 1)۔
فيهِ ءايٰتٌ بَيِّنٰتٌ مَقامُ إِبرٰهيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كانَ ءامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ العٰلَمينَ
[3:97] In it are clear signs: the station of Abraham. Anyone who enters it shall be granted safe passage. The people owe it to GOD that they shall observe Hajj to this shrine, when they can afford it. As for those who disbelieve, GODdoes not need anyone.
اُس میں واضح نشانیاں ہیں: مقامِ ابراہیم۔ جو بھی اُس میں داخل ہوتا ہے، اسے محفوظ راستہ دیا جائے۔ لوگوں پر اللہ کا قرض ہے کہ وہ اُس مقدس گھر کا حج کریں، جب وہ اُس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ اور جو لوگ کفر کرتے ہیں، اللہ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهيدٌ عَلىٰ ما تَعمَلونَ
[3:98] Say, “O followers of the scripture, why do you reject these revelations of GOD, when GOD is witnessing everything you do?”
کہو، اے اہلِ کتاب، تم اللہ کی اِن آیات کو کیوں جھٹلاتے ہو، جب کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو؟
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ لِمَ تَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ مَن ءامَنَ تَبغونَها عِوَجًا وَأَنتُم شُهَداءُ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ
[3:99] Say, “O followers of the scripture, why do you repel from the path of GOD those who wish to believe, and seek to distort it, even though you are witnesses?” GOD is never unaware of anything you do.”
کہو، اے اہلِ کتاب! تم اُن لوگوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو جو ایمان لانا چاہتے ہیں، اور اُسے بگاڑنے کی کوشش کرتے ہو، حالانکہ تم خود گواہ ہو؟ اللہ اُس سے کبھی بھی غافل نہیں جو کچھ بھی تم کرتے ہو۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعوا فَريقًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ يَرُدّوكُم بَعدَ إيمٰنِكُم كٰفِرينَ
[3:100] O you who believe, if you obey some of those who received the scripture, they will revert you, after having believed, into disbelievers.
اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے بعض کا کہنا مانو گے، تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔
وَكَيفَ تَكفُرونَ وَأَنتُم تُتلىٰ عَلَيكُم ءايٰتُ اللَّهِ وَفيكُم رَسولُهُ ۗ وَمَن يَعتَصِم بِاللَّهِ فَقَد هُدِىَ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ
[3:101] How can you disbelieve, when these revelations of GOD have been recited to you, and His messenger has come to you? Whoever holds fast to GOD will be guided in the right path.
تم کیسے کفر کر سکتے ہو، جب کہ اللہ کی یہ آیات تمہیں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں، اور اُس کا رسول تمہارے پاس آیا ہے؟ جو کوئی اللہ کو مضبوطی سے تھامے گا، اُسے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی ملے گی۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ
[3:102] O you who believe, you shall observe GOD as He should be observed, and do not die except as Submitters.
اے ایمان والو! تم اللہ پر غور و فکر کرو، جیسا کہ اُس پر غور و فکر کرنے کا حق ہے، اور فرمانبرداری (مسلم) کے علاوہ کسی اور حالت میں نہ مرو۔
وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّقوا ۚ وَاذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخوٰنًا وَكُنتُم عَلىٰ شَفا حُفرَةٍ مِنَ النّارِ فَأَنقَذَكُم مِنها ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ
Believers are United
[3:103] You shall hold fast to the rope of GOD, all of you, and do not be divided. Recall GOD’s blessings upon you—you used to be enemies and He reconciled your hearts. By His grace, you became brethren. You were at the brink of a pit of fire, and He saved you therefrom. GOD thus explains His revelations for you, that you may be guided.
تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقے میں نہ پڑو۔ یاد کرو اللہ کی رحمتیں جو اُس نے تم پر عطا کیں—تم ایک دوسرے کے دشمن ہوا کرتے تھے، اور اُس نے تمہارے دلوں کو ملا دیا۔ اُس کے فضل سے، تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اور اُس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ اللہ اِس طرح تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، شاید کہ تم ہدایت پا لو۔
وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ
[3:104] Let there be a community of you who invite to what is good, advocate righteousness, and forbid evil. These are the winners.
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو اچھائی کی طرف بلائے، نیکی کی تلقین کرے، اور برائی سے روکے۔ یہی فاتح ہیں
وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّقوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنٰتُ ۚ وَأُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ عَظيمٌ
[3:105] Do not be like those who became divided and disputed, despite the clear proofs that were given to them. For these have incurred a terrible retribution.
اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو تقسیم ہو گئے اور آپس میں جھگڑنے لگے، باوجود اُن واضح نشانیوں کے جو اُن کو دی گئی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خوفناک عذاب عائد ہو چکا ہے۔
يَومَ تَبيَضُّ وُجوهٌ وَتَسوَدُّ وُجوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذينَ اسوَدَّت وُجوهُهُم أَكَفَرتُم بَعدَ إيمٰنِكُم فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ
[3:106] The day will come when some faces will be brightened (with joy), while other faces will be darkened (with misery). As for those whose faces are darkened, they will be asked, “Did you not disbelieve after believing? Therefore, suffer the retribution for your disbelief.”
وہ دن آئے گا جب کچھ چہرے (خوشی سے) روشن ہوں گے، جبکہ دوسرے چہرے (غم سے) سیاہ ہوں گے۔ رہے وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، اُن سے پوچھا جائے گا، کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر نہیں کیا؟ اِس لیے اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کو بھگتو۔
وَأَمَّا الَّذينَ ابيَضَّت وُجوهُهُم فَفى رَحمَةِ اللَّهِ هُم فيها خٰلِدونَ
[3:107] As for those whose faces are brightened, they will rejoice in GOD’s mercy; they abide therein forever.
جن کے چہرے روشن ہوں گے، وہ اللہ کی رحمت میں خوش ہوں گے؛ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُريدُ ظُلمًا لِلعٰلَمينَ
[3:108] These are GOD’s revelations; we recite them to you, truthfully. GOD does not wish any hardship for the people.
یہ اللہ کی آیات ہیں؛ ہم انہیں سچائی کے ساتھ تمہیں سناتے ہیں۔ اللہ لوگوں کے لیے کسی سختی کی خواہش نہیں رکھتا۔
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ
[3:109] To GOD belongs everything in the heavens and everything on earth, and all matters are controlled by GOD.
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے، اور تمام معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔
كُنتُم خَيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنّاسِ تَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتٰبِ لَكانَ خَيرًا لَهُم ۚ مِنهُمُ المُؤمِنونَ وَأَكثَرُهُمُ الفٰسِقونَ
The Best Community
[3:110] You are the best community ever raised among the people: you advocate righteousness and forbid evil, and you believe in GOD. If the followers of the scripture believed, it would be better for them. Some of them do believe, but the majority of them are wicked.
بہترین جماعت
تم لوگوں کے درمیان اب تک آنے والی ایک بہترین جماعت ہو: تم نیکی کی تلقین کرتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو، اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہلِ کتاب ایمان لے آتے، تو یہ اُن کے لیے بہتر ہوتا۔ اُن میں سے کچھ ایمان رکھتے ہیں، لیکن اُن میں سے اکثریت بدکاروں کی ہے۔
لَن يَضُرّوكُم إِلّا أَذًى ۖ وَإِن يُقٰتِلوكُم يُوَلّوكُمُ الأَدبارَ ثُمَّ لا يُنصَرونَ
[3:111] They can never harm you, beyond insulting you. If they fight you, they will turn around and flee. They can never win.
وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، سوائے تمہاری توہین کرنے کے۔ اگر وہ تم سے لڑیں گے، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔
ضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ أَينَ ما ثُقِفوا إِلّا بِحَبلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبلٍ مِنَ النّاسِ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَت عَلَيهِمُ المَسكَنَةُ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ ۚ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ
[3:112] They shall be humiliated whenever you encounter them, unless they uphold GOD’s covenant, as well as their peace covenants with you. They have incurred wrath from GOD, and, consequently, they are committed to disgrace. This is because they rejected GOD’s revelations, and killed the prophets unjustly. This is because they disobeyed and transgressed.
جب بھی تمہارا اُن سے سامنا ہو گا تو انہیں ذلت ملے گی، جب تک کہ وہ اللہ کے ساتھ عہد کو قائم نہیں رکھتے، اور تمہارے ساتھ کیے گئے امن کے معاہدے کو بھی۔ اُن پر اللہ کی طرف سے عذاب عائد ہو چکا ہے، اور نتیجتاً، اُن پر رسوائی عائد ہو چکی ہے۔ یہ اِس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو رد کیا، اور انبیاء کو ناحق قتل کیا۔ یہ اِس لیے ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حدود سے تجاوز کر گئے۔
لَيسوا سَواءً ۗ مِن أَهلِ الكِتٰبِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ يَتلونَ ءايٰتِ اللَّهِ ءاناءَ الَّيلِ وَهُم يَسجُدونَ
Righteous Jews & Christians
[3:113] They are not all the same; among the followers of the scripture, there are those who are righteous. They recite GOD’s revelations through the night, and they fall prostrate.
نیک یہودی اور عیسائی
وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں؛ اہلِ کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں، جو نیک ہیں۔ وہ رات کے وقت اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں، اور سجدے میں گر جاتے ہیں۔
يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَأُولٰئِكَ مِنَ الصّٰلِحينَ
[3:114] They believe in GOD and the Last Day, they advocate righteousness and forbid evil, and they hasten to do righteous works. These are the righteous.
وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں، اور نیک کاموں کو کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جو صالح ہیں۔
وَما يَفعَلوا مِن خَيرٍ فَلَن يُكفَروهُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالمُتَّقينَ
[3:115] Any good they do will not go unrewarded. GOD is fully aware of the righteous.
جو بھلائی بھی وہ کرتے ہیں، وہ کبھی بھی ضائع نہیں جائے گی۔ اللہ نیک لوگوں سے پوری طرح باخبر ہے۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا لَن تُغنِىَ عَنهُم أَموٰلُهُم وَلا أَولٰدُهُم مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۚ هُم فيها خٰلِدونَ
[3:116] Those who disbelieved can never be helped by their money or their children against GOD. They have incurred Hell, wherein they abide forever.
وہ جنہوں نے کفر کیا، اُن کے مال اور اُن کی اولاد اللہ کے مقابلے میں اُن کی کبھی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے جہنم کمائی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
مَثَلُ ما يُنفِقونَ فى هٰذِهِ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَمَثَلِ ريحٍ فيها صِرٌّ أَصابَت حَرثَ قَومٍ ظَلَموا أَنفُسَهُم فَأَهلَكَتهُ ۚ وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلٰكِن أَنفُسَهُم يَظلِمونَ
[3:117] The example of their accomplishments in this life is like a violent wind that hits the harvest of people who have wronged their souls, and wipes it out. GOD never wronged them; it is they who wronged themselves.
اِس زندگی میں اُن کی کامیابیوں کی مثال ایک ایسے طوفان کی سی ہے جو اُن لوگوں کی فصل کو اجاڑ دیتی ہے، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اُس کا صفایا کر دیتی ہے۔ اللہ نے کبھی اُن پر ظلم نہیں کیا، یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا بِطانَةً مِن دونِكُم لا يَألونَكُم خَبالًا وَدّوا ما عَنِتُّم قَد بَدَتِ البَغضاءُ مِن أَفوٰهِهِم وَما تُخفى صُدورُهُم أَكبَرُ ۚ قَد بَيَّنّا لَكُمُ الءايٰتِ ۖ إِن كُنتُم تَعقِلونَ
Do Not Befriend Hypocrites
[3:118] O you who believe, do not befriend outsiders who never cease to wish you harm; they even wish to see you suffer. Hatred flows out of their mouths and what they hide in their chests is far worse. We thus clarify the revelations for you, if you understand.
منافقین سے دوستی مت کرو
اے ایمان والو، اُن غیر لوگوں سے دوستی نہ کرو جو تمہیں نقصان پہنچانے کی خواہش سے کبھی نہیں رکتے۔ حتیٰ کہ وہ تمہیں تکلیف میں گھرا دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ نفرت اُن کے منہ سے برستی ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں وہ اُس سے کہیں بدتر ہے۔ اِس طرح ہم تمہارے لیے آیات کی وضاحت کرتے ہیں، اگر تم سمجھتے ہو۔
هٰأَنتُم أُولاءِ تُحِبّونَهُم وَلا يُحِبّونَكُم وَتُؤمِنونَ بِالكِتٰبِ كُلِّهِ وَإِذا لَقوكُم قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا عَضّوا عَلَيكُمُ الأَنامِلَ مِنَ الغَيظِ ۚ قُل موتوا بِغَيظِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ
[3:119] Here you are loving them, while they do not love you, and you believe in all the scripture. When they meet you they say, “We believe,” but as soon as they leave, they bite their fingers out of rage towards you. Say, “Die in your rage.” GOD is fully aware of the innermost thoughts.”
ادھر تم ہو جو اُن سے محبت کر رہے ہو، جبکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے، اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں، لیکن جب وہ چلے جاتے ہیں، تو وہ تمہارے لیے غصے سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہہ دو، اپنے غصے میں مر جاؤ۔ اللہ تمہارے پوشیدہ ترین خیالات سے مکمل طور پر واقف ہے۔
إِن تَمسَسكُم حَسَنَةٌ تَسُؤهُم وَإِن تُصِبكُم سَيِّئَةٌ يَفرَحوا بِها ۖ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا لا يَضُرُّكُم كَيدُهُم شَيـًٔا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِما يَعمَلونَ مُحيطٌ
[3:120] When anything good comes your way they hurt, and when something bad happens to you they rejoice. If you steadfastly persevere, and maintain righteousness, their schemes will never hurt you. GOD is fully aware of everything they do.
جب تمہارے ساتھ کوئی اچھائی ہوتی ہے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے، اور جب تمہارے ساتھ کچھ بُرا ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم ثابت قدم رہو اور راہِ راست پر قائم رہو تو اُن کے منصوبے تمہیں کبھی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔ اللہ اُن کے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے۔
وَإِذ غَدَوتَ مِن أَهلِكَ تُبَوِّئُ المُؤمِنينَ مَقٰعِدَ لِلقِتالِ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ
The Battle of Badr
[3:121] Recall that you (Muhammad) were among your people when you set out to assign to the believers their positions for battle. GOD is Hearer, Omniscient.
جنگِ بدر
یاد کرو تم (محمد) اپنے لوگوں کے درمیان تھے جب تم نے مومنین کے لیے مورچے مقرر کیے۔ اللہ سننے والا، اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
إِذ هَمَّت طائِفَتانِ مِنكُم أَن تَفشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُما ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ
[3:122] Two groups among you almost failed, but GOD was their Lord. In GOD the believers shall trust.
تم میں سے دو گروہ تقریباً ناکام ہو چکے تھے، لیکن اللہ اُن کا رب تھا۔ مومنین کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
وَلَقَد نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدرٍ وَأَنتُم أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ
[3:123] GOD has granted you victory at Badr, despite your weakness. Therefore, you shall observe GOD, to show your appreciation.
اللہ نے بدر میں تمہیں فتح عطا کی، باوجود اِس کے کہ تم کمزور تھے۔ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اپنی شکرگزاری دکھانے کے لیے۔
إِذ تَقولُ لِلمُؤمِنينَ أَلَن يَكفِيَكُم أَن يُمِدَّكُم رَبُّكُم بِثَلٰثَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُنزَلينَ
God’s Angels Help the Believers
[3:124] You told the believers, “Is it not enough that your Lord supports you with three thousand angels, sent down?”
اللہ کے فرشتے مومنین کی مدد کرتے ہیں
تم نے مومنین کو کہا، کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرتا ہے تین ہزار فرشتے بھیج کر؟
بَلىٰ ۚ إِن تَصبِروا وَتَتَّقوا وَيَأتوكُم مِن فَورِهِم هٰذا يُمدِدكُم رَبُّكُم بِخَمسَةِ ءالٰفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُسَوِّمينَ
[3:125] Indeed, if you steadfastly persevere and maintain righteousness, then they attack you suddenly, your Lord will support you with five thousand* angels, well trained.
درحقیقت، اگر تم استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہو، اور نیکی کو برقرار رکھو، تو جب وہ اچانک تم پر حملہ کرتے ہیں، تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا، جو نہایت تربیت یافتہ ہوں گے۔
Footnote
*(3:124-125) Thirty different numbers are mentioned in the Quran. Their total comes to 162146, 19×8534. This conforms with the Quran’s mathematical miracle (See Appendix One).
فٹ نوٹ
*(3:124-125) قرآن میں 30 مختلف نمبروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُن کا مجموعہ 162146، 19×8534 بنتا ہے۔ یہ قرآن کے حسابی معجزے کے مطابق ہے (دیکھیے ضمیمہ 1)۔
وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ لَكُم وَلِتَطمَئِنَّ قُلوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ
[3:126] GOD thus informs you, in order to give you good news, and to assure your hearts. Victory comes only from GOD, the Almighty, Most Wise.
اللہ اِس طرح تمہیں مطلع کرتا ہے، تاکہ تمہیں یہ خوشخبری دے، اور تمہارے دلوں کو ڈھارس دے۔ فتح صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے، جو قادرِ مطلق اور انتہائی دانا ہے۔
لِيَقطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذينَ كَفَروا أَو يَكبِتَهُم فَيَنقَلِبوا خائِبينَ
[3:127] He thus annihilates some disbelievers, or neutralizes them; they always end up the losers.
اِس طرح وہ بعض کافروں کو نیست و نابود کر دیتا ہے، یا انہیں بے اثر کر دیتا ہے؛ اُن کا انجام ہمیشہ خسارے میں ہوتا ہے۔
لَيسَ لَكَ مِنَ الأَمرِ شَيءٌ أَو يَتوبَ عَلَيهِم أَو يُعَذِّبَهُم فَإِنَّهُم ظٰلِمونَ
[3:128] It is not up to you; He may redeem them, or He may punish them for their transgressions.
یہ تم پر منحصر نہیں ہے؛ وہ چاہے تو انہیں نجات دے، یا چاہے تو انہیں اُن کے گناہوں کی سزا دے۔
وَلِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۚ يَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ
[3:129] To GOD belongs everything in the heavens and the earth. He forgives whomever He wills, and punishes whomever He wills. GOD is Forgiver, Most Merciful.
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ وہ جسے چاہے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہے سزا دیتا ہے۔ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلُوا الرِّبوٰا۟ أَضعٰفًا مُضٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ
Usury Prohibited*
[3:130] O you who believe, you shall not take usury, compounded over and over. Observe GOD, that you may succeed.
سود حرام ہے*
اے ایمان والو! تم سود در سود مت لو۔ تم اللہ سے ڈرو، شائید کہ تم کامیاب ہو سکو۔
Footnote
*3:130 Interest on bank deposits and interest charged on loans are lawful if they are not excessive (5-15%). Banks invest and their profits are passed on to the depositors. Since all parties are happy and no one is victimized, it is perfectly lawful to take interest from the bank (see 2:275).
فٹ نوٹ
بینک میں جمع کرنے اور قرضوں پر لیا جانے والا سود اگر حد سے زیادہ نہ ہو تو جائز ہے (5-15%)۔ بینک سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کا منافع بینک میں پیسہ جمع کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ چونکہ تمام پارٹیاں مطمئن ہوتی ہیں اور کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی، اِس لیے بینکوں سے منافع لینا مکمل طور پر جائز ہے (2:275 دیکھیں)۔
وَاتَّقُوا النّارَ الَّتى أُعِدَّت لِلكٰفِرينَ
[3:131] Beware of the hellfire that awaits the disbelievers.
اُس جہنم کی آگ سے بچ جاؤ جو کافروں کے لیے تیار ہے۔
وَأَطيعُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ
[3:132] You shall obey GOD and the messenger, that you may attain mercy.
تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم رحمت پاؤ۔
وَسارِعوا إِلىٰ مَغفِرَةٍ مِن رَبِّكُم وَجَنَّةٍ عَرضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ أُعِدَّت لِلمُتَّقينَ
Attributes of the Righteous
[3:133] You should eagerly race towards forgiveness from your Lord and a Paradise whose width encompasses the heavens and the earth; it awaits the righteous.
نیک لوگوں کی صفات
تم اپنے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف بے تابی سے دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کا احاطہ کرتی ہے: یہ نیک لوگوں کی منتظر ہے۔
الَّذينَ يُنفِقونَ فِى السَّرّاءِ وَالضَّرّاءِ وَالكٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ
[3:134] who give to charity during the good times, as well as the bad times. They are suppressors of anger, and pardoners of the people. GOD loves the charitable.
جو خوشحالی میں اور مشکل حالات میں بھی خیرات دیتے ہیں۔ وہ غصے کو دبا لیتے ہیں، اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اللہ خیرات کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُوا اللَّهَ فَاستَغفَروا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَم يُصِرّوا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ
[3:135] If they fall in sin or wrong their souls, they remember GOD and ask forgiveness for their sins—and who forgives the sins except GOD—and they do not persist in sins, knowingly.
اگر اُن سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے یا وہ اپنی جانوں پر کوئی ظلم کریں، تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں—اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے—اور وہ جان بوجھ کر گناہوں پر قائم نہیں رہتے۔
أُولٰئِكَ جَزاؤُهُم مَغفِرَةٌ مِن رَبِّهِم وَجَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَنِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ
[3:136] Their recompense is forgiveness from their Lord, and gardens with flowing streams; they abide therein forever. What a blessed reward for the workers.
اُن کا اجر اُن کے رب کی طرف سے بخشش ہے، اور وہ باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں: وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی بابرکت انعام ہے ایسے کام کرنے والوں کے لیے۔
قَد خَلَت مِن قَبلِكُم سُنَنٌ فَسيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ
Victory for the Righteous
[3:137] Precedents have been set for you in the past; roam the earth and note the consequences for the unbelievers.
نیک لوگوں کے لیے فتح
تمہارے لیے ماضی میں مثالیں قائم ہو چکی ہیں؛ زمین پر چلو پھرو اور غور کرو کافروں کے انجام پر۔
هٰذا بَيانٌ لِلنّاسِ وَهُدًى وَمَوعِظَةٌ لِلمُتَّقينَ
[3:138] This is a proclamation for the people, and a guidance and enlightenment for the righteous.
یہ ایک اعلان ہے لوگوں کے لیے، اور ہدایت اور روشنی ہے نیک لوگوں کے لیے۔
وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
[3:139] You shall not waver, nor shall you grieve, for you are the ultimate victors, if you are believers.
تم نہ ڈگمگاؤ، اور نہ ہی غمگین ہو، کیونکہ تم ہی حتمی فاتح ہو گے، اگر تم مومن ہو۔
إِن يَمسَسكُم قَرحٌ فَقَد مَسَّ القَومَ قَرحٌ مِثلُهُ ۚ وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَتَّخِذَ مِنكُم شُهَداءَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ
[3:140] If you suffer hardship, the enemy also suffers the same hardship. We alternate the days of victory and defeat among the people. GOD thus distinguishes the true believers, and blesses some of you with martyrdom. GOD dislikes injustice.
اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو، تو دشمن بھی وہی تکلیف اٹھاتا ہے۔ ہم لوگوں کے درمیان فتح اور شکست کے دن بدلتے رہتے ہیں۔ اِس طرح اللہ سچے مومنین میں تمیز کرتا ہے، اور تم میں سے بعض کو شہادت سے نوازتا ہے۔ اللہ ناانصافی کو ناپسند کرتا ہے۔
وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَمحَقَ الكٰفِرينَ
[3:141] GOD thus toughens those who believe and humiliates the disbelievers.
اللہ اِس طرح ایمان والوں کو مضبوط کرتا ہے اور کافروں کو ذلت دیتا ہے۔
أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَعلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جٰهَدوا مِنكُم وَيَعلَمَ الصّٰبِرينَ
Our Claims Must Be Tested
[3:142] Do you expect to enter Paradise without GOD distinguishing those among you who strive, and without distinguishing those who are steadfast?
ہمارے دعوؤں کی آزمائش ضرور ہونی ہے
کیا تم جنت میں داخل ہونے کی امید رکھتے ہو، بغیر اِس کے کہ اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو نمایاں کرے جو جہاد کرتے ہیں، اور اُن کو جو ثابت قدم رہتے ہیں؟
وَلَقَد كُنتُم تَمَنَّونَ المَوتَ مِن قَبلِ أَن تَلقَوهُ فَقَد رَأَيتُموهُ وَأَنتُم تَنظُرونَ
[3:143] You used to long for death before you had to face it. Now you have faced it, right before your eyes.
تم موت کی تمنا کیا کرتے تھے اِس سے پہلے کہ تمہیں اُس کا سامنا کرنا پڑے۔ اب تم اُسے دیکھ چکے ہو، اپنی آنکھوں کے سامنے۔
وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن ماتَ أَو قُتِلَ انقَلَبتُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم ۚ وَمَن يَنقَلِب عَلىٰ عَقِبَيهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيـًٔا ۗ وَسَيَجزِى اللَّهُ الشّٰكِرينَ
[3:144] Muhammad was no more than a messenger like the messengers before him. Should he die or get killed, would you turn back on your heels? Anyone who turns back on his heels, does not hurt GOD in the least. GOD rewards those who are appreciative.
محمد اُس سے پہلے کے رسولوں کی طرح ایک رسول سے زیادہ نہیں تھا۔ اگر وہ مر جائے یا مارا جائے، تو کیا تم الٹے قدموں پلٹ جاؤ گے؟ جو شخص بھی الٹے قدموں پلٹ جائے، وہ اللہ کا ذرا سا بھی نقصان نہیں کرتا۔ اللہ انہیں انعام دیتا ہے جو شکرگزار ہیں۔
وَما كانَ لِنَفسٍ أَن تَموتَ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ كِتٰبًا مُؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِد ثَوابَ الدُّنيا نُؤتِهِ مِنها وَمَن يُرِد ثَوابَ الءاخِرَةِ نُؤتِهِ مِنها ۚ وَسَنَجزِى الشّٰكِرينَ
Time of Death Predetermined
[3:145] No one dies except by GOD’s leave, at a predetermined time. Whoever seeks the vanities of this world, we give him therefrom, and whoever seeks the rewards of the Hereafter, we bless him therein. We reward those who are appreciative.
موت کا وقت پہلے سے مقرر ہے
کوئی بھی اللہ کے حکم کے بغیر، اور مقررہ وقت سے پہلے نہیں مرتا۔ جو کوئی بھی اِس دنیا کی آسائشیں تلاش کرتا ہے، ہم اُسے اُس میں سے دیتے ہیں، اور جو کوئی بھی آخرت کی نعمتیں چاہتا ہے، ہم اُسے اُس میں برکت عطا کرتے ہیں۔ ہم شکر ادا کرنے والوں کو انعام دیتے ہیں۔
وَكَأَيِّن مِن نَبِىٍّ قٰتَلَ مَعَهُ رِبِّيّونَ كَثيرٌ فَما وَهَنوا لِما أَصابَهُم فى سَبيلِ اللَّهِ وَما ضَعُفوا وَمَا استَكانوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصّٰبِرينَ
[3:146] Many a prophet had godly people fight along with him, without ever wavering under pressure in the cause of GOD, nor did they hesitate or become discouraged. GOD loves the steadfast.
بہت سے نبی ایسے تھے جن کے ساتھ مل کر صالح لوگوں نے اللہ کی راہ میں جنگ کی، وہ نہ تو کسی دباؤ میں آ کر ڈگمگائے، اور نہ ہی انہوں نے حوصلہ ہارا۔ اللہ ثابت قدم رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
وَما كانَ قَولَهُم إِلّا أَن قالوا رَبَّنَا اغفِر لَنا ذُنوبَنا وَإِسرافَنا فى أَمرِنا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ
[3:147] Their only utterance was, “Our Lord, forgive us our sins, and our transgressions, strengthen our foothold, and grant us victory over the disbelievers.”
وہ صرف یہی کہتے تھے، اے ہمارے رب، ہمارے گناہ، اور ہماری خطاؤں کو معاف کر دے، ہمارے قدم مضبوط رکھ، اور ہمیں منکرین پر فتح عطا فرما۔
فَـٔاتىٰهُمُ اللَّهُ ثَوابَ الدُّنيا وَحُسنَ ثَوابِ الءاخِرَةِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ۴
[3:148] Consequently, GOD granted them the rewards of this world, and the better rewards of the Hereafter. GOD loves the good doers.
نتیجتاً، اللہ نے انہیں اس دنیا کے انعامات سے نوازا، اور آخرت کے انعامات اُس سے بھی بہتر ہیں۔ اللہ اچھے کام کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعُوا الَّذينَ كَفَروا يَرُدّوكُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم فَتَنقَلِبوا خٰسِرينَ
[3:149] O you who believe, if you obey those who disbelieve, they will turn you back on your heels, then you end up losers.
اے ایمان والو، اگر تم اُن کا کہنا مانو گے جو منکرین ہیں، وہ تمہیں الٹے پاؤں موڑ دیں گے، پھر تمہارا خاتمہ خسارا پانے والوں میں ہو گا۔
بَلِ اللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ خَيرُ النّٰصِرينَ
[3:150] GOD alone is your Lord and Master, and He is the best supporter.
واحد اللہ ہی تمہارا رب اور مالک ہے، اور وہ ہی بہترین مددگار ہے۔
سَنُلقى فى قُلوبِ الَّذينَ كَفَرُوا الرُّعبَ بِما أَشرَكوا بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا ۖ وَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۚ وَبِئسَ مَثوَى الظّٰلِمينَ
God Controls Your Enemies
[3:151] We will throw terror into the hearts of those who disbelieved, since they set up besides GOD powerless idol, “ Their destiny is Hell; what a miserable abode for the transgressors!”
اللہ تمہارے دشمنوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
ہم اُن کے دلوں میں دہشت ڈال دیں گے جو کفر کرتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ بے اختیار شریک ٹھہراتے ہیں۔ اُن کا مقدر جہنم ہے؛ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے حد سے گزر جانے والوں کے لیے!
وَلَقَد صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعدَهُ إِذ تَحُسّونَهُم بِإِذنِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا فَشِلتُم وَتَنٰزَعتُم فِى الأَمرِ وَعَصَيتُم مِن بَعدِ ما أَرىٰكُم ما تُحِبّونَ ۚ مِنكُم مَن يُريدُ الدُّنيا وَمِنكُم مَن يُريدُ الءاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُم عَنهُم لِيَبتَلِيَكُم ۖ وَلَقَد عَفا عَنكُم ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَلَى المُؤمِنينَ
The Battle of Uhud
[3:152] GOD has fulfilled His promise to you, and you defeated them by His leave. But then you wavered, disputed among yourselves, and disobeyed after He had shown you (the victory) you had longed for. But then, some of you became distracted by the spoils of this world, while others were rightly concerned with the Hereafter. He then diverted you from them to test you. He has pardoned you. GOD showers the believers with His grace.
اُحد کی جنگ
اللہ نے تم سے اپنا وعدہ پورا کیا، اور تم نے اُس کے حکم سے انہیں شکست دی۔ لیکن پھر تم ڈگمگا گئے، آپس میں جھگڑنے لگے، اور نافرمانی کی، حالانکہ اُس نے تمہیں وہ (فتح) دکھا دی تھی جس کی تم تمنا کرتے تھے۔ لیکن پھر، تم میں سے کچھ لوگ اِس دنیا کے مالِ غنیمت میں مشغول ہو گئے، جبکہ دوسرے صحیح طور پر آخرت کے بارے میں فکرمند تھے۔ پھر اُس نے تمہیں اُن سے ہٹا لیا، تاکہ تمہیں آزمائے۔ اُس نے تمہیں معاف کر دیا۔ اللہ مومنین کو اپنے فضل سے نوازتا ہے۔
إِذ تُصعِدونَ وَلا تَلوۥنَ عَلىٰ أَحَدٍ وَالرَّسولُ يَدعوكُم فى أُخرىٰكُم فَأَثٰبَكُم غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيلا تَحزَنوا عَلىٰ ما فاتَكُم وَلا ما أَصٰبَكُم ۗ وَاللَّهُ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ
[3:153] Recall that you rushed (after the spoils), paying no attention to anyone, even when the messenger was calling from behind you. Consequently, He substituted one misery for another, that you may not grieve over anything you had missed, or agonize over any hardship you had suffered. GOD is Cognizant of everything you do.
یاد کرو جب تم (مالِ غنیمت کے پیچھے) بھاگے تھے، کسی کی طرف توجہ دیے بغیر، حتیٰ کہ جب رسول بھی تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا۔ نتیجتاً، اُس نے ایک مصیبت کو دوسری سے بدل دیا، تاکہ تم کسی چیز سے محروم ہونے پر غمگین نہ ہو، یا جو مشکل تم نے سہی اُس کی اذیت نہ اٹھاؤ۔ اللہ تمہارے ہر کام سے باخبر ہے۔
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيكُم مِن بَعدِ الغَمِّ أَمَنَةً نُعاسًا يَغشىٰ طائِفَةً مِنكُم ۖ وَطائِفَةٌ قَد أَهَمَّتهُم أَنفُسُهُم يَظُنّونَ بِاللَّهِ غَيرَ الحَقِّ ظَنَّ الجٰهِلِيَّةِ ۖ يَقولونَ هَل لَنا مِنَ الأَمرِ مِن شَيءٍ ۗ قُل إِنَّ الأَمرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخفونَ فى أَنفُسِهِم ما لا يُبدونَ لَكَ ۖ يَقولونَ لَو كانَ لَنا مِنَ الأَمرِ شَيءٌ ما قُتِلنا هٰهُنا ۗ قُل لَو”“كُنتُم فى بُيوتِكُم لَبَرَزَ الَّذينَ كُتِبَ عَلَيهِمُ القَتلُ إِلىٰ مَضاجِعِهِم ۖ وَلِيَبتَلِىَ اللَّهُ ما فى صُدورِكُم وَلِيُمَحِّصَ ما فى قُلوبِكُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِذاتِ
Moment of Death Predetermined
[3:154] After the setback, He sent down upon you peaceful slumber that pacified some of you. Others among you were selfishly concerned about themselves. They harbored thoughts about GOD that were not right—the same thoughts they had harbored during the days of ignorance. Thus, they said, “Is anything up to us?” Say, “Everything is up to GOD.” They concealed inside themselves what they did not reveal to you. They said, “If it was up to us, none of us would have been killed in this battle.” Say, “Had you stayed in your homes, those destined to be killed would have crawled into their death beds.” GOD thus puts you to the test to bring out your true convictions, and to test what is in your hearts. GOD is fully aware of the innermost thoughts.”
موت کا لمحہ پہلے سے طے شدہ
ناکامی کے بعد، اُس نے تم پر سکون کی نیند نازل کی جس نے تم میں سے کچھ کو اطمینان بخشا۔ تم میں سے دوسرے لوگ خود غرضی سے اپنے بارے میں فکر مند تھے۔ انہوں نے اللہ کے بارے میں ایسے خیالات کو جگہ دی جو صحیح نہ تھے—وہی خیالات جو انہیں جاہلیت کے دنوں میں آتے تھے۔ پس، انہوں نے کہا، کیا ہمارے اختیار میں کچھ ہے؟ کہو، سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے اپنے اندر وہ بات چھپائی جو انہوں نے تم پر ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا، اگر یہ ہم پر ہوتا، ہم میں سے کوئی بھی اِس جنگ میں نہ مارا جاتا۔ کہہ دو، اگر تم اپنے گھروں میں رہتے، تو موت جن کا مقدر بن چکی تھی وہ خود رینگتے ہوئے اپنی موت کی جگہ پر پہنچ جاتے۔ یوں اللہ تمہیں آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ تمہارے اصل عقیدوں کو ظاہر کرے، اور جو تمہارے دلوں میں ہے اُسے آزمائے۔ اللہ تمہارے اندرونی خیالات سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
إِنَّ الَّذينَ تَوَلَّوا مِنكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ إِنَّمَا استَزَلَّهُمُ الشَّيطٰنُ بِبَعضِ ما كَسَبوا ۖ وَلَقَد عَفَا اللَّهُ عَنهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ حَليمٌ
[3:155] Surely, those among you who turned back the day the two armies clashed have been duped by the devil. This reflects some of the (evil) works they had committed. GOD has pardoned them. GOD is Forgiver, Clement.
یقیناً، تم میں سے جو لوگ اُس دن پیچھے ہٹ گئے جس دن دو لشکروں کا ٹکراؤ ہوا وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ یہ عکاسی کرتا ہے اُن کے کچھ (برے) کاموں کی جو وہ کر چکے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ اللہ معاف کرنے والا، حلیم ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَكونوا كَالَّذينَ كَفَروا وَقالوا لِإِخوٰنِهِم إِذا ضَرَبوا فِى الأَرضِ أَو كانوا غُزًّى لَو كانوا عِندَنا ما ماتوا وَما قُتِلوا لِيَجعَلَ اللَّهُ ذٰلِكَ حَسرَةً فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ يُحيۦ وَيُميتُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ
[3:156] O you who believe, do not be like those who disbelieved and said of their kinsmen who traveled or mobilized for war, “Had they stayed with us, they would not have died” “or gotten killed.” GOD renders this a source of grief in their hearts. GOD controls life and death. GOD is Seer of everything you do.”
اے ایمان والو! اُن لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے کفر کیا اور اپنے اُن رشتہ داروں کے بارے میں کہا جنہوں نے سفر کیا یا جنگ کے لیے نکلے، “اگر وہ ہمارے ساتھ رہ جاتے، تو وہ نہ مرتے اور نہ ہی قتل ہوتے۔” اللہ نے اِسے اُن کے دلوں کے لیے غم کا باعث بنا دیا۔ زندگی اور موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تمہارے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
وَلَئِن قُتِلتُم فى سَبيلِ اللَّهِ أَو مُتُّم لَمَغفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحمَةٌ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ
[3:157] Whether you get killed or die in the cause of GOD, the forgiveness from GOD, and mercy are far better than anything they hoard.
خواہ تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ، اللہ کی طرف سے بخشش اور رحمت اُن تمام چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
وَلَئِن مُتُّم أَو قُتِلتُم لَإِلَى اللَّهِ تُحشَرونَ
[3:158] Whether you die or get killed, you will be summoned before GOD.
خواہ تم مر جاؤ یا قتل کر دیے جاؤ، تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا۔
فَبِما رَحمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُم ۖ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَليظَ القَلبِ لَانفَضّوا مِن حَولِكَ ۖ فَاعفُ عَنهُم وَاستَغفِر لَهُم وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَوَكِّلينَ
The Messenger’s Kindness
[3:159] It was mercy from GOD that you became compassionate towards them. Had you been harsh and mean-hearted, they would have abandoned you. Therefore, you shall pardon them and ask forgiveness for them, and consult them. Once you make a decision, carry out your plan, and trust in GOD. GOD loves those who trust in Him.*
رسول کی رحمدلی
یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی کہ تم اُن کے ساتھ رحمدل تھے، اگر تم سخت مزاج اور بے رحم ہوتے، تو وہ تمہیں چھوڑ دیتے۔ پس، تم انہیں معاف کر دو اور اُن کے لیے بخشش طلب کرو، اور اُن سے مشورہ کرو۔ ایک بار جب تم کوئی فیصلہ کر لو، تو اپنے منصوبے پر عمل کرو، اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ اُن سے محبت کرتا ہے جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔*
Footnote
*3:159 The currency of the U.S.A. is the only currency that carries the phrase: “In God we trust.” It is a fact that the American dollar has been the strongest currency in the world, and the standard by which all other currencies are measured.”
فٹ نوٹ
امریکہ کی کرنسی واحد کرنسی ہے جس میں یہ جملہ ہے: ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی ڈالر دنیا کا سب سے مضبوط سکۂ رائج الوقت ہے (کرنسی) اور وہ معیار جس سے دیگر تمام کرنسیوں کی پیمائش کی جاتی ہے۔
إِن يَنصُركُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُم ۖ وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُكُم مِن بَعدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ
[3:160] If GOD supports you, none can defeat you. And if He abandons you, who else can support you? In GOD the believers shall trust.
اگر اللہ تمہارا ساتھ دے، کوئی بھی تمہیں شکست نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے، تو کون ہے جو تمہاری حمایت کر سکتا ہے؟ مومنین کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
وَما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغلُل يَأتِ بِما غَلَّ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ
No One Above the Law
[3:161] Even the prophet cannot take more of the spoils of war than he is entitled to. Anyone who takes more than his rightful share will have to account for it on the Day of Resurrection. That is when each soul is paid for whatever it earned, without the least injustice.
قانون سے بالاتر کوئی نہیں
حتیٰ کہ نبی بھی اپنے حق سے زیادہ مالِ غنیمت نہیں لے سکتا۔ جو کوئی اپنے جائز حصے سے بڑھ کر لیتا ہے، اُسے قیامت کے دن اُس کا حساب دینا ہو گا۔ اُس دن ہر نفس کو اُس کا بدلہ ملے گا جو اُس نے کمایا، بغیر ذرا سی بھی ناانصافی کے۔
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَ اللَّهِ كَمَن باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المَصيرُ
[3:162] Is one who pursues GOD’s pleasure the same as one who incurs wrath from GOD and his destiny is Hell, the most miserable abode?
کیا وہ جو اللہ کی رضا کا طالب ہے، اُس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جس نے اللہ کا غضب مول لیا اور اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے، جو کہ بدترین ٹھکانہ ہے؟
هُم دَرَجٰتٌ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ
[3:163] They certainly occupy different ranks at GOD. GOD is Seer of everything they do.
یقیناً اُن کے درجات اللہ کے ہاں مختلف ہیں۔ اللہ اُن کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ
[3:164] GOD has blessed the believers by raising in their midst a messenger from among them, to recite for them His revelations, and to purify them, and to teach them the scripture and wisdom. Before this, they had gone totally astray.
اللہ نے ایمان والوں پر رحمت کی کہ اُن کے درمیان انہی میں سے ایک رسول اٹھایا، جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، اور انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اِس سے پہلے وہ مکمل طور پر گمراہ ہو چکے تھے۔
أَوَلَمّا أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قَد أَصَبتُم مِثلَيها قُلتُم أَنّىٰ هٰذا ۖ قُل هُوَ مِن عِندِ أَنفُسِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[3:165] Now that you have suffered a setback, and even though you inflicted twice as much suffering (upon your enemy), you said, “Why did this happen to us?” Say, “This is a consequence of your own deeds.” GOD is Omnipotent.”
اب جب کہ تمہیں ایک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اگرچہ تم نے (اپنے دشمن کو) دوگنا نقصان پہنچایا، تم نے کہا، یہ ہمارے ساتھ کیوں ہوا؟ کہو، یہ نتیجہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَما أَصٰبَكُم يَومَ التَقَى الجَمعانِ فَبِإِذنِ اللَّهِ وَلِيَعلَمَ المُؤمِنينَ
[3:166] What afflicted you the day the two armies clashed was in accordance with GOD’s will, and to distinguish the believers.
جو مصیبت تم نے اٹھائی جس دن دونوں افواج آپس میں ٹکرائیں، وہ اللہ کی مرضی کے مطابق، اور مومنین میں امتیاز کرنے کے لیے تھا۔
وَلِيَعلَمَ الَّذينَ نافَقوا ۚ وَقيلَ لَهُم تَعالَوا قٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَوِ ادفَعوا ۖ قالوا لَو نَعلَمُ قِتالًا لَاتَّبَعنٰكُم ۗ هُم لِلكُفرِ يَومَئِذٍ أَقرَبُ مِنهُم لِلإيمٰنِ ۚ يَقولونَ بِأَفوٰهِهِم ما لَيسَ فى قُلوبِهِم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما يَكتُمونَ
[3:167] And to expose the hypocrites who were told, “Come fight in the cause of GOD, or contribute.” They said, “If we knew how to fight, we would have joined you.” They were closer to disbelief then than they were to belief. They uttered with their mouths what was not in their hearts. GOD knows what they conceal.”
اور منافقین کو بے نقاب کرنے کے لیے جن سے کہا گیا تھا، ”آؤ اللہ کی راہ میں لڑو، یا حصہ ڈالو۔“ انہوں نے کہا، اگر ہم لڑنا جانتے تو ہم تمہارے ساتھ شامل ہو جاتے۔ وہ اُس وقت کفر کے زیادہ قریب تھے بنسبت ایمان کے۔ جو انہوں نے اپنے منہ سے کہا وہ اُن کے دلوں میں نہیں تھا۔ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔
الَّذينَ قالوا لِإِخوٰنِهِم وَقَعَدوا لَو أَطاعونا ما قُتِلوا ۗ قُل فَادرَءوا عَن أَنفُسِكُمُ المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ
[3:168] They said of their kinsmen, as they stayed behind, “Had they obeyed us, they would not have been killed.” Say, “Then prevent your own death, if you are truthful.”
انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں جو پیچھے رہ گئے تھے، کہا، اگر وہ ہماری بات مانتے، تو وہ مارے نہ جاتے۔ کہو، تو پھر اپنی موت کو روک لو، اگر تم سچے ہو۔
وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَموٰتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَبِّهِم يُرزَقونَ
The Righteous Do Not Really Die*
[3:169] Do not think that those who are killed in the cause of GOD are dead; they are alive at their Lord, enjoying His provisions.
نیک لوگ درحقیقت مرتے نہیں*
یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں وہ مر چکے ہیں؛ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، اور اُس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
Footnote
*3:169 We learn from the Quran that the righteous do not really die; they simply leave their worldly bodies and go directly to the same paradise where Adam and Eve once lived (2:154, 8:24, 16:32, 22:58, 44:56, & 36:26-27; see also Appendix 17).
ہمیں قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کو واقعی موت نہیں آتی؛ وہ اپنے دنیاوی جسموں کو چھوڑ کر سیدھے اُسی جنت میں چلے جاتے ہیں جہاں کبھی آدم اور حوا رہتے تھے۔
(36:26-27 اور ، 44:56, 22:58, 16:32, 8:24, 2:154) (ضمیمہ 17 بھی دیکھیں۔)
فَرِحينَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَيَستَبشِرونَ بِالَّذينَ لَم يَلحَقوا بِهِم مِن خَلفِهِم أَلّا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
[3:170] They are rejoicing in GOD’s grace, and they have good news for their comrades who did not die with them, that they have nothing to fear, nor will they grieve.
وہ اللہ کی رحمت میں خوش ہیں، اور اُن کے پاس اپنے اُن ساتھیوں کے لیے خوشخبری ہے جو اُن کے ساتھ نہیں مرے، کہ نہ تو انہیں کسی قسم کا خوف ہو گا، اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
“يَستَبشِرونَ بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُؤمِنينَ”
[3:171] They have good news of GOD’s blessings and grace, and that GOD never fails to reward the believers.”
اُن کو اللہ کی رحمتوں اور فضل کی خوشخبری حاصل ہے، اور یہ کہ اللہ مومنین کو انعام دینے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ
“[3:172] For those who respond to GOD and the messenger, despite the persecution they suffer, and maintain their good works, and lead a righteous life, a great reward.
وہ لوگ جو اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کرتے ہیں، اُس ظلم و ستم کے باوجود جو وہ برداشت کرتے ہیں، اور اپنے اچھے کاموں کو برقرار رکھتے ہیں، اور نیک زندگی گزارتے ہیں۔ اُن کے لیے ایک اجرِ عظیم ہے
الَّذينَ قالَ لَهُمُ النّاسُ إِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَكُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم إيمٰنًا وَقالوا حَسبُنَا اللَّهُ وَنِعمَ الوَكيلُ
[3:173] When the people say to them, “People have mobilized against you; you should fear them,” this only strengthens” “their faith, and they say, “GOD suffices us; He is the best Protector.”
جب لوگ اُن سے کہتے ہیں کہ لوگ تمہارے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو گے ہیں ، تم اُن سے ڈرو، تو یہ صرف اُن کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، اور وہ کہتے ہیں اللہ ہمارے لیے کافی ہے؛ وہ بہترین محافظ ہے۔
فَانقَلَبوا بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ لَم يَمسَسهُم سوءٌ وَاتَّبَعوا رِضوٰنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذو فَضلٍ عَظيمٍ
[3:174] They have deserved GOD’s blessings and grace. No harm ever touches them, for they have attained GOD’s approval. GOD possesses infinite grace.
وہ اللہ کی نعمتوں اور فضل کے مستحق ہو گئے ہیں۔ انہیں کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اللہ لامحدود فضل کا مالک ہے۔
إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
Fear: The Devil’s Tool
[3:175] It is the devil’s system to instill fear into his subjects. Do not fear them and fear Me instead, if you are believers.
خوف: شیطان کا ہتھیار
یہ شیطان کا نظام ہے کہ وہ اپنے شکار کے دلوں میں خوف ڈالتا ہے۔ اُن سے مت ڈرو اور اُن کی بجائے مجھ سے ڈرو، اگر تم اہلِ ایمان ہو۔
وَلا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسٰرِعونَ فِى الكُفرِ ۚ إِنَّهُم لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا ۗ يُريدُ اللَّهُ أَلّا يَجعَلَ لَهُم حَظًّا فِى الءاخِرَةِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ
[3:176] Do not be saddened by those who hasten to disbelieve. They never hurt GOD in the least. Instead, GOD has willed that they will have no share in the Hereafter. They have incurred a terrible retribution.
تم اُن لوگوں کے لیے غمگین نہ ہو جو کفر کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ وہ اللہ کو ذرا سی بھی تکلیف نہیں دیتے۔ بلکہ، اللہ نے چاہا ہے کہ آخرت میں اُن کا کوئی حصہ نہ ہو۔ وہ اپنے اوپر ایک خوفناک عذاب لے آئے ہیں۔
إِنَّ الَّذينَ اشتَرَوُا الكُفرَ بِالإيمٰنِ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ
[3:177] Those who choose disbelief, instead of belief, do not hurt GOD in the least; they have incurred a painful retribution.
وہ جو ایمان کی بجائے کفر کا انتخاب کرتے ہیں، وہ اللہ کو ذرا سی بھی تکلیف نہیں دیتے؛ وہ اپنے اوپر دردناک عذاب لا چکے ہیں۔
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَروا أَنَّما نُملى لَهُم خَيرٌ لِأَنفُسِهِم ۚ إِنَّما نُملى لَهُم لِيَزدادوا إِثمًا ۚ وَلَهُم عَذابٌ مُهينٌ
[3:178] Let not the disbelievers think that we lead them on for their own good. We only lead them on to confirm their sinfulness. They have incurred a humiliating retribution.
کافروں کو یہ گمان نہ ہونے دو کہ ہم اُن کے بھلے کے لیے انہیں مہلت دیتے ہیں۔ ہم تو صرف اُن کے گناہوں کی تصدیق کے لیے انہیں ڈھیل دیتے ہیں۔ وہ ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔
ما كانَ اللَّهُ لِيَذَرَ المُؤمِنينَ عَلىٰ ما أَنتُم عَلَيهِ حَتّىٰ يَميزَ الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَما كانَ اللَّهُ لِيُطلِعَكُم عَلَى الغَيبِ وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَجتَبى مِن رُسُلِهِ مَن يَشاءُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِن تُؤمِنوا وَتَتَّقوا فَلَكُم أَجرٌ عَظيمٌ
[3:179] GOD is not to leave the believers as you are, without distinguishing the bad from the good. Nor does GOD inform you of the future, but GOD bestows such knowledge upon whomever He chooses from among His messengers.* Therefore, you shall believe in GOD and His messengers. If you believe and lead a righteous life, you receive a great recompense.
اللہ مومنین کو اُس حالت میں نہیں چھوڑ دیتا جس میں تم ہو، اچھے اور بُرے میں امتیاز کیے بغیر۔ نہ ہی اللہ تمہیں مستقبل کے بارے میں بتاتا ہے، لیکن اللہ ایسا علم اپنے رسولوں میں سے جسے چنتا ہے، اُسے عطا کرتا ہے۔* اِس لیے، تم اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اگر تم ایمان لاتے ہو اور نیک زندگی گزارتے ہو تو تمہیں اجرِ عظیم ملے گا۔
Footnote
3:179 The end of the world is one example of future events revealed to God’s Messenger of the Covenant. See Footnote 72:27.
فٹ نوٹ
دنیا کے خاتمے کا علم مستقبل میں ہونے والے واقعات کی ایک مثال ہے جو کہ اللہ کے میثاق رسول کو عطا کی گئی۔ دیکھیے فوٹ نوٹ 72:27۔
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ يَبخَلونَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ هُوَ خَيرًا لَهُم ۖ بَل هُوَ شَرٌّ لَهُم ۖ سَيُطَوَّقونَ ما بَخِلوا بِهِ يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَلِلَّهِ ميرٰثُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ
[3:180] Let not those who withhold and hoard GOD’s provisions think that this is good for them; it is bad for them. For they will carry their hoardings around their necks on the Day of Resurrection. GOD is the ultimate inheritor of the heavens and the earth. GOD is fully Cognizant of everything you do.
اُن لوگوں کو یہ گمان نہ ہونے دو جو اللہ کے رزق کو روک کر اُس کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، کہ یہ اُن کے لیے اچھا ہے؛ یہ اُن کے لیے برا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اپنے مال و دولت کے بوجھ کو اپنی گردنوں پر اٹھائیں گے۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا حتمی وارث ہے۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔
لَقَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ فَقيرٌ وَنَحنُ أَغنِياءُ ۘ سَنَكتُبُ ما قالوا وَقَتلَهُمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَنَقولُ ذوقوا عَذابَ الحَريقِ
Humans continue to defy God
[3:181] GOD has heard the utterances of those who said, “GOD is poor, while we are rich.” We will record everything they said, just as we recorded their killing of the prophets unjustly, and we will say, “Suffer the retribution of Hell.”
انسان اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں
اللہ نے اُن لوگوں کی باتیں سنی ہیں جنہوں نے کہا، اللہ غریب ہے، جب کہ ہم امیر ہیں۔ ہم اُن کی ہر بات جو انہوں نے کہی اُسے ریکارڈ کریں گے جیسے کہ ان کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا ہم نے ریکارڈ کیا تھا، اور ہم کہیں گے، جہنم کے عذاب کو بھگتو۔
ذٰلِكَ بِما قَدَّمَت أَيديكُم وَأَنَّ اللَّهَ لَيسَ بِظَلّامٍ لِلعَبيدِ
[3:182] “This is the consequence of your own works.” GOD is never unjust towards the people.
یہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔اللہ لوگوں کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیں کرتا۔
الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَينا أَلّا نُؤمِنَ لِرَسولٍ حَتّىٰ يَأتِيَنا بِقُربانٍ تَأكُلُهُ النّارُ ۗ قُل قَد جاءَكُم رُسُلٌ مِن قَبلى بِالبَيِّنٰتِ وَبِالَّذى قُلتُم فَلِمَ قَتَلتُموهُم إِن كُنتُم صٰدِقي
[3:183] It is they who said, “GOD has made a covenant with us that we shall not believe in any messenger, unless he produces an offering that gets consumed by fire.” Say, “Messengers before me have come to you with clear proofs, including what you just demanded. Why then did you kill them, if you are truthful?”
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا، اللہ نے ہمارے ساتھ ایک عہد کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں، جب تک کہ وہ کوئی ایسی قربانی پیش نہ کرے جو آگ سے بھسم ہو جائے۔ کہو، “مجھ سے پہلے رسول تمہارے پاس واضح ثبوتوں کے ساتھ آ چکے ہیں، جن میں یہ بھی شامل تھا جس کا تم نے ابھی مطالبہ کیا ہے۔ پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا، اگر تم سچے ہو؟
فَإِن كَذَّبوكَ فَقَد كُذِّبَ رُسُلٌ مِن قَبلِكَ جاءو بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالكِتٰبِ المُنيرِ
[3:184] If they reject you, messengers before you have been rejected, even though they brought proofs, the Psalms, and the enlightening scripture.
اگر وہ تمہیں مسترد کرتے ہیں تو پھر تم سے پہلے کے رسولوں کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے، اگرچہ وہ ثبوت، زبور اور ہدایت دینے والی کتاب لے کر آئے تھے۔
كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ وَإِنَّما تُوَفَّونَ أُجورَكُم يَومَ القِيٰمَةِ ۖ فَمَن زُحزِحَ عَنِ النّارِ وَأُدخِلَ الجَنَّةَ فَقَد فازَ ۗ وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا مَتٰعُ الغُرورِرو
A Great Triumph
[3:185] Every person tastes death, then you receive your recompense on the Day of Resurrection. Whoever misses Hell, barely, and makes it to Paradise, has attained a great triumph. The life of this world is no more than an illusion.
ایک عظیم فتح
ہر شخص نے موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر قیامت کے دن تم اپنا معاوضہ پاؤ گے۔ جو کوئی بھی جہنم سے بمشکل بچ نکلتا ہے، اور جنت تک پہنچ جاتا ہے، اُس نے ایک عظیم فتح حاصل کی۔ اِس دنیا کی زندگی ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔
لَتُبلَوُنَّ فى أَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم وَلَتَسمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلِكُم وَمِنَ الَّذينَ أَشرَكوا أَذًى كَثيرًا ۚ وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا فَإِنَّ ذٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ
The Inevitable Test*
[3:186] You will certainly be tested, through your money and your lives, and you will hear from those who received the scripture, and from the idol worshipers, a lot of insult. If you steadfastly persevere and lead a righteous life, this will prove the strength of your faith.
ناگزیر امتحان*
یقیناً تمہارا امتحان ہو گا، تمہارے مال و دولت سے اور تمہاری جانوں سے، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین کی طرف سے بہت سی توہین آمیز باتیں سنو گے۔ اگر تم استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہو اور نیک زندگی بسر کرو، تو یہ تمہارے ایمان کی مضبوطی کو ثابت کرے گا۔
Footnote
*3:186 After passing the admission tests, the proven worshipers of God ALONE enjoy a perfect life, now and forever. See 29:2-3, 10:62, and 24:55.
فٹ نوٹ
داخلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد، ثابت شدہ واحد اللہ کی عبادت کرنے والے ایک کامل زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اِس زندگی میں اور ہمیشہ کے لیے آخرت میں بھی۔ دیکھیے 10:62، 29:2-3 اور 24:55۔
وَإِذ أَخَذَ اللَّهُ ميثٰقَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنّاسِ وَلا تَكتُمونَهُ فَنَبَذوهُ وَراءَ ظُهورِهِم وَاشتَرَوا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ فَبِئسَ ما يَشتَرونَ
[3:187] GOD took a covenant from those who received the scripture: “You shall proclaim it to the people, and never conceal it.” But they disregarded it behind their backs, and traded it away for a cheap price. What a miserable trade.”
اللہ نے اُن لوگوں سے ایک عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی: “تم اِس کا لوگوں کے سامنے اعلان کرو گے، اور اِسے کبھی نہیں چھپاؤ گے۔” لیکن انہوں نے اِس سے منہ موڑ لیا، اور اِسے سستے داموں بیچ ڈالا۔ کیا ہی برا سودا ہے۔
لا تَحسَبَنَّ الَّذينَ يَفرَحونَ بِما أَتَوا وَيُحِبّونَ أَن يُحمَدوا بِما لَم يَفعَلوا فَلا تَحسَبَنَّهُم بِمَفازَةٍ مِنَ العَذابِ ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ
[3:188] Those who boast about their works, and wish to be praised for something they have not really done, should not think that they can evade the retribution. They have incurred a painful retribution.
وہ جو اپنے کاموں پر گھمنڈ کرتے ہیں، اور خواہش کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اُن کاموں کے لیے جو حقیقت میں انہوں نے کیے ہی نہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر دردناک عذاب لے آئے ہیں۔
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[3:189] To GOD belongs the sovereignty of the heavens and the earth. GOD is Omnipotent.
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے۔ اللہ قادرِ مطلق ہے۔
إِنَّ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ لَءايٰتٍ لِأُولِى الأَلبٰبِ
Those Who Possess Intelligence
[3:190] In the creation of the Heaven and the earth, and the alternation of night and day, there are signs for those who possess intelligence.
وہ جو ذہانت رکھتے ہیں
آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات اور دن کی تبدیلی، اِن میں نشانیاں ہیں اُن کے لیے جو ذہانت رکھتے ہیں۔
الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ
[3:191] They remember GOD* while standing, sitting, and on their sides, and they reflect upon the creation of the heavens and the earth: “Our Lord, You did not create all this in vain. Be You glorified. Save us from the retribution of Hell.”
وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں* کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، اور کروٹیں لیتے ہوئے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں: اے ہمارے رب، آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا۔ آپ کی حمد و ثنا ہو۔ ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیں۔
Footnote
*3:191 Your god is whoever or whatever occupies your mind most of the time. The true believers are those who remember God most of the time. See 23:84-89 and Appendix 27.
فٹ نوٹ
جو کوئی اور جو کچھ بھی تمہارے دماغ کو زیادہ وقت اپنے قابو میں رکھتا ہے، وہی تمہارا خدا ہے۔ سچے مومنین وہ ہیں جو اللہ کو سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں ۔ 89-84 : 23 اور ضمیمہ 27 دیکھیے۔
رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ
[3:192] “Our Lord, whomever You commit to Hell are the ones You have forsaken. Such transgressors have no helpers.
اے ہمارے رب، جن کو آپ نے جہنم میں ڈالا ہے، یہ وہی ہیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا ہے، ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔
رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ
[3:193] “Our Lord, we have heard a caller calling to faith and proclaiming: ‘You shall believe in your Lord,’ and we have believed. Our Lord, forgive us our transgressions, remit our sins, and let us die as righteous believers.”
اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ہے جو ایمان کی طرف بلا رہا ہے اور اعلان کر رہا ہے: کہ تم اپنے رب پر ایمان لے آؤ، اور ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اے ہمارے رب، ہماری خطاؤں کو بخش دیں، ہمارے گناہوں کو معاف کر دیں، اور ہمیں نیک مومنین کی حیثیت سے موت دیں۔
رَبَّنا وَءاتِنا ما وَعَدتَنا عَلىٰ رُسُلِكَ وَلا تُخزِنا يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لا تُخلِفُ الميعادَ
[3:194] “Our Lord, shower us with the blessings you promised us through Your messengers, and do not forsake us on the Day of Resurrection. You never break a promise.”
اے ہمارے رب، ہم پر وہ نعمتیں نازل کریں جن کا آپ نے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ کیا، اور ہمیں روزِ قیامت چھوڑ نہ دیں، آپ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتے۔
فَاستَجابَ لَهُم رَبُّهُم أَنّى لا أُضيعُ عَمَلَ عٰمِلٍ مِنكُم مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ ۖ بَعضُكُم مِن بَعضٍ ۖ فَالَّذينَ هاجَروا وَأُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم وَأوذوا فى سَبيلى وَقٰتَلوا وَقُتِلوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَلَأُدخِلَنَّهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ثَوابًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ الثَّوابِ
God Responds
[3:195] Their Lord responded to them: “I never fail to reward any worker among you for any work you do, be you male or female—you are equal to one another. Thus, those who immigrate, and get evicted from their homes, and are persecuted because of Me, and fight and get killed, I will surely remit their sins and admit them into gardens with flowing streams.” Such is the reward from GOD. GOD possesses the ultimate reward.”
اللہ جواب دیتا ہے۔
اُن کے رب نے انہیں جواب دیا: میں کبھی تم میں سے کسی کام کرنے والے کو اُس کے کام کا صلہ دینے میں ناکام نہیں ہوتا، خواہ تم مرد ہو یا عورت—تم ایک دوسرے کے برابر ہو۔ پس وہ جو ہجرت کرتے ہیں، اور اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں، اور میری وجہ سے ستائے جاتے ہیں، اور لڑتے ہیں اور مارے جاتے ہیں، میں یقیناً اُن کے گناہوں کو معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جہاں ندیاں بہتی ہیں۔ ایسا ہوتا ہے انعام اللہ کی طرف سے۔ حتمی اجر دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔
لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذينَ كَفَروا فِى البِلٰدِ
[3:196] Do not be impressed by the apparent success of disbelievers.
کافروں کی ظاہری کامیابی سے متاثر نہ ہو۔
مَتٰعٌ قَليلٌ ثُمَّ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المِهادُ
[3:197] They only enjoy temporarily, then end up in Hell; what a miserable destiny.
وہ عارضی طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں، پھر جہنم میں اُن کا خاتمہ ہوتا ہے؛ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها نُزُلًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ لِلأَبرارِ
[3:198] As for those who observe their Lord, they have deserved gardens with flowing streams; they abide therein forever. Such is the abode given to them by GOD. What GOD possesses is far better for the righteous.
جہاں تک وہ جو اپنے رب کی اطاعت کرتے ہیں، وہ مستحق ہیں اُن باغات کے جہاں ندیاں بہتی ہیں؛ وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ ایسا ہے ٹھکانہ جو انہیں اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے۔ جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
وَإِنَّ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَمَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم وَما أُنزِلَ إِلَيهِم خٰشِعينَ لِلَّهِ لا يَشتَرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا ۗ أُولٰئِكَ لَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم ۗ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ
Righteous Jews and Christians
[3:199] Surely, some followers of the previous scriptures do believe in GOD, and in what was revealed to you, and in what was revealed to them. They reverence GOD, and they never trade away GOD’s revelations for a cheap price. These will receive their recompense from their Lord. GOD is the most efficient in reckoning.
نیک یہودی اور عیسائی
یقیناً، کچھ پچھلی کتابوں کے ماننے والے اللہ پر یقین رکھتے ہیں، اور اُس پر بھی جو تم پر نازل کیا گیا تھا، اور اُس پر بھی جو اُن پر نازل کیا گیا تھا۔ وہ اللہ کی تعظیم کرتے ہیں، اور وہ کبھی اللہ کی آیات کا سستے داموں سودا نہیں کرتے۔ یہ اپنا اجر اپنے رب سے حاصل کریں گے۔ اللہ حساب کرنے میں انتہائی مؤثر ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اصبِروا وَصابِروا وَرابِطوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ
[3:200] O you who believe, you shall be steadfast, you shall persevere, you shall be united, you shall observe GOD, that you may succeed.