سورت 2
البقرہ – The Heifer – بچھڑا
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ
In the name of GOD, Most Gracious, Most Merciful.*
اللہ کے نام سے جو انتہائی مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
الم
[2:1] A.L.M.
1
اــ ل م
Footnote
*2:1 These initials remained a divinely guarded secret for 1400 years. Now we recognize them as a major component of the Quran’s extraordinary mathematical code (see Appendices 1, 2, 24, and 26). The meaning of A.L.M. is pointed out in Verse 2: “This scripture is infallible.” This is incontrovertibly proven by the fact that the frequencies of occurrence of these three initials in this sura are 4502, 3202, and 2195, respectively. The sum of these numbers is 9899, or 19×521. Thus, these most frequent letters of the Arabic language are mathematically placed according to a super-human pattern. These same initials also prefix Suras 3, 29, 30, 31, and 32, and their frequencies of occurrence add up to multiples of 19 in each one of these suras.”
(1)
فٹ نوٹ
یہ ابتدائی حروف 1400 سال تک اللّٰه کی طرف سے محفوظ راز رہے۰ اب ہم انہیں قرآن کے غیر معمولی ریاضیاتی کوڈ کے ایک اہم جزو کے طور پر پہچانتے ہیں۰ (دیکھیں ضمیمہ 1، 2، 24، اور 26) ا ل م کے مطلب کا آیت نمبر 2 میں اشارہ کیا گیا ہے: یہ کتاب غلطی سے مبرا ہے۰ یہ بات غیر متنازعہ طور پر اِس حقیقت سے ثابت ہے کہ اِس سورت میں اِن تین ابتدائی حروف کے آنے کی تعداد بالترتیب اِس طرح ہے: 4502، 3202، اور 2195 ۰ اِن نمبروں کا مجموعہ 9899 ہے، جو 19 پر پورا تقسیم ہوتا ہے۰ 9899 یا 19×521 اِس طرح، عربی زبان کے یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حروف ایک مافوق الفطرت ترتیب کے تحت ریاضیاتی طور پر رکھے گئے ہیں۰ یہی ابتدائی حروف سورت 3، 29، 30، 31، اور 32 کے آغاز میں بھی آتے ہیں، اور اِن حروف کے آنے کی تعداد اِن ہر ایک سورت میں 19 پر پوری تقسیم ہوتی ہے۰
ذٰلِكَ الكِتٰبُ لا رَيبَ ۛ فيهِ ۛ هُدًى لِلمُتَّقينَ
[2:2] This scripture is infallible; a beacon for the righteous.
2
یہ کتاب ہر غلطی سے مبرا ہے؛ اور نیک لوگوں کے لیے ایک روشنی
Three Categories of People
لوگوں کی تین اقسام
(1) The Righteous
الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ
[2:3] who believe in the unseen, observe the Contact Prayers (Salat)*, and from our provisions to them, they give to charity.
(1)
صالحین
3
جو غیب پر یقین رکھتے ہیں، رابطے کی نماز قائم کرتے ہیں، اور ہماری دی ہوئی نعمتوں میں سے وہ خیرات دیتے ہیں
Footnote
*2:3 Since the Contact Prayers are decreed five times a day, they constitute the prime source of nourishment for our souls. Along with all other practices in Submission, the Contact Prayers were originally revealed through Abraham (21:73, 22:78). Although these five daily prayers were practiced before the revelation of the Quran, each Contact Prayer is specifically mentioned in the Quran (2:238 11:114. 17:78. 24:58). Appendices 1 & 15 provide physical evidence supporting ALL the details of the Contact Prayers, including the number of units (Rak’aas) and the numbers of bowings, prostrations, and Tashahhuds in each prayer.
فٹ نوٹ
(3)
چونکہ دن میں پانچ وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اِس لیے یہ ہماری روحوں کی نشوونما کا بنیادی ذریعہ ہیں۰ اسلام میں دیگر احکامات کے ساتھ ساتھ نماز کا سب سے پہلے حکم ابراہم کے ذریعے دیا گیا۰ (21:73، 22:78) اگرچہ یہ پانچ روزانہ کی نمازیں قرآن کے نزول سے پہلے ادا کی جاتی تھیں، ہر ایک نماز کا قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۰ (2:238، 11:114، 17:78، 24:58) ضمیمہ 1 اور 15 نمازوں کی تمام تفصیلات کی تائید میں مادی ثبوت فراہم کرتے ہیں۰ جن میں ہر ایک نماز میں رکعات کی تعداد اور رکوع، سجود، اور تشہد کی تعداد شامل ہے۰
Footnote
**2:3 When God uses the plural tense, this indicates that other entities, usually the angels, are involved. When God spoke to Moses, the singular form was used (20:12-14). See Appendix 10.
فٹ نوٹ
(3)
جب اللّٰه جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے، تو یہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دوسری ہستیاں، عام طور پر فرشتے، شامل ہیں۰ جب اللّٰه نے موسیٰ سے بات کی، تو واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا تھا۰ (14-12 :20) دیکھیں ضمیمہ 10
وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ وَبِالءاخِرَةِ هُم يوقِنونَ
[2:4] And they believe in what was revealed to you, and in what was revealed before you, and with regard to the Hereafter, they are absolutely certain.*
4
اور وہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا تھا،اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، اور آخرت کے بارے میں وہ مکمل یقین رکھتے ہیں*۰
Footnote
*2:4 Despite severe distortions that afflicted the previous scriptures, God’s truth can still be found in them. Both the Old Testament and the New Testament still advocate absolute devotion to God ALONE۔(Deuteronomy 6:4-5, Mark 12:29-30). All distortions are easily detectable.
فٹ نوٹ
(4)
پچھلی کتابوں میں شدید بگاڑ کے باوجود ابھی بھی اُن میں اللّٰه کی سچائی کو پایا جا سکتا ہے۔ پرانا عہد نامہ اور نیا عہد نامہ دونوں ابھی بھی اکیلے اللّٰه کے لیے مکمل طور پر وقف ہو جانے کی وکالت کرتے ہیں (توریت کی پانچویں کتاب 5-4 :6، مارک 30-29 :12). میں تمام غلطیاں آسانی سے قابلِ شناخت ہیں۰
أُولٰئِكَ عَلىٰ هُدًى مِن رَبِّهِم ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ
[2:5] These are guided by their Lord; these are the winners.
5
یہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں۔ یہی فاتح ہیں
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا سَواءٌ عَلَيهِم ءَأَنذَرتَهُم أَم لَم تُنذِرهُم لا يُؤمِنونَ
(2) The Disbelievers
[2:6] As for those who disbelieve, it is the same for them; whether you warn them, or not warn them, they cannot believe.*
(2)
منکرین
6
جہاں تک وہ جنہوں نے کفر کیا، اُن کے لیے یہ ایسے ہی ہے؛ کہ چاہے تم انہیں خبردار کرو یا خبردار نہ کرو، وہ ایمان نہیں لا سکتے
خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَعَلىٰ سَمعِهِم ۖ وَعَلىٰ أَبصٰرِهِم غِشٰوَةٌ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ
[2:7] GOD seals their minds and their hearing, and their eyes are veiled. They have incurred severe retribution.
7
اللّٰه اُن کے دماغوں اور اُن کے کانوں پر مُہر لگا دیتا ہے، اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے. وہ سخت عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں
Footnote
*2:6-7 Those who make a decision to reject God are helped in that direction; they are prevented by God from seeing any proof or guidance for as long as they maintain such a decision. The consequences of such a disastrous decision are spelled out in Verse 7.
فٹ نوٹ
(6-7)
جو لوگ اللہ کو مسترد کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اُن کا رخ اُسی طرف کر دیا جاتا ہے. اللّٰه کی طرف سے انہیں کوئی ثبوت یا رہنمائی دیکھنے سے روک دیا جاتا ہے، جب تک وہ اِس فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں. اِس طرح کے تباہ کن فیصلے کے نتائج آیت 7 میں بیان کیے گئے ہیں
وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِاليَومِ الءاخِرِ وَما هُم بِمُؤمِنينَ
(3) The Hypocrites
[2:8] Then there are those who say, “We believe in GOD and the Last Day,” while they are not believers.”
(3)
منافقین
8
پھر وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں، ہم اللّٰه اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، جب کہ وہ ایمان والے نہیں ہیں
يُخٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ
[2:9] In trying to deceive GOD and those who believe, they only deceive themselves without perceiving.
9
اللّٰه اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش میں، وہ صرف اپنے آپ کو بغیر سمجھے دھوکہ دیتے ہیں
فی قُلوبِهِم مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكذِبونَ
[2:10] In their minds there is a disease. Consequently, GOD augments their disease. They have incurred a painful retribution for their lying.
10
اُن کے دماغوں میں بیماری ہے. نتیجتاً، اللّٰه اُن کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے. اپنے اِس جھوٹ کی بدولت وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں
وَإِذا قيلَ لَهُم لا تُفسِدوا فِى الأَرضِ قالوا إِنَّما نَحنُ مُصلِحونَ
[2:11] When they are told, “Do not commit evil,” they say, “But we are righteous!”
11
جب انہیں کہا جاتا ہے کہ برائی مت کرو، وہ کہتے ہیں، کہ ہم تو نیک ہیں
أَلا إِنَّهُم هُمُ المُفسِدونَ وَلٰكِن لا يَشعُرونَ
[2:12] In fact, they are evildoers, but they do not perceive.
12
درحقیقت یہ فاسق ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں ہے
وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا كَما ءامَنَ النّاسُ قالوا أَنُؤمِنُ كَما ءامَنَ السُّفَهاءُ ۗ أَلا إِنَّهُم هُمُ السُّفَهاءُ وَلٰكِن لا يَعلَمونَ
[2:13] When they are told, “Believe like the people who believed,” they say, “Shall we believe like the fools who believed?” In fact, it is they who are fools, but they do not know.”
13
جب اُن سے کہا جاتا ہے، کہ اہلِ ایمان کی طرح ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں، کہ کیا ہم اُن کی طرح ایمان لائیں جو احمق ہیں؟ درحقیقت وہ خود احمق ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے
وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا إِلىٰ شَيٰطينِهِم قالوا إِنّا مَعَكُم إِنَّما نَحنُ مُستَهزِءونَ
[2:14] When they meet the believers, they say, “We believe,” but when alone with their devils, they say, “We are with you; we were only mocking.”
14
جب وہ مومنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، لیکن جب اپنے شیطانوں کے ساتھ اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے
“اللَّهُ يَستَهزِئُ بِهِم وَيَمُدُّهُم فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ
[2:15] GOD mocks them, and leads them on in their transgressions, blundering.
15
اللّٰه اُن کا مذاق اُڑاتا ہے، اور اُن کی سرکشی میں انہیں بھٹکتے ہوئے آگے بڑھاتا ہے
أُولٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالهُدىٰ فَما رَبِحَت تِجٰرَتُهُم وَما كانوا مُهتَدينَ
[2:16] It is they who bought the straying, at the expense of guidance. Such trade never prospers, nor do they receive any guidance.
16
یہ وہ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی خریدی. ایسی تجارت نہ کبھی کامیاب ہوتی ہے، اور نہ ہی انہیں کوئی ہدایت ملتی ہے
مَثَلُهُم كَمَثَلِ الَّذِى استَوقَدَ نارًا فَلَمّا أَضاءَت ما حَولَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنورِهِم وَتَرَكَهُم فى ظُلُمٰتٍ لا يُبصِرونَ
[2:17] Their example is like those who start a fire, then, as it begins to shed light around them, GOD takes away their light, leaving them in darkness, unable to see.
17
اُن کی مثال اُن لوگوں جیسی ہے جو آگ جلاتے ہیں، پھر جوں ہی یہ اُن کے اطراف میں روشنی پھیلانا شروع کرتی ہے، تو اللّٰه اُن کی روشنی چھین لیتا ہے، اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے، اور وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہتے
صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَرجِعونَ
[2:18] Deaf, dumb, and blind; they fail to return.
18
بہرے، گونگے اور اندھے؛ وہ واپس آنے میں ناکام رہتے ہیں
أَو كَصَيِّبٍ مِنَ السَّماءِ فيهِ ظُلُمٰتٌ وَرَعدٌ وَبَرقٌ يَجعَلونَ أَصٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم مِنَ الصَّوٰعِقِ حَذَرَ المَوتِ ۚ وَاللَّهُ مُحيطٌ بِالكٰفِرينَ
[2:19] Another example: a rainstorm from the sky in which there is darkness, thunder, and lightning. They put their fingers in their ears, to evade death. GOD is fully aware of the disbelievers.
19
ایک اور مثال: آسمان سے بارش کا ایک طوفان، جس میں اندھیرا، گرج اور بجلی ہے. وہ موت سے بچنے کے لیے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں. اللّٰه کافروں سے پوری طرح باخبر ہے
يَكادُ البَرقُ يَخطَفُ أَبصٰرَهُم ۖ كُلَّما أَضاءَ لَهُم مَشَوا فيهِ وَإِذا أَظلَمَ عَلَيهِم قاموا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمعِهِم وَأَبصٰرِهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
The Light of Faith
[2:20] The lightning almost snatches away their eyesight. When it lights for them, they move forward, and when it turns dark, they stand still. If GOD wills, He* can take away their hearing and their eyesight. GOD is Omnipotent۔
ایمان کی روشنی
20
بجلی کی چمک اُن کی بینائی تقریباً چھین لیتی ہے. جب بجلی اُن کے لیے چمکتی ہے تو وہ آگے بڑھتے ہیں، اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں. اگر اللّٰه چاہے تو وہ اُن کی سماعت اور بینائی چھین لے. اللّٰه قادرمطلق ہے
Footnote
*2:20 “He” and “she” do not necessarily imply natural gender in Arabic (Appendix 4).”
فٹ نوٹ
(20)
عربی زبان میں وہ (مذکر) اور وہ (مونث) کا استعمال لازمی طور پر فطری جنس کی طرف اشارہ نہیں کرتا (ضمیمہ 4)
يٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ
[2:21] O people, worship only your Lord—the One who created you and those before you—that you may be saved.
21
اے لوگو، صرف اپنے رب کی عبادت کرو، اُس ایک کی جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم نجات پاؤ
الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ فِرٰشًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ
[2:22] The One who made the earth habitable for you, and the sky a structure. He sends down from the sky water, to produce all kinds of fruits for your sustenance. You shall not set up idols to rival GOD, now that you know.
22
وہ ایک جس نے تمہارے لیے زمین کو رہنے کے قابل بنایا، اور آسمان کو ایک چھت کی مانند قائم کیا. وہ آسمان سے پانی برساتا ہے تاکہ تمہارے رزق کے لیے ہر قسم کے پھل پیدا کرے. تم اللّٰه کے مقابل کوئی شریک نہ ٹھہراؤ، اب جب کہ تم جانتے ہو
وَإِن كُنتُم فى رَيبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صٰدِقينَ
Mathematical Challenge
[2:23] If you have any doubt regarding what we revealed to our servant*, then produce one sura like these, and call upon your own witnesses against GOD, if you are truthful.
ریاضیاتی چیلنج
23
اگر تمہیں اِس بارے میں کوئی بھی شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اِن جیسی کوئی ایک سورت بنا کر لاؤ، اور اللّٰه کے خلاف اپنے گواہوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو
فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ ۖ أُعِدَّت لِلكٰفِرينَ
Allegorical Description Of Hell
[2:24] If you cannot do this—and you can never do this—then beware of the Hellfire, whose fuel is people and rocks; it awaits the disbelievers.
جہنم کی تمثیلی تفصیل
24
اگر تم یہ نہیں کر سکتے — اور تم یہ کبھی نہیں کر سکتے — تو پھر جہنم کی آگ سے خبردار ہو جاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں. یہ کافروں کی منتظر ہے
Footnote
*2:23-24 The Quran’s miraculous mathematical code provides numerous proofs as it spells out the name “Rashad Khalifa” as God’s servant mentioned here. Some literary giants, including Al-Mutanabby and Taha Hussein, have answered the literary challenge, but they had no awareness of the Quran’s mathematical composition. It is the Quran’s mathematical code, revealed through God’s Messenger of the Covenant, Rashad Khalifa, that is the real challenge – for it can never be imitated. See Appendices 1, 2, 24, & 26 for the detailed proofs.”
فٹ نوٹ
(23-24)
قرآن کا معجزاتی ریاضیاتی کوڈ بے شمار ثبوت فراہم کرتا ہے. یہ ریاضیاتی کوڈ اللّٰه کے خادم راشاد خلیفہ کے نام کے ہجوں کی وضاحت کرتا ہے. چند ادبی شخصیات جن میں المتنبی اور طحہ حسین شامل ہیں، انہوں نے اِس ادبی چیلنج کا جواب دیا، لیکن انہیں قرآن کے اِس ریاضیاتی ساخت کا کوئی علم نہیں تھا. قرآن کا یہ حسابی کوڈ اللّٰه کے میثاقِ رسول راشاد خلیفہ کے ذریعے سے نازل ہوا، یہی اصل چیلنج ہے. کیونکہ اِس کی نقل کبھی نہیں کی جا سکتی. (تفصیلی ثبوت کے لیے دیکھیں ضمیمہ 1، 2، 24، اور 26)
وَبَشِّرِ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ كُلَّما رُزِقوا مِنها مِن ثَمَرَةٍ رِزقًا ۙ قالوا هٰذَا الَّذى رُزِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَهُم فيها خٰلِدونَ
Allegorical Description of Paradise
[2:25] Give good news to those who believe and lead a righteous life that they will have gardens with flowing streams. When provided with a provision of fruits therein, they will say, “This is what was provided for us previously.” Thus, they are given allegorical descriptions. They will have pure spouses therein, and they abide therein forever.”
جنت کی تمثیلی وضاحت
25
جو لوگ ایمان لائے اور نیک زندگی گزارتے ہیں اُن کو خوشخبری سنا دو کہ اُن کے لیے باغات ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہیں. جب وہاں انہیں پھلوں کا رزق دیا جائے گا تو وہ کہیں گے، کہ یہ وہی ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا. اِس طرح، انہیں تمثیلی تشبیہات دی جاتی ہیں. اُن کے لیے اُس میں پاکیزہ شریکِ حیات ہوں گے اور وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے
إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِبَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَيَقولونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرًا وَيَهدى بِهِ كَثيرًا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفٰسِقينَ
[2:26] GOD does not shy away from citing any kind of allegory*, from the tiny mosquito and greater. As for those who believe, they know that it is the truth from their Lord. As for those who disbelieve, they say, “What did GOD mean by such an allegory?” He misleads many thereby, and guides many thereby. But He never misleads thereby except the wicked,”
26
اللّٰه کسی بھی قسم کی تمثیل بیان کرنے سے نہیں شرماتا، چاہے وہ مچھر ہو یا اُس سے بھی بڑی چیز. وہ جو ایمان رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ اُن کے رب کی طرف سے سچ ہے. جہاں تک وہ جو کفر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں، اللّٰه کا ایسی تمثیل سے کیا مطلب ہے؟ وہ اِس طرح اِس کے ذریعے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے، اور اِس کے ذریعے بہتوں کو ہدایت دیتا ہے، لیکن وہ اِس سے بدکاروں کے علاوہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا
Footnote
*2:26 See Appendix 5 for further discussion of Heaven and Hell.
فٹ نوٹ
(26)
جنت اور جہنم کی مزید معلومات کے لیے ضمیمہ 5 دیکھیں
الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَرضِ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ
[2:27] who violate GOD’s covenant after pledging to uphold it, sever what GOD has commanded to be joined, and commit evil. These are the losers.
27
جو اللّٰه کے عہد کو برقرار رکھنے کا وعدہ کرنے کے بعد اُس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اللّٰه نے جس چیز کو جوڑنے کا حکم دیا ہے اُسے توڑ دیتے ہیں، اور برائی کا ارتکاب کرتے ہیں. یہ نقصان اٹھانے والے ہیں
كَيفَ تَكفُرونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَموٰتًا فَأَحيٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ
*Two Deaths and Two Lives for the Disbelievers
[2:28] How can you disbelieve in GOD when you were dead and He gave you life, then He puts you to death, then He brings you back to life, then to Him you ultimately return?
کافروں کے لیے دو موتیں اور دو زندگیاں
28
تم اللّٰه سے کیسے کفر کر سکتے ہو، جب کہ تم مردہ تھے اور اُس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مارتا ہے، پھر وہی تمہیں زندہ کرتا ہے، پھر اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے؟
Footnote
*2:28 The righteous do not really die; they go straight to Heaven. When their interim on this earth comes to an end, the angels of death simply invite them to go to the same Paradise where Adam and Eve once lived (2:154, 3:169, 8:24, 22:58, 16:32, 36:20-27, 44:56, 89:27-30). Thus, while the righteous experience only the first death following our original sin, the unrighteous go through two deaths (40:11). At the time of death, the disbelievers know their miserable fate (8:50, 47:27), then they suffer a continuous nightmare that lasts until Hell is created (40:46, 89:23, Appendix 17).
فٹ نوٹ
(28)
نیک لوگ درحقیقت کبھی نہیں مرتے. وہ سیدھے جنت میں جاتے ہیں. جب اُن کی عارضی مدت اِس زمین پر ختم ہوتی ہے تو موت کے فرشتے انہیں اُسی جنت میں جانے کی دعوت دیتے ہیں، جہاں آدم اور حوا کبھی رہتے تھے
(2:154، 3:169، 8:24، 16:32، 22:58، 36:20-27، 44:56، 89:27-30)
موت کے وقت کافر اپنے دردناک مقدر کو جان جاتے ہیں. (8:50، 47:27) اُس کے بعد وہ ایک مسلسل ڈراؤنے خواب سے گزرتے ہیں، جو دوزخ قائم ہونے تک جاری رہتا ہے (40:46، 89:23، ضمیمہ 17)
هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمٰوٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ
[2:29] He is the One who created for you everything on earth, then turned to the sky and perfected seven universes therein*, and He is fully aware of all things.
29
وہ واحد ہے جس نے تمہارے لیے زمین پر ہر چیز تخلیق کی، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور اُس میں سات کائناتوں کی تکمیل کی.* اور وہ ہر چیز سے مکمل طور پر باخبر ہے
Footnote
*2:29 Our universe with its billion galaxies, spanning distances of billions of light years, is the smallest and innermost of seven universes (Appendix 6). Please look up 41:10-11.
فٹ نوٹ
29
ہماری کائنات اپنی اربوں کہکشاؤں کے ساتھ، جو اربوں نوری سالوں کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے، سات کائناتوں میں یہ سب سے چھوٹی اور باطنی کائنات ہے. (ضمیمہ 6) براہِ کرم 11-10: 41 کو دیکھیں
وَإِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَرضِ خَليفَةً ۖ قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ
Satan: A Temporary god
[2:30] Recall that your Lord said to the angels, “I am placing a representative (a temporary god) on Earth.” They said, “Will You place therein one who will spread evil therein and shed blood, while we sing Your praises, glorify You, and uphold Your absolute authority?” He said, “I know what you do not know.”
شیطان: ایک عارضی خدا
2:30
یاد کرو کہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین پر ایک نمائندہ (ایک عارضی خدا) مقرر کر رہا ہوں. انہوں نے کہا، کیا آپ وہاں اُس کو مقرر کریں گے جو برائی کو پھیلائے گا اور خون بہائے گا، جب کہ ہم آپ کی حمد کے گیت گاتے ہیں، تسبیح کرتے ہیں، اور آپ کی مکمل حاکمیت کی حمایت کرتے ہیں؟ اُس (اللّٰه) نے کہا، میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
Footnote
*2:30-37 These verses answer such crucial questions as: “Why are we here?” (See Appendix 7).
فٹ نوٹ
(30-37)
یہ آیات ایسے اہم سوالات کا جواب دیتی ہیں جیسے کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ (ضمیمہ 7 دیکھیں)
وَعَلَّمَ ءادَمَ الأَسماءَ كُلَّها ثُمَّ عَرَضَهُم عَلَى المَلٰئِكَةِ فَقالَ أَنبِـٔونى بِأَسماءِ هٰؤُلاءِ إِن كُنتُم صٰدِقينَ
The Test Begins
[2:31] He taught Adam all the names* then presented them to the angels, saying, “Give me the names of these, if you are right.”
آزمائش کی ابتدا
31
اُس نے آدم کو تمام نام سکھائے، پھر فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور کہا، مجھے اِن کے نام بتاؤ، اگر تم صحیح ہو
Footnote
*2:31 These are the names of the animals, the automobile, the submarine, the space satellite, the VCR, and all other objects to be encountered by the human beings on Earth.
فٹ نوٹ
(31)
یہ نام ہیں جانوروں، گاڑیوں، آبدوزوں، خلائی سیٹلائٹ، وی سی آر، اور دیگر تمام اشیاء، جن کا سامنا زمین پر انسانوں کو کرنا ہے
قالوا سُبحٰنَكَ لا عِلمَ لَنا إِلّا ما عَلَّمتَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَليمُ الحَكيمُ
[2:32] They said, “Be You glorified, we have no knowledge, except that which You have taught us. You are the Omniscient, Most Wise.”
32
انہوں نے کہا، سب تعریف آپ کے لیے ہے، ہمارے پاس کوئی علم نہیں، سوائے اُس کے جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے. آپ سب کچھ جاننے والے، انتہائی دانا ہیں
قالَ يٰـٔادَمُ أَنبِئهُم بِأَسمائِهِم ۖ فَلَمّا أَنبَأَهُم بِأَسمائِهِم قالَ أَلَم أَقُل لَكُم إِنّى أَعلَمُ غَيبَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَأَعلَمُ ما تُبدونَ وَما كُنتُم تَكتُمونَ
[2:33] He said, “O Adam, tell them their names.” When he told them their names, He said, “Did I not tell you that I know the secrets of the heavens and the earth? I know what you declare, and what you conceal.”
33
اُس (اللّٰه) نے کہا، اے آدم، انہیں اُن کے نام بتاؤ. جب اُس نے انہیں اُن کے نام بتائے، تو اُس نے کہا، کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے راز جانتا ہوں؟ میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ أَبىٰ وَاستَكبَرَ وَكانَ مِنَ الكٰفِرينَ
[2:34] When we said to the angels, “Fall prostrate before Adam,” they fell prostrate, except Satan; he refused, was too arrogant, and a disbeliever.”
34
جب ہم نے فرشتوں سے کہا، آدم کے سامنے سجدہ کرو، تو وہ سجدے میں گر گئے، سوائے شیطان کے؛ اُس نے انکار کیا، وہ بہت مغرور، اور کافر تھا
وَقُلنا يٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ وَكُلا مِنها رَغَدًا حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَبا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونا مِنَ الظّٰلِمينَ
[2:35] We said, “O Adam, live with your wife in Paradise, and eat therefrom generously, as you please, but do not approach this tree, lest you sin.”
35
ہم نے کہا، اے آدم، اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو، اور اِس میں فیاضی کے ساتھ جس طرح چاہو کھاؤ، لیکن اِس درخت کے قریب نہ جانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم گناہ کر بیٹھو
“فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطٰنُ عَنها فَأَخرَجَهُما مِمّا كانا فيهِ ۖ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُم فِى الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتٰعٌ إِلىٰ حينٍ
[2:36] But the devil duped them, and caused their eviction therefrom. We said, “Go down as enemies of one another. On Earth shall be your habitation and provision for awhile.”
36
لیکن شیطان نے انہیں دھوکہ دیا، اور وہاں سے اُن کی بے دخلی کا سبب بنا. ہم نے کہا، ایک دوسرے کے دشمن کے طور پر نیچے جاؤ، زمین پر کچھ عرصے کے لیے تمہارا ٹھکانہ اور رزق ہوگا
فَتَلَقّىٰ ءادَمُ مِن رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتابَ عَلَيهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
Specific Words*
[2:37] Then, Adam received from his Lord words, whereby He redeemed him. He is the Redeemer, Most Merciful.
مخصوص الفاظ*
37
پھر، آدم نے اپنے رب کی طرف سے الفاظ موصول کیے، جس سے اُس (اللّٰه) نے اُسے معاف کر دیا. وہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے
Footnote
*2:37 Similarly, God has given us specific, mathematically coded words, the words of Sura 1, to establish contact with Him (see Footnote 1:1 and Appendix 15).
فٹ نوٹ
(37)
اِسی طرح اللّٰه نے ہمیں مخصوص ریاضیاتی کوڈ شدہ الفاظ عطا کیے ہیں، جو کہ سورہ 1 کے الفاظ ہیں. اُس (اللّٰه) سے رابطہ قائم کرنے کے لیے (دیکھیں فٹ نوٹ 1:1 اور ضمیمہ 15)
قُلنَا اهبِطوا مِنها جَميعًا ۖ فَإِمّا يَأتِيَنَّكُم مِنّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُداىَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
[2:38] We said, “Go down therefrom, all of you. When guidance comes to you from Me, those who follow My guidance will have no fear, nor will they grieve.”
38
ہم نے کہا، تم سب یہاں سے نیچے اُتر جاؤ. جب تمہیں میری طرف سے ہدایت پہنچے، تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کو نہ کوئی خوف ہوگا، اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
[2:39] “As for those who disbelieve and reject our revelations, they will be dwellers of Hell, wherein they abide forever.”
39
جہاں تک وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ جہنم کے باشندے ہوں گے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
يٰبَنى إِسرٰءيلَ اذكُروا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَوفوا بِعَهدى أوفِ بِعَهدِكُم وَإِيّٰىَ فَارهَبوں
Divine Commandments to All Jews:
You Shall Believe in This Quran.
[2:40] O Children of Israel, remember My favor, which I bestowed upon you, and fulfill your part of the covenant, that I fulfill My part of the covenant, and reverence Me.”
تمام یہودیوں کے لیے احکامِ الٰہی
تمہیں اِس قرآن پر ایمان لانا چاہیے۔
40
اے بنی اسرائیل، میری اُس مہربانی کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی، اور اپنے عہد کو پورا کرو، تاکہ میں اپنا عہد پورا کروں، اور میری ہی تعظیم کرو
وَءامِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ بِهِ ۖ وَلا تَشتَروا بِـٔايٰتى ثَمَنًا قَليلًا وَإِيّٰىَ فَاتَّقونِ
[2:41] You shall believe in what I have revealed herein, confirming what you have; do not be the first to reject it. Do not trade away My revelations for a cheap price, and observe Me.
41
تم اُس پر ایمان لاؤ جو میں نے اِس میں نازل کیا ہے، یہ اُس کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے؛ اِسے مسترد کرنے میں پہل مت کرو. میری آیات کو سستے داموں فروخت نہ کرو، اور میری پیروی کرو
وَلا تَلبِسُوا الحَقَّ بِالبٰطِلِ وَتَكتُمُوا الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ
[2:42] Do not confound the truth with falsehood, nor shall you conceal the truth, knowingly.
42
سچ کو جھوٹ کے ساتھ مت ملاو، اور نہ ہی جان بوجھ کر سچ کو چھپاو
وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ وَاركَعوا مَعَ الرّٰكِعينَ
[2:43] You shall observe the Contact Prayers (Salat) and give the obligatory charity (Zakat), and bow down with those who bow down.
43
تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ
أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتٰبَ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ
[2:44] Do you exhort the people to be righteous, while forgetting yourselves, though you read the scripture? Do you not understand?
44
کیا تم لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو، جب کہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، جبکہ تم مقدس کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟
وَاستَعينوا بِالصَّبرِ وَالصَّلوٰةِ ۚ وَإِنَّها لَكَبيرَةٌ إِلّا عَلَى الخٰشِعينَ
[2:45] You shall seek help through steadfastness and the Contact Prayers (Salat). This is difficult indeed, but not so for the reverent.
45
تم ثابت قدی اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو. یہ درحقیقت مشکل ہے، لیکن تعظیم کرنے والوں کے لیے نہیں
الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلٰقوا رَبِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ رٰجِعونَ
[2:46] who believe that they will meet their Lord; that to Him they ultimately return.
46
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے؛ اور بالآخر اُسی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے
يٰبَنى إِسرٰءيلَ اذكُروا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّى فَضَّلتُكُم عَلَى العٰلَمينَ
[2:47] O Children of Israel, remember My favor which I bestowed upon you, and that I blessed you more than any other people.
47
اے بنی اسرائیل، یاد کرو میرے اُس احسان کو جو میں نے تم پر کیا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں بہت سے دوسرے لوگوں سے زیادہ نوازا
وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزى نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيـًٔا وَلا يُقبَلُ مِنها شَفٰعَةٌ وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ وَلا هُم يُنصَرونَ
[2:48] Beware of the day when no soul can avail another soul, no intercession will be accepted, no ransom can be paid, nor can anyone be helped.
48
خبردار ہو جاؤ اُس دن سے جب کوئی انسان کسی دوسرے کو فائدہ نہ پہنچا سکے گا، نہ کوئی شفات قبول کی جائے گی، نہ کوئی تاوان ادا کر سکے گا، اور نہ ہی کسی کی مدد کی جا سکے گی
وَإِذ نَجَّينٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ يُذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ
[2:49] Recall that we saved you from Pharaoh’s people who inflicted upon you the worst persecution, slaying your sons and sparing your daughters. That was an exacting test from your Lord.
49
یاد کرو کہ ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا جنہوں نے تم پربدترین ظلم کیا، تمہارے بیٹوں کو قتل کیا اور تمہاری بیٹیوں کو بچائے رکھا. یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک سخت امتحان تھا
وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَينٰكُم وَأَغرَقنا ءالَ فِرعَونَ وَأَنتُم تَنظُرونَ
[2:50] Recall that we parted the sea for you; we saved you and drowned Pharaoh’s people before your eyes.
50
یاد کرو کہ ہم نے تمہارے لیے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا؛ ہم نے تمہیں بچا لیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعون کے لوگوں کو غرق کر دیا
وَإِذ وٰعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظٰلِمونَ
[2:51] Yet, when we summoned Moses for forty nights, you worshiped the calf in his absence, and turned wicked.*
51
اِس کے باوجود، جب ہم نے موسی کو چالیس راتوں کیلے بلایا، تو اُس کی غیرموجودگی میں تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی، اور فاسق بن گے
Footnote
*2:51 This incident reflects the humans’ idolatrous tendency. Despite the profound miracles, Moses’ followers worshiped the calf in his absence, and Moses ended up with only two believers (5:23). As pointed out in the Introduction, the humans are rebels whose egos are their gods.
فٹ نوٹ
(51)
یہ واقعہ انسانوں کے مشرکانہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے. واضح معجزات کے باوجود موسیٰ پیروکاروں نے اُس کی غیرموجودگی میں بچھڑے کی پرستش کی، اور آخر میں موسیٰ کے ساتھ صرف دو ایمان والے رہ گئے (5:23). جیسا کہ تعارف میں بیان کیا گیا ہے، انسان باغی ہیں جن کے نفس اُن کے معبود ہیں
ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ
[2:52] Still, we pardoned you thereafter that you may be appreciative.
52
پھر بھی، اِس کے بعد ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکرگذار بن سکو
وَإِذ ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَالفُرقانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ
[2:53] Recall that we gave Moses scripture and the statute book, that you may be guided.
53
یاد کرو کہ ہم نے موسیٰ کو صحیفہ اور آئین کی کتاب دی، شاید کہ تم ہدایت پا سکو
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يٰقَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلىٰ بارِئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم عِندَ بارِئِكُم فَتابَ عَلَيكُم ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
Kill your Ego
[2:54] Recall that Moses said to his people, “O my people, you have wronged your souls by worshiping the calf. You must repent to your Creator. You shall kill your egos. This is better for you in the sight of your Creator.” He did redeem you. He is the Redeemer, Most Merciful”
اپنی انا کو مار ڈالو
54
یاد کرو کہ موسیٰ نے اپنے لوگوں سے کہا، “اے میرے لوگو، تم نے بچھڑے کی پوجا کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے. تمہیں یقیناً اپنے خالق سے معافی مانگنی چاہیے. تم اپنی انا کو مار ڈالو. یہ تمہارے خالق کی نگاہ میں تمہارے لیے بہتر ہے. اُس نے تمہیں معاف کر دیا. وہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے
Footnote
*2:54 It is the ego that led to Satan’s fall. It is the ego that caused our exile to this world, and it is the ego that is keeping most of us from redemption to God’s Kingdom.
فٹ نوٹ
یہ انا ہی ہے جو شیطان کے زوال کا باعث بنی۔ یہ انا ہی ہے جو ہماری جنت سے جلاوطنی کا سبب بنی اور ہم اِس دنیا میں آئے، اور یہ انا ہی ہے جو ہم میں سے اکثریت کو اللہ کی بادشاہت میں واپس جانے سے روک رہی ہے۔
وَإِذ قُلتُم يٰموسىٰ لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهرَةً فَأَخَذَتكُمُ الصّٰعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرونَ
Physical Evidence*
[2:55] Recall that you said, “O Moses, we will not believe unless we see GOD, physically.” Consequently, the lightning struck you, as you looked.”
مادی ثبوت
یاد کروکہ تم نے کہا تھا، اے موسیٰ، ہم اُس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم االلہ کو جسمانی طور پر نہ دیکھ لیں ۔نتیجتاً، جیسے ہی تم نے دیکھا تم پر بجلی آ گری۔
Footnote
*2:55 It is noteworthy that the word “GOD” in this verse is the 19th occurrence, and this is the verse where the people demanded “physical evidence.” The Quran’s mathematical code, based on the number 19, provides such physical evidence. Note also that
2+55=57 = 19×3.
فٹ نوٹ
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اِس آیت میں لفظ اللہ 19واں ہے، اور یہ وہ آیت ہے جہاں لوگوں نے اللہ کو آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ قرآن کا ریاضیاتی کوڈ، جو 19 کے نمبر پر مشتمل ہے، ایسے مادی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ 2+55=57=3×19۔
ثُمَّ بَعَثنٰكُم مِن بَعدِ مَوتِكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ
[2:56] We then revived you, after you had died, that you may be appreciative.
پھر ہم نے تمہیں زندہ کیا، تمہارے مرنے کے بعد، تاکہ تم شکر گزار بنو۔
وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ وَأَنزَلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم ۖ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ
In siani
[2:57] We shaded you with clouds (in Sinai), and sent down to you manna and quails: “Eat from the good things we provided for you.” They did not hurt us (by rebelling); they only hurt their own souls.”
سینا میں
ہم نے (سینا میں) تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا: جو اچھی چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں، اُن میں سے کھاؤ۔ انہوں نے (سرکشی کرکے) ہمیں نقصان نہیں پہنچایا؛ وہ صرف اپنی جانوں کو تکلیف دیتے ہیں۔
وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هٰذِهِ القَريَةَ فَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم رَغَدًا وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقولوا حِطَّةٌ نَغفِر لَكُم خَطٰيٰكُم ۚ وَسَنَزيدُ المُحسِنينَ
Lack of Confidence in God: They Refuse to Enter Jerusalem
[2:58] Recall that we said, “Enter this town, where you will find as many provisions as you like. Just enter the gate humbly, and treat the people nicely. We will then forgive your sins, and increase the reward for the pious.”
اللہ پر اعتماد کی کمی: انہوں نے بیت المقدس میں داخل ہونے سے انکار کیا
یاد کرو کہ ہم نے کہا تھا، اِس بستی میں داخل ہو جاؤ، جہاں تمہیں جتنا چاہو گے رزق ملے گا۔ بس عاجزی کے ساتھ دروازے سے اندر داخل ہو جاؤ، اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ پھر ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے، اور متقیوں کے اجر میں اضافہ کریں گے۔
فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَنزَلنا عَلَى الَّذينَ ظَلَموا رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ
[2:59] But the wicked among them carried out commands other than the commands given to them. Consequently, we sent down upon the transgressors condemnation from the sky, due to their wickedness.
لیکن اُن میں سے جو گناہ گار تھے، انہوں نے اُن احکامات کی بجائے جو اُن کو دیے گئے تھے، دوسرے احکامات پر عمل کیا۔ نتیجتاً ہم نے حد سے گزر جانے والوں پر اُن کے برے اعمال کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کیا۔
وَإِذِ استَسقىٰ موسىٰ لِقَومِهِ فَقُلنَا اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۖ كُلوا وَاشرَبوا مِن رِزقِ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ
More Miracles
[2:60] Recall that Moses sought water for his people. We said, “Strike the rock with your staff.” Whereupon, twelve springs gushed out therefrom. The members of each tribe knew their own water. Eat and drink from GOD’s provisions, and do not roam the earth corruptingly.”
مزید معجزات
یاد کرو کہ موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا۔ ہم نے کہا، پتھر کو اپنے عصا کے ساتھ مارو۔” جس کے بعد، وہاں سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر قبیلے کے افراد اپنے اپنے پانی کو جانتے تھے۔ اللہ کے رزق میں سے کھاؤ اور پیو، اور زمین پر فساد مت پھیلاؤ۔
وَإِذ قُلتُم يٰموسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ وٰحِدٍ فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذى هُوَ أَدنىٰ بِالَّذى هُوَ خَيرٌ ۚ اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ وَضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّۦنَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ
Israel Rebels
[2:61] Recall that you said, “O Moses, we can no longer tolerate one kind of food. Call upon your Lord to produce for us such earthly crops as beans, cucumbers, garlic, lentils, and onions.” He said, “Do you wish to substitute that which is inferior for that which is good? Go down to Egypt, where you can find what you asked for.” They have incurred condemnation, humiliation, and disgrace, and brought upon themselves wrath from GOD. This is because they rejected GOD’s revelations, and killed the prophets unjustly. This is because they disobeyed and transgressed.”
اسرائیل کی بغاوت
یاد کرو کہ تم نے کہا تھا، اے موسیٰ، اب ہم ایک قسم کی خوراک کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اپنے رب کو پکارو کہ ہمارے لیے پھلیاں، کھیرے، لہسن، دال اور پیاز جیسی زمینی فصلیں پیدا کرے۔اُس نے کہا، “کیا تم ایک بہتر چیز کو کمتر چیز کے ساتھ تبدیل کرنے کی خواہش کرتے ہو؟ مصر چلے جاؤ، جو کچھ تم نے مانگا تھا وہ تمہیں وہاں مل جائے گا۔ وہ مذمت، ذلت اور رسوائی کے مستحق ہو چکے ہیں، اور اپنے اوپر اللہ کی طرف سے غضب لے آئے ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور نبیوں کو ناحق قتل کیا۔ یہ اِس لیے ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حدود سے تجاوز کر گئے۔
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَالَّذينَ هادوا وَالنَّصٰرىٰ وَالصّٰبِـٔينَ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
Unity of All Submitters
[2:62] Surely, those who believe, those who are Jewish, the Christians, and the converts; anyone who (1) believes in GOD, and (2) believes in the Last Day, and (3) leads a righteous life, will receive their recompense from their Lord. They have nothing to fear, nor will they grieve.”
تمام اطاعت گزاروں کا اتحاد
یقیناً، وہ جو ایمان لائے، وہ جو یہودی ہیں، عیسائی ہیں، اور مذہب تبدیل کرنے والے؛ جو کوئی بھی (1) اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اور (2) یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور (3) نیک زندگی گزارتا ہے، انہیں اُن کے رب کی طرف سے اجر ملے گا۔ انہیں نہ کوئی خوف ہو گا، نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
وَإِذ أَخَذنا ميثٰقَكُم وَرَفَعنا فَوقَكُمُ الطّورَ خُذوا ما ءاتَينٰكُم بِقُوَّةٍ وَاذكُروا ما فيهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ
Covenant with Israel
[2:63] We made a covenant with you, as we raised Mount Sinai above you: “You shall uphold what we have given you strongly, and remember its contents, that you may be saved.”
اسرائیل کے ساتھ عہد
ہم نے تمہارے ساتھ ایک عہد کیا تھا، جب ہم نے کوہِ سینا کو تمہارے اوپر اٹھایا: جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اُسے مضبوطی سے تھامے رکھو، اور جو اُس کے اندر مواد ہے اُسے یاد رکھو، شاید کہ تم نجات پا سکو۔
ثُمَّ تَوَلَّيتُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ ۖ فَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَكُنتُم مِنَ الخٰسِرينَ
[2:64] But you turned away thereafter, and if it were not for GOD’s grace towards you and His mercy, you would have been doomed.
لیکن تم نے اُس سے منہ موڑ لیا، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی، تو تم تباہ ہو جاتے۔
وَلَقَد عَلِمتُمُ الَّذينَ اعتَدَوا مِنكُم فِى السَّبتِ فَقُلنا لَهُم كونوا قِرَدَةً خٰسِـٔينَ
[2:65] You have known about those among you who desecrated the Sabbath. We said to them, “Be you as despicable as apes.”
تم اپنے درمیان اُن لوگوں کے بارے میں جانتے ہو جنہوں نے سبت کی بے حرمتی کی۔ ہم نے اُن سے کہا، تم بندروں کی طرح حقیر بن جاؤ۔
فَجَعَلنٰها نَكٰلًا لِما بَينَ يَدَيها وَما خَلفَها وَمَوعِظَةً لِلمُتَّقينَ
[2:66] We set them up as an example for their generation, as well as subsequent generations, and an enlightenment for the righteous.
ہم نے انہیں اُن کی موجودہ نسل اور اُن کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنا دیا، اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ۔
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تَذبَحوا بَقَرَةً ۖ قالوا أَتَتَّخِذُنا هُزُوًا ۖ قالَ أَعوذُ بِاللَّهِ أَن أَكونَ مِنَ الجٰهِلينَ
The Heifer*
[2:67] Moses said to his people, “GOD commands you to sacrifice a heifer.” They said, “Are you mocking us?” He said, “GOD forbid, that I should behave like the ignorant ones.”
بچھڑا*
موسیٰ نے اپنے لوگوں سے کہا، اللہ تمہیں ایک بچھڑے کی قربانی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، کیا تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو؟ اُس نے کہا، اللہ نہ کرۓ کہ میں جاہلوں جیسا برتاؤ کروں۔
Footnote
*2:67 Although this sura contains important laws and commandments, including the contact prayers, fasting, Hajj pilgrimage, and the laws of marriage, divorce, etc., the name given to the sura is “The Heifer.” This reflects the crucial importance of submission to God and immediate, unwavering obedience to our Creator. Such submission proves our belief in God’s omnipotence and absolute authority. See also the Bible’s Book of Numbers, Chapter 19”.
فٹ نوٹ
اگرچہ یہ سورہ اہم قوانین اور احکامات پر مشتمل ہے، جن میں نمازیں، روزہ، حج، اور نکاح، طلاق وغیرہ کے قوانین شامل ہیں، لیکن اِس سورہ کا نامبچھڑا (البقرہ) ہے۔ یہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرنے اور اپنے خالق کی فوری، غیر متزلزل فرمانبرداری کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اِس طرح کی فرمانبرداری اللہ کے قادرِ مطلق اور مکمل اختیار ہونے پر ہمارے یقین کو ثابت کرتی ہے۔ انجیل کی گنتی کی کتاب، باب 19 دیکھیں۔
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِىَ ۚ قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا فارِضٌ وَلا بِكرٌ عَوانٌ بَينَ ذٰلِكَ ۖ فَافعَلوا ما تُؤمَرونَ
[2:68] They said, “Call upon your Lord to show us which one.” He said, “He says that she is a heifer that is neither too old, nor too young; of an intermediate age. Now, carry out what you are commanded to do”
انہوں نے کہا، اپنے رب کو پکارو کہ ہمیں دکھائے کہ کون سا ہے۔اُس نے کہا، وہ (اللہ) کہتا ہے کہ وہ ایک بچھڑا ہے جو نہ بہت بوڑھا ہے، نہ ہی بہت کمسن؛ وہ ایک درمیانی عمر کا ہے۔ اب تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے بجا لاؤ۔
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما لَونُها ۚ قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ صَفراءُ فاقِعٌ لَونُها تَسُرُّ النّٰظِرينَ
[2:69] They said, “Call upon your Lord to show us her color.” He said, “He says that she is a yellow heifer, bright colored, pleases the beholders.”
انہوں نے کہا، اپنے رب کو پکارو کہ ہمیں اُس کا رنگ دکھائے۔ اُس نے کہا،وہ (اللہ) کہتا ہے کہ وہ ایک زرد رنگ کا بچھڑا ہے، شوخ رنگ ہے، اور دیکھنے والوں کو خوش کرتاہے۔
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِىَ إِنَّ البَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَينا وَإِنّا إِن شاءَ اللَّهُ لَمُهتَدونَ
[2:70] They said, “Call upon your Lord to show us which one. The heifers look alike to us and, GOD willing, we will be guided.”
انہوں نے کہا، اپنے رب کو پکارو کہ وہ ہمیں دکھائے کہ کون سا۔ بچھڑے ہمیں ایک جیسے لگتے ہیں، اور انشاءاللہ، ہم ہدایت پائیں گے۔
قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا ذَلولٌ تُثيرُ الأَرضَ وَلا تَسقِى الحَرثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فيها ۚ قالُوا الـٰٔنَ جِئتَ بِالحَقِّ ۚ فَذَبَحوها وَما كادوا يَفعَلونَ
[2:71] He said, “He says that she is a heifer that was never humiliated in plowing the land or watering the crops; free from any blemish.” They said, “Now you have brought the truth.” They finally sacrificed her, after this lengthy reluctance.”
اُس نے کہا، وہ (اللہ) کہتا ہے کہ وہ ایک ایسا بچھڑا ہے جس کی زمین میں ہل چلانے یا فصلوں کو پانی دینے میں کبھی توہین نہیں کی گئی؛ ہر عیب سے پاک ہے۔ انہوں نے کہا، اب تم سچ لے آئے ہو۔ اِس طویل ہچکچاہٹ کے بعد بالآخر انہوں نے اُسے قربان کر دیا۔
وَإِذ قَتَلتُم نَفسًا فَادّٰرَءتُم فيها ۖ وَاللَّهُ مُخرِجٌ ما كُنتُم تَكتُمونَ
Purpose of the Heifer
[2:72] You had killed a person, then disputed among yourselves. GOD was to expose what you tried to conceal.
بچھڑے کا مقصد
تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا، پھر تم نے آپس میں تنازہ کیا۔ جو کچھ تم نے چھپانے کی کوشش کی تھی اللہ اُسے بے نقاب کرنے والا تھا۔
فَقُلنَا اضرِبوهُ بِبَعضِها ۚ كَذٰلِكَ يُحىِ اللَّهُ المَوتىٰ وَيُريكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ
[2:73] We said, “Strike (the victim) with part (of the heifer).” That is when GOD brought the victim back to life, and showed you His signs, that you may understand”
ہم نے کہا، (مظلوم) کو (بچھڑے کے) حصے کے ساتھ مارو۔ اُس وقت اللہ نے مظلوم کو دوبارہ زندہ کیا، اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھائیں، تاکہ شاید کہ تم سمجھ سکو۔
ثُمَّ قَسَت قُلوبُكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالحِجارَةِ أَو أَشَدُّ قَسوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الحِجارَةِ لَما يَتَفَجَّرُ مِنهُ الأَنهٰرُ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَشَّقَّقُ فَيَخرُجُ مِنهُ الماءُ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَهبِطُ مِن خَشيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ
[2:74] Despite this, your hearts hardened like rocks, or even harder. For there are rocks from which rivers gush out. Others crack and release gentle streams, and other rocks cringe out of reverence for GOD. GOD is never unaware of anything you do.
اِس کے باوجود، تمہارے دل پتھروں کی طرح یا اُس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے۔ کیونکہ ایسے پتھر بھی ہیں جن سے نہریں نکلتی ہیں، اور دوسرے ایسے بھی ہیں جن میں دراڑیں پڑتی ہیں، اور اُن سے دھیمے چشمے بہہ نکلتے ہیں، اور دیگر پتھر اللہ کی تعظیم میں عاجزی سے جھک جاتے ہیں۔ جو کچھ بھی تم کرتے ہو، اللہ کبھی بھی بے خبر نہیں ہے۔
أَفَتَطمَعونَ أَن يُؤمِنوا لَكُم وَقَد كانَ فَريقٌ مِنهُم يَسمَعونَ كَلٰمَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفونَهُ مِن بَعدِ ما عَقَلوهُ وَهُم يَعلَمونَ
Distorting the Word of God
[2:75] Do you expect them to believe as you do, when some of them used to hear the word of GOD, then distort it, with full understanding thereof, and deliberately?
اللہ کے کلام کا بگاڑنا
کیا تم اُن سے امید رکھتے ہو کہ وہ ایمان لائیں جیسے کہ تم ایمان لاے ہو، جب کہ اُن میں سے بعض اللہ کا کلام سنتے تھے، پھر اُسے پوری سمجھ بوجھ کے ساتھ اورجان بوجھ کر بگاڑ دیتے تھے؟
وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلا بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ قالوا أَتُحَدِّثونَهُم بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيكُم لِيُحاجّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُم ۚ أَفَلا تَعقِلونَ
Concealing the Word of God
[2:76] And when they meet the believers, they say, “We believe,” but when they get together with each other, they say, “Do not inform (the believers) of the information given to you by GOD, lest you provide them with support for their argument concerning your Lord. Do you not understand?”
اللہ کے کلام کا چھپانا
اور جب وہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں، کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، لیکن جب آپس میں ملتے ہیں، تو کہتے ہیں، “جو علم تمہیں اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اُس سے (ایمان والوں کو) آگاہ مت کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے پروردگار کے بارے میں انہیں اُن کے دلائل کی حمایت فراہم کرو۔ کیا تم نہیں سمجھتے؟
أَوَلا يَعلَمونَ أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ
[2:77] Do they not know that GOD knows everything they conceal, and everything they declare.
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہر وہ چیز جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں، اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔
وَمِنهُم أُمِّيّونَ لا يَعلَمونَ الكِتٰبَ إِلّا أَمانِىَّ وَإِن هُم إِلّا يَظُنّونَ
[2:78] Among them are gentiles who do not know the scripture, except through hearsay, then assume that they know it.
اُن کے درمیان وہ ہیں جو اہل کتاب نہیں ہیں اور آسمانی کتاب کو نہیں جانتے، سوائے سنی سنائی باتوں کے، پھر گمان کرتے ہیں کہ وہ اُسے جانتے ہیں۔
فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتٰبَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هٰذا مِن عِندِ اللَّهِ لِيَشتَروا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ فَوَيلٌ لَهُم مِمّا كَتَبَت أَيديهِم وَوَيلٌ لَهُم مِمّا يَكسِبونَ
[2:79] Therefore, woe to those who distort the scripture with their own hands, then say, “This is what GOD has revealed,” seeking a cheap material gain. Woe to them for such distortion, and woe to them for their illicit gains.”
لہٰذا، افسوس ہے اُن پر جو آسمانی کتاب کو اپنے ہاتھوں سے بگاڑتے ہیں، پھر کہتے ہیں، یہ وہ ہے جو اللہ نے نازل کیا ہے، ایک سستے دنیاوی فائدے کی تلاش میں۔ افسوس ہے اُن پر ایسا بگاڑ کرنے کے لیے، اور افسوس ہے اُن پر اُن کی ناجائز کمائی کے لیے۔
وَقالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ إِلّا أَيّامًا مَعدودَةً ۚ قُل أَتَّخَذتُم عِندَ اللَّهِ عَهدًا فَلَن يُخلِفَ اللَّهُ عَهدَهُ ۖ أَم تَقولونَ عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ
Eternity of Heaven and Hell*
[2:80] Some have said, “Hell will not touch us, except for a limited number of days.” Say, “Have you taken such a pledge from GOD—GOD never breaks His pledge—or, are you saying about GOD what you do not know?”
جنت اور جہنم کی ابدیت*
کچھ نے کہا، جہنم ہمیں نہیں چھوئے گی، سوائے چند دنوں کے۔ کہو، کیا تم نے اللہ سے ایسا عہد لیا ہے — اللہ کبھی اپنے عہد کو نہیں توڑتا — یا، تم اللہ کے بارے میں وہ کہہ رہے ہو جو تم نہیں جانتے؟
بَلىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحٰطَت بِهِ خَطيـَٔتُهُ فَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
[2:81] Indeed, those who earn sins and become surrounded by their evil work will be the dwellers of Hell; they abide in it forever.
درحقیقت، وہ جو گناہ کماتے ہیں اور اپنے برے کاموں میں گھرے ہوئے ہیں وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے؛ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
[2:82] As for those who believe, and lead a righteous life, they will be the dwellers of Paradise; they abide in it forever.
جہاں تک وہ جو ایمان لاتے ہیں، اور نیک زندگی گزارتے ہیں، وہ جنت کے باشندےہوں گے؛ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Footnote
*2:80-82 It is an established belief among corrupted Muslims that they will suffer in Hell only in proportion to the number of sins they had committed, then they will get out of Hell and go to Heaven. They also believe that Muhammad will intercede on their behalf, and will take them out of Hell. Such beliefs are contrary to the Quran (Appendix 8).
فٹ نوٹ
گمراہ مسلمانوں کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ وہ جہنم کی سزا اُسی تناسب سے بھگتیں گے جتنے انہوں نے گناہ کیے ہوں گے، پھر وہ جہنم سے نکل کر جنت میں چلے جائیں گے۔ وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ محمد اُن کے حق میں شفاعت کرے گا، اور انہیں جہنم سے نکال لے گا۔ اِس طرح کے عقائد قرآن کے برعکس ہیں (ضمیمہ 8)۔
وَإِذ أَخَذنا ميثٰقَ بَنى إِسرٰءيلَ لا تَعبُدونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسانًا وَذِى القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَقولوا لِلنّاسِ حُسنًا وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ ثُمَّ تَوَلَّيتُم إِلّا قَليلًا مِنكُم وَأَنتُم مُعرِضونَ
The Commandments
[2:83] We made a covenant with the Children of Israel: “You shall not worship except GOD. You shall honor your parents and regard the relatives, the orphans, and the poor. You shall treat the people amicably. You shall observe the Contact Prayers (Salat) and give the obligatory charity (Zakat).” But you turned away, except a few of you, and you became averse.”
ہم نے بنی اسرائیل سے ایک عہد لیا؛ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے۔ اپنے والدین کی عزت کرو گے اور رشتہ داروں، یتیموں اور غریبوں کا خیال رکھو گے۔ تم لوگوں سے اچھا برتاؤ کرو گے۔ تم نماز کی پابندی کرو گے اور خیرات (زکوٰۃ) ادا کرو گے۔ لیکن تم نے منہ موڑ لیا، سوائے تم میں سے چند ایک کے، اور تم اُس کے خلاف ہو گئے۔و
وَإِذ أَخَذنا ميثٰقَكُم لا تَسفِكونَ دِماءَكُم وَلا تُخرِجونَ أَنفُسَكُم مِن دِيٰرِكُم ثُمَّ أَقرَرتُم وَأَنتُم تَشهَدونَ
[2:84] We made a covenant with you, that you shall not shed your blood, nor shall you evict each other from your homes. You agreed and bore witness.
ہم نے تم سے ایک عہد کیا تھا، کہ تم ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے، نہ ہی تم ایک دوسرے کو اپنے گھروں سے نکالو گے۔ تم نے اتفاق کیا اور گواہی دی۔
ثُمَّ أَنتُم هٰؤُلاءِ تَقتُلونَ أَنفُسَكُم وَتُخرِجونَ فَريقًا مِنكُم مِن دِيٰرِهِم تَظٰهَرونَ عَلَيهِم بِالإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَإِن يَأتوكُم أُسٰرىٰ تُفٰدوهُم وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيكُم إِخراجُهُم ۚ أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِتٰبِ وَتَكفُرونَ بِبَعضٍ ۚ فَما جَزاءُ مَن يَفعَلُ ذٰلِكَ مِنكُم إِلّا خِزىٌ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ يُرَدّونَ إِلىٰ أَشَدِّ العَذابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ
[2:85] Yet, here you are killing each other, and evicting some of you from their homes, banding against them sinfully and maliciously. Even when they surrendered, you demanded ransom from them. Evicting them was prohibited for you in the first place. Do you believe in part of the scripture and disbelieve in part? What should be the retribution for those among you who do this, except humiliation in this life, and a far worse retribution on the Day of Resurrection? GODis never unaware of anything you do.
پھر بھی، یہاں تم ایک دوسرے کو مار رہے ہو، اور تم میں سے کچھ اُن کو اُن کے گھروں سے بے دخل کر رہے ہو، اُن کے خلاف گناہ اور بد نیتی سے جتھہ بندی کر رہے ہو۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے ہتھیار ڈال دیے، تم نے اُن سے تاوان کا مطالبہ کیا۔ اوّل تو انہیں گھروں سے بے دخل کرنا تمہارے لیے ممنوع تھا۔ کیا تم کتاب کے کچھ حصے کو مانتے ہو اور کچھ حصے کو نہیں مانتے؟ تم میں سے جو ایسا کرتے ہیں اُن کے لیے کیا سزا ہونی چاہیے، سوائے اِس زندگی میں ذلت، اور قیامت کے دن اِس سے بھی بدتر عذاب؟ اللہ کبھی بھی تمہارے کسی کام سے بے خبر نہیں ہے۔
أُولٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَوُا الحَيوٰةَ الدُّنيا بِالءاخِرَةِ ۖ فَلا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنصَرونَ
[2:86] It is they who bought this lowly life at the expense of the Hereafter. Consequently, the retribution is never commuted for them, nor can they be helped.
یہ وہ ہیں جنہوں نے آخرت کی قیمت پر یہ معمولی زندگی خریدی۔ نتیجتاً، اُن کی سزا میں نہ تو کوئی تبدیلی کی جاتی ہے،اور نہ ہی اُن کی مدد کی جا سکتی ہے۔
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَقَفَّينا مِن بَعدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَءاتَينا عيسَى ابنَ مَريَمَ البَيِّنٰتِ وَأَيَّدنٰهُ بِروحِ القُدُسِ ۗ أَفَكُلَّما جاءَكُم رَسولٌ بِما لا تَهوىٰ أَنفُسُكُمُ استَكبَرتُم فَفَريقًا كَذَّبتُم وَفَريقًا تَقتُلونَ
The Prophets of Israel
[2:87] We gave Moses the scripture, and subsequent to him we sent other messengers, and we gave Jesus, son of Mary, profound miracles and supported him with the Holy Spirit. Is it not a fact that every time a messenger went to you with anything you disliked, your ego caused you to be arrogant? Some of them you rejected, and some of them you killed.
اسرائیل کے انبیاء
ہم نے موسیٰ کو صحیفہ دیا، اور اُس کے بعد ہم نے دوسرے رسول بھیجے، اور ہم نے عیسیٰ، ابنِ مریم، کو عظیم معجزات دیے اور روح القدس سے اُس کی مدد کی۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہارے پاس ایسی چیز لے کر آیا جو تمہیں پسند نہیں تھی، تو تمہاری انا نے تمہیں مغرور بنا دیا؟ اُن میں سے بعض کو تم نے جھٹلایا، اور بعض کو قتل کر دیا۔
وَقالوا قُلوبُنا غُلفٌ ۚ بَل لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفرِهِم فَقَليلًا ما يُؤمِنونَ
Tragic Statement: My mind is made up!
[2:88] Some would say, “Our minds are made up!” Instead, it is a curse from GOD, as a consequence of their disbelief, that keeps them from believing, except for a few of them.”
افسوسناک بیان: میں نے اپنا ذہن بنا لیاہے!
کچھ کہیں گے،ہم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے! اِس کی بجائے، یہ اللہ کی لعنت ہے، اُن کے کفر کے نتیجے میں، جو انہیں ایمان لانے سے روکتا ہے، سوائے اُن میں سے چند ایک کے۔
وَلَمّا جاءَهُم كِتٰبٌ مِن عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِما مَعَهُم وَكانوا مِن قَبلُ يَستَفتِحونَ عَلَى الَّذينَ كَفَروا فَلَمّا جاءَهُم ما عَرَفوا كَفَروا بِهِ ۚ فَلَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الكٰفِرينَ
The Quran Consummates All Scriptures
[2:89] When this scripture came to them from GOD, and even though it agrees with, and confirms what they have, and even though they used to prophesy its advent when they talked with the disbelievers, when their own prophecy came to pass, they disbelieved therein. GOD’s condemnation thus afflicts the disbelievers.
قرآن تمام صحیفوں کی تکمیل کرتا ہے
جب یہ کتاب اللہ کی طرف سے اُن کے پاس آئی، اور اگرچہ اُن کے پاس جو کچھ موجود ہے، یہ اُس سے اتفاق کرتی ہے، اور اُس کی تصدیق کرتی ہے، اور اگرچہ جب وہ کافروں سے گفتگو کرتے تھے تو اُس کے آنے کی پیش گوئی کرتے تھے، جب اُن کی اپنی پیش گوئی پوری ہوئی، تو انہوں نے اُس سے انکار کر دیا۔ اِس طرح اللہ کی سزا کافروں پر پڑتی ہے۔
بِئسَمَا اشتَرَوا بِهِ أَنفُسَهُم أَن يَكفُروا بِما أَنزَلَ اللَّهُ بَغيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضلِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ فَباءو بِغَضَبٍ عَلىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلكٰفِرينَ عَذابٌ مُهينٌ
[2:90] Miserable indeed is what they sold their souls for—rejecting these revelations of GOD out of sheer resentment that GOD should bestow His grace upon whomever He chooses from among His servants. Consequently, they.“incurred wrath upon wrath. The disbelievers have incurred a humiliating retribution.
درحقیقت بہت برا ہے وہ، جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی روحیں بیچ ڈالیں۔ اللہ کی اِن آیات کو سراسر عداوت سے جھٹلاتے ہوئے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے، اُس پر اپنا فضل کرے۔ نتیجتاً، انہوں نے عذاب پر عذاب مول لیا۔ منکرین ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔
وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا بِما أَنزَلَ اللَّهُ قالوا نُؤمِنُ بِما أُنزِلَ عَلَينا وَيَكفُرونَ بِما وَراءَهُ وَهُوَ الحَقُّ مُصَدِّقًا لِما مَعَهُم ۗ قُل فَلِمَ تَقتُلونَ أَنبِياءَ اللَّهِ مِن قَبلُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
[2:91] When they are told, “You shall believe in these revelations of GOD,” they say, “We believe only in what was sent down to us.” Thus, they disbelieve in subsequent revelations, even if it is the truth from their Lord, and even though it confirms what they have! Say, “Why then did you kill GOD’s prophets, if you were believers?”
جب اُن سے کہا جاتا ہے، کہ تم اللہ کی اِن آیات پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں، “ہم صرف اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا۔ اِس طرح، وہ بعد میں آنے والی آیات کا انکار کرتے ہیں، خواہ یہ اُن کے رب کی طرف سے سچ ہی کیوں نہ ہو، اور اگرچہ یہ اُس کی تصدیق کرتی ہے جو اُن کے پاس ہے! کہو، اگر تم مومن تھے تو تم نے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا؟
وَلَقَد جاءَكُم موسىٰ بِالبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظٰلِمونَ
Learning From Israel’s History
[2:92] Moses went to you with profound miracles, yet you worshiped the calf in his absence, and you turned wicked.
اسرائیل کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا
موسیٰ تمہارے پاس عظیم معجزات لے کر گیا، پھر بھی تم نے اُس کی غیر موجودگی میں بچھڑے کی پوجا کی، اور تم بدکار ہو گئے۔
وَإِذ أَخَذنا ميثٰقَكُم وَرَفَعنا فَوقَكُمُ الطّورَ خُذوا ما ءاتَينٰكُم بِقُوَّةٍ وَاسمَعوا ۖ قالوا سَمِعنا وَعَصَينا وَأُشرِبوا فى قُلوبِهِمُ العِجلَ بِكُفرِهِم ۚ قُل بِئسَما يَأمُرُكُم بِهِ إيمٰنُكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
[2:93] We made a covenant with you, as we raised Mount Sinai above you, saying, “You shall uphold the commandments we have given you, strongly, and listen.” They said, “We hear, but we disobey.” Their hearts became filled with adoration for the calf, due to their disbelief. Say, “Miserable indeed is what your faith dictates upon you, if you do have any faith.”
ہم نے تمہارے ساتھ ایک عہد کیا، جب ہم نے کوہِ سینا کو تمہارےاوپر بلند کیا تھا، یہ کہتے ہوئے، کہ ہم نے تمہیں جو احکامات دیے ہیں، انہیں مضبوطی سے تھامو، اور سنو۔ انہوں نے کہا، ہم سنتے ہیں، لیکن ہم نافرمانی کرتے ہیں۔ اُن کے دل بچھڑے کی پرستش سے بھر گئے، اُن کے کفر کی وجہ سے۔ کہو، درحقیقت نہایت افسوسناک ہے وہ جس کا تمہارا ایمان تمہیں حکم دیتا ہے، اگر تمہارا کوئی ایمان ہے تو۔
قُل إِن كانَت لَكُمُ الدّارُ الءاخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خالِصَةً مِن دونِ النّاسِ فَتَمَنَّوُا المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ
[2:94] Say, “If the abode of the Hereafter is reserved for you at GOD, to the exclusion of all other people, then you should long for death, if you are truthful.”
کہہ دو، کہ اگر اللہ کے ہاں آخرت کا ٹھکانہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لیے مخصوص ہے، تو تم موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔
وَلَن يَتَمَنَّوهُ أَبَدًا بِما قَدَّمَت أَيديهِم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ
[2:95] They never long for it, because of what their hands have sent forth. GOD is fully aware of the wicked.
وہ کبھی بھی اُس کی تمنا نہیں کریں گے، کیونکہ جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا ہے۔اللہ گناہگاروں سے پوری طرح باخبر ہے۔
وَلَتَجِدَنَّهُم أَحرَصَ النّاسِ عَلىٰ حَيوٰةٍ وَمِنَ الَّذينَ أَشرَكوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُم لَو يُعَمَّرُ أَلفَ سَنَةٍ وَما هُوَ بِمُزَحزِحِهِ مِنَ العَذابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ
[2:96] In fact, you will find them the most covetous of life; even more so than the idol worshipers. The one of them wishes to live a thousand years. But this will not spare him any retribution, no matter how long he lives. GOD is seer of everything they do.
درحقیقت، تم انہیں زندگی کے لیے سب سے زیادہ لالچی پاؤ گے؛ یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ۔ اُن میں سے ہر ایک ہزار سال جینے کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن یہ اُسے کسی بھی طرح کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، خواہ وہ کتنی ہی لمبی زندگی گزارے۔ اللہ اُن کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
قُل مَن كانَ عَدُوًّا لِجِبريلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلىٰ قَلبِكَ بِإِذنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَهُدًى وَبُشرىٰ لِلمُؤمِنينَ
Gabriel Mediates the Revelation
[2:97] Say, “Anyone who opposes Gabriel should know that he has brought down this (Quran) into your heart, in accordance with GOD’s will, confirming previous scriptures, and providing guidance and good news for the believers.”
جبرائیل وحی پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے
کہہ دو، جو کوئی بھی جبرائیل کی مخالفت کرتا ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اُس نے یہ (قرآن) تمہارے دل میں، اللہ کی مرضی کے مطابق اتارا ہے، جو سابقہ صحیفوں کی تصدیق کرتا ہے، اور مومنین کے لیے ہدایت اور خوشخبری فراہم کرتا ہے۔
مَن كانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلٰئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبريلَ وَميكىٰلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلكٰفِرينَ
[2:98] Anyone who opposes GOD, and His angels, and His messengers, and Gabriel and Michael, should know that GOD opposes the disbelievers.
جو کوئی بھی اللہ، اور اُس کے فرشتوں، اور اُس کے رسولوں، اور جبرائیل اور میکائیل کی مخالفت کرتا ہے، تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کافروں کی مخالفت کرتا ہے۔
وَلَقَد أَنزَلنا إِلَيكَ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۖ وَما يَكفُرُ بِها إِلَّا الفٰسِقونَ
[2:99] We have sent down to you such clear revelations, and only the wicked will reject them.
ہم نے تم پر ایسی واضح آیات نازل کی ہیں، اور اُن کا انکار صرف گناہگار ہی کریں گے۔
أَوَكُلَّما عٰهَدوا عَهدًا نَبَذَهُ فَريقٌ مِنهُم ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يُؤمِنونَ
[2:100] Is it not a fact that when they make a covenant and pledge to keep it, some of them always disregard it? In fact, most of them do not believe.
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب بھی وہ کوئی عہد کرتے ہیں اور اُس کو پورا کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں، تو اُن میں کچھ ہمیشہ اُسے نظرانداز کرتے ہیں؟ درحقیقت، اُن میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔
أَوَكُلَّما عٰهَدوا عَهدًا نَبَذَهُ فَريقٌ مِنهُم ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يُؤمِنونَ
[2:100] Is it not a fact that when they make a covenant and pledge to keep it, some of them always disregard it? In fact, most of them do not believe.
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب بھی وہ کوئی عہد کرتے ہیں اور اُس کو پورا کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں، تو اُن میں کچھ ہمیشہ اُسے نظرانداز کرتے ہیں؟ درحقیقت، اُن میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔
وَلَمّا جاءَهُم رَسولٌ مِن عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِما مَعَهُم نَبَذَ فَريقٌ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ كِتٰبَ اللَّهِ وَراءَ ظُهورِهِم كَأَنَّهُم لا يَعلَمونَ
Disregarding God’s Scripture
[2:101] Now that a messenger from GOD has come to them, and even though he proves and confirms their own scripture, some followers of the scripture (Jews, Christians, and Muslims) disregard GOD’s scripture behind their backs, as if they never had any scripture.
اللہ کی کتاب کو نظرانداز کرنا
اب جبکہ اُن کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا ہے، اور اگرچہ وہ اُن کی اپنی کتاب کو ثابت کرتا ہے اور اُس کی تصدیق کرتا ہے، پھر بھی کتابوں کے کچھ پیروکار (یہودی، عیسائی اور مسلمان) اپنی پیٹھ پیچھے اللہ کی کتاب کو اِس طرح نظرانداز کرتے ہیں، جیسے اُن کے پاس کبھی کوئی کتاب تھی ہی نہیں۔
Footnote
*2:101 God’s Messenger of the Covenant is prophesied in the Old Testament (Malachi 3:1-3), the New Testament (Luke 17:22-37), and this Final Testament (3:81).
فٹ نوٹ
اللہ کے میثاق رسول کی پیش گوئی پرانے عہد نامے (ملاکی 3:1–3)، نئے عہد نامے (لوقا 17:22–37)، اور اِس آخری عہد نامے (قرآن، 3:81) میں کی گئی ہے۔
وَاتَّبَعوا ما تَتلُوا الشَّيٰطينُ عَلىٰ مُلكِ سُلَيمٰنَ ۖ وَما كَفَرَ سُلَيمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطينَ كَفَروا يُعَلِّمونَ النّاسَ السِّحرَ وَما أُنزِلَ عَلَى المَلَكَينِ بِبابِلَ هٰروتَ وَمٰروتَ ۚ وَما يُعَلِّمانِ مِن أَحَدٍ حَتّىٰ يَقولا إِنَّما نَحنُ فِتنَةٌ فَلا تَكفُر ۖ فَيَتَعَلَّمونَ مِنهُما ما يُفَرِّقونَ بِهِ بَينَ المَرءِ وَزَوجِهِ ۚ وَما هُم بِضارّينَ بِهِ مِن أَحَدٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمونَ ما يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم ۚ وَلَقَد عَلِموا لَمَنِ اشتَرىٰهُ ما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن خَلٰقٍ ۚ وَلَبِئسَ ما شَرَوا بِهِ أَنفُسَهُم ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ
Witchcraft Condemned
[2:102] They pursued what the devils taught concerning Solomon’s kingdom. Solomon, however, was not a disbeliever, but the devils were disbelievers. They taught the people sorcery, and that which was sent down through the two angels of Babel, Haroot and Maroot. These two did not divulge such knowledge without pointing out: “This is a test. You shall not abuse such knowledge.” But the people used it in such evil schemes as the breaking up of marriages. They can never harm anyone against the will of GOD. They thus learn what hurts them, not what benefits them, and they know full well that whoever practices witchcraft will have no share in the Hereafter. Miserable indeed is what they sell their souls for, if they only knew.”
جادو ٹونے کی مذمت
انہوں نے سلیمان کی سلطنت کے بارے میں شیاطین کی تعلیمات کی پیروی کی۔ حالانکہ، سلیمان کافر نہیں تھا، لیکن شیاطین کافر تھے۔ انہوں نے لوگوں کو جادو سکھایا، اور وہ جو بابل کے دو فرشتوں، ہاروت اور ماروت، کے ذریعے نازل ہوا۔ اُن دونوں نے اِس طرح کے علم کو بغیر نشاندہی کیے ظاہر نہیں کیا: کہ یہ ایک آزمائش ہے۔ تم اِس علم کا غلط استعمال نہ کرنا۔ لیکن لوگوں نے اِس علم کو شادیوں کو توڑنے جیسی شیطانی منصوبوں میں استعمال کیا۔ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اِس طرح انہوں نے وہ سیکھا جو انہیں نقصان پہنچائے، نہ کہ وہ جو انہیں فائدہ دے، اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جو کوئی جادو کرۓ گا، اُس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ درحقیقت بہت برا ہے وہ جس کے عوض انہوں نے اپنی روحوں کو بیچ دیا، اگر وہ واقعی جانتے۔
وَلَو أَنَّهُم ءامَنوا وَاتَّقَوا لَمَثوبَةٌ مِن عِندِ اللَّهِ خَيرٌ ۖ لَو كانوا يَعلَمونَ
[2:103] If they believe and lead a righteous life, the reward from GOD is far better, if they only knew.
اگر وہ ایمان لائیں اور نیک زندگی گزاریں، تو اللہ کی طرف سے اجر کہیں بہتر ہے، اگر وہ واقعی جانتے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا رٰعِنا وَقولُوا انظُرنا وَاسمَعوا ۗ وَلِلكٰفِرينَ عَذابٌ أَليمٌ
Twisting the Words of Supplication
[2:104] O you who believe, do not say, “Raa’ena”* (be our shepherd). Instead, you should say, “Unzurna” (watch over us), and listen. The disbelievers have incurred a painful retribution.”
دعا کے الفاظوں کو بگاڑنا
اے ایمان والو، راعنا (ہمارا چرواہا بنو) مت کہو۔ اِس کی بجائے، تمہیں کہنا چاہیے، اُنظرنا (ہم پر نظر رکھو) اور سنو۔ منکرین دردناک عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔
Footnote
*2:104 The word “Raa`ena” was abused by some Hebrew-speaking people, and twisted to sound like a dirty word (see also 4:46).”
فٹ نوٹ
عبرانی زبان بولنے والے بعض افراد لفظ راعینا کا غلط استعمال کرتے تھے، اور وہ اِس لفظ کو گھما کر اِس طرح ادا کرتے تھے جس سے وہ ایک گندے لفظ کی طرح سنائی دیتا تھا( دیکھیں 4:46 )۔
ما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا مِن أَهلِ الكِتٰبِ وَلَا المُشرِكينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيكُم مِن خَيرٍ مِن رَبِّكُم ۗ وَاللَّهُ يَختَصُّ بِرَحمَتِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ
Jealousy Condemned
[2:105] Neither the disbelievers among the followers of the scripture, nor the idol worshipers, wish to see any blessings come down to you from your Lord. However, GOD showers His blessings upon whomever He chooses. GOD possesses infinite grace.
حسد کی مذمت
نہ تو اہل کتاب میں سے کافر، اور نہ ہی مشرکین یہ چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمتیں نازل ہوں۔ تاہم، اللہ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمتوں کی بارش کرتا ہے۔ اللہ لامحدود فضل کا مالک ہے۔
ما نَنسَخ مِن ءايَةٍ أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها ۗ أَلَم تَعلَم أَنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
The Ultimate Miracle: The Quran’s Mathematical Code*
[2:106] When we abrogate any miracle, or cause it to be forgotten, we produce a better miracle, or at least an equal one. Do you not recognize the fact that GOD is Omnipotent?”
حتمی معجزہ: قرآن کا ریاضیاتی کوڈ*
جب ہم کسی معجزے کو منسوخ کر تے ہیں، یا اُسے بھول جانے کا سبب بناتے ہیں، تو پھرہم اُس سے بہتر، یا کم از کم اُس کے برابر کا معجزہ پیش کرتے ہیں۔ کیا تم اِس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ قادر مطلق ہے؟
Footnote
*2:106 The Quran’s mathematical miracle is perpetual & greater than previous miracles (34:45, 74:35). Like the Quran itself, it confirms, consummates, and supersedes all previous miracles.
فٹ نوٹ
قرآن کا ریاضیاتی معجزہ دائمی ہے اورسابقہ معجزات سے عظیم تر ہے (34:45، 74:35)۔ خود قرآن کی طرح یہ تمام سابقہ معجزات کی تصدیق کرتا ہے، اور اُن پر فوقیت حاصل کرتا ہے۔
أَلَم تَعلَم أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ
[2:107] Do you not recognize the fact that GOD possesses the kingship of the heavens and the earth; that you have none besides GOD as your Lord and Master?
کیا تم اِس حقیقت کو نہیں پہچانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے پاس ہے؛ اور یہ کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی رب اور مالک نہیں ہے؟
أَم تُريدونَ أَن تَسـَٔلوا رَسولَكُم كَما سُئِلَ موسىٰ مِن قَبلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الكُفرَ بِالإيمٰنِ فَقَد ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ
[2:108] Do you wish to demand of your messenger what was demanded of Moses in the past? Anyone who chooses disbelief, instead of belief, has truly strayed off the right path.
کیا تم اپنے رسول سے وہی مطالبہ کرنا چاہتے ہو جو ماضی میں موسیٰ سے کیا گیا تھا؟ جس نے بھی ایمان کی بجائے کفر کا انتخاب کیا، وہ واقعی راہِ راست سے بھٹک چکا ہے۔
وَدَّ كَثيرٌ مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَو يَرُدّونَكُم مِن بَعدِ إيمٰنِكُم كُفّارًا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ ۖ فَاعفوا وَاصفَحوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[2:109] Many followers of the scripture would rather see you revert to disbelief, now that you have believed. This is due to jealousy on their part, after the truth has become evident to them. You shall pardon them, and leave them alone, until GOD issues His judgment. GOD is Omnipotent.
بہت سے مقدس کتاب کے پیروکار چاہتے ہیں کہ تم دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جاؤ، اب جب کہ تم ایمان لے آئے ہو۔ یہ اُن کی طرف سے حسد کی وجہ سے ہے، جبکہ سچ اُن پر واضع ہو چکا ہے۔ تم انہیں معاف کر دو، اور انہیں اکیلا چھوڑ دو، جب تک کہ اللہ اپنا فیصلہ جاری نہ کر دے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔
وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ ۚ وَما تُقَدِّموا لِأَنفُسِكُم مِن خَيرٍ تَجِدوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ
[2:110] You shall observe the Contact Prayers (Salat) and give the obligatory charity (Zakat). Any good you send forth on behalf of your souls, you will find it at GOD. GOD is seer of everything you do.
تم نماز کی پابندی کرو اور زکوۂ اداکرو ، تم اپنی روحوں کی طرف سے جو بھی نیکی آگے بھیجو گے، وہ اللہ کے ہاں پاؤ گے ۔اللہ تمہارے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
وَقالوا لَن يَدخُلَ الجَنَّةَ إِلّا مَن كانَ هودًا أَو نَصٰرىٰ ۗ تِلكَ أَمانِيُّهُم ۗ قُل هاتوا بُرهٰنَكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ
All Believers Are Redeemed, Regardless of the Name of Their Religion
[2:111] Some have said, “No one will enter Paradise except Jews or Christians!” Such is their wishful thinking. Say, “Show us your proof, if you are right.”
تمام مومنین بخشے جاتے ہیں، خواہ اُن کے مذہب کا نام کچھ بھی ہو۔
کچھ نے کہا، جنت میں یہودیوں یا عیسائیوں کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا! یہ اُن کی خواہش مندانہ سوچ ہے۔ کہو، کہ ہمیں اپنا ثبوت دکھاؤ، اگرتم صحیح ہو۔
بَلىٰ مَن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحسِنٌ فَلَهُ أَجرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
Submission: The Only Religion
[2:112] Indeed, those who submit themselves absolutely to GOD alone, while leading a righteous life, will receive their recompense from their Lord; they have nothing to fear, nor will they grieve.*
فرمابرداری: واحد مذہب
درحقیقت، وہ جو مکمل طور پر صرف اللہ کے فرمابردار ہو جاتے ہیں ،نیک زندگی گزارتے ہیں انہیں اُن کے پروردگار کی طرف سے صلہ ملے گا۔اُن کو نہ کوئی خوف ہو گا، نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
Footnote
*2:111-112 See 2:62 and 5:69.
فٹ نوٹ
دیکھیں 112-111: 2 اور 62:2 اور 69:5
وَقالَتِ اليَهودُ لَيسَتِ النَّصٰرىٰ عَلىٰ شَيءٍ وَقالَتِ النَّصٰرىٰ لَيسَتِ اليَهودُ عَلىٰ شَيءٍ وَهُم يَتلونَ الكِتٰبَ ۗ كَذٰلِكَ قالَ الَّذينَ لا يَعلَمونَ مِثلَ قَولِهِم ۚ فَاللَّهُ يَحكُمُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ
[2:113] The Jews said, “The Christians have no basis,” while the Christians said, “The Jews have no basis.” Yet, both of them read the scripture. Such are the utterances of those who possess no knowledge. GOD will judge them on the Day of Resurrection, regarding their disputes.”
یہودیوں نے کہا، کہ عیسائیوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے, جبکہ عیسائیوں نے کہا، کہ یہودیوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ حالانکہ، دونوں الہامی کتاب پڑھتے ہیں ۔ اِس طرح کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو کوئی علم نہیں رکھتے۔ اللہ قیامت کے دن اُن کے اِن اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔
وَمَن أَظلَمُ مِمَّن مَنَعَ مَسٰجِدَ اللَّهِ أَن يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ وَسَعىٰ فى خَرابِها ۚ أُولٰئِكَ ما كانَ لَهُم أَن يَدخُلوها إِلّا خائِفينَ ۚ لَهُم فِى الدُّنيا خِزىٌ وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ
You Shall Frequent the Masjid
[2:114] Who are more evil than those who boycott GOD’s masjids, where His name is commemorated, and contribute to their desertion? These ought not to enter therein except fearfully. They will suffer in this life humiliation, and will suffer in the Hereafter a terrible retribution.
تمہیں کثرت سے مسجد جانا چاہیے
اُن سے بڑھ کر بدکار کون ہیں جو اللہ کی مسجدوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں، جہاں اُس کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور انہیں ویران کرنے میں شریک ہوتے ہیں؟ اُن کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اُن میں بغیر خوف کے داخل نہ ہوں۔ وہ اِس دنیا میں بھی ذلت اٹھائیں گے اور آخرت میں خوفناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
وَلِلَّهِ المَشرِقُ وَالمَغرِبُ ۚ فَأَينَما تُوَلّوا فَثَمَّ وَجهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وٰسِعٌ عَليمٌ
[2:115] To GOD belongs the east and the west; wherever you go there will be the presence of GOD. GOD is Omnipresent, Omniscient.
مشرق اور مغرب اللہ ہی کی ملکیت ہیں؛ تم جہاں کہیں بھی جاؤ گے وہاں اللہ کو موجود پاؤ گے۔ اللہ ہر جگہ موجود ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔
وَقالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبحٰنَهُ ۖ بَل لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ كُلٌّ لَهُ قٰنِتونَ
Gross Blasphemy
[2:116] They said, “GOD has begotten a son!” Be He glorified; never! To Him belongs everything in the heavens and the earth; all are subservient to Him.”
سنگین توہین
انہوں نے کہا، اللہ نے ایک بیٹا پیدا کیاہے! سب تعریف اللہ کی ہے؛ ہر گز نہیں! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اُسی کی ملکیت ہے؛ اور سب اُس کے تابع ہیں۔
بَديعُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَإِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ
[2:117] The Initiator of the heavens and the earth: to have anything done, He simply says to it, “Be,” and it is.”
آسمانوں اور زمین کا آغاز کرنے والا: کسی بھی کام کو انجام دینے کے لیے، وہ صرف اُس سے کہتا ہے، ہو جا، اور وہ ہو جاتا ہے۔
وَقالَ الَّذينَ لا يَعلَمونَ لَولا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَو تَأتينا ءايَةٌ ۗ كَذٰلِكَ قالَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم مِثلَ قَولِهِم ۘ تَشٰبَهَت قُلوبُهُم ۗ قَد بَيَّنَّا الءايٰتِ لِقَومٍ يوقِنونَ
[2:118] Those who possess no knowledge say, “If only GOD could speak to us, or some miracle could come to us!” Others before them have uttered similar utterances; their minds are similar. We do manifest miracles for those who have attained certainty.”
جو لوگ علم نہیں رکھتے، وہ کہتے ہیں،کاش اللہ ہم سے کلام کرتا، یا ہمارے پاس کوئی معجزہ آتا! اِس طرح کی باتیں اُن سے پہلے لوگ بھی کر چکے ہیں؛ اُن کے ذہن ایک جیسے ہیں۔ ہم معجزات ظاہر کرتے ہیں اُن کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
إِنّا أَرسَلنٰكَ بِالحَقِّ بَشيرًا وَنَذيرًا ۖ وَلا تُسـَٔلُ عَن أَصحٰبِ الجَحيمِ
[2:119] We have sent you with the truth as a bearer of good news, as well as a warner. You are not answerable for those who incur Hell.b
ہم نے تمہیں سچائی کے ساتھ ایک خوشخبری دینے والا، اور اُس کے ساتھ ساتھ خبردار کرنے والا بنا کر بھجا ہے۔ تم اُن کے لیے جوابدہ نہیں ہو جو جہنم کے مستحق ہیں۔
Footnote
*2:119 It is my obligation to point out that the identity of this messenger is confirmed to be “Rashad Khalifa,” God’s Messenger of the Covenant. By adding the gematrical value of “Rashad” (505), plus the gematrical value of “Khalifa” (725), plus the verse number (119), we get 1349, a multiple of 19. See 3:81 and Appendix Two.”
فٹ نوٹ
یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں واضح کر دوں کہ اِس رسول کی شناخت راشاد خلیفہ اللہ کے میثاق رسول ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔اگر راشاد کا عددی شمار (505) اور خلیفہ کا عددی شمار (725) کے ساتھ اِس آیت کا نمبر (119) کو جمع کیا جائے تو اُن کا مجموعہ 1349 ہے جو 19 پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ دیکھیے 3:81 اور ضمیمہ 2۔
وَلَن تَرضىٰ عَنكَ اليَهودُ وَلَا النَّصٰرىٰ حَتّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُم ۗ قُل إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الهُدىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعتَ أَهواءَهُم بَعدَ الَّذى جاءَكَ مِنَ العِلمِ ۙ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ
[2:120] Neither the Jews, nor the Christians, will accept you, unless you follow their religion. Say, “GOD’s guidance is the true guidance.” If you acquiesce to their wishes, despite the knowledge you have received, you will find no ally or supporter to help you against GOD.”
نہ تو یہودی، اور نہ ہی عیسائی، تمہں قبول کریں گے، جب تک کہ تم اُن کے مذہب کی پیروی نہ کرو۔ کہہ دو، اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آ چکا ہے، اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو تمہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ملے گا۔
حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولٰئِكَ يُؤمِنونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكفُر بِهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ
[2:121] Those who received the scripture, and know it as it should be known, will believe in this. As for those who disbelieve, they are the losers.
جن لوگوں نے الہامی کتاب وصول کی، اور جو اُسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے پہچاننا چاہیے، وہ اس پر ایمان لائیں گے۔ وہ جو انکار کریں گے، وہی خسارے میں ہیں۔
يٰبَنى إِسرٰءيلَ اذكُروا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّى فَضَّلتُكُم عَلَى العٰلَمينَ
[2:122] O Children of Israel, remember My favor which I bestowed upon you, and that I blessed you more than any other people.
اے بنی اسرائیل، میرے اُس احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ نوازا۔
وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزى نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيـًٔا وَلا يُقبَلُ مِنها عَدلٌ وَلا تَنفَعُها شَفٰعَةٌ وَلا هُم يُنصَرونَ
[2:123] Beware of the day when no soul will help another soul, no ransom will be accepted, no intercession will be useful, and no one will be helped.
خبردار ہو جاؤ اُس دن سے جب کوئی جان کسی دوسری جان کی مدد نہیں کرۓ گی، نہ کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش فائدہ مند ہو گی، اور نہ ہی کسی کی مدد کی جائے گی۔
وَإِذِ ابتَلىٰ إِبرٰهۦمَ رَبُّهُ بِكَلِمٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قالَ إِنّى جاعِلُكَ لِلنّاسِ إِمامًا ۖ قالَ وَمِن ذُرِّيَّتى ۖ قالَ لا يَنالُ عَهدِى الظّٰلِمينَ
Abraham
[2:124] Recall that Abraham was put to the test by his Lord, through certain commands, and he fulfilled them. (God) said, “I am appointing you an imam for the people.” He said, “And also my descendants?” He said, “My covenant does not include the transgressors.”
ابراہیم
یاد کرو جب ابراہیم کو اُس کے رب نے چند احکامات کے ذریعے آزمایا،اور اُس نے انہیں پورا کیا۔ (اللہ ) نے کہا، میں تمہیں لوگوں کے لیے امام مقرر کر رہا ہوں۔ اُس نے کہا، اور میری نسل میں سے بھی؟ اُس نے کہا، میرے عہد میں گناہگار شامل نہیں ہیں۔
وَإِذ جَعَلنَا البَيتَ مَثابَةً لِلنّاسِ وَأَمنًا وَاتَّخِذوا مِن مَقامِ إِبرٰهۦمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدنا إِلىٰ إِبرٰهۦمَ وَإِسمٰعيلَ أَن طَهِّرا بَيتِىَ لِلطّائِفينَ وَالعٰكِفينَ وَالرُّكَّعِ السُّجودِ
[2:125] We have rendered the shrine (the Ka’aba) a focal point for the people, and a safe sanctuary. You may use Abraham’s shrine as a prayer house. We commissioned Abraham and Ismail: “You shall purify My house for those who visit, those who live there, and those who bow and prostrate.”
ہم نے اِس مقدس مقام (کعبہ) کو لوگوں کے لیے مرکز، اور محفوظ پناہ گاہ بنایا۔ تم ابراہیم کے حرم کو عبادت گاہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہو۔ ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو حکم دیا: میرا گھر زیارت کرنے والوں، وہاں قیام کرنے والوں، اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔
وَإِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّ اجعَل هٰذا بَلَدًا ءامِنًا وَارزُق أَهلَهُ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَن ءامَنَ مِنهُم بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۖ قالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَليلًا ثُمَّ أَضطَرُّهُ إِلىٰ عَذابِ النّارِ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ
[2:126] Abraham prayed: “My Lord, make this a peaceful land, and provide its people with fruits. Provide for those who believe in GOD and the Last Day.” (God) said, “I will also provide for those who disbelieve. I will let them enjoy, temporarily, then commit them to the retribution of Hell, and a miserable destiny.”
ابراہیم نے دعا کی: اے میرے رب، اِس سرزمین کو پرامن بنا دے،اور اِس کے لوگوں کو پھل عطا فرما۔ اُنہیں رزق عطا فرما جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (اللہ ) نےکہا، میں اُنہیں بھی رزق دوں گا جنہوں نے کفر کیا۔ میں انہیں وقتی طور پر لطف اندوز ہونے دوں گا، پھر میں انہیں جہنم کے عذاب میں جھونک دوں گا، اور وہ ایک بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
وَإِذ يَرفَعُ إِبرٰهۦمُ القَواعِدَ مِنَ البَيتِ وَإِسمٰعيلُ رَبَّنا تَقَبَّل مِنّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ
Abraham Delivered All the Practices of Submission (Islam)
[2:127] As Abraham raised the foundations of the shrine, together with Ismail (they prayed): “Our Lord, accept this from us. You are the Hearer, the Omniscient.”
ابراہیم نے فرمابرداری (اسلام) کے تمام عملی طریقے پہنچاۓ
جب ابراہیم خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہا تھا تو، ( انہوں نے دعا کی)ہمارے رب، ہم سے یہ قبول فرما۔ تو سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
رَبَّنا وَاجعَلنا مُسلِمَينِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنا أُمَّةً مُسلِمَةً لَكَ وَأَرِنا مَناسِكَنا وَتُب عَلَينا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
[2:128] “Our Lord, make us submitters to You, and from our descendants let there be a community of submitters to You. Teach us the rites of our religion, and redeem us. You are the Redeemer, Most Merciful.”
اے ہمارے رب، ہمیں اپنا فرمانبردار بنا، اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی قوم پیدا کر جو تیری فرمانبردار ہو۔ ہمیں ہماری عبادات کے طریقے سکھا، اور ہماری بخشش فرما۔ تو بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
رَبَّنا وَابعَث فيهِم رَسولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ
[2:129] “Our Lord, and raise among them a messenger to recite to them Your revelations, teach them the scripture and wisdom, and purify them. You are the Almighty, Most Wise”.
ہمارے رب، اور اُن میں سے ایک رسول اٹھا جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں مقدس کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور انہیں پاک کرے۔ تو تمام طاقتوں کا مالک، انتہائی دانا ہے۔
وَمَن يَرغَبُ عَن مِلَّةِ إِبرٰهۦمَ إِلّا مَن سَفِهَ نَفسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصطَفَينٰهُ فِى الدُّنيا ۖ وَإِنَّهُ فِى الءاخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحينَ
[2:130] Who would forsake the religion of Abraham, except one who fools his own soul? We have chosen him in this world, and in the Hereafter he will be with the righteous.
وہ کون ہو گا جو ابراہیم کے مذہب کو ترک کرے گا، سوائے اُس کے جو خود اپنی ہی روح کو بیوقوف بناتا ہے؟ ہم نے اُسے اِس دنیا میں چن لیا ہے، اور آخرت میں وہ نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا۔
إِذ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسلِم ۖ قالَ أَسلَمتُ لِرَبِّ العٰلَمينَ
[2:131] When his Lord said to him, “Submit,” he said, “I submit to the Lord of the universe.”
جب اُس کے رب نے اُس سے کہا، فرمابردار ہو جا، تو اُس نے کہا, میں رب کائنات کا فرمانبردار ہوں۔
وَوَصّىٰ بِها إِبرٰهۦمُ بَنيهِ وَيَعقوبُ يٰبَنِىَّ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰ لَكُمُ الدّينَ فَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ
[2:132] Moreover, Abraham exhorted his children to do the same, and so did Jacob: “O my children, GOD has pointed out the religion for you; do not die except as submitters.”
اِس کے علاوہ، ابراہیم نے اپنی اولاد کو یہی نصیحت کی، اور یعقوب نے بھی: اے میرے بچو، اللہ نے تمہارے لیے مذہب کی نشاندہی کر دی ہے؛ سوائے فرمابردار ہونے کے مت مرنا۔
أَم كُنتُم شُهَداءَ إِذ حَضَرَ يَعقوبَ المَوتُ إِذ قالَ لِبَنيهِ ما تَعبُدونَ مِن بَعدى قالوا نَعبُدُ إِلٰهَكَ وَإِلٰهَ ءابائِكَ إِبرٰهۦمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ إِلٰهًا وٰحِدًا وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ
[2:133] Had you witnessed Jacob on his death bed; he said to his children, “What will you worship after I die?” They said, “We will worship your god; the god of your fathers Abraham, Ismail, and Isaac; the one god. To Him we are submitters.”
اگر تم نے یعقوب کو بستر مرگ پر دیکھا ہوتا؛ اُس نے اپنے بچوں سے کہا، میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا، ہم تمہارے رب کی عبادت کریں گے؛ تمہارے آباواجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے رب کی؛ جو ایک ہی خداہے۔ ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔
تِلكَ أُمَّةٌ قَد خَلَت ۖ لَها ما كَسَبَت وَلَكُم ما كَسَبتُم ۖ وَلا تُسـَٔلونَ عَمّا كانوا يَعمَلونَ
[2:134] Such is a community from the past. They are responsible for what they earned, and you are responsible for what you earned. You are not answerable for anything they have done.
اِس طرح کی ہے یہ ماضی کی ایک جماعت ۔ وہ اُس کے ذمہ دار ہیں جو انہوں نے کمایا، اور تم اُس کے ذمہ دار ہو جو تم نے کمایا۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اُس کے لیے تم جوابدہ نہیں ہو۔
وَقالوا كونوا هودًا أَو نَصٰرىٰ تَهتَدوا ۗ قُل بَل مِلَّةَ إِبرٰهۦمَ حَنيفًا ۖ وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ
Submission (Islam): Abraham’s Religion*
[2:135] They said, “You have to be Jewish or Christian, to be guided.” Say, “We follow the religion of Abraham—monotheism—he never was an idol worshiper.”
فرمابرداری (اسلام): ابراہیم کا مذہب*
انہوں نے کہا، کہ ہدایت پانے کے لیے تمہیں یہودی یا عیسائی ہونا پڑے گا۔کہو، ہم ابراہیم کے مذہب کی پیروی کرتے ہیں _ توحید کے عقیدے کی _ وہ کبھی بھی بت پرست نہیں تھا۔
Footnote
*2:135 The Quran repeatedly informs us that Submission is the religion of Abraham (3:95, 4:125, 6:161, 22:78). Abraham received a practical “scripture,” namely, all the duties and practices of Submission [the Contact Prayers (Salat), the obligatory charity (Zakat), the fasting of Ramadan, and the Hajj pilgrimage]. Muhammad was a follower of Abraham’s religion, as we see in 16:123; he delivered this Final Testament, the Quran. The third messenger of Submission delivered the religion’s proof of authenticity (see 3:81 and Appendices 1, 2, 24, & 26).”
فٹ نوٹ
قرآن بار بار ہمیں بتاتا ہے کہ فرمانبرداری (اسلام) ابراہیمؑ کا مذہب ہے (دیکھیں: 3:95، 4:125، 6:161، 22:78)۔ ابراہیمؑ کو ایک عملی کتاب دی گئی تھی، یعنی فرمانبرداری (اسلام) کے تمام فرائض اور طریقے: نماز (صلاۃ)، زکوٰۃ، رمضان کے روزے، اور حج۔ محمدؐ، ابراہیمؑ کے مذہب کا پیروکار تھا، جیسا کہ سورۂ 16:123 میں بیان کیا گیا ہے؛ اور اُس نے یہ آخری کتاب، یعنی قرآن، پہنچایا۔ اسلام کے تیسرے رسول نے اِس مذہب کی صداقت کا ثبوت پیش کیا (دیکھیں 3:81 اور ضمیمہ 1، 2، 24، اور 26)۔
قولوا ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا وَما أُنزِلَ إِلىٰ إِبرٰهۦمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَما أوتِىَ موسىٰ وَعيسىٰ وَما أوتِىَ النَّبِيّونَ مِن رَبِّهِم لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ
No Distinction Among God’s Messengers
[2:136] Say, “We believe in GOD, and in what was sent down to us, and in what was sent down to Abraham, Ismail, Isaac, Jacob, and the Patriarchs; and in what was given to Moses and Jesus, and all the prophets from their Lord. We make no distinction among any of them. To Him alone we are submitters.”
اللہ کے رسولوں میں کوئی تفریق نہیں۔
کہو، ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا، اور جو کچھ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور بزرگان پر نازل کیا گیا تھا، اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ، اور تمام انبیاء کو اُن کے رب کی طرف سے دیا گیا تھا۔ ہم اُن میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے، ہم اکیلے اُس کے فرمانبردار ہیں۔
فَإِن ءامَنوا بِمِثلِ ما ءامَنتُم بِهِ فَقَدِ اهتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما هُم فى شِقاقٍ ۖ فَسَيَكفيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ
[2:137] If they believe as you do, then they are guided. But if they turn away, then they are in opposition. GOD will spare you their opposition; He is the Hearer, the Omniscient.
اگر وہ اُسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم لائے ہو، تو وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ لیکن اگر وہ منہ پھیر لیں، تو پھر وہ مخالفت میں ہیں۔ اللہ تمہیں اُن کی مخالفت سے بچا لے گا؛ وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
صِبغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبغَةً ۖ وَنَحنُ لَهُ عٰبِدونَ
[2:138] Such is GOD’s system, and whose system is better than GOD’s? “Him alone we worship.”
یہی اللہ کا نظام ہے، اور اللہ کے نظام سے بہتر نظام کس کا ہو سکتا ہے؟ ہم صرف اکیلے اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔
قُل أَتُحاجّونَنا فِى اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنا وَرَبُّكُم وَلَنا أَعمٰلُنا وَلَكُم أَعمٰلُكُم وَنَحنُ لَهُ مُخلِصونَ
[2:139] Say, “Do you argue with us about GOD, when He is our Lord and your Lord? We are responsible for our deeds, and you are responsible for your deeds. To Him alone we are devoted.”
کہو، کیا تم ہم سےاللہ کے بارے میں بحث کرتے ہو، جب کہ وہ ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی؟ ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، اور تم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو۔ ہم اکیلے اُسی کے لیے وقف ہیں۔
أَم تَقولونَ إِنَّ إِبرٰهۦمَ وَإِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطَ كانوا هودًا أَو نَصٰرىٰ ۗ قُل ءَأَنتُم أَعلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَن أَظلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهٰدَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ
[2:140] Do you say that Abraham, Ismail, Isaac, Jacob, and the Patriarchs were Jewish or Christian? Say, “Do you know better than GOD? Who is more evil than one who conceals a testimony he has learned from GOD? GOD is never unaware of anything you do.”
کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور بزرگان یہودی یا عیسائی تھے؟ کہو، کیا تم اللہ سے بہتر جانتے ہو؟ اُس سے زیادہ بڑھ کر بُرا کون ہے جو اللہ کی طرف سے سیکھی ہوئی گواہی کو چھپاتا ہے؟ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اُس سے کبھی بے خبر نہیں ہے۔
تِلكَ أُمَّةٌ قَد خَلَت ۖ لَها ما كَسَبَت وَلَكُم ما كَسَبتُم ۖ وَلا تُسـَٔلونَ عَمّا كانوا يَعمَلونَ
[2:141] That was a community from the past. They are responsible for what they earned, and you are responsible for what you earned. You are not answerable for anything they did.
وہ ماضی کی ایک قوم تھی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ اُس کے ذمہ دار ہیں، اور جو کچھ تم نے کمایا، تم اُس کے ذمہ دار ہو۔ تم اُن کے کسی عمل کے لیے جواب ده نہیں ہو۔
سَيَقولُ السُّفَهاءُ مِنَ النّاسِ ما وَلّىٰهُم عَن قِبلَتِهِمُ الَّتى كانوا عَلَيها ۚ قُل لِلَّهِ المَشرِقُ وَالمَغرِبُ ۚ يَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ
Abolition of Bigotry and Prejudice*
[2:142] The fools among the people would say, “Why did he change the direction of their Qiblah?” Say, “To GOD belongs the east and the west; He guides whoever wills in a straight path.”
تعصب اور تنگ نظری کا خاتمہ
لوگوں میں سے بےوقوف کہیں گے، کہ اُس نے اُن کے قبلے کا رخ کیوں بدل دیا؟ کہہ دو، مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں؛ جو کوئی بھی سیدھے راستے پر چلنا چاہے، وہ اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔
Footnote
*2:142-145 “Qiblah” is the direction one faces during the Contact Prayers (Salat). When Gabriel conveyed to Muhammad the command to face Jerusalem instead of Mecca, the hypocrites were exposed. The Arabs were strongly prejudiced in favor of the Ka`aba as their “Qiblah.” Only the true believers were able to overcome their prejudices; they readily obeyed the messenger.”
فٹ نوٹ
قبلہ وہ سمت ہے جس کی طرف نماز کے دوران رخ کیا جاتا ہے۔ جب جبرائیل نے محمد کو مکہ کی بجائے یروشلم کی طرف رخ کرنے کا حکم پہنچایا، تو منافقین بے نقاب ہو گئے۔ عرب کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دینے کے حق میں سخت متعصب تھے۔ صرف سچے مومن ہی اپنے اِن تعصبات پر قابو پانے میں کامیاب رہے، انہوں نے فوراً رسول کی اطاعت کی۔
وَكَذٰلِكَ جَعَلنٰكُم أُمَّةً وَسَطًا لِتَكونوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ وَيَكونَ الرَّسولُ عَلَيكُم شَهيدًا ۗ وَما جَعَلنَا القِبلَةَ الَّتى كُنتَ عَلَيها إِلّا لِنَعلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلىٰ عَقِبَيهِ ۚ وَإِن كانَت لَكَبيرَةً إِلّا عَلَى الَّذينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَما كانَ اللَّهُ لِيُضيعَ إيمٰنَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنّاسِ لَرَءوفٌ رَحيمٌ
[2:143] We thus made you an impartial community, that you may serve as witnesses among the people, and the messenger serves as a witness among you. We changed the direction of your original Qiblah only to distinguish those among you who readily follow the messenger from those who would turn back on their heels. It was a difficult test, but not for those who are guided by GOD. GOD never puts your worship to waste. GOD is Compassionate towards the people, Most Merciful.”
اِس طرح ہم نے تمہیں ایک غیرجانبدار جماعت بنایا، تاکہ تم لوگوں کے درمیان گواہ بنو، اور رسول تمہارے درمیان گواہ بنے۔ ہم نے تمہارے اصل قبلہ کا رخ صرف اِس لیے تبدیل کیا ہے تاکہ ہم فرق کر سکیں تم میں سے اُن لوگوں کے درمیان جو فوراً رسول کی پیروی کرتے ہیں، اور وہ جو الٹے قدموں پھر جاتے ہیں۔ یہ ایک مشکل آزمائش تھی، لیکن اُن لوگوں کے لیے نہیں جو اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں۔ اللہ تمہاری عبادت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اللہ لوگوں پر مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
قَد نَرىٰ تَقَلُّبَ وَجهِكَ فِى السَّماءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبلَةً تَرضىٰها ۚ فَوَلِّ وَجهَكَ شَطرَ المَسجِدِ الحَرامِ ۚ وَحَيثُ ما كُنتُم فَوَلّوا وُجوهَكُم شَطرَهُ ۗ وَإِنَّ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ لَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّهِم ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا يَعمَلونَ
Qiblah Restored to Mecca
[2:144] We have seen you turning your face about the sky (searching for the right direction). We now assign a Qiblah that is pleasing to you. Henceforth, you shall turn your face towards the Sacred Masjid. Wherever you may be, all of you shall turn your faces towards it. Those who received the previous scripture know that this is the truth from their Lord. GOD is never unaware of anything they do.
قبلہ مکہ کی طرف بحال کیا گیا
ہم نے تمہیں آسمان کی طرف منہ پھیرتے ہوئے دیکھا (صحیح سمت کی تلاش میں)۔ اب ہم وہ قبلہ مقرر کرتے ہیں جو تمہیں پسند ہے۔ اب سے، تم اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو، تم سب اپنا رخ اُسی طرف کرو۔ وہ جنہوں نے پچھلی آسمانی کتاب وصول کی تھی، وہ جانتے ہیں کہ یہ اُن کے رب کی طرف سے سچ ہے۔ اللہ اُن کے اعمال سے کبھی غافل نہیں ہے۔
وَلَئِن أَتَيتَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ بِكُلِّ ءايَةٍ ما تَبِعوا قِبلَتَكَ ۚ وَما أَنتَ بِتابِعٍ قِبلَتَهُم ۚ وَما بَعضُهُم بِتابِعٍ قِبلَةَ بَعضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعتَ أَهواءَهُم مِن بَعدِ ما جاءَكَ مِنَ العِلمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظّٰلِمينَ
[2:145] Even if you show the followers of the scripture every kind of miracle, they will not follow your Qiblah. Nor shall you follow their Qiblah. They do not even follow each others’ Qiblah. If you acquiesce to their wishes, after the knowledge that has come to you, you will belong with the transgressors.
اگر تم اہلِ کتاب کو ہر قسم کا معجزہ بھی دکھاؤ، تب بھی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ نہ ہی تم اُن کے قبلہ کی پیروی کرو۔ وہ تو ایک دوسرے کے قبلے کی بھی پیروی نہیں کرتے۔ اگر تم نے، اِس علم کے آنے کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو تم بھی ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعرِفونَهُ كَما يَعرِفونَ أَبناءَهُم ۖ وَإِنَّ فَريقًا مِنهُم لَيَكتُمونَ الحَقَّ وَهُم يَعلَمونَ
Abuse of the Scripture: Selective Emphasis and Concealment
[2:146] Those who received the scripture recognize the truth herein, as they recognize their own children. Yet, some of them conceal the truth, knowingly.
مقدس کتاب کا غلط استعمال: مخصوص باتوں پر زور دینااور (بعض کو چھپانا)
جن لوگوں نے مقدس کتاب وصول کی وہ اُس میں سچ کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ پھر بھی، اُن میں سے کچھ جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں۔
الحَقُّ مِن رَبِّكَ ۖ فَلا تَكونَنَّ مِنَ المُمتَرينَ
[2:147] This is the truth from your Lord; do not harbor any doubt.
یہ تمہارے رب کی طرف سے سچ ہے؛ اِس میں ہر گز شک نہ کرو۔
وَلِكُلٍّ وِجهَةٌ هُوَ مُوَلّيها ۖ فَاستَبِقُوا الخَيرٰتِ ۚ أَينَ ما تَكونوا يَأتِ بِكُمُ اللَّهُ جَميعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[2:148] Each of you chooses the direction to follow; you shall race towards righteousness. Wherever you may be, GOD will summon you all. GOD is Omnipotent.
تم میں سے ہر ایک پیروی کرنے کے لیے سمت کا انتخاب کرتا ہے؛ تمہیں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔تم جہاں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو بلائے گا۔ اللہ قادر مطلق ہے۔
وَمِن حَيثُ خَرَجتَ فَوَلِّ وَجهَكَ شَطرَ المَسجِدِ الحَرامِ ۖ وَإِنَّهُ لَلحَقُّ مِن رَبِّكَ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ
Qiblah Restored to Mecca
[2:149] Wherever you go, you shall turn your face (during Salat) towards the Sacred Masjid. This is the truth from your Lord. GOD is never unaware of anything you all do.
قبلہ مکہ کی طرف بحال کیا گیا
تم جہاں بھی جاؤ، اپنا رخ (نماز کے دوران) مسجد حرام کی طرف کرو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے سچ ہے۔جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے ہرگز غافل نہیں ہے۔
Footnote
*2:149 A glaring proof of the idolatry committed by today’s “Muslims” is the designation of Muhammad’s tomb as a “Sacred Masjid.” The Quran mentions only one “Sacred Masjid.”
فٹ نوٹ
آج کے مسلمانوں کی طرف سےشرک کرنے کا ایک نمایاں ثبوت محمد کے مزار کو مقدس مسجد قرار دینا ہے۔ حالانکہ قرآن میں صرف ایک ہی مقدس مسجد کا ذکر ہے۔
وَمِن حَيثُ خَرَجتَ فَوَلِّ وَجهَكَ شَطرَ المَسجِدِ الحَرامِ ۚ وَحَيثُ ما كُنتُم فَوَلّوا وُجوهَكُم شَطرَهُ لِئَلّا يَكونَ لِلنّاسِ عَلَيكُم حُجَّةٌ إِلَّا الَّذينَ ظَلَموا مِنهُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونى وَلِأُتِمَّ نِعمَتى عَلَيكُم وَلَعَلَّكُم تَهتَدونَ
[2:150] Wherever you go, you shall turn your face (during Salat) towards the Sacred Masjid; wherever you might be, you shall turn your faces (during Salat) towards it. Thus, the people will have no argument against you, except the transgressors among them. Do not fear them, and fear Me instead. I will then perfect My blessings upon you, that you may be guided.
تم جہاں کہیں بھی جاو، اپنا رخ (نماز کے دوران) مسجد حرام کی طرف کرو؛ تم جہاں کہیں بھی ہو، (نماز کے دوران) اپنا رخ اُسی کی طرف کرو۔تاکہ، لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ رہے، سوائے اُن میں سے وہ جو حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اُن سے مت ڈرو، اور اُس کی بجاے مجھ سے ڈرو۔ میں پھر اپنی نعمتیں تم پر مکمل کر دوں گا، تاکہ تم ہدایت پا سکو۔
كَما أَرسَلنا فيكُم رَسولًا مِنكُم يَتلوا عَلَيكُم ءايٰتِنا وَيُزَكّيكُم وَيُعَلِّمُكُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُعَلِّمُكُم ما لَم تَكونوا تَعلَمونَ
[2:151] (Blessings) such as the sending of a messenger from among you to recite our revelations to you, purify you, teach you the scripture and wisdom, and to teach you what you never knew.
(رحمتیں) جیسا کہ تم ہی میں سے ایک رسول کا بھیجا جانا، جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائے، تمہیں پاک کرے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور تمہیں وہ کچھ سکھائے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔
فَاذكُرونى أَذكُركُم وَاشكُروا لى وَلا تَكفُرونِ
[2:152] You shall remember Me, that I may remember you, and be thankful to Me; do not be unappreciative.
تم مجھے یاد کرو، تاکہ میں تمہیں یاد رکھوں، اور میرے شکرگزار بنو؛ ناشکری مت کرو۔
أَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا استَعينوا بِالصَّبرِ وَالصَّلوٰةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصّٰبِرينَ
[2:153] O you who believe, seek help through steadfastness and the Contact Prayers (Salat). GOD is with those who steadfastly persevere.
اے ایمان والو، ثابت قدمی اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں۔
وَلا تَقولوا لِمَن يُقتَلُ فى سَبيلِ اللَّهِ أَموٰتٌ ۚ بَل أَحياءٌ وَلٰكِن لا تَشعُرونَ
Where Do We Go From Here?
[2:154] Do not say of those who are killed in the cause of GOD, “They are dead.” They are alive at their Lord, but you do not perceive.”
ہم نے یہاں سے کہاں جانا ہے؟
جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُن کے بارے میں یہ مت کہو، وہ مردہ ہیں۔ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔
Footnote
*2:154 The righteous do not really die; they simply leave their bodies here and go to the same Paradise where Adam and Eve once lived. See Appendix 17 for the proof and the details.
فٹ نوٹ
نیک لوگ حقیقت میں مرتے نہیں؛ وہ صرف اپنے جسم یہاں چھوڑ کر اُسی جنت میں چلے جاتے ہیں جہاں آدم اور حوا کبھی رہتے تھے۔ ثبوت اور تفصیلات کے لیے ضمیمہ 17 دیکھیں۔
وَلَنَبلُوَنَّكُم بِشَيءٍ مِنَ الخَوفِ وَالجوعِ وَنَقصٍ مِنَ الأَموٰلِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۗ وَبَشِّرِ الصّٰبِرينَ
[2:155] We will surely test you through some fear, hunger, and loss of money, lives, and crops. Give good news to the steadfast
ہم یقیناً تمہیں خوف، بھوک، مال، جانوں اور فصلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔ ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
footnote
*2:155 The test is designed to prove that we worship God alone under all circumstances (29:2).
فٹ نوٹ
یہ آزمائش اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے کہ ہم ہر حال میں صرف اکیلے اللہ کی عبادت کرتے ہیں (2:29)۔
الَّذينَ إِذا أَصٰبَتهُم مُصيبَةٌ قالوا إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ رٰجِعونَ
[2:156] When an affliction befalls them, they say, “We belong to GOD, and to Him we are returning.”
جب اُن پر کوئی مصیبت آتی ہے ،وہ کہتے ہیں، کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں، اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
أُولٰئِكَ عَلَيهِم صَلَوٰتٌ مِن رَبِّهِم وَرَحمَةٌ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُهتَدونَ
[2:157] These have deserved blessings from their Lord and mercy. These are the guided ones.
یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی نعمتوں اور رحمت کے مستحق ہیں۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
إِنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَن حَجَّ البَيتَ أَوِ اعتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيرًا فَإِنَّ اللَّهَ شاكِرٌ عَليمٌ
Hajj Pilgrimage
[2:158] The knolls of Safa and Marwah are among the rites decreed by GOD. Anyone who observes Hajj or ‘Umrah commits no error by traversing the distance between them. If one volunteers more righteous works, then GOD is Appreciative, Omniscient.
حج کا سفر
صفا اور مروہ کی پہاڑیاں اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسومات میں سے ہیں۔ جو کوئی حج یا عمرہ کرتا ہے، وہ اِن دونوں کے درمیان فاصلہ طے کرکے کوئی غلطی نہیں کرتا۔ اگر کوئی رضاکارانہ طور پر زیادہ نیک کام کرتا ہے، تو اللہ قدر کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
إِنَّ الَّذينَ يَكتُمونَ ما أَنزَلنا مِنَ البَيِّنٰتِ وَالهُدىٰ مِن بَعدِ ما بَيَّنّٰهُ لِلنّاسِ فِى الكِتٰبِ ۙ أُولٰئِكَ يَلعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلعَنُهُمُ اللّٰعِنونَ
Gross Offense
[2:159] Those who conceal our revelations and guidance, after proclaiming them for the people in the scripture, are condemned by GOD; they are condemned by all the condemners.
سنگین گناہ
وہ لوگ جو ہماری آیات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اِس کے بعد کہ ہم نے اُسے لوگوں کے لیے مقدس کتاب میں واضح کر دیا، اُن کی اللہ مذمت کرتا ہے؛ اور تمام مذمت کرنے والے بھی اُن کی مذمت کرتے ہیں۔
إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَبَيَّنوا فَأُولٰئِكَ أَتوبُ عَلَيهِم ۚ وَأَنَا التَّوّابُ الرَّحيمُ
[2:160] As for those who repent, reform, and proclaim, I redeem them. I am the Redeemer, Most Merciful.
جہاں تک وہ جو توبہ کرتے ہیں، اصلاح کرتے ہیں، اور اعلانیہ کہتے ہیں، میں انہیں بخش دیتا ہوں۔ میں بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں۔
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ أُولٰئِكَ عَلَيهِم لَعنَةُ اللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ
[2:161] Those who disbelieve and die as disbelievers, have incurred the condemnation of GOD, the angels, and all the people (on the Day of Judgment).
جو لوگ کفر کرتے ہیں اور کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں، اُن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے ملامت ہے (قیامت کے دن)۔
خٰلِدينَ فيها ۖ لا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنظَرونَ
[2:162] Eternally they abide therein. The retribution is never commuted for them, nor are they reprieved.
وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔اُن کے لیے نہ کبھی عذاب میں کوئی تبدیلی آئے گی، اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
وَإِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الرَّحمٰنُ الرَّحيمُ
[2:163] Your god is one god; there is no god but He, Most Gracious, Most Merciful.”
تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے؛ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہایت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
إِنَّ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ وَالفُلكِ الَّتى تَجرى فِى البَحرِ بِما يَنفَعُ النّاسَ وَما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِن ماءٍ فَأَحيا بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها وَبَثَّ فيها مِن كُلِّ دابَّةٍ وَتَصريفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحابِ المُسَخَّرِ بَينَ السَّماءِ وَالأَرضِ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ
Overwhelming Signs of God
[2:164] In the creation of the heavens and the earth, the alternation of night and day, the ships that roam the ocean for the benefit of the people, the water that GOD sends down from the sky to revive dead land and to spread in it all kinds of creatures, the manipulation of the winds, and the clouds that are placed between the sky and the earth, there are sufficient proofs for people who understand.
اللہ کی زبردست نشانیاں
آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات اور دن کے بدلنے میں، اور اُن کشتیوں میں جو سمندر میں لوگوں کے فائدے کے لیے چلتی ہیں، اُس پانی میں جو اللہ آسمان سے نازل کرتا ہے، جس سے وہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے، اور اُس میں ہر قسم کی مخلوقات کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کے چلانے میں، اور اُن بادلوں میں جو زمین اور آسمان کے درمیان معلّق ہیں، اِن سب میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
وَمِنَ النّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دونِ اللَّهِ أَندادًا يُحِبّونَهُم كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذينَ ءامَنوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ۗ وَلَو يَرَى الَّذينَ ظَلَموا إِذ يَرَونَ العَذابَ أَنَّ القُوَّةَ لِلَّهِ جَميعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَديدُ العَذابِ
The Idols Disown Their Idolizers*
[2:165] Yet, some people set up idols to rival GOD, and love them as if they are GOD. Those who believe love GOD the most. If only the transgressors could see themselves when they see the retribution! They will realize then that all power belongs to GOD alone, and that GOD’s retribution is awesome.
بت اپنے پوجنے والوں سے لاتعلقی کریں گے
پھر بھی، کچھ لوگ اللہ کے مقابلے میں شریک (بت) مقرر کرتے ہیں، اور اُن سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے اللہ سے کرنی چاہیے۔ لیکن وہ جو ایمان رکھتے ہیں، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اگر ظالم لوگ اُس وقت خود کو دیکھ سکتے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے! تب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام طاقت صرف اللہ ہی کی ہے، اور بے شک اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
إِذ تَبَرَّأَ الَّذينَ اتُّبِعوا مِنَ الَّذينَ اتَّبَعوا وَرَأَوُا العَذابَ وَتَقَطَّعَت بِهِمُ الأَسبابُ
[2:166] Those who were followed will disown those who followed them. They will see the retribution, and all ties among them will be severed.
وہ جن کی پیروی کی گئی تھی وہ اپنے پیرو کاروں سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ وہ عذاب کو دیکھیں گے، اور اُن کے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔
Footnote
*2:165-166 Jesus, Mary, Muhammad, Ali, and the saints will disown their idolizers on the Day of Resurrection. See also 16:86, 35:14, 46:6, and the Gospel of Matthew 7:21-23.
فٹ نوٹ
عیسیٰ، مریم، محمد، علی اور اولیاء قیامت کے دن اپنے پوجنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ دیکھیں 16:86، 35:14، 46:6، اور میتھیو کی انجیل 23-21 :7 ۔
وَقالَ الَّذينَ اتَّبَعوا لَو أَنَّ لَنا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنهُم كَما تَبَرَّءوا مِنّا ۗ كَذٰلِكَ يُريهِمُ اللَّهُ أَعمٰلَهُم حَسَرٰتٍ عَلَيهِم ۖ وَما هُم بِخٰرِجينَ مِنَ النّارِ
[2:167] Those who followed will say, “If we can get another chance, we will disown them, as they have disowned us now.” GOD thus shows them the consequences of their works as nothing but remorse; they will never exit Hell.”
جو لوگ پیروی کرتے تھے وہ کہیں گے، اگر ہمیں ایک اور موقع مل جائے، تو ہم بھی ان سے لاتعلقی کریں گے، جیسے کہ انہوں نے اب ہم سے لاتعلقی کی ہے۔ اِس طرح اللہ انہیں اُن کے اعمال کا نتیجہ سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں دکھاتا؛ اور وہ کبھی جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔
يٰأَيُّهَا النّاسُ كُلوا مِمّا فِى الأَرضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَلا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ”
Satan Prohibits Lawful Things
[2:168] O people, eat from the earth’s products all that is lawful and good, and do not follow the steps of Satan; he is your most ardent enemy.
شیطان حلال چیزوں سے منع کرتا ہے
اے لوگو، زمین کی پیداوار میں سے وہ چیزیں کھاؤ جو حلال اور اچھی ہیں، اور شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو؛ وہ تمہارا انتہائی سرگرم دشمن ہے۔
إِنَّما يَأمُرُكُم بِالسّوءِ وَالفَحشاءِ وَأَن تَقولوا عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ
[2:169] He only commands you to commit evil and vice, and to say about GOD what you do not know.
وہ تمہیں صرف برائی اور بدعملی کرنے کا حکم دیتا ہے، اور اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے کا جن کا تمہیں علم نہیں۔
وَإِذا قيلَ لَهُمُ اتَّبِعوا ما أَنزَلَ اللَّهُ قالوا بَل نَتَّبِعُ ما أَلفَينا عَلَيهِ ءاباءَنا ۗ أَوَلَو كانَ ءاباؤُهُم لا يَعقِلونَ شَيـًٔا وَلا يَهتَدونَ
Maintaining the Status Quo: A Human Tragedy
[2:170] When they are told, “Follow what GOD has revealed herein,” they say, “We follow only what we found our parents doing.” What if their parents did not understand, and were not guided?”
خود کو نہ بدلنا: ایک انسانی المیہ
جب اُن سے کہا جاتا ہے، اُس کی پیروی کرو جو اللہ نے اِس میں نازل کیا ہے، تو وہ کہتے ہیں، ہم صرف اُس کی پیروی کریں گے جو ہم نے اپنے والدین کو کرتے ہوئے پایاہے۔ کیا اگر اُن کے والدین نہ کچھ سمجھتے تھے، اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے؟
وَمَثَلُ الَّذينَ كَفَروا كَمَثَلِ الَّذى يَنعِقُ بِما لا يَسمَعُ إِلّا دُعاءً وَنِداءً ۚ صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَعقِلونَ
[2:171] The example of such disbelievers is that of parrots who repeat what they hear of sounds and calls, without understanding. Deaf, dumb, and blind; they cannot understand.
ایسے کافروں کی مثال اُن طوطوں کی سی ہے جو سنی ہوئی آوازیں اور بول تو دہراتے ہیں، مگر اُن کا مطلب نہیں سمجھتے۔ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں؛ وہ سمجھ نہیں سکتے۔
وَمَثَلُ الَّذينَ كَفَروا كَمَثَلِ الَّذى يَنعِقُ بِما لا يَسمَعُ إِلّا دُعاءً وَنِداءً ۚ صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَعقِلونَ
Only Four Meats Prohibited*
[2:172] O you who believe, eat from the good things we provided for you, and be thankful to GOD, if you do worship Him alone.
صرف چار قسم کے گوشت منع کیے گئے ہیں
اے ایمان والو، جو اچھی چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، اُن میں سے کھاؤ، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر تم صرف اُسی کی عبادت کرتے ہو۔
إِنَّما حَرَّمَ عَلَيكُمُ المَيتَةَ وَالدَّمَ وَلَحمَ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ بِهِ لِغَيرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَلا إِثمَ عَلَيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
[2:173] He only prohibits for you the eating of animals that die of themselves (without human interference), blood, the meat of pigs, and animals dedicated to other than GOD. If one is forced (to eat these), without being malicious or deliberate, he incurs no sin. GOD is Forgiver, Most Merciful.
وہ تم پر صرف اُن جانوروں کا کھانا حرام کرتا ہے جو خود مر جائیں (بغیر انسانی مداخلت کے)، خون، خنزیر کا گوشت، اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام کیے گئے ہوں۔ اگر کوئی مجبوری کی حالت میں (انہیں کھا لے) بغیر بدنیتی کے اور نہ ہی جان بوجھ کر، تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
Footnote
*2:172-173 Throughout the Quran, only four meats are prohibited (6:145, 16:115, Appendix 16). Dietary prohibitions beyond these four are tantamount to idol worship (6:121,148,150; 7:32).
فٹ نوٹ
پورے قرآن میں، صرف چار قسم کے گوشت حرام قرار دیے گئے ہیں (6:145، 16:115، ضمیمہ 16)۔ اُن چار کے علاوہ کھانے پینے کی جو پابندیاں لگائی جاتی ہیں، وہ دراصل شرک کے مترادف ہیں (6:121، 6:148، 6:150؛ 7:32)۔
إِنَّ الَّذينَ يَكتُمونَ ما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الكِتٰبِ وَيَشتَرونَ بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۙ أُولٰئِكَ ما يَأكُلونَ فى بُطونِهِم إِلَّا النّارَ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَومَ القِيٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ
Corrupted Religious Leaders Conceal the Quran’s Miracle*
[2:174] Those who conceal GOD’s revelations in the scripture, in exchange for a cheap material gain, eat but fire into their bellies. GOD will not speak to them on the Day of Resurrection, nor will He purify them. They have incurred a painful retribution.
بگڑے ہوئے مذہبی رہنما قرآن کے معجزے کو چھپاتے ہیں*
وہ جو مقدس کتاب میں اللہ کی آیات کو چھپاتے ہیں، صرف معمولی دنیاوی فائدے کے بدلے، وہ دراصل اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ اللہ قیامت کے دن نہ اُن سے کلام کرے گا، اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا۔ وہ دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔
أُولٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالهُدىٰ وَالعَذابَ بِالمَغفِرَةِ ۚ فَما أَصبَرَهُم عَلَى النّار
“[2:175] It is they who chose the straying instead of guidance, and the retribution instead of forgiveness. Consequently, they will have to endure Hell.
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کی بجائے گمراہی، اور بخشش کی بجاۓ عذاب کو چنا۔ نتیجتاً انہیں جہنم کا عذاب برداشت کرنا پڑے گا۔
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ ۗ وَإِنَّ الَّذينَ اختَلَفوا فِى الكِتٰبِ لَفى شِقاقٍ بَعيدٍ
[2:176] This is because GOD has revealed this scripture, bearing the truth, and those who dispute the scripture are the most ardent opponents.
یہ اِس لیے ہے کہ اللہ نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی ہے، اور وہ لوگ جو اِس مقدس کتاب میں اختلاف کرتے ہیں، وہ انتہائی سرگرم مخالفین ہیں۔
Footnote
*2:174-176 Despite their recognition of God’s mathematical miracle in the Quran, the corrupted religious leaders tried for many years to conceal this awesome miracle. Many of them admitted that they resented the fact that Rashad Khalifa, not them, was blessed with the miracle.
فٹ نوٹ
قرآن میں اللہ کے ریاضیاتی معجزے کو پہچاننے کے باوجود، بگڑے ہوئے مذہبی رہنماؤں نے اِس عظیم معجزے کو چھپانے کی کئی سالوں تک کوشش کی۔ اُن میں سے بہت سے لوگوں نے اعتراف کیا کہ وہ اِس حقیقت سے ناخوش تھے کہ اُن کی بجائے، راشاد خلیفہ، کو یہ معجزہ عطا کیا گیا۔
لَيسَ البِرَّ أَن تُوَلّوا وُجوهَكُم قِبَلَ المَشرِقِ وَالمَغرِبِ وَلٰكِنَّ البِرَّ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالكِتٰبِ وَالنَّبِيّۦنَ وَءاتَى المالَ عَلىٰ حُبِّهِ ذَوِى القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينَ وَابنَ السَّبيلِ وَالسّائِلينَ وَفِى الرِّقابِ وَأَقامَ الصَّلوٰةَ وَءاتَى الزَّكوٰةَ وَالموفونَ بِعَهدِهِم إِذا عٰهَدوا ۖ وَالصّٰبِرينَ فِى البَأساءِ وَالضَّرّاءِ وَحينَ البَأسِ ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ صَدَقوا ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُتَّقونَ
Righteousness Defined
[2:177] Righteousness is not turning your faces towards the east or the west. Righteous are those who believe in GOD, the Last Day, the angels, the scripture, and the prophets; and they give the money, cheerfully, to the relatives, the orphans, the needy, the traveling alien, the beggars, and to free the slaves; and they observe the Contact Prayers (Salat) and give the obligatory charity (Zakat); and they keep their word whenever they make a promise; and they steadfastly persevere in the face of persecution, hardship, and war. These are the truthful; these are the righteous.
نیکی کی وضاحت
نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو۔ نیک وہ ہیں جو اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر، اور انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں؛ اور وہ خوشی سے اپنا مال دیتے ہیں رشتہ داروں، یتیموں، ضرورت مندوں، مسافروں، بھکاریوں، اور غلاموں کی آزادی کے لیے؛ اور وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؛ اور جب وعدہ کرتے ہیں تو اُسے پورا کرتے ہیں؛ اور وہ ثابت قدمی سے ظلم و ستم، مشکلات اور جنگ کا سامنا کرتے ہیں۔ یہی سچے ہیں؛ یہی نیک ہیں۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى ۖ الحُرُّ بِالحُرِّ وَالعَبدُ بِالعَبدِ وَالأُنثىٰ بِالأُنثىٰ ۚ فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَيءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعروفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسٰنٍ ۗ ذٰلِكَ تَخفيفٌ مِن رَبِّكُم وَرَحمَةٌ ۗ فَمَنِ اعتَدىٰ بَعدَ ذٰلِكَ فَلَهُ عَذابٌ أَليمٌ
Discouraging Capital Punishment*
[2:178] O you who believe, equivalence is the law decreed for you when dealing with murder—the free for the free, the slave for the slave, the female for the female. If one is pardoned by the victim’s kin, an appreciative response is in order, and an equitable compensation shall be paid. This is an alleviation from your Lord and mercy. Anyone who transgresses beyond this incurs a painful retribution.
سزائے موت کی حوصلہ شکنی*
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! قتل کے معاملے میں تمہارے لیے مساوات کا قانون مقرر کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت۔ اگر کسی کو مقتول کے رشتہ داروں کی طرف سے معاف کر دیا جاتا ہے، تو اُس کی شکرگزاری کے جواب میں ایک منصفانہ معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک تخفیف اور رحمت ہے۔ پھر جو اِس کے بعد زیادتی کرۓ، اُس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Footnote
2:178 The Quran clearly discourages capital punishment. Every kind of excuse is provided to spare lives, including the life of the murderer. The victim’s kin may find it better, under certain circumstances, to spare the life of the murderer in exchange for an equitable compensation. Also capital punishment is not applicable if, for example, a woman kills a man, or vice versa.
فٹ نوٹ
قرآن واضح طور پر سزائے موت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن عذر فراہم کیا گیا ہے، حتیٰ کہ قاتل کی جان بھی۔ بعض حالات میں مقتول کے وارث یہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ قاتل کی جان بخش دی جائے اور اُس کے بدلے مناسب معاوضہ لیا جائے۔ نیز، اگر مثال کے طور پر ایک عورت کسی مرد کو قتل کر دے یا اُس کے برعکس، تو سزائے موت لاگو نہیں ہوتی۔
وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيوٰةٌ يٰأُولِى الأَلبٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ
[2:179] Equivalence is a life saving law for you, O you who possess intelligence, that you may be righteous.
اے عقل رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص (برابری) ایک زندگی بچانے والا قانون ہے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
كُتِبَ عَلَيكُم إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوتُ إِن تَرَكَ خَيرًا الوَصِيَّةُ لِلوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ بِالمَعروفِ ۖ حَقًّا عَلَى المُتَّقينَ
Write A Will
[2:180] It is decreed that when death approaches, you shall write a will for the benefit of the parents and relatives, equitably. This is a duty upon the righteous.
وصیت لکھیں
یہ حکم ہے کہ جب موت کا وقت قریب آئے، تو والدین اور رشتہ داروں کے مفاد کی خاطر منصفانہ طریقے سے وصیت لکھی جائے۔ یہ نیک لوگوں پرفرض ہے۔
فَمَن بَدَّلَهُ بَعدَما سَمِعَهُ فَإِنَّما إِثمُهُ عَلَى الَّذينَ يُبَدِّلونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ
[2:181] If anyone alters a will he had heard, the sin of altering befalls those responsible for such altering. GOD is Hearer, Knower.
اگر کوئی شخص وصیت کو سننے کے بعد اُسے بدل دے، تو اُس کو بدلنے کا گناہ اُن لوگوں پر ہو گا جو اُس کو بدلتے ہیں۔ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
فَمَن خافَ مِن موصٍ جَنَفًا أَو إِثمًا فَأَصلَحَ بَينَهُم فَلا إِثمَ عَلَيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
[2:182] If one sees gross injustice or bias on the part of a testator, and takes corrective action to restore justice to the will, he commits no sin. GOD is Forgiver, Most Merciful.
اگر کوئی شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے سنگین ناانصافی یا جانبداری دیکھے، اور وصیت میں انصاف کی بحالی کے لیے اصلاحی اقدام اٹھائے، تو وہ کوئی گناہ نہیں کرتا۔ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ
Fasting Emphasized and Modified*
[2:183] O you who believe, fasting is decreed for you, as it was decreed for those before you, that you may attain salvation.
روزے کی تاکید اور اُس میں ترمیم*
اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم نجات حاصل کرو۔
أَيّامًا مَعدودٰتٍ ۚ فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذينَ يُطيقونَهُ فِديَةٌ طَعامُ مِسكينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيرًا فَهُوَ خَيرٌ لَهُ ۚ وَأَن تَصوموا خَيرٌ لَكُم ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ
[2:184] Specific days (are designated for fasting); if one is ill or traveling, an equal number of other days may be substituted. Those who can fast, but with great difficulty, may substitute feeding one poor person for each day of breaking the fast. If one volunteers (more righteous works), it is better. But fasting is the best for you, if you only knew.
مخصوص دن (روزوں کے لیے مقرر ہیں)؛ اگر کوئی بیمار ہے یا سفر میں ہے، تو دوسرے دنوں میں اُتنی ہی تعداد پوری کر سکتا ہے۔ وہ لوگ جو روزہ رکھ سکتے ہیں، مگر سخت مشکل کے ساتھ، وہ ہر روزے کے توڑنے کے بدلے میں ایک غریب شخص کو کھانا کھلائیں۔ اگر کوئی اپنی مرضی سے (زیادہ نیک کام کرے)، تو یہ بہتر ہے۔ لیکن روزہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ ۖ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ ۗ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ
[2:185] Ramadan is the month during which the Quran was revealed, providing guidance for the people, clear teachings, and the statute book. Those of you who witness this month shall fast therein. Those who are ill or traveling may substitute the same number of other days. GOD wishes for you convenience, not hardship, that you may fulfill your obligations, and to glorify GOD for guiding you, and to express your appreciation.
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت فراہم کرتا ہے، واضح تعلیمات، اور قانون کی کتاب ہے۔ تم میں سے جو کوئی بھی اِس مہینے کو پائے، اُسے چاہیے کہ وہ اِس میں روزے رکھے۔ جو لوگ بیمار ہیں یا سفر کر رہے ہیں، تو وہ دوسرے دنوں میں اُتنی ہی تعداد پوری کر سکتے ہیں۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں، تاکہ تم اپنی ذمہ داری پوری کر سکو، اور اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اُس نے تمہیں ہدایت دی، اور اپنی شکرگزاری کا اظہار کرو۔
وَإِذا سَأَلَكَ عِبادى عَنّى فَإِنّى قَريبٌ ۖ أُجيبُ دَعوَةَ الدّاعِ إِذا دَعانِ ۖ فَليَستَجيبوا لى وَليُؤمِنوا بى لَعَلَّهُم يَرشُدونَ
God Answers the Prayers of “His Servants”
[2:186] When My servants ask you about Me, I am always near. I answer their prayers when they pray to Me. The people shall respond to Me and believe in Me, in order to be guided.
اللہ اپنے بندوں کی دعاؤں کا جواب دیتا ہے
جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں، تو میں ہمیشہ قریب ہوتا ہوں۔ میں اُن کی دعاؤں کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ میری بات سنیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پا سکیں۔
أُحِلَّ لَكُم لَيلَةَ الصِّيامِ الرَّفَثُ إِلىٰ نِسائِكُم ۚ هُنَّ لِباسٌ لَكُم وَأَنتُم لِباسٌ لَهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُم كُنتُم تَختانونَ أَنفُسَكُم فَتابَ عَلَيكُم وَعَفا عَنكُم ۖ فَالـٰٔنَ بٰشِروهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم ۚ وَكُلوا وَاشرَبوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ ۚ وَلا تُبٰشِروهُنَّ وَأَنتُم عٰكِفونَ فِى المَسٰجِدِ ۗ تِلكَ حُدودُ اللَّهِ فَلا تَقرَبوها ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ ءايٰتِهِ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ
[2:187] Permitted for you is sexual intercourse with your wives during the nights of fasting. They are the keepers of your secrets, and you are the keepers of their secrets. GOD knew that you used to betray your souls, and He has redeemed you, and has pardoned you. Henceforth, you may have intercourse with them, seeking what GOD has permitted for you. You may eat and drink until the white thread of light becomes distinguishable from the dark thread of night at dawn. Then, you shall fast until sunset. Sexual intercourse is prohibited if you decide to retreat to the masjid (during the last ten days of Ramadan). These are GOD’s laws; you shall not transgress them. GOD thus clarifies His revelations for the people, that they may attain salvation.
روزوں کی راتوں میں تمہیں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کی اجازت ہے۔ وہ تمہارے رازوں کی محافظ ہیں، اور تم اُن کے رازوں کے محافظ ہو۔ اللہ جانتا تھا کہ تم اپنی روحوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے، اور اُس نے تمہاری بخشش کی، اور تمہیں معاف کیا۔ اب سے، تم اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کر سکتے ہو، اُس کی چاہت میں جس کو اللہ نے تمہارے لیے جائز کیا ہے۔ تم اُس وقت تک کھا اور پی سکتے ہو جب تک کہ فجر کی روشنی کی دھاری اندھیرے کی دھاری سے نمایاں نہ ہو جائے۔ پھر، تم سورج کے غروب ہونے تک روزہ رکھو۔ اگر تم (رمضان کے آخری دس دنوں کے لیے) مسجد میں اعتکاف کرنے کا فیصلہ کرو تو تمہارے لیے مباشرت ممنوع ہے۔ یہ اللہ کے قوانین ہیں؛ تم اِن سے تجاوز نہ کرنا۔ اللہ اِس طرح لوگوں کے لیے اپنی آیات کو واضح کرتا ہے، تاکہ وہ نجات پا سکیں۔
Footnote
*2:183-187 Like all duties in Submission, fasting was decreed through Abraham (22:78, Appendices 9 & 15). Prior to revelation of the Quran, sexual intercourse was prohibited throughout the fasting period. This rule is modified in 2:187 to allow intercourse during the nights of Ramadan.
فٹ نوٹ
اسلام میں تمام فرائض کی طرح، روزے کا حکم بھی ابراہیم کے ذریعے دیا گیا تھا (22:78، ضمیمہ 9 اور 15)۔ قرآن کے نزول سے پہلے پورے رمضان میں مباشرت ممنوع تھی۔ رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت دینے کے لیے آیت نمبر 2:187 میں اِس قانون کی ترمیم کی گئی ہے۔
وَلا تَأكُلوا أَموٰلَكُم بَينَكُم بِالبٰطِلِ وَتُدلوا بِها إِلَى الحُكّامِ لِتَأكُلوا فَريقًا مِن أَموٰلِ النّاسِ بِالإِثمِ وَأَنتُم تَعلَمونَ
Bribery, Corruption Condemned
[2:188] You shall not take each others’ money illicitly, nor shall you bribe the officials to deprive others of some of their rights illicitly, while you know.
رشوت، اور بد عنوانی کی مذمت
تم ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت لو، اور نہ ہی حاکموں کو رشوت دے کر ناجاہز طور پر دوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کرو، جبکہ تم جانتے ہو۔
يَسـَٔلونَكَ عَنِ الأَهِلَّةِ ۖ قُل هِىَ مَوٰقيتُ لِلنّاسِ وَالحَجِّ ۗ وَلَيسَ البِرُّ بِأَن تَأتُوا البُيوتَ مِن ظُهورِها وَلٰكِنَّ البِرَّ مَنِ اتَّقىٰ ۗ وَأتُوا البُيوتَ مِن أَبوٰبِها ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ
Do Not Beat Around the Bush
[2:189] They ask you about the phases of the moon! Say, “They provide a timing device for the people, and determine the time of Hajj.” It is not righteous to beat around the bush; righteousness is attained by upholding the commandments and by being straightforward. You shall observe GOD, that you may succeed.”
گول مول بات مت کرو
وہ تم سے چاند کے مراحل کے بارے میں پوچھتے ہیں! کہہ دو، یہ لوگوں کے لیے وقت کا حساب کرنے کا ذریعہ ہیں، اور حج کے وقت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ نیکی نہیں کہ تم بات کو گول مول کر دو؛ نیکی تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کیا جائے اور سیدھی بات کی جائے۔ تم اللہ کے احکامات کا مشاہدہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔
Footnote
*2:189 The literal Quranic idiom says: “Do not enter the homes through the back doors.” The question about the phases of the moon is an example of beating around the bush; there were bad ulterior motives behind this question.”
فٹ نوٹ
قرآنی محاورہ لفظی طور پر کہتا ہے: گھروں میں پچھلے دروازوں سے داخل نہ ہو۔ چاند کے مراحل کے بارے میں کیا گیا سوال دراصل بات کو گول مول کرنے کی ایک مثال ہے؛ اِس سوال کے پیچھے کچھ بُرے اور پوشیدہ ارادے تھے۔
وَقٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ الَّذينَ يُقٰتِلونَكُم وَلا تَعتَدوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ
Rules of War*
[2:190] You may fight in the cause of GOD against those who attack you, but do not aggress. GOD does not love the aggressors.
*جنگ کے اصول
تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں کے خلاف لڑ سکتے ہو جو تم پر حملہ کریں، مگر زیادتی مت کرو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Footnote
*2:190 All fighting is regulated by the basic rule in 60:8-9. Fighting is allowed strictly in self-defense, while aggression and oppression are strongly condemned throughout the Quran.
فٹ نوٹ
تمام جنگیں قرآن کے بنیادی اصول کے تحت آتی ہیں جو سورہ 60 کی آیات 8-9 میں بیان کی گئی ہیں۔ جنگ صرف اپنے دفاع میں جائز ہے، جبکہ جارحیت اور ظلم کی پورے قرآن میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔
وَاقتُلوهُم حَيثُ ثَقِفتُموهُم وَأَخرِجوهُم مِن حَيثُ أَخرَجوكُم ۚ وَالفِتنَةُ أَشَدُّ مِنَ القَتلِ ۚ وَلا تُقٰتِلوهُم عِندَ المَسجِدِ الحَرامِ حَتّىٰ يُقٰتِلوكُم فيهِ ۖ فَإِن قٰتَلوكُم فَاقتُلوهُم ۗ كَذٰلِكَ جَزاءُ الكٰفِرينَ
[2:191] You may kill those who wage war against you, and you may evict them whence they evicted you. Oppression is worse than murder. Do not fight them at the Sacred Masjid, unless they attack you therein. If they attack you, you may kill them. This is the just retribution for those disbelievers.
تم اُن لوگوں کو قتل کر سکتے ہو جو تمہارے خلاف جنگ کرتے ہیں، اور تم انہیں وہاں سے نکال سکتے ہو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔ جبر قتل سے بھی بدتر ہے۔ تم مسجد حرام میں اُن سے نہ لڑو، جب تک کہ وہ تم پر حملہ نہ کریں۔ اگر وہ تم پر حملہ کریں، تو تم انہیں قتل کر سکتے ہو۔یہ اُن منکرین کے لیے منصفانہ بدلہ ہے۔
فَإِنِ انتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
[2:192] If they refrain, then GOD is Forgiver, Most Merciful.
اگر وہ باز آجائیں، تو اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
وَقٰتِلوهُم حَتّىٰ لا تَكونَ فِتنَةٌ وَيَكونَ الدّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوا فَلا عُدوٰنَ إِلّا عَلَى الظّٰلِمينَ
[2:193] You may also fight them to eliminate oppression, and to worship GOD freely. If they refrain, you shall not aggress; aggression is permitted only against the aggressors.
تم اُن سے جنگ اس لیے بھی کر سکتے ہو تاکہ ظلم و ستم کا خاتمہ ہو، اور تم آزادانہ طور پر اللہ کی عبادت کر سکو۔ اگر وہ باز آجائیں تو تم زیادتی نہ کرو؛ جارحیت صرف جارحین کے خلاف جائز ہے۔
الشَّهرُ الحَرامُ بِالشَّهرِ الحَرامِ وَالحُرُمٰتُ قِصاصٌ ۚ فَمَنِ اعتَدىٰ عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدىٰ عَلَيكُم ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَعَ المُتَّقينَ
[2:194] During the Sacred Months, aggression may be met by an equivalent response. If they attack you, you may retaliate by inflicting an equitable retribution. You shall observe GOD and know that GOD is with the righteous.
مقدس مہینوں کے دوران، جارحیت کا برابری سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ تم پر حملہ کریں تو تم بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق اُن سے بدلہ لے سکتے ہو۔ تمہیں اللہ کا خیال رکھنا چاہیے، اور جان لو اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔
وَأَنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ ۛ وَأَحسِنوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُحسِنينَ
[2:195] You shall spend in the cause of GOD; do not throw yourselves with your own hands into destruction. You shall be charitable; GOD loves the charitable.
تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے؛ تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے تباہی میں مت ڈالو۔ تمہیں خیرات دینے والا بننا چاہیے؛ اللہ خیرات دینے والوں سے محبت کرتا ہے۔
وَأَتِمُّوا الحَجَّ وَالعُمرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِن أُحصِرتُم فَمَا استَيسَرَ مِنَ الهَدىِ ۖ وَلا تَحلِقوا رُءوسَكُم حَتّىٰ يَبلُغَ الهَدىُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَأسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ ۚ فَإِذا أَمِنتُم فَمَن تَمَتَّعَ بِالعُمرَةِ إِلَى الحَجِّ فَمَا استَيسَرَ مِنَ الهَدىِ ۚ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلٰثَةِ أَيّامٍ فِى الحَجِّ وَسَبعَةٍ إِذا رَجَعتُم ۗ تِلكَ عَشَرَةٌ كامِلَةٌ ۗ ذٰلِكَ لِمَن لَم يَكُن أَهلُهُ حاضِرِى المَسجِدِ الحَرامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ
Hajj and Umrah Pilgrimage*
[2:196] You shall observe the complete rites of Hajj and Umroh for GOD. If you are prevented, you shall send an offering, and do not resume cutting your hair until your offering has reached its destination. If you are ill, or suffering a head injury (and you must cut your hair), you shall expiate by fasting, or giving to charity, or some other form of worship. During the normal Hajj, if you break the state of Ihraam (sanctity) between ‘Umrah and Hajj, you shall expiate by offering an animal sacrifice. If you cannot afford it, you shall fast three days during Hajj and seven when you return home—this completes ten—provided you do not live at the Sacred Masjid. You shall observe GOD, and know that GOD is strict in enforcing retribution.
حج اور عمرہ کی زیارت*
تم اللہ کے لیے حج اور عمرہ کے تمام ارکان کو مکمل کرو۔ اگر اِس میں تمہیں کوئی رکاوٹ آئے، تو تم قربانی کا جانور بھیجو، اور جب تک وہ اپنی منزل تک نہ پہنچ جائے، سر کے بال مت کاٹو۔ اگر تم بیمار ہو، یا تمہارے سر پر کوئی چوٹ لگی ہو (اور تمہیں لازمی بال کاٹنے پڑیں)، تو تم روزے رکھ کر، یا خیرات دے کر، یا کوئی اور عبادت کر کے، اِس کا کفارہ ادا کرو۔ عام حج کے دوران، اگر احرام (تقدس) کی حالت عمرہ اور حج کے درمیان ٹوٹ جائے، تو تمہیں ایک جانور کی قربانی دے کر کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ اگر تم اِس کی استطاعت نہیں رکھتے ہو، تو تین دن حج کے دوران روزے رکھو اور سات جب واپس اپنے گھر آجاؤ — یہ دس پورے ہو جاتے ہیں — بشرطیکہ تم مسجدِ حرام کے قریب نہ رہتے ہو۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو، اور جان لو کہ اللہ عذاب نازل کرنے میں سخت ہے۔
Footnote
*2:196 See the details of Hajj and `Umrah in Appendix 15.
فٹ نوٹ
ضمیمہ 15 میں حج اور عمرہ کی تفصیلات دیکھیں۔
الحَجُّ أَشهُرٌ مَعلومٰتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فيهِنَّ الحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسوقَ وَلا جِدالَ فِى الحَجِّ ۗ وَما تَفعَلوا مِن خَيرٍ يَعلَمهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدوا فَإِنَّ خَيرَ الزّادِ التَّقوىٰ ۚ وَاتَّقونِ يٰأُولِى الأَلبٰبِ
The Four Months of Hajj – (Zul-Hijjah, Muharram, Safar, & Rabi I)
[2:197] Hajj shall be observed in the specified months*. Whoever sets out to observe Hajj shall refrain from sexual intercourse, misconduct, and arguments throughout Hajj. Whatever good you do, GOD is fully aware thereof. As you prepare your provisions for the journey, the best provision is righteousness. You shall observe Me, O you who possess intelligence.
حج کے چار مہینے – (ذوالحجہ، محرم، صفر اور ربیع الاول)
حج مخصوص مہینوں میں ادا کیا جاتا ہے*۔ جو کوئی حج کی نیت کر لے، اُسے چاہیے کہ حج کے دوران بیوی سے مباشرت نہ کرے، گناہ نہ کرے، اور جھگڑوں سے پرہیز کرے۔ تم جو بھی نیکی کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ جب تم سفر کے لیے زادِ راہ تیار کرو، تو بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ تم میرا مشاہدہ کرو، اے عقل رکھنے والو۔
Footnote
*2:197 Hajj can be observed any time during the Sacred Months: Zul-Hijjah, Muharram, Safar, and Rabi I. Local governments restrict Hajj to a few days for their own convenience. See 9:37.
فٹ نوٹ
حج مقدس مہینوں کے دوران کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے: ذوالحجہ، محرم، صفر اور ربیع الاول۔ مقامی حکومتیں اپنی سہولت کے لیے حج کو صرف چند دنوں تک محدود رکھتی ہیں۔ دیکھیں 9:37۔
لَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَبتَغوا فَضلًا مِن رَبِّكُم ۚ فَإِذا أَفَضتُم مِن عَرَفٰتٍ فَاذكُرُوا اللَّهَ عِندَ المَشعَرِ الحَرامِ ۖ وَاذكُروهُ كَما هَدىٰكُم وَإِن كُنتُم مِن قَبلِهِ لَمِنَ الضّالّينَ
[2:198] You commit no error by seeking provisions from your Lord (through commerce). When you file from ‘Arafaat, you shall commemorate GOD at the Sacred Location (of Muzdalifah). You shall commemorate Him for guiding you; before this, you had gone astray.
تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے رب کا فضل (تجارت کے ذریعے ) تلاش کرو۔جب تم عرفات سے روانہ ہو، تو تم مقدس جگہ (مزدلفہ) میں اللہ کا ذکر کرو۔ تمہیں اُس کا ذکر کرنا چاہیے اُس ہدایت کے لیے جو اُس نے تمہیں دی ہے؛ کیونکہ اِس سے پہلے، تم بھٹکے ہوئے تھے۔
ثُمَّ أَفيضوا مِن حَيثُ أَفاضَ النّاسُ وَاستَغفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
[2:199] You shall file together, with the rest of the people who file, and ask GOD for forgiveness. GOD is Forgiver, Most Merciful.
تمہیں چاہیے کہ باقی تمام لوگوں کے ساتھ اکٹھے روانہ ہو، جیسے وہ روانہ ہوتے ہیں، اور اللہ سے بخشش مانگو۔ اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
فَإِذا قَضَيتُم مَنٰسِكَكُم فَاذكُرُوا اللَّهَ كَذِكرِكُم ءاباءَكُم أَو أَشَدَّ ذِكرًا ۗ فَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ رَبَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا وَما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن خَلٰقٍ
[2:200] Once you complete your rites, you shall continue to commemorate GOD as you commemorate your own parents, or even better. Some people would say, “Our Lord, give us of this world,” while having no share in the Hereafter.”
جب تم اپنے (حج کے) ارکان مکمل کر لو، تو اللہ کو یاد کرو جیسے تم اپنے والدین کو یاد کرتے ہو، بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر۔ کچھ لوگ کہیں گے، اے ہمارے رب، ہمیں اِس دنیا میں عطا کر، جبکہ آخرت میں اُن کا کوئی حصہ نہیں۔
وَمِنهُم مَن يَقولُ رَبَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الءاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ
[2:201] Others would say, “Our Lord, grant us righteousness in this world, and righteousness in the Hereafter, and spare us the retribution of Hell.”
دوسرے لوگ کہیں گے، اے ہمارے رب، ہمیں اِس دنیا میں نیکی عطا فرما، اور آخرت میں بھی نیکی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔
أُولٰئِكَ لَهُم نَصيبٌ مِمّا كَسَبوا ۚ وَاللَّهُ سَريعُ الحِسابِ
[2:202] Each of these will receive the share they have earned. GOD is most efficient in reckoning.
اُن میں سے ہر ایک کو وہ حصہ ملے گا جو اُس نے کمایا ہے۔اللہ حساب لینے میں سب سے زیادہ موثر ہے۔
وَاذكُرُوا اللَّهَ فى أَيّامٍ مَعدودٰتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فى يَومَينِ فَلا إِثمَ عَلَيهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلا إِثمَ عَلَيهِ ۚ لِمَنِ اتَّقىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّكُم إِلَيهِ تُحشَرونَ
Mena: Last Rites of Hajj
[2:203] You shall commemorate GOD for a number of days (in Mena); whoever hastens to do this in two days commits no sin, and whoever stays longer commits no sin, so long as righteousness is maintained. You shall observe GOD, and know that before Him you will be gathered.
مینا: حج کی آخری رسومات
تمہیں چند دنوں کے لیے (مینا میں) اللہ کا ذکر کرنا ہے؛ جو شخص اگر جلدی میں دو دن میں یہ کام کر لیتا ہے تو کوئی گناہ نہیں کرتا، اور جو اُس سے زیادہ دیر ٹھہرتا ہے تو وہ بھی کوئی گناہ نہیں کرتا، بشرطیکہ وہ نیکی کو برقرار رکھتا ہے۔ تم اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم سب کو اُس کے سامنے اکھٹا کیا جائے گا۔
وَمِنَ النّاسِ مَن يُعجِبُكَ قَولُهُ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَيُشهِدُ اللَّهَ عَلىٰ ما فى قَلبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الخِصامِ
Appearances May Be Deceiving
[2:204] Among the people, one may impress you with his utterances concerning this life, and may even call upon GOD to witness his innermost thoughts, while he is a most ardent opponent.
ظاہری شکلیں دھوکہ دے سکتی ہیں۔
لوگوں میں سے، کوئی تمہیں اِس زندگی کے بارے میں اپنی گفتگو سے متاثر کر سکتا ہے، اور یہاں تک کہ وہ اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنے کے لیے اللہ کو گواہی کے لیے پکار سکتا ہے، جبکہ وہ ایک انتہائی سرگرم مخالف ہے۔
وَإِذا تَوَلّىٰ سَعىٰ فِى الأَرضِ لِيُفسِدَ فيها وَيُهلِكَ الحَرثَ وَالنَّسلَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الفَسادَ
[2:205] As soon as he leaves, he roams the earth corruptingly, destroying properties and lives. GOD does not love corruption.
جیسے ہی وہ پیٹھ پھیرتا ہے، تو وہ زمین پر فساد پھیلانے لگتا ہے، جان ومال کو تباہ کرتا ہے۔ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
وَإِذا قيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتهُ العِزَّةُ بِالإِثمِ ۚ فَحَسبُهُ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئسَ المِهادُ
[2:206] When he is told, “Observe GOD,” he becomes arrogantly indignant. Consequently, his only destiny is Hell; what a miserable abode.”
جب اُسے کہا جاتا ہے، اللہ کا مشاہدہ کرو تو وہ غرور کے ساتھ غضبناک ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے؛ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
وَمِنَ النّاسِ مَن يَشرى نَفسَهُ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءوفٌ بِالعِبادِ
[2:207] Then there are those who dedicate their lives to serving GOD; GOD is compassionate towards such worshipers.
اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیتے ہیں؛ اللہ ایسے عبادت گزاروں کے لیے بہت مہربان ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا ادخُلوا فِى السِّلمِ كافَّةً وَلا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ
[2:208] O you who believe, you shall embrace total submission; do not follow the steps of Satan, for he is your most ardent enemy.
اے ایمان والو, تم مکمل طور پر فرمابرداری کو قبول کر لو؛ اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو، کیونکہ وہ تمہارا انتہائی سرگرم دشمن ہے۔
فَإِن زَلَلتُم مِن بَعدِ ما جاءَتكُمُ البَيِّنٰتُ فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ
[2:209] If you backslide, after the clear proofs have come to you, then know that GOD is Almighty, Most Wise.
اگر تم پیچھے ہٹ جاتے ہو، اِس کے بعدکہ تمہارے پاس واضع ثبوت آچکے ہیں، تو جان لو کہ اللہ قادر مطلق، انتہائی حکمت والا ہے۔
هَل يَنظُرونَ إِلّا أَن يَأتِيَهُمُ اللَّهُ فى ظُلَلٍ مِنَ الغَمامِ وَالمَلٰئِكَةُ وَقُضِىَ الأَمرُ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ
[2:210] Are they waiting until GOD Himself comes to them in dense clouds, together with the angels? When this happens, the whole matter will be terminated, and to GOD everything will be returned.
کیا وہ انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود گہرے بادلوں میں، فرشتوں کے ساتھ اُن کے پاس آئے؟ جب ایسا ہو گا، تو تمام معاملہ ختم ہو جاۓ گا ، اور سب کچھ اللہ ہی کے پاس لوٹ جاۓ گا۔
footnote
*2:210 This world is a test; it is our last chance to restore ourselves back into God’s kingdom by denouncing idol worship (see the INTRODUCTION). If God and His angels show up, everyone will believe, and the test will no longer be valid.
فٹ نوٹ
یہ دنیا ایک امتحان ہے؛ یہ ہمارا آخری موقع ہے کہ ہم بت پرستی(شرک) کی مذمت کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کی بادشاہت میں بحال کریں (تعارف دیکھیں)۔ اگر اللہ اور اُس کے فرشتے ظاہر ہو جائیں، تو سب ایمان لے آئیں گے، اور امتحان کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
سَل بَنى إِسرٰءيلَ كَم ءاتَينٰهُم مِن ءايَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَن يُبَدِّل نِعمَةَ اللَّهِ مِن بَعدِ ما جاءَتهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ
Miracles Bring Greater Responsibility*
[2:211] Ask the Children of Israel how many profound miracles have we shown them! For those who disregard the blessings bestowed upon them by GOD, GOD is most strict in retribution.
معجزات بڑی ذمہ داری لاتے ہیں*
بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنے بڑے معجزے دکھائے ہیں! جو لوگ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو نظر انداز کرتے ہیں، اللہ انہیں عذاب دینے میں انتہائی سخت ہے۔
footnote
*2:211 The Quran’s mathematical miracle is a great blessing, and brings with it an awesome responsibility (please see 5:115).
فٹ نوٹ
قرآن کا ریاضیاتی معجزہ ایک عظیم نعمت ہے، اور یہ اپنے ساتھ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی لاتاہے (براہ کرم 115:5 دیکھیں)۔
زُيِّنَ لِلَّذينَ كَفَرُوا الحَيوٰةُ الدُّنيا وَيَسخَرونَ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا ۘ وَالَّذينَ اتَّقَوا فَوقَهُم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ
Shortsightedness
[2:212] This worldly life is adorned in the eyes of the disbelievers, and they ridicule those who believe. However, the righteous will be far above them on the Day of Resurrection. GOD blesses whomever He wills, without limits.
تنگ نظری
اِس دنیاوی زندگی کو کافروں کی نظر میں سجا دیا گیاہے، اور وہ اُن کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لے آۓ ہیں۔ مگر، قیامت کے دن نیک لوگ اُن سے کہیں زیادہ بلند ہوں گے۔ اللہ جس کو چاہے، بے حساب نعمتیں عطا کرتا ہے۔
كانَ النّاسُ أُمَّةً وٰحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيّۦنَ مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النّاسِ فيمَا اختَلَفوا فيهِ ۚ وَمَا اختَلَفَ فيهِ إِلَّا الَّذينَ أوتوهُ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ”“البَيِّنٰتُ بَغيًا بَينَهُم ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا لِمَا اختَلَفوا فيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ
Disastrous Jealousy
[2:213] The people used to be one community when GOD sent the prophets as bearers of good news, as well as warners. He sent down with them the scripture, bearing the truth, to judge among the people in their disputes. Ironically, those who received the scripture were the ones who rejected any new scripture, despite clear proofs given to them. This is due to jealousy on their part. GOD guides those who believe to the truth that is disputed by all others, in accordance with His will. GOD guides whoever wills in a straight path.*
تباہ کن حسد
سب لوگ ایک ہی امت تھے جب اللہ نے انبیاء کو خوشخبری دینے والے، اور خبردار کرنے والے کے طور پر بھیجا۔ اُن کے ساتھ اُس نے کتاب نازل کی، جو حق کے ساتھ تھی، تاکہ لوگوں کے درمیان اُن کے اختلافات کا فیصلہ کرے۔ مگر، جنہیں کتاب دی گئی تھی، وہی واضح ثبوت آ جانے کے باوجود، آپس میں اختلاف کرنے لگے، اور نئی کتابوں کا انکار کرنے لگے۔ یہ سب اُن کے آپس کے حسد کی وجہ سے ہوا۔ اللہ ایمان لانے والوں کو، اپنی مرضی کے مطابق اُس سچ کی طرف ہدایت دیتا ہے، جس میں باقی سب اختلاف کرتے ہیں۔ اللہ اُس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو ایسا چاہتا ہے۔*
footnote
*2:213 All worshipers of God ALONE, from all religions, are truly united.
فٹ نوٹ
واحد اللہ کی عبادت کرنے والے، چاہے وہ کسی بھی دین سے ہوں، وہی لوگ حقیقی طور پرمتحد ہیں۔
أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَأتِكُم مَثَلُ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِكُم ۖ مَسَّتهُمُ البَأساءُ وَالضَّرّاءُ وَزُلزِلوا حَتّىٰ يَقولَ الرَّسولُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ مَتىٰ نَصرُ اللَّهِ ۗ أَلا إِنَّ نَصرَ اللَّهِ قَريبٌ
[2:214] Do you expect to enter Paradise without being tested like those before you? They were tested with hardship and adversity, and were shaken up, until the messenger and those who believed with him said, “Where is GOD’s victory?” GOD’s victory is near.”
کیا تم گمان رکھتے ہو کہ بغیر آزمائش کے جنت میں داخل ہو جاؤ گے، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں کو آزمایا گیا تھا؟ انہیں سختیوں اور مصیبتوں سے آزمایا گیا، اور اِس قدر ہلا دیے گئے تھے کہ رسول اور اُس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اُٹھے، اللہ کی فتح کہاں ہے؟ اللہ کی فتح قریب ہے۔
يَسـَٔلونَكَ ماذا يُنفِقونَ ۖ قُل ما أَنفَقتُم مِن خَيرٍ فَلِلوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَابنِ السَّبيلِ ۗ وَما تَفعَلوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ
Recipients of Charity
[2:215] They ask you about giving: say, “The charity you give shall go to the parents, the relatives, the orphans, the poor, and the traveling alien.” Any good you do, GOD is fully aware thereof.”
خیرات کے حقدار
وہ تم سے (خیرات) دینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو، جو خیرات تم دیتے ہو، وہ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو جانی چاہیے۔ تم جو بھی نیکی کرتے ہو، اللہ اُس سے مکمل طور پر با خبر ہے۔
كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ وَهُوَ كُرهٌ لَكُم ۖ وَعَسىٰ أَن تَكرَهوا شَيـًٔا وَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۖ وَعَسىٰ أَن تُحِبّوا شَيـًٔا وَهُوَ شَرٌّ لَكُم ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ
Believers: The Ultimate Victor
[2:216] Fighting may be imposed on you, even though you dislike it. But you may dislike something which is good for you, and you may like something which is bad for you. GOD knows while you do not know.
مومنین: حتمی فاتح
جنگ تم پر مسلط کی جا سکتی ہے، حالانکہ تم اُسے ناپسند کرتے ہو۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ تم کسی ایسی چیز کو ناپسند کرو جو تمہارے لیے اچھی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی ایسی چیز کو پسند کرو جو تمہارے لیے بُری ہو۔اللّٰہ جانتا ہے، جبکہ تم نہیں جانتے۔
يَسـَٔلونَكَ عَنِ الشَّهرِ الحَرامِ قِتالٍ فيهِ ۖ قُل قِتالٌ فيهِ كَبيرٌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَكُفرٌ بِهِ وَالمَسجِدِ الحَرامِ وَإِخراجُ أَهلِهِ مِنهُ أَكبَرُ عِندَ اللَّهِ ۚ وَالفِتنَةُ أَكبَرُ مِنَ القَتلِ ۗ وَلا يَزالونَ يُقٰتِلونَكُم حَتّىٰ يَرُدّوكُم عَن دينِكُم إِنِ استَطٰعوا ۚ وَمَن يَرتَدِد مِنكُم عَن دينِهِ فَيَمُت وَهُوَ كافِرٌ فَأُولٰئِكَ حَبِطَت أَعمٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
Oppression Condemned
[2:217] They ask you about the Sacred Months and fighting therein: say, “Fighting therein is a sacrilege. However, repelling from the path of GOD and disbelieving in Him and in the sanctity of the Sacred Masjid, and evicting its people, are greater sacrileges in the sight of GOD. Oppression is worse than murder.” They will always fight you to revert you from your religion, if they can. Those among you who revert from their religion, and die as disbelievers, have nullified their works in this life and the Hereafter. These are the dwellers of Hell, wherein they abide forever.”
ظلم کی مذمت
وہ تم سے مقدس مہینوں اور اُن میں جنگ کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہو، کہ اُن میں جنگ کرنا بے حرمتی ہے۔ البتہ، اللہ کی راہ سے روکنا، اور اُس کا انکار کرنا، اور مسجدِ حرام کی بے حرمتی کرنا، یہ سب اللہ کی نگاہ میں اُس سے بھی بڑی بے حرمتی ہے۔ ظلم قتل سے بھی بدتر ہے۔ وہ ہمیشہ تم سے جنگ کریں گے تاکہ اگر ممکن ہو تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھر جائیں، اور کفر کی حالت میں مر جائیں، اُن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے۔ یہی جہنم کے باشندے ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَالَّذينَ هاجَروا وَجٰهَدوا فى سَبيلِ اللَّهِ أُولٰئِكَ يَرجونَ رَحمَتَ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ
[2:218] Those who believe, and those who emigrate and strive in the cause of GOD, have deserved GOD’s mercy. GOD is Forgiver, Most Merciful.
وہ لوگ جو ایمان لائے، اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
يَسـَٔلونَكَ عَنِ الخَمرِ وَالمَيسِرِ ۖ قُل فيهِما إِثمٌ كَبيرٌ وَمَنٰفِعُ لِلنّاسِ وَإِثمُهُما أَكبَرُ مِن نَفعِهِما ۗ وَيَسـَٔلونَكَ ماذا يُنفِقونَ قُلِ العَفوَ ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَتَفَكَّرونَ
Intoxicants and Gambling Prohibited*
[2:219] They ask you about intoxicants and gambling: say, “In them there is a gross sin, and some benefits for the people. But their sinfulness far outweighs their benefit.” They also ask you what to give to charity: say, “The excess.” GOD thus clarifies the revelations for you, that you may reflect,”
نشہ آور چیزوں اور جواء کی ممانت
وہ تم سے نشہ آور چیزوں اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہو، اُن میں بہت بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ لیکن اُن کا گناہ اُن کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔‘ وہ تم سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ وہ صدقے میں کیا دیں: کہو، جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اللہ اِس طرح آیات کو تمہارے لیے واضح کرتا ہے، تاکہ تم غور کرسکو۔
footnote
*2:219 The world now recognizes that the economic benefits from manufacturing alcoholic beverages and illicit drugs are not worth the traffic fatalities, brain damage to children of alcoholic mothers, family crises, and other disastrous consequences. Check with “Alcoholics Anonymous” and “Gamblers Anonymous” for more information. See also 5:90-91.”
فٹ نوٹ
دنیا اب اِس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی تیاری سے حاصل ہونے والے معاشی فائدے اُن تباہ کن نتائج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جن میں ٹریفک حادثات، شرابی ماؤں کے بچوں کا دماغی نقصان، خاندانی مسائل، اور دیگر مہلک اثرات شامل ہیں۔ مزید معلومات کے لیے Alcoholics Anonymous اور Gamblers Anonymous سے رجوع کریں۔ مزید دیکھیں: 5:90-91۔
فی الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۗ وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ اليَتٰمىٰ ۖ قُل إِصلاحٌ لَهُم خَيرٌ ۖ وَإِن تُخالِطوهُم فَإِخوٰنُكُم ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ المُفسِدَ مِنَ المُصلِحِ ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَأَعنَتَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ
[2:220] upon this life and the Hereafter. And they ask you about the orphans: say, “Bringing them up as righteous persons is the best you can do for them. If you mix their property with yours, you shall treat them as family members.” GOD knows the righteous and the wicked. Had GOD willed, He could have imposed harsher rules upon you. GOD is Almighty, Most Wise”
اِس زندگی اور آخرت کے بارے میں۔ اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہو، جو سب سے بہتر تم اُن کے لیے کر سکتے ہو وہ ہے نیک انسان کے طور پر اُن کی پرورش کرنا۔اگر تم اُن کا مال اپنے مال میں ملا لو، تو اُن کے ساتھ گھروالوں جیسا سلوک کرو۔ اللہ نیک لوگوں کو بھی جانتا ہے اور بدکاروں کو بھی۔ اگر اللّٰہ چاہتا، تو تم پر سخت احکام نافذ کر دیتا۔ اللہ سب سے زیادہ طاقت والا ، انتہائی دانا ہے۔
وَلا تَنكِحُوا المُشرِكٰتِ حَتّىٰ يُؤمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُؤمِنَةٌ خَيرٌ مِن مُشرِكَةٍ وَلَو أَعجَبَتكُم ۗ وَلا تُنكِحُوا المُشرِكينَ حَتّىٰ يُؤمِنوا ۚ وَلَعَبدٌ مُؤمِنٌ خَيرٌ مِن مُشرِكٍ وَلَو أَعجَبَكُم ۗ أُولٰئِكَ يَدعونَ إِلَى النّارِ ۖ وَاللَّهُ يَدعوا إِلَى الجَنَّةِ وَالمَغفِرَةِ بِإِذنِهِ ۖ وَيُبَيِّنُ ءايٰتِهِ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ
Do Not Marry Idol Worshipers
[2:221] Do not marry idolatresses unless they believe; a believing woman is better than an idolatress, even if you like her. Nor shall you give your daughters in marriage to idolatrous men, unless they believe. A believing man is better than an idolater, even if you like him. These invite to Hell, while GOD invites to Paradise and forgiveness, as He wills. He clarifies His revelations for the people, that they may take heed.
مشرکین سے شادی مت کرو
مشرک عورتوں سے شادی نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں؛ مومن عورت مشرک عورت سے بہتر ہے، چاہے تم اُسے پسند ہی کیوں نہ کرو۔ نہ ہی تم اپنی بیٹیوں کا نکاح مشرک مردوں سے کرو، جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن مرد ایک مشرک سے بہتر ہے، چاہے تم اُسے پسند ہی کیوں نہ کرو۔ یہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اللہ جسے چاہتا ہے اُسے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنی آیات لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ المَحيضِ ۖ قُل هُوَ أَذًى فَاعتَزِلُوا النِّساءَ فِى المَحيضِ ۖ وَلا تَقرَبوهُنَّ حَتّىٰ يَطهُرنَ ۖ فَإِذا تَطَهَّرنَ فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوّٰبينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرينَ
Menstruation
[2:222] They ask you about menstruation: say, “It is harmful; you shall avoid sexual intercourse with the women during menstruation; do not approach them until they are rid of it. Once they are rid of it, you may have intercourse with them in the manner designed by GOD. GOD loves the repenters, and He loves those who are clean.”
حیض (ماہواری)
وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہو، یہ نقصان دہ ہے؛ حیض کے دوران عورتوں کے ساتھ مباشرت سے پرہیز کرو؛ اور اُن کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ وہ اُس سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیں۔ جب وہ اُس سے چھٹکارا پا لیں، تو تم اُن سے اللہ کے بنائے ہوئے طریقے سے مباشرت کر سکتے ہو۔ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اور وہ اُن سے محبت کرتا ہے جو پاک صاف رہتے ہیں۔
نِساؤُكُم حَرثٌ لَكُم فَأتوا حَرثَكُم أَنّىٰ شِئتُم ۖ وَقَدِّموا لِأَنفُسِكُم ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّكُم مُلٰقوهُ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ
[2:223] Your women are the bearers of your seed. Thus, you may enjoy this privilege however you like, so long as you maintain righteousness. You shall observe GOD, and know that you will meet Him. Give good news to the believers.
تمہاری عورتیں تمہاری نسل کی علم بردار ہیں۔ لہٰذا، تم اِس ازواجی حق سے جس طرح چاہو لطف اندوز ہو سکتے ہو، بشرطیکہ تم پرہیزگاری قائم رکھو۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو، اور جان لو کہ تم اُس سے ملاقات کرو گے۔ ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔
وَلا تَجعَلُوا اللَّهَ عُرضَةً لِأَيمٰنِكُم أَن تَبَرّوا وَتَتَّقوا وَتُصلِحوا بَينَ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ
Do Not Take God’s Name in Vain
[2:224] Do not subject GOD’s name to your casual swearing, that you may appear righteous, pious, or to attain credibility among the people. GOD is Hearer, Knower.”
اللہ کا نام بے مقصد مت لو
اللہ کے نام کو اپنی معمولی قسموں میں استعمال نہ کرو، تاکہ تم لوگوں میں نیک، پرہیزگار نظر آؤ، یا لوگوں کا اعتبار حاصل کر سکو۔ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمٰنِكُم وَلٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما كَسَبَت قُلوبُكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ حَليمٌ
[2:225] GOD does not hold you responsible for the mere utterance of oaths; He holds you responsible for your innermost intentions. GOD is Forgiver, Clement.
اللہ تمہیں اُن قسموں کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا جو تم بے مقصد صرف زبان سے کہہ دیتے ہو؛ وہ تمہیں تمہارے اندر کی نیتوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے
لِلَّذينَ يُؤلونَ مِن نِسائِهِم تَرَبُّصُ أَربَعَةِ أَشهُرٍ ۖ فَإِن فاءو فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ
Laws of Divorce
[2:226] Those who intend to divorce their wives shall wait four months (cooling off); if they change their minds and reconcile, then GOD is Forgiver, Merciful.
طلاق کے قوانین
جو لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ چار مہینے انتظار کریں (یعنی ٹھنڈا ہونے کا وقت لیں)؛ اگر وہ اپنا ارادہ بدل لیں اور صلح کر لیں تو اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
وَإِن عَزَمُوا الطَّلٰقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ
[2:227] If they go through with the divorce, then GOD is Hearer, Knower.
اگر وہ طلاق دے ہی دیں، تو اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
وَالمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُروءٍ ۚ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكتُمنَ ما خَلَقَ اللَّهُ فى أَرحامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤمِنَّ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ وَبُعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فى ذٰلِكَ إِن أَرادوا إِصلٰحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثلُ” الَّذى عَلَيهِنَّ بِالمَعروفِ ۚ وَلِلرِّجالِ عَلَيهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ
[2:228] The divorced women shall wait three menstruations (before marrying another man). It is not lawful for them to conceal what GOD creates in their wombs, if they believe in GOD and the Last Day. (In case of pregnancy,) the husband’s wishes shall supersede the wife’s wishes, if he wants to remarry her. The women have rights, as well as obligations, equitably. Thus, the man’s wishes prevail (in case of pregnancy). GOD is Almighty, Most Wise.
طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں (دوسرے مرد سے شادی کرنے سے پہلے)۔ اُن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اُس کو چھپائیں جو اللہ نے اُن کے رحم میں پیدا کیا ہے، اگر وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ (حمل کی صورت میں)، شوہر کی خواہشات بیوی کی خواہشات پر غالب ہوں گی، اگر وہ اُس سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے۔ عورتوں کے حقوق ہیں، اُس کے ساتھ ساتھ اُن پر برابر کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ تاہم، مرد کی خواہشات (حمل کی صورت میں) غالب ہوں گی۔ اللہ قادرِ مطلق، انتہائی دانا ہے۔
الطَّلٰقُ مَرَّتانِ ۖ فَإِمساكٌ بِمَعروفٍ أَو تَسريحٌ بِإِحسٰنٍ ۗ وَلا يَحِلُّ لَكُم أَن تَأخُذوا مِمّا ءاتَيتُموهُنَّ شَيـًٔا إِلّا أَن يَخافا أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّهِ ۖ فَإِن خِفتُم أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيهِما فيمَا افتَدَت بِهِ ۗ تِلكَ حُدودُ اللَّهِ فَلا تَعتَدوها ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدودَ اللَّهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ
[2:229] Divorce may be retracted twice. The divorced woman shall be allowed to live in the same home amicably, or leave it amicably. It is not lawful for the husband to take back anything he had given her. However, the couple may fear that they may transgress GOD’s law. If there is fear that they may transgress GOD’s law, they commit no error if the wife willingly gives back whatever she chooses. These are GOD’s laws; do not transgress them. Those who transgress GOD’s laws are the unjust.
طلاق دو بار واپس لی جا سکتی ہے۔ طلاق یافتہ عورت کو اُسی گھر میں خوش اسلوبی سے رہنے دیا جائے، یا خوش اسلوبی سے جانے دیا جائے۔ شوہر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی چیز واپس لے لے جو وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہو۔ تاہم، میاں بیوی کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے قانون سے تجاوز کر جائیں۔ اگر یہ خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود سے تجاوز کر جائیں گے، تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، اگر عورت اپنی رضامندی سے جو کچھ دینا چاہے، واپس کر دے۔ یہ اللہ کے قوانین ہیں؛ اِن سے تجاوز نہ کرو۔ وہ جو اللہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔
فَإِن طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعدُ حَتّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيهِما أَن يَتَراجَعا إِن ظَنّا أَن يُقيما حُدودَ اللَّهِ ۗ وَتِلكَ حُدودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَومٍ يَعلَمونَ
[2:230] If he divorces her (for the third time), it is unlawful for him to remarry her, unless she marries another man, then he divorces her. The first husband can then remarry her, so long as they observe GOD’s laws. These are GOD’s laws; He explains them for people who know.
اگر وہ اُسے (تیسری بار) طلاق دیتا ہے، تو اُس کے لیے اُس سے دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے، پھر وہ اُسے طلاق دے۔ پہلا شوہر پھر اُس سے دوبارہ شادی کر سکتا ہے، جب تک کہ وہ اللہ کے قوانین پر عمل کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے قوانین ہیں؛ وہ اِن کی وضاحت کرتا ہے اُن لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔
وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو سَرِّحوهُنَّ بِمَعروفٍ ۚ وَلا تُمسِكوهُنَّ ضِرارًا لِتَعتَدوا ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ ۚ وَلا تَتَّخِذوا ءايٰتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم وَما أَنزَلَ عَلَيكُم مِنَ الكِتٰبِ وَالحِكمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ
Do Not Throw the Divorcees Out Onto the Streets
[2:231] If you divorce the women, once they fulfill their interim (three menstruations), you shall allow them to live in the same home amicably, or let them leave amicably. Do not force them to stay against their will, as a revenge. Anyone who does this wrongs his own soul. Do not take GOD’s revelations in vain. Remember GOD’s blessings upon you, and that He sent down to you the scripture and wisdom to enlighten you. You shall observe GOD, and know that GOD is aware of all things.
طلاق یافتہ عورتوں کو گھر سے مت نکالو
اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، ایک بار جب وہ اپنی مدت (تین حیض) پوری کر لیں، تو تم انہیں ایک ہی گھر میں خوش اسلوبی سے رہنے دو، یا خوش اسلوبی سے انہیں جانے دو۔ انہیں انتقام کے طور پر اُن کی مرضی کے خلاف رہنے پر مجبور مت کرو۔ جو بھی ایسا کرتا ہے، وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو بے مقصد مت لو۔ اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، اور یہ کہ اُس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی، تمہارے علم و فہم کے لیے، تم اللہ کے احکامات کی پابندی کرو، اور جان لو کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعضُلوهُنَّ أَن يَنكِحنَ أَزوٰجَهُنَّ إِذا تَرٰضَوا بَينَهُم بِالمَعروفِ ۗ ذٰلِكَ يوعَظُ بِهِ مَن كانَ مِنكُم يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۗ ذٰلِكُم أَزكىٰ لَكُم وَأَطهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ
[2:232] If you divorce the women, once they fulfill their interim, do not prevent them from remarrying their husbands, if they reconcile amicably. This shall be heeded by those among you who believe in GOD and the Last Day. This is purer for you, and more righteous. GOD knows, while you do not know.
اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، اور ایک بار جب وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو انہیں اپنے شوہروں سے دوبارہ شادی کرنے سے مت روکو، اگر وہ آپس میں خوش اسلوبی سے صلح کر لیں، تو۔ اِس سے وہ لوگ نصیحت لیں گے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تمہارے لیے پاکیزہ، اور زیادہ پرہیزگار ہے۔ اللہ جانتا ہے، جبکہ تم نہیں جانتے۔
وَالوٰلِدٰتُ يُرضِعنَ أَولٰدَهُنَّ حَولَينِ كامِلَينِ ۖ لِمَن أَرادَ أَن يُتِمَّ الرَّضاعَةَ ۚ وَعَلَى المَولودِ لَهُ رِزقُهُنَّ وَكِسوَتُهُنَّ بِالمَعروفِ ۚ لا تُكَلَّفُ نَفسٌ إِلّا وُسعَها ۚ لا تُضارَّ وٰلِدَةٌ بِوَلَدِها وَلا مَولودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الوارِثِ مِثلُ ذٰلِكَ ۗ فَإِن أَرادا فِصالًا عَن تَراضٍ مِنهُما وَتَشاوُرٍ فَلا جُناحَ عَلَيهِما ۗ وَإِن” “أَرَدتُم أَن تَستَرضِعوا أَولٰدَكُم فَلا جُناحَ عَلَيكُم إِذا سَلَّمتُم ما ءاتَيتُم بِالمَعروفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ
[2:233] Divorced mothers shall nurse their infants two full years, if the father so wishes. The father shall provide the mother’s food and clothing equitably. No one shall be burdened beyond his ability. No mother shall be harmed on account of her infant, nor shall the father be harmed because of his infant. (If the father dies), his inheritor shall assume these responsibilities. If the infant’s parents mutually agree to part, after due consultation, they commit no error by doing so. You commit no error by hiring nursing mothers, so long as you pay them equitably. You shall observe GOD, and know that GOD is Seer of everything you do.
طلاق یافتہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں، اگر باپ یہ خواہش کرتا ہے۔ باپ ماں کا کھانا اور لباس انصاف کے ساتھ فراہم کرے، کسی پر اُس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، کسی ماں کو اُس کے شیر خوار بچے کی بنا پر تکلیف نہ دی جائے، اور نہ ہی کسی باپ کو اُس کے شیر خوار بچے کے سبب تکلیف دی جائے۔ (اگر باپ کا انتقال ہو جائے)، تو ایسے ہی یہ ذمہ داریاں اُس کا وارث ادا کرے۔ اگر بچے کے والدین علیحدگی اختیار کرتے ہیں، باہمی رضامندی سے، اور ضروری مشاورت کے بعد، تو وہ کوئی غلطی نہیں کرتے۔ تم دودھ پلانے والی ماؤں کی خدمات حاصل کرنے میں کوئی غلطی نہیں کرتے، بشرطیکہ تم انہیں منصفانہ طور پر معاوضہ ادا کرو۔ تم اللہ کا مشاہدہ کرو، اور جان لو کہ اللہ تمہارے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزوٰجًا يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَعَشرًا ۖ فَإِذا بَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما فَعَلنَ فى أَنفُسِهِنَّ بِالمَعروفِ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ
You Shall Observe the Pre-Marriage Interims
[2:234] Those who die and leave wives, their widows shall wait four months and ten days (before they remarry). Once they fulfill their interim, you commit no error by letting them do whatever righteous matters they wish to do. GOD is fully Cognizant of everything you do.
تم شادی سے پہلے کی درمیانی مدت کا مشاہدہ کرو
جو لوگ مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، اُن کی بیوائیں (دوسری شادی کرنے سے پہلے) چار مہینے اور دس دن تک انتظار کریں۔ ایک بار جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں، تو وہ جو بھی نیک اور جائز کام کرنا چاہیں، تم انہیں اجازت دینے میں کوئی غلطی نہیں کرتے۔ اللہ تمہارے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے۔
وَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما عَرَّضتُم بِهِ مِن خِطبَةِ النِّساءِ أَو أَكنَنتُم فى أَنفُسِكُم ۚ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُم سَتَذكُرونَهُنَّ وَلٰكِن لا تُواعِدوهُنَّ سِرًّا إِلّا أَن تَقولوا قَولًا مَعروفًا ۚ وَلا تَعزِموا عُقدَةَ النِّكاحِ حَتّىٰ يَبلُغَ الكِتٰبُ أَجَلَهُ ۚ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما فى أَنفُسِكُم فَاحذَروهُ ۚ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَفورٌ حَليمٌ
[2:235] You commit no sin by announcing your engagement to the women, or keeping it secret. GOD knows that you will think about them. Do not meet them secretly, unless you have something righteous to discuss. Do not consummate the marriage until their interim is fulfilled. You should know that GOD knows your innermost thoughts, and observe Him. You should know that GOD is Forgiver, Clement.
تم کوئی گناہ نہیں کرتے اگر تم عورتوں سے اپنی منگنی کا اعلان کرتے ہو، یا اُسے خفیہ رکھتے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اُن کے بارے میں سوچو گے۔ اُن سے چھپ کر نہ ملو، جب تک کہ تمہارے پاس کوئی راست بات کرنے کو نہ ہو۔ شادی کی تکمیل تب تک نہ کرو، جب تک اُن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تمہارے اندرونی خیالات کو جانتا ہے، اور اُس کا مشاہدہ کرو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
لا جُناحَ عَلَيكُم إِن طَلَّقتُمُ النِّساءَ ما لَم تَمَسّوهُنَّ أَو تَفرِضوا لَهُنَّ فَريضَةً ۚ وَمَتِّعوهُنَّ عَلَى الموسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى المُقتِرِ قَدَرُهُ مَتٰعًا بِالمَعروفِ ۖ حَقًّا عَلَى المُحسِنينَ
Breaking the Engagement
[2:236] You commit no error by divorcing the women before touching them, or before setting the dowry for them. In this case, you shall compensate them—the rich as he can afford and the poor as he can afford—an equitable compensation. This is a duty upon the righteous.
نکاح توڑنا
تم عورتوں کو چھونے سے پہلے یا اُن کے لیے مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے کر کوئی غلطی نہیں کرتے۔ ایسی صورت میں، تم اُن کا حق ادا کرو۔ امیر اپنی استطاعت کے مطابق، اور غریب اپنی استطاعت کے مطابق ایک منصفانہ ازالہ ادا کرے۔ یہ صالحین پر فرض ہے۔
وَإِن طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ وَقَد فَرَضتُم لَهُنَّ فَريضَةً فَنِصفُ ما فَرَضتُم إِلّا أَن يَعفونَ أَو يَعفُوَا۟ الَّذى بِيَدِهِ عُقدَةُ النِّكاحِ ۚ وَأَن تَعفوا أَقرَبُ لِلتَّقوىٰ ۚ وَلا تَنسَوُا الفَضلَ بَينَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ
[2:237] If you divorce them before touching them, but after you had set the dowry for them, the compensation shall be half the dowry, unless they voluntarily forfeit their rights, or the party responsible for causing the divorce chooses to forfeit the dowry. To forfeit is closer to righteousness. You shall maintain the amicable relations among you. GOD is Seer of everything you do.
اگر تم انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیتے ہو، مگر تم اُن کا مہر مقرر کر چکے ہو، تو پھر ازالہ آدھا حق مہر ہو گا، بشرطیکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائیں، یا طلاق کا ذمہ دار فریق خود اپنی مرضی سے مہر سے دستبردار ہو جائے۔ دستبردار ہونا نیکی کے زیادہ قریب ہے۔ تم ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو برقرار رکھو۔ اللہ تمہارے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
حٰفِظوا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلوٰةِ الوُسطىٰ وَقوموا لِلَّهِ قٰنِتينَ
You Shall Observe the Contact Prayers*
[2:238] You shall consistently observe the Contact Prayers, especially the middle prayer, and devote yourselves totally to GOD.
تم نمازوں کی پابندی کرو*
تم نمازوں کی مستقل طور پر پابندی کرو، خاص کر درمیانی نماز کی، اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے لیے وقف کر دو
footnote
*2:238 All five prayers are found in 2:238, 11:114, 17:78, & 24:58. When the Quran was revealed, the Contact Prayers (Salat) had already been in existence (Appendix 9). The details of all five prayers – what to recite and the number of units (Rak`aas) per prayer, etc. – are mathematically confirmed. For example, writing down the number of units for each of the five prayers, next to each other, we get 24434, 19×1286. Also, if we use [*] to represent Sura 1 (Al-Faatehah), where [*]=the sura number (1), followed by the number of verses (7), followed by the number of each verse, the number of letters in each verse, and the gematrical value of every letter, writing down 2[*][*]4[*][*][*][*]4[*][*][*][*]3[*][*][*]4[*][*][*][*] produces a multiple of 19 (see 1).
فٹ نوٹ
*2:238 تمام پانچ نمازیں 2:238، 11:114، 17:78، اور 24:58 میں پائی جاتی ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تھا، تو رابطہ کی نمازیں (صلات) پہلے سے موجود تھیں (ضمیمہ 9)۔ تمام پانچ نمازوں کی تفصیلات، اُن میں کیا پڑھنا ہے، اور ہر نماز میں رکعات کی تعداد وغیرہ ریاضیاتی طور پر ثابت ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر، پانچوں نمازوں میں سے ہر نماز کی رکعت کی تعداد کو ایک دوسرے کے آگے لکھیں، تو ہمیں 24434، 19×1286 ملتا ہے۔ اِس کے علاوہ، اگر ہم سورت 1 (الفاتحہ) کی نمائندگی کرنے کے لیے [*] کا استعمال کریں، جہاں [*]= سورت نمبر (1)، اُس کے بعد آیات کی تعداد (7)، اُس کے بعد ہر آیت کی تعداد، اُس کے بعد ہر آیت میں حروف کی تعداد، اور ہر حرف کی جیومیٹریکل ویلیو کو لکھیں 2 [*][*]4[*][*][*][*]4[*][*][*][*]3 [*][*][*]4[*][*][*][*] یہ 19 سے حسبِ ضرب ہے (1:1 دیکھیں)۔
فَإِن خِفتُم فَرِجالًا أَو رُكبانًا ۖ فَإِذا أَمِنتُم فَاذكُرُوا اللَّهَ كَما عَلَّمَكُم ما لَم تَكونوا تَعلَمونَ
[2:239] Under unusual circumstances, you may pray while walking or riding. Once you are safe, you shall commemorate GOD as He taught you what you never knew.
غیر معمولی حالات میں، تم نماز پیدل چلتے ہوئے یا سواری کرتے ہوئے پڑھ سکتے ہو۔ ایک بار محفوظ ہونے کے بعد، تم اللہ کو یاد کرو، کیونکہ اُس نے تمہیں وہ سکھایا جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا۔
وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزوٰجًا وَصِيَّةً لِأَزوٰجِهِم مَتٰعًا إِلَى الحَولِ غَيرَ إِخراجٍ ۚ فَإِن خَرَجنَ فَلا جُناحَ عَلَيكُم فى ما فَعَلنَ فى أَنفُسِهِنَّ مِن مَعروفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ
Alimony For Widows and Divorcees
[2:240] Those who die and leave wives, you shall provide their wives with support for a year, provided they stay within the same household. If they leave, you commit no sin by letting them do whatever they wish, so long as righteousness is maintained. GOD is Almighty, Most Wise.
بیواؤں اور طلاق یافتہ کی کفالت
وہ جو مر جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، ایک وصیت اُن کی بیویوں کو ایک سال تک کی کفالت ادا کرنے کی ہو، بشرطیکہ وہ اُسی گھر میں رہیں۔ اگر وہ چلی جائیں، تو وہ جو کچھ کرنا چاہتی ہیں، اُن کو کرنے دینے میں تم کوئی گناہ نہیں کرتے، جب تک کہ وہ راستبازی برقرار رکھیں۔ اللہ قادرِ مطلق، انتہائی دانا ہے۔
وَلِلمُطَلَّقٰتِ مَتٰعٌ بِالمَعروفِ ۖ حَقًّا عَلَى المُتَّقينَ
[2:241] The divorcees also shall be provided for, equitably. This is a duty upon the righteous.
طلاق یافتہ کو بھی منصفانہ طور پر فراہم کیا جائے۔ یہ صالحین پر فرض ہے۔
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ
[2:242] GOD thus explains His revelations for you, that you may understand.
اللہ اِس طرح تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ خَرَجوا مِن دِيٰرِهِم وَهُم أُلوفٌ حَذَرَ المَوتِ فَقالَ لَهُمُ اللَّهُ موتوا ثُمَّ أَحيٰهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ
Striving in the Cause of God
[2:243] Have you noted those who fled their homes—though they were in the thousands—fearing death? GOD said to them, “Die,” then revived them. GOD showers His grace upon the people, but most people are unappreciative.”
اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا
کیا تم نے اُن پر غور کیا جو موت کے خوف سے اپنے گھروں سے بھاگ گئے — حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے اُن سے کہا، مر جاؤ،پھر اُن کو زندہ کیا۔ اللہ لوگوں پر اپنا فضل و کرم کرتا ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔
وَقٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ
[2:244] You shall fight in the cause of GOD, and know that GOD is Hearer, Knower.
تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اور جان لو کہ اللہ سننے والا، اور جاننے والا ہے۔
مَن ذَا الَّذى يُقرِضُ اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهُ لَهُ أَضعافًا كَثيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقبِضُ وَيَبصُۜطُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ
[2:245] Who would lend GOD a loan of righteousness, to have it repaid to them multiplied manifold? GOD is the One who provides and withholds, and to Him you will be returned.
کون ہے جو اللہ کو نیکی کا قرض دے گا، تاکہ اُس کو کئی گنا زیادہ بڑھا کر واپس دیا جائے؟ اللہ ہی ہے جو رزق دینے والا اور روکنے والا ہے، اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
أَلَم تَرَ إِلَى المَلَإِ مِن بَنى إِسرٰءيلَ مِن بَعدِ موسىٰ إِذ قالوا لِنَبِىٍّ لَهُمُ ابعَث لَنا مَلِكًا نُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ قالَ هَل عَسَيتُم إِن كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ أَلّا تُقٰتِلوا ۖ قالوا وَما لَنا أَلّا نُقٰتِلَ فى سَبيلِ اللَّهِ”“وَقَد أُخرِجنا مِن دِيٰرِنا وَأَبنائِنا ۖ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ تَوَلَّوا إِلّا قَليلًا مِنهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ
Saul*
[2:246] Have you noted the leaders of Israel after Moses? They said to their prophet, “If you appoint a king to lead us, we will fight in the cause of GOD.” He said, “Is it your intention that, if fighting is decreed for you, you will not fight?” They said, “Why should we not fight in the cause of GOD, when we have been deprived of our homes, and our children?” Yet, when fighting was decreed for them, they turned away, except a few. GOD is aware of the transgressors.”
طالوت*
کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے رہنماؤں پر غور کیا ہے؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا، اگر تم ہماری قیادت کے لیے ایک بادشاہ کو مقرر کرو گے، تو ہم اللہ کی راہ میں لڑیں گے۔ اُس نے کہا: کیا یہ تمہارا ارادہ ہے کہ اگر تم پر لڑائی کا حکم عائد ہو جائے، تو تم نہیں لڑو گے؟ انہوں نے کہا، ہم اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے، جبکہ ہم اپنے گھروں اور بچوں سے محروم ہو چکے ہیں؟ اِس کے باوجود، جب انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا، تو سوائے چند ایک کے باقی سب منہ موڑ گئے۔ اللہ ظالموں سے باخبر ہے۔
footnote
*2:246 This same history is narrated in the Bible’s Book of I Samuel, Ch. 9 and 10.
فٹ نوٹ
*2:246 بائبل کی کتاب 1 سیموئیل باب 9 اور 10 میں بھی یہی تاریخی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
وَقالَ لَهُم نَبِيُّهُم إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا ۚ قالوا أَنّىٰ يَكونُ لَهُ المُلكُ عَلَينا وَنَحنُ أَحَقُّ بِالمُلكِ مِنهُ وَلَم يُؤتَ سَعَةً مِنَ المالِ ۚ قالَ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰهُ عَلَيكُم وَزادَهُ بَسطَةً فِى العِلمِ وَالجِسمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤتى مُلكَهُ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ
Questioning God’s Wisdom
[2:247] Their prophet said to them, “GOD has appointed Taloot (Saul) to be your king.” They said, “How can he have kingship over us when we are more worthy of kingship than he; he is not even rich?” He said, “GOD has chosen him over you, and has blessed him with an abundance in knowledge and in body.” GOD grants His kingship to whomever He wills. GOD is Bounteous, Omniscient.”
اللہ کی حکمت پر سوال کرنا
اُن کے نبی نے اُن سے کہا کہ اللہ نے طالوت (ساؤل) کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہم پر بادشاہی کیسے کر سکتا ہے، جبکہ ہم اُس سے زیادہ بادشاہت کے لائق ہیں، اور وہ توامیر بھی نہیں؟ اُس نے کہا، اللہ نے اُسے تم پر منتخب کیا ہے، اور اُسے علم اور جسم میں فراوانی سے نوازا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطا کرتا ہے۔ اللہ فضل کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
وَقالَ لَهُم نَبِيُّهُم إِنَّ ءايَةَ مُلكِهِ أَن يَأتِيَكُمُ التّابوتُ فيهِ سَكينَةٌ مِن رَبِّكُم وَبَقِيَّةٌ مِمّا تَرَكَ ءالُ موسىٰ وَءالُ هٰرونَ تَحمِلُهُ المَلٰئِكَةُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
Ark of the Covenant
[2:248] Their prophet said to them, “The sign of his kingship is that the Ark of the Covenant will be restored to you, bringing assurances from your Lord, and relics left by the people of Moses and the people of Aaron. It will be carried by the angels. This should be a convincing sign for you, if you are really believers.”
عہد کا صندوق
اُن کے نبی نے اُن سے کہا، اُس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ عہد کا صندوق تمہارے پاس واپس بحال کیا جائے گا، تمہارے رب کی طرف سے یقین دہانیاں لاتے ہوئے، اور جس میں موسیٰ کی قوم اور ہارون کی قوم کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہوں گی۔ اُسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہو گا۔ یہ تمہارے لیے ایک قابلِ یقین نشانی ہونی چاہیے، اگر تم واقعی مومن ہو۔
فَلَمّا فَصَلَ طالوتُ بِالجُنودِ قالَ إِنَّ اللَّهَ مُبتَليكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنهُ فَلَيسَ مِنّى وَمَن لَم يَطعَمهُ فَإِنَّهُ مِنّى إِلّا مَنِ اغتَرَفَ غُرفَةً بِيَدِهِ ۚ فَشَرِبوا مِنهُ إِلّا قَليلًا مِنهُم ۚ فَلَمّا جاوَزَهُ هُوَ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ قالوا لا طاقَةَ لَنَا اليَومَ بِجالوتَ وَجُنودِهِ ۚ قالَ الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلٰقُوا اللَّهِ كَم مِن فِئَةٍ قَليلَةٍ غَلَبَت فِئَةً كَثيرَةً بِإِذنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصّٰبِرينَ
David and Goliath
[2:249] When Saul took command of the troops, he said, “GOD is putting you to the test by means of a stream. Anyone who drinks from it does not belong with me—only those who do not taste it belong with me—unless it is just a single sip.” They drank from it, except a few of them. When he crossed it with those who believed, they said, “Now we lack the strength to face Goliath and his troops.” Those who were conscious of meeting GOD said, “Many a small army defeated a large army by GOD‘s leave. GOD is with those who steadfastly persevere.”
داؤد اور جالوت
جب طالوت نے فوجوں کی کمان سنبھالی، تو اُس نے کہا کہ اللہ تمہیں ایک ندی کے ذریعے آزمائش میں ڈال رہا ہے، جو کوئی اُس میں سے پیے گا، وہ مجھ سے تعلق نہیں رکھتا، صرف وہ جو اُس میں سے نہیں چکھیں گے، سوائے ایک گھونٹ کے، وہی میرے ساتھ ہیں۔ انھوں نے اُس میں سے پی لیا، سوائے چند ایک کے۔ جب اُس نے ایمان والوں کے ساتھ اُسے پار کر لیا، تو انہوں نے کہا، اب ہم میں جالوت اور اُس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہی۔وہ جنہیں اللہ سے ملاقات کا یقین تھا، انہوں نے کہا، کئی بار چھوٹی فوج نے اللہ کی مرضی سے ایک بڑی فوج کو شکست دی ہے۔ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں۔
وَلَمّا بَرَزوا لِجالوتَ وَجُنودِهِ قالوا رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ
[2:250] When they faced Goliath and his troops, they prayed, “Our Lord, grant us steadfastness, strengthen our foothold, and support us against the disbelieving people.”
جب انہوں نے جالوت اور اُس کی فوجوں کا سامنا کیا، تو انہوں نے دعا کی، اے ہمارے رب، ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، ہمارے قدم مضبوط فرما، اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
فَهَزَموهُم بِإِذنِ اللَّهِ وَقَتَلَ داوۥدُ جالوتَ وَءاتىٰهُ اللَّهُ المُلكَ وَالحِكمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمّا يَشاءُ ۗ وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَفَسَدَتِ الأَرضُ وَلٰكِنَّ اللَّهَ ذو فَضلٍ عَلَى العٰلَمينَ
[2:251] They defeated them by GOD’s leave, and David killed Goliath. GOD gave him kingship and wisdom, and taught him as He willed. If it were not for GOD’s support of some people against others, there would be chaos on earth. But GOD showers His grace upon the people.
انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دے دی، اور داؤد نے جالوت کو مار ڈالا۔ اللہ نے اُسے بادشاہت اور حکمت عطا کی، اور اُسے جیسے چاہا سکھایا۔ اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کی دوسروں کے خلاف مدد نہ ہوتی، تو زمین پر انتشار پھیل جاتا۔ لیکن اللہ اپنے بندوں پر اپنا فضل نچھاور کرتا ہے
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ المُرسَلينَ
[2:252] These are GOD’s revelations. We recite them through you*, truthfully, for you are one of the messengers.
یہ اللہ کی آیات ہیں ۔ہم اِنہیں تمہارے ذریعے سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔کیونکہ تم رسولوں میں سے ایک ہو۔
Footnote
*2:252 In keeping with the mathematical composition of the Quran, God has willed that the name of the messenger mentioned here shall be spelled out mathematically. The discovery of the Quran’s miraculous 19-based code has been divinely reserved for God’s Messenger of the Covenant. By adding this verse number (252), plus the gematrical value of “Rashad” (505), plus the gematrical value of “Khalifa” (725) we get 252+505+725 = 1482, or 19×78. Please see Appendices 2 and 26 for the complete details related to the proven identity of God’s Messenger of the Covenant, to whom this verse clearly refers.”
فٹ نوٹ
قرآن کی ریاضیاتی ترکیب کو مدنظر رکھتے ہوئے، اللہ نے چاہا ہے کہ یہاں ذکر کردہ رسول کا نام ریاضی کے لحاظ سے لکھا جائے۔ 19 کوڈ پر مبنی قرآن کے معجزے کی دریافت اللہ کی طرف سے میثاق رسول کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ اِس آیت نمبر (252) کے علاوہ راشاد” (505) کی ہندسی قدر اور خلیفہ (725) کی ہندسی قدر کو شامل کرنے سے ہمیں 252+505+725 = 1482، یا 19×78 ملتا ہے۔ اللہ کے میثاق رسول کی ثابت شدہ شناخت سے متعلق مکمل تفصیلات کے لیے براہِ کرم ضمیمہ 2 اور 26 دیکھیں، جس کی طرف یہ آیت واضح طور پر اشارہ کرتی ہے۔
تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلنا بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ ۘ مِنهُم مَن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعضَهُم دَرَجٰتٍ ۚ وَءاتَينا عيسَى ابنَ مَريَمَ البَيِّنٰتِ وَأَيَّدنٰهُ بِروحِ القُدُسِ ۗ وَلَو شاءَ اللَّهُ مَا اقتَتَلَ الَّذينَ مِن بَعدِهِم مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اختَلَفوا فَمِنهُم مَن ءامَنَ وَمِنهُم مَن كَفَرَ ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ مَا اقتَتَلوا وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَفعَلُ ما يُريدُ
Many Messengers / One Message
[2:253] These messengers; we blessed some of them more than others. For example, GOD spoke to one, and we raised some of them to higher ranks. And we gave Jesus, son of Mary, profound miracles and supported him with the Holy Spirit. Had GOD willed, their followers would not have fought with each other, after the clear proofs had come to them. Instead, they disputed among themselves; some of them believed, and some disbelieved. Had GOD willed, they would not have fought. Everything is in accordance with GOD’s will.
بہت سے رسول / ایک ہی پیغام
اِن رسولوں میں سے؛ بعض کو ہم نے دوسروں پر فضیلت دی۔ مثال کے طور پر، اللہ نے ایک سے بات کی، اور ہم نے اُن میں سے کچھ کو اونچے مرتبے عطا کیے۔ اور ہم نے عیسیٰ، ابنِ مریم کو افضل معجزات دیے اور روح القدس کے ساتھ اُس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا، تو اُن کے پیروکار آپس میں نہ جھگڑتے، اُن واضح ثبوتوں کے بعد جو اُن کو دیے گئے تھے۔ اُس کی بجائے وہ آپس میں جھگڑتے رہے؛ اُن میں سے کچھ ایمان لائے، اور کچھ کافر ہو گئے۔ اگر اللہ چاہتا، تو وہ جھگڑا نہ کرتے۔ سب کچھ اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔
“يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِمّا رَزَقنٰكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا بَيعٌ فيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا شَفٰعَةٌ ۗ وَالكٰفِرونَ هُمُ الظّٰلِمونَ
No Intercession*
[2:254] O you who believe, you shall give to charity from the provisions we have given to you, before a day comes where there is no trade, no nepotism, and no intercession. The disbelievers are the unjust.
کوئی سفارش*
اے ایمان والو، تم اُس میں سے خیرات دو، جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے، اِس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہو گی، نہ اقربا پروری، اور نہ ہی کوئی سفارش۔ بیشک کافر ظالم ہیں۔
footnote
*2:254 One of Satan’s clever tricks is attributing the power of intercession to powerless human idols such as Jesus and Muhammad (Appendix 8).”
فٹ نوٹ
شفاعت کی طاقت کو عیسی اور محمد جیسے بے اختیار انسانی بتوں سے منسوب کرنا، شیطان کی چالاک چالوں میں سے ایک چال ہے (ضمیمہ 8)۔
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ ۚ لا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَومٌ ۚ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم ۖ وَلا يُحيطونَ بِشَيءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ ۚ وَسِعَ كُرسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ ۖ وَلا يَـٔودُهُ حِفظُهُما ۚ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ
[2:255] GOD: there is no other god besides Him, the Living, the Eternal. Never a moment of unawareness or slumber overtakes Him. To Him belongs everything in the heavens and everything on earth. Who could intercede with Him, except in accordance with His will? He knows their past, and their future. No one attains any knowledge, except as He wills. His dominion encompasses the heavens and the earth, “and ruling them never burdens Him. He is the Most High, the Great.”
اللہ: اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، قائم و دائم ہے۔ اُس پر بے خبری یا نیند کا ایک لمحہ بھی نہیں آتا۔ آسمانوں اور زمین پر سب کچھ اُسی کا ہے۔ کون ہے جو اُس سے سفارش کر سکے، سوائے وہ جو اُس کی رضا کے مطابق ہو؟ وہ اُن کے ماضی اور مستقبل کو جانتا ہے۔ کوئی بھی علم حاصل نہیں کر سکتا، بغیر اُس کی مرضی کے۔ اُس کی سلطنت آسمانوں اور زمین پر محیط ہے، اور اُن پر حکومت کرنا اُس پر کبھی بوجھ نہیں بنتا۔ وہ سب سے بلند اور عظیم ہے۔
لا إِكراهَ فِى الدّينِ ۖ قَد تَبَيَّنَ الرُّشدُ مِنَ الغَىِّ ۚ فَمَن يَكفُر بِالطّٰغوتِ وَيُؤمِن بِاللَّهِ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُروَةِ الوُثقىٰ لَا انفِصامَ لَها ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ
No Compulsion in Religion
[2:256] There shall be no compulsion in religion: the right way is now distinct from the wrong way. Anyone who denounces the devil and believes in GOD has grasped the strongest bond; one that never breaks. GOD is Hearer, Omniscient.
دین میں کوئی زبردستی نہیں
مذہب میں کوئی زبردستی نہیں ہو گی: صحیح راستہ اب غلط راستے سے واضح الگ ہو چکا ہے۔ جو کوئی بھی شیطان کی مذمت کرتا ہے اور اللہ پر یقین رکھتا ہے، اُس نے مضبوط ترین بندھن کو تھام لیا ہے؛ وہ جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ اللہ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
اللَّهُ وَلِىُّ الَّذينَ ءامَنوا يُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا أَولِياؤُهُمُ الطّٰغوتُ يُخرِجونَهُم مِنَ النّورِ إِلَى الظُّلُمٰتِ ۗ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
[2:257] GOD is Lord of those who believe; He leads them out of darkness into the light. As for those who disbelieve, their lords are their idols; they lead them out of the light into darkness—these will be the dwellers of Hell; they abide in it forever.
اللہ ایمان والوں کا رب ہے؛ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کرتے ہیں، اُن کے رب اُن کے بت ہیں؛ وہ انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں لے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے باشندے ہوں گے؛ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
أَلَم تَرَ إِلَى الَّذى حاجَّ إِبرٰهۦمَ فى رَبِّهِ أَن ءاتىٰهُ اللَّهُ المُلكَ إِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّىَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ قالَ أَنا۠ أُحيۦ وَأُميتُ ۖ قالَ إِبرٰهۦمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأتى بِالشَّمسِ مِنَ المَشرِقِ فَأتِ بِها مِنَ المَغرِبِ فَبُهِتَ الَّذى كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ
Abraham’s Courageous Debate
[2:258] Have you noted the one who argued with Abraham about his Lord, though GOD had given him kingship? Abraham said, “My Lord grants life and death.” He said, “I grant life and death.” Abraham said, “GOD brings the sun from the east, can you bring it from the west?” The disbeliever was stumped. GOD does not guide the wicked.”
ابراہیم کی جرات مندانہ بحث
کیا تم نے اُس شخص پر غور کیا جس نے ابراہیم کے ساتھ اُس کے پروردگار کے بارے میں بحث کی، حالانکہ اللہ نے اُسے بادشاہت دی تھی؟ ابراہیم نے کہا، میرا رب زندگی اور موت دیتا ہے۔ اُس نے کہا، میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، کیا تم اُسے مغرب سے نکال سکتے ہو؟ کافر سٹپٹا گیا۔ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
أَو كَالَّذى مَرَّ عَلىٰ قَريَةٍ وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها قالَ أَنّىٰ يُحيۦ هٰذِهِ اللَّهُ بَعدَ مَوتِها ۖ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِا۟ئَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قالَ كَم لَبِثتَ ۖ قالَ لَبِثتُ يَومًا أَو بَعضَ يَومٍ ۖ قالَ بَل لَبِثتَ مِا۟ئَةَ عامٍ فَانظُر إِلىٰ طَعامِكَ وَشَرابِكَ لَم يَتَسَنَّه ۖ وَانظُر إِلىٰ حِمارِكَ وَلِنَجعَلَكَ ءايَةً لِلنّاسِ ۖ وَانظُر إِلَى العِظامِ كَيفَ نُنشِزُها ثُمَّ نَكسوها لَحمًا ۚ فَلَمّا تَبَيَّنَ لَهُ قالَ أَعلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
Lesson About Death*
[2:259] Consider the one who passed by a ghost town and wondered, “How can GOD revive this after it had died?” GOD then put him to death for a hundred years, then resurrected him. He said, “How long have you stayed here?” He said, “I have been here a day, or part of the day.” He said, “No! You have been here a hundred years. Yet, look at your food and drink; they did not spoil. Look at your donkey—we thus render you a lesson for the people. Now, note how we construct the bones, then cover them with flesh.” When he realized what had happened, he said, “Now I know that GOD is Omnipotent.”
موت کے بارے میں سبق*
اُس شخص پر غور کرو جو ایک ویران بستی کے پاس سے گزرا اور حیران ہوا کہ، اللہ اِسے موت کے بعد کیسے زندہ کر سکتا ہے؟ اللہ نے اُسے سو سال کے لیے موت دے دی، پھر اُسے دوبارہ زندہ کیا۔ اُس نے کہا، تم کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو؟ اُس نے کہا، میں یہاں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔اُس (اللہ) نے کہا، نہیں! تم یہاں سو سال ٹھہرے ہو، تاہم اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو، وہ خراب نہیں ہوئے، اور اپنے گدھے کو دیکھو—پس اِس طرح ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک سبق بنا رہے ہیں۔ اب، غور کرو ہم ہڈیوں کی تعمیر کس طرح کرتے ہیں، پھر انہیں گوشت سے ڈھانپ دیتے ہیں۔ جب اُسے احساس ہوا کہ کیا ہوا ہے، تو اُس نے کہا، اب میں جان گیا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Footnote
*2:259 The lesson we learn here is that the period of death – only the unrighteous die; the righteous go straight to Heaven – passes like one day (see 18:19-25 and Appendix 17).
فٹ نوٹ
جو سبق ہم یہاں سے سیکھتے ہیں، وہ موت کا دورانیہ ہے جو کہ ایک دن کی طرح گزر جاتا ہے—صرف بدکار ہی مرتے ہیں؛ نیک لوگ سیدھا جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ (دیکھیں 18:19-25 اور ضمیمہ 17)۔
وَإِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّ أَرِنى كَيفَ تُحىِ المَوتىٰ ۖ قالَ أَوَلَم تُؤمِن ۖ قالَ بَلىٰ وَلٰكِن لِيَطمَئِنَّ قَلبى ۖ قالَ فَخُذ أَربَعَةً مِنَ الطَّيرِ فَصُرهُنَّ إِلَيكَ ثُمَّ اجعَل عَلىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِنهُنَّ جُزءًا ثُمَّ ادعُهُنَّ يَأتينَكَ سَعيًا ۚ وَاعلَم أَنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ
Every Believer Needs Assurance
[2:260] Abraham said, “My Lord, show me how You revive the dead.” He said, “Do you not believe?” He said, “Yes, but I wish to reassure my heart.” He said, “Take four birds, study their marks, place a piece of each bird on top of a hill, then call them to you. They will come to you in a hurry. You should know that GOD is Almighty, Most Wise.”
ہر مومن کو یقین دہانی کی ضرورت ہے
ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا دیں کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ اُس (اللہ) نے کہا، کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ اُس نے کہا، ہاں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو یقین آ جائے۔ اُس (اللہ) نے کہا: چار پرندے لو، اور اُن کے نشانات کا مطالعہ کرو، ہر پرندے کا ایک ٹکڑا پہاڑی کی چوٹی پر رکھو، پھر انہیں اپنے پاس بلاؤ، وہ جلدی سے تمہارے پاس آئیں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ قادرِمطلق، انتہائی حکمت والا ہے۔
مَثَلُ الَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم فى سَبيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَت سَبعَ سَنابِلَ فى كُلِّ سُنبُلَةٍ مِا۟ئَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضٰعِفُ لِمَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ
The Best Investment
[2:261] The example of those who spend their monies in the cause of GOD is that of a grain that produces seven spikes, with a hundred grains in each spike. GOD multiplies this manifold for whomever He wills. GOD is Bounteous, Knower.
بہترین سرمایہ کاری
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اُن کی مثال ایک ایسے دانے جیسی ہے جو سات خوشے پیدا کرتا ہے، اور ہر خوشے میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے، اُس کے لیے کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اللہ فضل والا، جاننے والا ہے۔
الَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم فى سَبيلِ اللَّهِ ثُمَّ لا يُتبِعونَ ما أَنفَقوا مَنًّا وَلا أَذًى ۙ لَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
[2:262] Those who spend their money in the cause of GOD, then do not follow their charity with insult or harm, will receive their recompense from their Lord; they have nothing to fear, nor will they grieve.
جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر اپنی خیرات دینے کے بعد نہ تو وہ توہین کرتے ہیں اور نہ ہی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنا اجر اپنے رب کی طرف سے پائیں گے؛ نہ انہیں کوئی خوف ہو گا، اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
قَولٌ مَعروفٌ وَمَغفِرَةٌ خَيرٌ مِن صَدَقَةٍ يَتبَعُها أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِىٌّ حَليمٌ
[2:263] Kind words and compassion are better than a charity that is followed by insult. GOD is Rich, Clement.
نرم الفاظ اور ہمدردی اُس خیرات سے بہتر ہیں جس کے بعد توہین کی جاۓ۔ اللہ غنی ہے، اور رحم کرنے والا۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُبطِلوا صَدَقٰتِكُم بِالمَنِّ وَالأَذىٰ كَالَّذى يُنفِقُ مالَهُ رِئاءَ النّاسِ وَلا يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفوانٍ عَلَيهِ تُرابٌ فَأَصابَهُ وابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلدًا ۖ لا يَقدِرونَ عَلىٰ شَيءٍ مِمّا كَسَبوا ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ
[2:264] O you who believe, do not nullify your charities by inflicting reproach and insult, like one who spends his money to show off, while disbelieving in GOD and the Last Day. His example is like a rock covered with a thin layer of soil; as soon as heavy rain falls, it washes off the soil, leaving it a useless rock. They gain nothing from their efforts. GOD does not guide disbelieving people.
اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور توہین کر کے ضائع مت کرو، ایسے شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے، جبکہ وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ ہی آخرت پر۔ اُس کی مثال ایک چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی کی تہہ جمی ہو؛ جیسے ہی اُس پر زور دار بارش پڑے، تو مٹی کو بہا لے جائے اور ایک بیکار پتھر کی طرح اُسے چھوڑ دے۔ وہ لوگ اپنی کوششوں سے کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ اللہ منکرین کو ہدایت نہیں دیتا۔
وَمَثَلُ الَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُمُ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ وَتَثبيتًا مِن أَنفُسِهِم كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبوَةٍ أَصابَها وابِلٌ فَـٔاتَت أُكُلَها ضِعفَينِ فَإِن لَم يُصِبها وابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ
Charity
[2:265] The example of those who give their money seeking GOD’s pleasure, out of sincere conviction, is that of a garden on high fertile soil; when heavy rain falls, it gives twice as much crop. If heavy rain is not available, a drizzle will suffice. GOD is Seer of everything you do.
خیرات
وہ لوگ جو اپنا مال پورے خلوص سے صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، اُن کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو بلند زرخیز زمین پر ہو؛ جب اُس پر زور کی بارش ہو، تو وہ دوگنا پھل دیتا ہے۔ اگر موسلا دھار بارش نہ بھی ہو، تو ہلکی بوندا باندی بھی کافی ہو جائے گی۔ اللہ تمہارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔
أَيَوَدُّ أَحَدُكُم أَن تَكونَ لَهُ جَنَّةٌ مِن نَخيلٍ وَأَعنابٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ لَهُ فيها مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَأَصابَهُ الكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفاءُ فَأَصابَها إِعصارٌ فيهِ نارٌ فَاحتَرَقَت ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَتَفَكَّرونَ
[2:266] Does any of you wish to own a garden of palm trees and grapes, with flowing streams and generous crops, then, just as he grows old, and while his children are still dependent on him, a holocaust strikes and burns up his garden? GOD thus clarifies the revelations for you, that you may reflect.
کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اُس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور اُس میں ہر طرح کی فصلیں ہوں، پھر جب وہ بوڑھا ہو جائے، اور اُس کی اولاد ابھی اُس پر انحصار کرتی ہو، تو ایک بہت بڑی تباہی اُس کے باغ کو جلا ڈالے؟ اللہ اِس طرح اپنی آیات کو تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کرو۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِن طَيِّبٰتِ ما كَسَبتُم وَمِمّا أَخرَجنا لَكُم مِنَ الأَرضِ ۖ وَلا تَيَمَّمُوا الخَبيثَ مِنهُ تُنفِقونَ وَلَستُم بِـٔاخِذيهِ إِلّا أَن تُغمِضوا فيهِ ۚ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَميدٌ
What to Give
[2:267] O you who believe, you shall give to charity from the good things you earn, and from what we have produced for you from the earth. Do not pick out the bad therein to give away, when you yourselves do not accept it unless your eyes are closed. You should know that GOD is Rich, Praiseworthy.
کیا دیا جائے
اے ایمان والو! جو کچھ تم کماتے ہو، اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے، اُن میں سے اچھی چیزیں خیرات میں دو۔ اُن میں سے بری چیزیں چن کر نہ دو، جنہیں تم خود لینا پسند نہ کرو، سوائے اِس کے کہ تمہاری آنکھیں بند ہوں۔ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ غنی، قابلِ تعریف ہے۔
الشَّيطٰنُ يَعِدُكُمُ الفَقرَ وَيَأمُرُكُم بِالفَحشاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَغفِرَةً مِنهُ وَفَضلًا ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ
[2:268] The devil promises you poverty and commands you to commit evil, while GOD promises you forgiveness from Him and grace. GOD is Bounteous, Omniscient.
شیطان تم سے غربت کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں برائی کرنے کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ سخی اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
يُؤتِى الحِكمَةَ مَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُؤتَ الحِكمَةَ فَقَد أوتِىَ خَيرًا كَثيرًا ۗ وَما يَذَّكَّرُ إِلّا أُولُوا الأَلبٰبِ
Wisdom: A Great Treasure
[2:269] He bestows wisdom upon whomever He chooses, and whoever attains wisdom, has attained a great bounty. Only those who possess intelligence will take heed.
دانائی: ایک عظیم خزانہ
وہ جسے چاہتا ہے دانائی عطا کرتا ہے، اور جس نے دانائی حاصل کی، اُس نے ایک بڑا فضل حاصل کیا۔ صرف وہی جو عقل رکھتے ہیں، نصیحت حاصل کریں گے۔
وَما أَنفَقتُم مِن نَفَقَةٍ أَو نَذَرتُم مِن نَذرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعلَمُهُ ۗ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ
Anonymous Charity Better
[2:270] Any charity you give, or a charitable pledge you fulfill, GOD is fully aware thereof. As for the wicked, they will have no helpers.
گمنام خیرات بہتر ہے
تم جو کچھ بھی خیرات دیتے ہو، یا تم کوئی خیراتی عہد پورا کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ جہاں تک بدکاروں کا تعلق ہے، تو اُن کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
إِن تُبدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمّا هِىَ ۖ وَإِن تُخفوها وَتُؤتوهَا الفُقَراءَ فَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِن سَيِّـٔاتِكُم ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ
[2:271] If you declare your charities, they are still good. But if you keep them anonymous, and give them to the poor, it is better for you, and remits more of your sins. GOD is fully Cognizant of everything you do.
اگر تم اپنی خیرات کو ظاہر کرو، تو وہ پھر بھی اچھی ہیں۔ لیکن اگر تم انہیں گمنام رکھتے ہو اور غریبوں کو دیتے ہو، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے بہت سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو، اللہ اُس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
لَيسَ عَلَيكَ هُدىٰهُم وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَهدى مَن يَشاءُ ۗ وَما تُنفِقوا مِن خَيرٍ فَلِأَنفُسِكُم ۚ وَما تُنفِقونَ إِلَّا ابتِغاءَ وَجهِ اللَّهِ ۚ وَما تُنفِقوا مِن خَيرٍ يُوَفَّ إِلَيكُم وَأَنتُم لا تُظلَمونَ
God is the Only One Who Guides
[2:272] You are not responsible for guiding anyone. GOD is the only one who guides whoever chooses (to be guided). Any charity you give is for your own good. Any charity you give shall be for the sake of GOD. Any charity you give will be repaid to you, without the least injustice.
صرف اللہ ہی ہے جو ہدایت دیتا ہے
تم کسی کو ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہو۔ صرف اللہ ہی ہے جو ہدایت دیتا ہے اُن کو جو (ہدایت) پانا چاہتے ہیں۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو، وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے۔ تم جو بھی خیرات دو، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ تم جو بھی خیرات دو گے، وہ تمہیں بغیر کسی ناانصافی کے لوٹا دی جائے گی۔
لِلفُقَراءِ الَّذينَ أُحصِروا فى سَبيلِ اللَّهِ لا يَستَطيعونَ ضَربًا فِى الأَرضِ يَحسَبُهُمُ الجاهِلُ أَغنِياءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعرِفُهُم بِسيمٰهُم لا يَسـَٔلونَ النّاسَ إِلحافًا ۗ وَما تُنفِقوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ
[2:273] Charity shall go to the poor who are suffering in the cause of GOD, and cannot emigrate. The unaware may think that they are rich, due to their dignity. But you can recognize them by certain signs; they never beg from the people persistently. Whatever charity you give, GOD is fully aware thereof.
خیرات اُن غریبوں کو جانی چاہیے جو اللہ کی راہ میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں، اور ہجرت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جو لوگ (اُن کے حال سے) ناواقف ہیں، وہ اُن کی خودداری کی وجہ سے اُنہیں خوشحال سمجھتے ہیں۔ لیکن تم انہیں کچھ نشانیوں سے پہچان سکتے ہو؛ وہ لوگوں سے بار بار نہیں مانگتے۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو، اللہ اُس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
الَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً فَلَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
[2:274] Those who give to charity night and day, secretly and publicly, receive their recompense from their Lord; they will have nothing to fear, nor will they grieve.
وہ لوگ جو رات دن پوشیدہ اور اعلانیہ خیرات دیتے ہیں، اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے؛ نہ انہیں کوئی خوف ہو گا، اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّبوٰا۟ لا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطٰنُ مِنَ المَسِّ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبوٰا۟ ۚ فَمَن جاءَهُ مَوعِظَةٌ مِن رَبِّهِ فَانتَهىٰ فَلَهُ” “ما سَلَفَ وَأَمرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَن عادَ فَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ
Usury Prohibited*
[2:275] Those who charge usury are in the same position as those controlled by the devil’s influence. This is because they claim that usury is the same as commerce. However, GOD permits commerce, and prohibits usury. Thus, whoever heeds this commandment from his Lord, and refrains from usury, he may keep his past earnings, and his judgment rests with GOD. As for those who persist in usury, they incur Hell, wherein they abide forever.
سود حرام ہے
وہ جو سود لیتے ہیں، اُن کی حالت اُن جیسی ہوتی ہے جو شیطان کے زیرِ اثر ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سود بھی تجارت کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو جائز ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام۔ پس جو شخص اپنے رب کے اِس حکم پر عمل کرے اور سود سے باز آ جائے، تو وہ اپنے گزشتہ کمائے ہوئے (مال) کو رکھ سکتا ہے، اور اُس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور جو لوگ سود پر قائم رہتے ہیں، وہ جہنم کے مستحق ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Footnote
*2:275-278 It is an established economic principle that excessive interest on loans can utterly destroy a whole country. During the last few years we have witnessed the devastation of the economies of many nations where excessive interest is charged. Normal interest – less than 20% – where no one is victimized and everyone is satisfied, is not usury.
فٹ نوٹ
یہ ایک تسلیم شدہ معاشی اصول ہے کہ قرضوں پر زیادہ سود کسی ملک کی معیشت کو مکمل طور پر برباد کر سکتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہم نے اُن قوموں کی معیشتوں کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے، جہاں حد سے زیادہ سود لیا جاتا ہے۔ عام طور پر 20% سے کم سود، جس سے کوئی متاثر نہ ہو، اور ہر کوئی مطمئن ہو، وہ سود نہیں ہے۔
يَمحَقُ اللَّهُ الرِّبوٰا۟ وَيُربِى الصَّدَقٰتِ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفّارٍ أَثيمٍ
[2:276] GOD condemns usury, and blesses charities. GOD dislikes every disbeliever, guilty.
اللہ سود کی مذمت کرتا ہے، اور خیرات میں برکت عطا کرتاہے ۔اللہ ہر کافر مجرم کو ناپسند کرتا ہے۔
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ لَهُم أَجرُهُم عِندَ رَبِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ
Divine Guarantee
[2:277] Those who believe and lead a righteous life, and observe the Contact Prayers (Salat), and give the obligatory charity (Zakat), they receive their recompense from their Lord; they will have nothing to fear, nor will they grieve.
اللہ کی طرف سے ضمانت
وہ جو ایمان لاتے ہیں، اور نیک زندگی بسر کرتے ہیں، اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے؛ نہ انہیں کسی چیز کا خوف ہو گا, اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَروا ما بَقِىَ مِنَ الرِّبوٰا۟ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ
[2:278] O you who believe, you shall observe GOD and refrain from all kinds of usury, if you are believers.
اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو، اور ہر قسم کے سود سے باز آ جاؤ، اگر تم مومن ہو۔
فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ ۖ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُءوسُ أَموٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ
[2:279] If you do not, then expect a war from GOD and His messenger. But if you repent, you may keep your capitals, without inflicting injustice, or incurring injustice.
اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر اللہ اور اُس کے رسول سے جنگ کی توقع رکھو۔ لیکن اگر تم توبہ کرتے ہو، تو تم اپنا اصل سرمایہ رکھ سکتے ہو، نہ تم کسی کے ساتھ ناانصافی کرو، اور نہ ہی تمہارے ساتھ ناانصافی کی جاۓ۔
وَإِن كانَ ذو عُسرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلىٰ مَيسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقوا خَيرٌ لَكُم ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ
[2:280] If the debtor is unable to pay, wait for a better time. If you give up the loan as a charity, it would be better for you, if you only knew.
اگر مقروض قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو بہتر وقت کا انتظار کرو، اگر تم قرض کو صدقہ کے طور پر چھوڑ دو، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
وَاتَّقوا يَومًا تُرجَعونَ فيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ
[2:281] Beware of the day when you are returned to GOD, and every soul is paid for everything it had done, without the least injustice.
خبردار ہو جاؤ اُس دن سے جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤگے، اور ہر روح کو اُس کے ہر کام کا بدلہ دیا جاۓ گا، بغیر ذرہ سی بھی ناانصافی کے۔
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ ۚ وَليَكتُب بَينَكُم كاتِبٌ بِالعَدلِ ۚ وَلا يَأبَ كاتِبٌ أَن يَكتُبَ كَما عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَليَكتُب وَليُملِلِ الَّذى عَلَيهِ الحَقُّ وَليَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلا يَبخَس مِنهُ شَيـًٔا ۚ فَإِن كانَ الَّذى عَلَيهِ الحَقُّ سَفيهًا أَو ضَعيفًا أَو لا يَستَطيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَليُملِل وَلِيُّهُ بِالعَدلِ ۚ وَاستَشهِدوا شَهيدَينِ مِن رِجالِكُم ۖ فَإِن لَم يَكونا رَجُلَينِ فَرَجُلٌ وَامرَأَتانِ مِمَّن تَرضَونَ مِنَ الشُّهَداءِ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ إِحدىٰهُمَا الأُخرىٰ ۚ وَلا يَأبَ الشُّهَداءُ إِذا ما دُعوا ۚ وَلا تَسـَٔموا أَن تَكتُبوهُ صَغيرًا أَو كَبيرًا إِلىٰ أَجَلِهِ ۚ ذٰلِكُم أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقوَمُ لِلشَّهٰدَةِ وَأَدنىٰ أَلّا تَرتابوا ۖ إِلّا أَن تَكونَ تِجٰرَةً حاضِرَةً تُديرونَها بَينَكُم فَلَيسَ عَلَيكُم”“جُناحٌ أَلّا تَكتُبوها ۗ وَأَشهِدوا إِذا تَبايَعتُم ۚ وَلا يُضارَّ كاتِبٌ وَلا شَهيدٌ ۚ وَإِن تَفعَلوا فَإِنَّهُ فُسوقٌ بِكُم ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ
Write Down Financial Transactions
[2:282] O you who believe, when you transact a loan for any period, you shall write it down. An impartial scribe shall do the writing. No scribe shall refuse to perform this service, according to GOD’s teachings. He shall write, while the debtor dictates the terms. He shall observe GOD his Lord and never cheat. If the debtor is mentally incapable, or helpless, or cannot dictate, his guardian shall dictate equitably. Two men shall serve as witnesses; if not two men, then a man and two women whose testimony is acceptable to all.* Thus, if one woman becomes biased, the other will remind her. It is the obligation of the witnesses to testify when called upon to do so. Do not tire of writing the details, no matter how long, including the time of repayment. This is equitable in the sight of GOD, assures better witnessing, and eliminates any doubts you may have. Business transactions that you execute on the spot need not be recorded, but have them witnessed. No scribe or witness shall be harmed on account of his services. If you harm them, it would be wickedness on your part. “You shall observe GOD, and GOD will teach you. GOD is Omniscient.
مالی لین دین کو لکھیں
اے ایمان والو، جب تم کسی مدت کے لیے قرض کا لین دین کرو تو اُسے لکھ لیا کرو۔ ایک غیر جانب دار کاتب اُسے لکھے۔ کوئی کاتب اللہ کی تعلیمات کے مطابق اِس خدمت کو سرانجام دینے سے انکار نہ کرۓ۔ وہ لکھے گا جب کہ قرض لینے والا اپنی شرائط لکھواے گا۔ وہ اللہ اپنے رب کا مشاہدہ کرۓ، اور کسی قسم کی بے ایمانی نہ کرۓ۔ اگر قرض لینے والا ذہنی طور پر نااہل ہو، یابےبس ہو، یا شرائط بیان نہ کر سکتا ہو، تو اُس کا سرپرست انصاف کے ساتھ شرائط لکھواۓ۔ دو مرد گواہوں کے طور پر یہ خدمت سرانجام دیں، اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، جن کی گواہی سب کے نزدیک قابل قبول ہو.۔ پس اگر ایک عورت متعصب ہو جاے تو دوسری اُسے یاد دلاۓ۔ یہ گواہوں کی ذمے داری ہے کہ جب انہیں گواہی کے لیے بلایا جاے، تو وہ انکار نہ کریں۔تفصیلات لکھنے سے مت تھکو، چاہے وہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں، جس میں ادائیگی کی مدت بھی شامل ہو۔ یہ اللہ کے نزدیک انصاف پر مبنی ہے، بہتر گواہی کو یقینی بناتا ہے، اور تمہارے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک کو دورکرتا ہے۔اگر تم کوئی کاروباری لین دین موقع پر ہی مکمل کر لیتے ہو، تو اُس کا لکھنا ضروری نہیں لیکن اُن پر گواہ بنا لیا کرو۔ کسی کاتب یا گواہ کو اُس کی خدمات کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ اگر تم انہیں نقصان پہنچاتے ہو، تو یہ تمہاری طرف سے شیطانی عمل ہو گا۔\ تمہیں اللہ کا مشاہدہ کرنا چاہیے، اور اللہ تمہیں علم عطا کرۓ گا۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھنےُ والا ہے۔
footnote
*2:282 Financial transactions are the ONLY situations where two women may substitute for one man as witness. This is to guard against the real possibility that one witness may marry the other witness, and thus cause her to be biased. It is a recognized fact that women are more emotionally vulnerable than men.
فٹ نوٹ
مالی لین دین ہی صرف ایسے حالات ہیں جہاں دو عورتیں بطورِ گواہ ایک مرد کی جگہ لے سکتی ہیں۔ یہ اِس حقیقی امکان سے بچنے کے لیے ہے کہ ایک گواہ دوسرے گواہ سے شادی کر سکتا ہے، اور اِس طرح اُس (عورت) کے متعصب ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں جذباتی طور پر زیادہ کمزور ہوتی ہیں
وَإِن كُنتُم عَلىٰ سَفَرٍ وَلَم تَجِدوا كاتِبًا فَرِهٰنٌ مَقبوضَةٌ ۖ فَإِن أَمِنَ بَعضُكُم بَعضًا فَليُؤَدِّ الَّذِى اؤتُمِنَ أَمٰنَتَهُ وَليَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ ۗ وَلا تَكتُمُوا الشَّهٰدَةَ ۚ وَمَن يَكتُمها فَإِنَّهُ ءاثِمٌ قَلبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ”عَليمٌ
[2:283] If you are traveling, and no scribe is available, a bond shall be posted to guarantee repayment. If one is trusted in this manner, he shall return the bond when due, and he shall observe GOD his Lord. Do not withhold any testimony by concealing what you had witnessed. Anyone who withholds a testimony is sinful at heart. GOD is fully aware of everything you do.
اگر تم سفر کر رہے ہو اور کوئی کاتب دستیاب نہ ہو، تو واپسی کی ضمانت کے لیے کوئی چیز رہن رکھی جائے۔ اگر کسی پر اِس طرح بھروسہ کیا جائے تو اُس کو چاہیے کہ وہ چیز مقررہ وقت پر واپس کر دے، اور اُسے اللہ، اپنے رب کا، مشاہدہ کرنا چاہیے۔ جو کچھ تم نے دیکھا ہے اُسے چھپا کر کسی گواہی کو مت روکو۔ جو کوئی بھی گواہی کو روکتا ہے، وہ دل سے گناہگار ہے۔ اللہ تمہارے ہر کام سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَإِن تُبدوا ما فى أَنفُسِكُم أَو تُخفوهُ يُحاسِبكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ
[2:284] To GOD belongs everything in the heavens and the earth. Whether you declare your innermost thoughts, or keep them hidden, GOD holds you responsible for them. He forgives whomever He wills, and punishes whomever He wills. GOD is Omnipotent.
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ چاہے تم اپنے اندرونی خیالات کا اعلان کرو یا انہیں پوشیدہ رکھو، اللہ تمہیں اُن کا* ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
ءامَنَ الرَّسولُ بِما أُنزِلَ إِلَيهِ مِن رَبِّهِ وَالمُؤمِنونَ ۚ كُلٌّ ءامَنَ بِاللَّهِ وَمَلٰئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِن رُسُلِهِ ۚ وَقالوا سَمِعنا وَأَطَعنا ۖ غُفرانَكَ رَبَّنا وَإِلَيكَ المَصيرُ
You Shall Not Make Any Distinction Among God’s Messengers
[2:285] The messenger has believed in what was sent down to him from his Lord, and so did the believers. They believe in GOD, His angels, His scripture, and His messengers: “We make no distinction among any of His messengers.” They say, “We hear, and we obey.* Forgive us, our Lord. To You is the ultimate destiny.”
تمہیں اللہ کے رسولوں میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے
رسول اُس ہدایت پر ایمان لا چکا ہے جو اُس کے رب کی طرف سے اُس پر نازل کیا گیا ہے، اور مومنین بھی۔ وہ اللہ، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتاب، اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم اُس کے رسولوں میں سے کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں، ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہمیں بخشش دے۔ ہمارا حتمی ٹھکانہ آپ ہی کی طرف ہے۔
footnote
* 2:285 One of the major commandments is: “You shall not make any distinction among God’s messengers” (2:136, 3:84, 4:150). The believers react by saying, “We hear and we obey,” while the idol worshipers argue back to justify their insistence upon mentioning Muhammad’s name next to God’s, to the exclusion of all other messengers. The corrupted Muslims mention Muhammad in their profession of faith (Shahaadah) and during their Contact Prayers (see 72:18).”
فٹ نوٹ
بڑے احکامات میں سے ایک اہم حکم یہ ہے، کہ تم اللہ کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہ کرو (4:150، 3:84، 2:136)۔ مومنین یہ کہہ کر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہیں کہ، ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ جبکہ مشرکین باقی تمام رسولوں کا اخراج کر کے اللہ کے ساتھ صرف محمد کا نام لینے پر نہ صرف اصرار کرتے ہیں، بلکہ اُسے درست ثابت کرنے کے لیے دلیلیں بھی دیتے ہیں۔ بگڑے ہوئے مسلمان اپنے ایمان کی شہادت اور اپنی نمازوں کے دوران محمد کا ذکر کرتے ہیں۔ دیکھیں (72:18)۔
لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۚ لَها ما كَسَبَت وَعَلَيها مَا اكتَسَبَت ۗ رَبَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا ۚ رَبَّنا وَلا تَحمِل عَلَينا إِصرًا كَما حَمَلتَهُ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِنا ۚ رَبَّنا وَلا تُحَمِّلنا ما لا طاقَةَ لَنا بِهِ ۖ وَاعفُ عَنّا وَاغفِر لَنا وَارحَمنا ۚ أَنتَ مَولىٰنا فَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ
[2:286] GOD never burdens a soul beyond its means: to its credit is what it earns, and against it is what it commits. “Our Lord, do not condemn us if we forget or make mistakes. Our Lord, and protect us from blaspheming against You, like those before us have done. Our Lord, protect us from sinning until it becomes too late for us to repent. Pardon us and forgive us. You are our Lord and Master. Grant us victory over the disbelieving people.”