سورة 1 – چابی – The Key – الفاتحہ
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ
[1:1] In the name of GOD, Most Gracious, Most Merciful.*
[1:1] اللہ کے نام سے جو انتہائی مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينء
[1:2] Praise be to GOD, Lord of the universe.
[1:2] سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام کائنات کا مالک ہے
الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ
[1:3] Most Gracious, Most Merciful.
[1:3] انتہائی مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
مٰلِكِ يَومِ الدّينِ
[1:4] Master of the Day of Judgment.
[1:4] مالک ہے آخرت کے دن کا۔
إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ
[1:5] You alone we worship. You alone, we ask for help.
[1:5] ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔ہم صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
اهدِنَا الصِّرٰطَ المُستَقيمَ
[1:6] Guide us in the right path.
[1:6] ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
صِرٰطَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم غَيرِ المَغضوبِ عَلَيهِم وَلَا الضّالّينَ
[1:7] the path of those whom You blessed; not of those who have deserved wrath, nor of the strayers.
[1:7] اُن کے راستے پر جن پر تو نے کرم کیا نہ کہ اُن کے راستے پر جو تیری غضب کے مستحق ہوے، نہ ہی گمراہوں کے۔
*1:1 The first verse in the Quran represents the foundation upon which a superhuman 19-based mathematical miracle is built. This important statement consists of 19 Arabic letters, and every word in it occurs in the whole Quran is multiples of 19 (see Appendices 1 & 29 for the details).
*1:1 قرآن کی پہلی آیت اِس بنیاد کی نمائندگی کرتی ہے جس پر ایک مافوق الفطرت 19 پر مبنی ریاضی کا معجزہ بنا یا گیا ہے”- یہ اہم بیان 19 عربی حروف پر مشتمل ہے اور اِس کا ہر لفظ پورے قرآن میں 19 کے ضرب میں آتا ہے (تفصیلات کے لیے ضمیمہ 1 اور 29 دیکھیں)۔
*1:1-7 Sura 1 is God’s gift to us to establish contact with Him through the daily Contact Prayers. This fact is supported by an earth-shattering, simple-to- understand, but impossible-to-imitate mathematical composition that challenge the greatest mathematicians on earth, and stumps them; it is far beyond human capabilities:
7- 1:1 *سورہ 1 (الفاتحہ ) ہمارےلیے اللہ کا تحفہ ہے تاکہ ہم روزانہ رابطے کی نماز (صلات) کے ذریعے اُس سے رابطہ قائم کریں۔ اِس حقیقت کی تائید ایک زمین کو ہلا دینے والی ریاضیاتی ترتیب سے ہوتی ہے جو سمجھنے میں آسان لیکن نقل کرنے میں ناممکن ہے۔ جو زمین کے سب سے بڑے ریاضی دانوں کو چیلنج کرتی ہے، اور انہیں ششدر کر دیتی ہے۔ یہ انسانی صلاحیتوں سے کہیں بڑھ کرہے:
(1) The sura number, followed by the numbers of verses, next to each other, give 1-1-2-3-4-5-6-7
This number is a multiple of 19.
(1) سورہ کے نمبر کے بعد آیات کے نمبر، ایک دوسرے کے ساتھ یہ نمبر دیتے ہیں: 1-1-2-3-4-5-6-7 یہ نمبر 19 کا ضرب ہے۔
(2) If we substitute the number of letters per verse in place of the verse numbers, we get 1-19-17-12-11-19-18-43 This number is also a multiple of 19.
(2) اگر ہم آیت نمبروں کی جگہ فی آیت کے حروف کی تعداد کو تبدیل کریں تو ہمیں یہ نمبر ملتا ہے۔ 1-19-17-12-11-19-18- 43 یہ بھی 19 کا ضرب ہے۔
(3) If we insert the total gematrical value of every verse, we get
1-19-786-17-581-12-618-11-241-19-836-18-1072- 43-6009 . This number is a multiple of 19.”
(3) اگر ہم ہر آیت کی کل ہندسی قدر ڈالیں تو ہمیں یہ نمبر ملتا ہے۔1-19-786-17-581-12-618-11-241-19-836-18-1072-43- 6009 یہ نمبر 19 کا ضرب ہے۔
Verse No. . No. of Letters. Gematrical Value
=====. ========. =========
1 19 786
2 17 581
3 12 618
4 11 241
5 19 836
6 18 1072
7 43 6009
=====. ======
Totals 139 10143
آیت نمبر۔ حروف کی تعداد۔ جیمیٹکریکل قدر
1 19 786
2 17 581
3 12 618
4 11 241
5 19 836
6 18 1072
7 43 6009
====== ======
ٹوٹل 139 10143
(4) The number shown above includes all parameters of Sura 1 and consists of 38 digits (19×2).
(4) اوپر دکھائے گئے نمبر میں سورہ 1 کے تمام پیرامیٹرز شامل ہیں۔ اور 38 ہندسوں پر مشتمل ہے (2×19)
(5) It is noteworthy that this 38-digit number is still divisible by 19 when we write its components backward, from right to left, as practiced by the Arabs. Thus 6009-43-1072-18-836-19-241-11-618-12-581-17-786-19-1 is also a multiple of 19.
(5) یہ قابل ذکر ہےکہ اِن 38 ہندسوں کی تعداد اب بھی 19 سے تقسیم ہوتی ہے۔ جب ہم اِس کے اجزاء کو پیچھے کی طرف، دائیں سے بائیں لکھتے ہیں، جیسا کہ عربوں کی روایت ہے۔ اس طرح 6009-43-1072-18-836-19-241-11-618-12-581-17-786-19-1 بھی 19 کا ضرب ہے۔
6 The mathematical representations mentioned above participate in numerous extraordinary mathematical phenomena to confirm all details of the five daily Contact Prayers (Appendix 15).
(6) اوپر بیان کردہ ریاضیاتی نمایندگیاں بے شمار غیر معمولی ریاضیاتی مظاہر میں حصہ لیتی ہیں تاکہ پانچ وقت کی روزانہ رابطے نمازوں کی تمام تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے(ضمیمہ 15) ۔
(7) Many more astounding phenomena are given in Appendix One. Thus, the reader is handed, at the outset, tangible proof that this is God’s message to the world
(7) بہت سے اور حیران کن مظاہر ضمیمہ ایک میں دیے گیے ہیں۔اِس طرح پڑہنے والے کو شروع میں ٹھوس ثبوت دیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے لیے اللہ کا پیغام ہے۔